اسلام دین فطرت
Al-Risala, April 1979, pp. 18–27
By Maulana Wahiduddin Khan
عن ابی عبد الرحمن عبد اللہ بن عمر بن الخطاب حضرت عبد اللہ بن عمر کہتے ہیں۔ میں نے رسول اللہ قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علکہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا۔ اسلام کی بنیاد یقول : بنی الاسلام علی خمس شهادة ان پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے۔ گواہی دینا کہ اللہ کے لا الہ الا اللہ دات محمد عبدہ ورسولہ سوا کوئی الٰہ نہیں اور محمد اس کے بندے اور رسول و اقام الصلوة و ایتاء الزکوة وحج البیت، ہیں۔ اور نماز قائم کرنا۔ اور زکوٰۃ ادا کرنا اور بیت اللہ و صوم رمضان (روایہ البخاری ومسلم) کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔
بعض روایتوں میں یہ الفاظ ہیں کہ اسلام کی تعمیر پانچ ستونوں (خمس دعائم) پر کی گئی ہے (کتاب الصلوة محمد بن نصر المروزی) ایک عمارت اپنی تفصیلی صورت میں بہت سے اجزاء کا مجموعہ ہوتی ہے۔ مگر ساری عمارت جس چیز کے اوپر کھڑی ہوتی ہے وہ چند کھمبے (PILLARS) ہوتے ہیں۔ اسی طرح اسلام کے لئے بھی یہ پانچ چیزیں کھمبے کا درجہ رکھتی ہیں۔ ان کے مضبوط ہونے سے اسلام مضبوط ہوتا ہے اور ان کے کمزور ہونے سے اسلام کمزور ہو جاتا ہے۔ ہر آدمی کی ہستی ایک زمین کی مانند ہے۔ اگر وہ اپنی اس ”زمین“ پر خدا کی پسند والی عمارت کھڑی کرنا چاہتا ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے وہ ان پانچ کھمبوں کو پوری مضبوطی کے ساتھ قائم کرے۔ ان کھمبیوں کو گاڑے بغیر نہ فرد کی سطح پر اسلام کا ظہور ہو سکتا ہے اور نہ سماج کی سطح پر۔ اسلام آدمی کے اندر جو زندگی پیدا کرنا چاہتا ہے وہ ایک لفظ میں عبادت یا خدا پرستی کی زندگی ہے۔ تاہم اپنی تفصیلی صورت میں وہ پانچ چیزوں کے مجموعہ کا نام ہے: ایمان، نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج۔ چیزیں پانچ رسمیات نہیں ہیں بلکہ پانچ اوصاف ہیں۔ یہ ان مطلوب چیزوں کا خلاصہ ہے جو ہمارا مالک ہماری زندگیوں میں دیکھنا چاہتا ہے۔ اگر یہ پانچ اوصاف آدمی کے اندر حقیقی طور پر پیدا ہو جائیں تو گویا اس کے اندر وہ بنیادی صلاحیت پیدا ہو گئی جس کے بعد یہ امید کی جاسکتی ہے کہ اس کی زندگی میں اس ربانی کردار کا ظہور ہو جس کو اسلام ایک ایک شخص کی زندگی میں پیدا کرنا چاہتا ہے۔ ایمان کا مطلب خدائی حقیقتوں پر یقین ہے۔ نماز کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی اللہ کی بڑائی کے آگے اس طرح جھکے کہ اپنی بڑائی کا احساس اس کے اندر سے ختم ہو جائے ۔ روزہ اللہ کے بھروسے پر صبر کرنے کا نام ہے۔ زکوٰۃ یہ ہے کہ آدمی دوسرے کا حق پہچانے تاکہ خدا اس کو اس کے حصہ سے محروم نہ کرے۔ حج سے یہ مراد ہے کہ خدا کے بندے خدا کے گرد متحد ہو جائیں ۔ یہ سب اپنی اپنی حقیقت کے اعتبار سے اوصاف ہیں نہ کہ محض خارجی مراسم ۔ گویا یہ یقین، بے نفسی، صبر، حق شناسی اور اتحاد وہ پانچ صفاتی کھمبے ہیں جن کے اوپر اسلامی زندگی کا گھر بنتا ہے۔
اللہ کو اپنا الٰہ بنانے کا اقرار اس کو اپنا سب کچھ بنانے کا معاہدہ ہے۔ یہ اللہ کو اپنے احساسات اور
جذبات کا مرکز بنانا ہے، یہ اپنے آپ کو مکمل طور پر اللہ کے حوالے کرنا ہے۔ یہ اس بات کا فیصلہ کرنا ہے کہ آدمی اپنی امیدوں اور تمناؤں، اپنے اندیشوں اور التجاؤں کا مرکز اللہ کو بنائے گا۔ وہ کہیں اور جینے کے بجائے اپنے رب میں جئے گا۔ آدمی کی امیدیں اور اس کے احساسات جہاں اٹکے ہوئے ہوں، وہیں وہ آدمی جی رہا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھئے تو ہر آدمی، خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، کہیں کہیں جی رہا ہوتا ہے۔ کوئی اپنے گھر بار اور اپنے بال بچوں میں جیتا ہے، کوئی اپنے معاش اور کاروبار میں جیتا ہے۔ کوئی اپنے سیاسی مشاغل اور قیادت کی مصروفیات میں جیتا ہے، کوئی اپنی عزت اور اقتدار کے خوابوں میں جیتا ہے۔ غرض ہر آدمی کہیں وہ کہیں جی رہا ہے۔ تمام جینا جاہلیت کا جینا ہے۔ یہ اپنا آشیاوہ ایسی شاخوں پر بناتا ہے جن کا حقیقتاً کوئی وجود نہیں۔ یہ ہے کہ آدمی اپنے رب میں جینے لگے۔ وہ اس سہارے کو پکڑے جس کے سوا اس کا ئنات میں کسی کے لئے کوئی وہ اللہ کی یاد کو لے کر سوئے اور اللہ کی یاد کے ساتھ صبح کرے۔ وہ اسی کے بھروسہ پر رُکے اور اسی کے بھروسہ پر چلے۔ وہ اسی کے لئے بولے اور اسی کے لئے خاموشی اختیار کرے۔
ایمان کی مثال بجلی کی کرنٹ کی سی ہے۔ پاور ہاؤس سے بجلی کی کرنٹ جب کارخانہ میں پہنچتی ہے تو سارا کارخانہ جگمگا اٹھتا ہے۔ اس کی تمام کلیں حرکت میں آجاتی ہیں۔ اسی طرح جب کسی بندے کا اپنے رب سے ایمانی تعلق قائم ہوتا ہے تو اس کے اندر اچانک ایک نئی روشنی آجاتی ہے، اس کی فطرت جاگ اٹھتی ہے۔ ایمان اس کے قلب کو گرمانے والا اور اس کی روح کو تڑپانے والا بن جاتا ہے۔ وہ اس کے اندر ایک نئی آگ لگا دیتا ہے۔ انسان جو پہلی بار اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا، وہ دوبارہ ایمان کے کوٹھ سے ایک نیا جنم لیتا ہے۔ خدا سے الگ نہیں رہتا بلکہ خدا میں شامل ہو جاتا ہے۔ ایک شخص کو کسی سے محبت ہو تو جسمانی طور پر نہ وہ اس سے جدا رہتے ہوئے بھی حیاتی طور پر وہ اس سے مل جاتا ہے۔ وہ ہر چیز میں اسی کا جلوہ دیکھنے لگتا ہے۔ اللہ پر ایمان لانے والے کا ہوتا ہے۔ وہ آسمان کی وسعتوں میں خدا کی عظمت کا مشاہدہ کرتا ہے۔ قہر مانی میں اس کو خدا کا جلال دکھائی دیتا ہے۔ چڑیوں کے چہچہے میں اس کو خدا کے نغمے سنائی دیتے ہیں۔ ہے تو اس کو محسوس ہوتا ہے کہ خدا نے اپنا نورانی ہاتھ اس کی طرف بڑھایا ہے۔ وہ درختوں کو دیکھتا ہے تو اس کو ایسا معلوم ہوتا ہے گو یا خدا کی تخلیقی کہانی سہ سبز صفحات کی صورت میں زمین کے اوپر پھیلا دی گئی ہے۔ جھونکا جب اس کو چھوتا ہے تو وہ اس کے لئے خدا سے اتصال کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ غرض جو شخص خدا کا مومن بن چکا وہ ہر آن خدا کے اتھاہ سمندر میں غوطہ لگاتا رہتا ہے۔ ہر تجربہ جو اس کے ساتھ گزرتا ہے نہ اس کو خدا سے ملانے والا بن جاتا ہے۔ وہ خدا کا ہو جاتا ہے اور خدا اس کا۔
اللہ پر ایمان ایک ایسے خدا پر ایمان ہے جو ساری کائنات کا خالق، مالک اور پروردگار ہے۔ اسی نے سب کچھ بنایا ہے، اسی کے سہارے ہر چیز قائم ہے، اس کے بغیر کسی چیز کا کوئی جزو نہیں۔ ایمان آدمی کے اندر اس شعور کو زندہ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس حیثیت سے دیکھنے لگتا ہے کہ نہ ایک خدا کا بندہ ہے، ہر چیز میں
اس کو خدا کا کرشمہ نظر آتا ہے اور ہر عطیہ اس کو خدا کے ہاتھ سے ملی ہوئی چیز دکھائی دیتا ہے۔ خدا کا ذکر اور اس کی حمد ہر آن اس کے اندر سے ابلتی رہتی ہے۔ ایسے آدمی کے لمحات غفلت کے لمحات یں ہوتے بلکہ ہوش مندی کے لمحات ہوتے ہر موقع اس کے لئے خدا کی یاد لانے والا بن جاتا ہے۔ دن بھر کا تھکا ہوا شام کو وہ اپنے بستر پر لیٹتا ہے اس کو گہری نیند آجاتی ہے۔ صبح کو وہ تازہ دم ہو کر اٹھتا ہے تو بے حساب احسان مندی کے جذبہ کے تحت اس کی زبان سے نکلتا ہے: خدایا تیرا یہ احسان بھی کیسا عجیب ہے۔ اگر آدمی پر نیند و آئے تو وہ پاگل ہو جائے اور چند دن کی زندگی بھی اس کے لئے محال ہو جائے۔ رات کی تاریکی کے بعد جب سورج نکلتا ہے اور دنیا کو روشن کر دیتا ہے تو اس کا دل بے اختیار پکار اٹھتا ہے: کیسی بابرکت ہے وہ ذات جس نے روشنی پیدا کی۔ اگر روشنی نہ ہو تو سارا عالم تاریکی کا مہیب سمندر بن جائے۔ جب اس کو بھوک لگتی ہے، وہ پانی پیتا ہے اور کھانا کھاتا ہے تو اس کی پوری ہستی شکر کی کیفیت سے بھر جاتی ہے۔ وہ حیران ہو کر سوچنے لگتا ہے کہ خدا اگر آدمی کے لئے کھانا اور پانی نہ اتارتا تو آدمی کا کیا حال ہوتا۔ نہ اس کو چوٹ لگتی ہے تو وہ خدا کو مدد کے لئے پکارتا ہے۔ اس کو حاجتیں پیش آتی ہیں تو وہ خدا ہی سے امید کرتا ہے کہ وہ اس کی حاجتوں کو پورا فرمائے گا۔ اس کو نفع ملتا ہے تو اس کو انسان کے اوپر خدا کی نوازشیں یاد آتی ہیں۔ اور اس کا دل شکر کے جذبات سے بھر جاتا ہے۔ اس کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کو وہ خدا کی قدرت کا ایک کرشمہ سمجھتا ہے۔ نعمتوں کا ملنا اس کو مغرور نہیں بناتا اور نقصان اس کے اندر بے صبری پیدا نہیں کرتا۔ کوئی عقیدت اس کے لئے خدا کی حریف نہیں بنتی۔ کوئی مصلحت اس کو خدا سے بے پروا نہیں کرتی۔ ایک شخص زمین اور دوسرے اجرام کی قوت کشش کو دریافت کرے یا کائنات شیوعوں کو اپنے آلات کی مدد سے پالے تو یہ اس کے لئے محض ایک علمی یا فت ہوگی۔ یہ پانے والے سے کسی ذمہ داری کا تقاضا نہیں کرے گی ۔ مگر خدا کو پانے کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے ۔ خدا کو پانا ایک ایسی ہستی کو پانا ہے جو سننے والا اور جاننے والا ہے، جو حکمت اور طاقت کا خزانہ ہے۔ ایسے خدا کو جب ایک شخص پاتا ہے تو ٹھیک اسی وقت وہ اس حقیقت کو بھی پالیتا ہے کہ خدا نے اس کو اور اس کائنات کو عبث نہیں بنایا ہے۔ ایک عظیم انسان کائنات یوں ہی خاموش کھڑی رہے اور اس کی معنویت کبھی ظاہر نہ ہو، یہ ایک ایسی کائنات میں بالکل ناممکن ہے جس کا بنا نے اور چلانے والا ایک علیم اور عزیز اس طرح اس کی ایمانی یافت اس کو اس یقین تک پہنچاتی ہے کہ ضرور ہے کہ ایک دن ایسا آئے جب کہ خدا لوگوں کے سامنے ظاہر ہو جائے جو کائنات کے تمام واقعات کے پیچھے کام کر رہا ہے۔ جب آدمی ان حقائق کو دیکھ کر جان لے جن کی بابت آج وہ نظر نہ آنے کی وجہ سے جھگڑ رہا ہے۔ پھر یہی یقین اس کو یہ بھی بتاتا ہے کہ کائنات کے خالق نہ مالک کا ظہور اس قسم کا غیر متعلق ظہور نہیں ہوگا جیسے تاریک رات کے بعد روشن سورج نکلتا ہے۔ یہ ایک باشعور اور محاسب و مجازی طاقت کا ظہور ہوگا۔ خداوند کائنات کا ظہور کائنات کے لئے قیامت کے ہم معنی بن جائے گا۔ ظاہر ہوتے ہی اس کے تمام سرکش اور خود پرست بندے خدا کی اس دنیا میں بے قیمت ہو جائیں گے۔ وہ اس دن کبھی مجھ سے بھی زیادہ حقیر نظر آئیں گے۔ دوسری طرف اس کے خدا پرست اور وفادار بندے اچانک سرفرازی کا مقام
حاصل کرلیں گے۔ خدا کا غیب میں ہونا خدا کے غیر وفادار بندوں کو اچھل کود کے مواقع دئے ہوئے ہے۔ کا ظاہر ہونا خدا کے وفادار بندوں کے لئے سرفرازی کا دن بن جائے گا۔ اس کے بعد، ایک نئی، زیادہ بہتر اور مکمل دنیا شروع ہوگی جہاں سرکش لوگ ابدی طور پر جہنم میں ڈال دیئے جائیں گے اور وفادار لوگ ابدی طور پر جنت میں خوشیوں اور لذتوں کی زندگی گزاریں گے۔
جب آدمی اس یقین تک پہنچتا ہے تو وہ خدا کی ہیبت سے کانپ اٹھتا ہے۔ وہ پکار اٹھتا ہے: "خدایا! اس دن رسوا ہونے سے بچا جب تو اپنی طاقتوں کے ساتھ ظاہر ہو گا۔ جب انصاف کا ترازو قائم کیا جائے گا۔ آدمی بالکل بے بس حالت میں تیرے سامنے کھڑا ہوگا۔ جب تیرے سوا کسی کے پاس کوئی اختیار نہ ہوگا۔ خدا کو الہٰ بنانے ہی کا ایک پہلو رسول کی رسالت کو ماننا ہے۔ جب آدمی خدا کو ایک زندہ اور باشعور ہستی کی حیثیت سے پاتا ہے تو فوراً یہ سوال اس کے سامنے آ جاتا ہے کہ میرا خدا مجھ سے کیا چاہتا ہے۔ اس سلسلے میں اس کو اندرونی فطرت سے اشارے ملتے ہیں۔ کائنات اپنی خاموش زبان میں کچھ پیغامات نشر کرتی ہوئی نظر آتی ہے مگر وہ چاہتا ہے کہ اپنے رب کے پیغام کو یقینی زبان میں پالے، وہ آنے والے دن سے پہلے اس دن کے معاملات سے باخبر ہو جائے۔ عین اس وقت اس کو پیغمبر کی آواز سنائی دیتی ہے: "میں اللہ کا بندہ اور رسول ہوں، اللہ نے مجھ کو انسانوں کی ہدایت کے لئے بھیجا ہے۔ میری طرف آؤ اور مجھ سے اپنے رب کے پیغامات معلوم کرو۔ حقیقت ہے طالب ہو، جو فی الواقع سچائی کی تلاش میں ہو، اس کے لئے اس آواز کو پہچاننا مشکل نہیں ہوتا۔ اور غفلت کے ان تمام پردوں کو پہلے ہی پھاڑ چکا ہوتا ہے جو آدمی کو گھیرے رہتے ہیں اور سچائی کی آواز کو اس کے اندر داخل نہیں ہونے دیتے ۔ ایک بچہ جس طرح اپنی ماں کی آواز کو پہچان لیتا ہے، اسی طرح وہ اس پیغام کو پہچان لیتا ہے جو پیغمبر کی معرفت اس کے رب کی طرف سے اس کو پہنچ رہی ہے۔ پیغمبر کی آواز اس کے لئے ایسی ہی ثابت ہوتی ہے جیسے پٹرول کی آگ یا سوکھی زمین میں بارش۔ اس کا پورا اندرونی وجود ربانی روشنی سے بھڑک اٹھتا ہے۔ اس کی تلاش کی سوکھی زمین حق کی بارش کے ایک ایک قطرہ کو جذب کرتی چلی جاتی ہے۔ وہ خدا کو پانے کے ساتھ اس کے پیغمبر کو پا لیتا ہے اور پیغمبر کو پانے کے ساتھ اپنے خدا کو۔
رسول کوئی فرشتہ یا کوئی غیر انسانی وجود نہیں۔ وہ بھی ایک انسان ہے اور سارے انسانوں کی طرح ایک ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے۔ اس کی خصوصیت صرف یہ ہے کہ خدا نے اس کو اپنی پیغام رسانی کے لئے چن لیا۔ دیکھا کہ وہ ایک ایسا انسان ہے جس کی فطرت پوری طرح زندہ ہے۔ جس کے قول و عمل میں تضاد نہیں۔ جس نے نبوت سے پہلے چالیس سال کی عمر تک کبھی ایک بار بھی امانت کی ادائیگی میں کوتاہی نہیں کی۔ وہ سچا ہے، وعدہ پورا کرنے والا ہے، وہ اپنے سینہ میں انسانیت کا درد رکھتا ہے، وہ حق کے لئے اس سے زیادہ بے چین ہوتا ہے جتنا کوئی شخص اپنے ذاتی منافع کے لئے بے چین ہوتا ہے۔ خدا نے محمد بن عبد اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) میں وہ خالص روح پائی جو حق کی امانت کا امین بن سکے۔ اس نے اس کے اندر وہ غیر مصلحت پرستانہ کردار پایا جو کسی ادنیٰ لچک کے بغیر ربانی ذمہ داری
کو ادا کر سکے ۔ اس نے اس عربی انسان میں وہ طلب دیکھی جو اس بات کی ضمانت تھی کہ وہ خدا کی الہامی امانت کی پوری قدر دانی کرے گا اور اس کو اسی طرح لے گا جس طرح اس کو لینا چاہئے ۔ ان پہلوؤں میں یہ عربی انسان چالیس برس کی زندگی تک انتہائی مکمل ثابت ہوا۔ اس لئے خدا نے اس کو اپنے آخری اور عالمی پیغمبر کی حیثیت سے چن لیا اور اس انسان کامل نے اپنی نبوت کی ۲۳ سال کی زندگی سے ثابت کر دیا کہ خدا کا یہ انتخاب انتہائی درست تھا۔ انسان کامل نے پیغمبری کی ذمہ داری کو اتنی معیاری صورت میں انجام دیا کہ اس سے زیادہ معیاری صورت کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔
پیغمبر کے ذریعہ ہم کو خدا کی وہ محفوظ کتاب ملی ہے جو اس کے اوپر فرشتہ کے ذریعہ اتاری گئی اس کتاب میں وہ تمام چیزیں لکھی ہوئی صورت میں موجود ہیں جو اللہ کو ہم سے مطلوب ہیں۔ قرآن میں اللہ ہم سے انسانی زبان میں کلام ہوتا ہے۔ پیغمبر نے اور آپ کے ساتھیوں نے ہر قسم کا بہترین اہتمام کرکے اس کو اس کی اصلی شکل میں محفوظ رکھا اور ہم کو پوری طرح پہنچا دیا۔ پیغمبر نہ صرف خدائی الہام کو وصول کرنے والا تھا بلکہ اس نے کامل اور مکمل صورت میں اس کو اپنی زندگی میں اختیار کیا۔ اس طرح پیغمبر کی زندگی اس ربانی ہدایت کا عملی نمونہ بن گئی جو قرآن میں لفظوں کی صورت میں ظاہر کی گئی تھی۔ پیغمبر نے گھریلو زندگی بنائی۔ وہ بستی اور بازار میں لوگوں کے درمیان رہا۔ دوستوں اور دشمنوں سے معاملہ کیا۔ اس کو فتح و شکست کے مواقع پیش آئے۔ اس نے دعوت دی اور دعوتی مراحل اس کو بھوک لگی اور اس نے چوٹ کھائی۔ اس نے مفلسی اور دولت مندی کے دن دیکھے۔ غرض ایک عام آدمی سے لے کر ایک جج اور بادشاہ تک انسانی زندگی کے جتنے مختلف تجربات ہیں، سب اس پر گزرے۔ ہر جگہ اس نے ایک ربانی انسان کا رویہ اختیار کیا۔ اس طرح اس کی زندگی قیامت تک تمام انسانوں کے لئے مکمل نمونہ بن گئی ۔ آدمی جو اپنے رب کے یہاں اس حال میں پہنچنا چاہتا ہے کہ اس کا رب اس سے راضی ہو اور اس کو ابدی باغوں والے گھر میں داخل کرے، اس کے لئے ایک ہی راہ ہے۔ وہ قرآن سے اللہ کا حکم معلوم کرے اور پیغمبر کی زندگی میں اس حکم کا عملی نمونہ دیکھے اور ان دونوں چیزوں کی روشنی میں اپنی زندگی گزار نے لگے۔ اس کے سوا جتنی صورتیں ہیں سب بھٹکنے کی صورتیں ہیں، نجات کی صورت اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ پیغمبر کی زندگی ایک ایسی مکمل زندگی ہے جس میں چھوٹے لوگوں کے لئے بھی نمونہ ہے اور بڑے لوگوں کے لئے بھی ۔
اسلام کا دوسرا رکن نماز ہے۔ نماز اپنی متعین شکل کے اعتبار سے یہ ہے کہ روزانہ دن رات کے درمیان پانچ وقت مقررہ انداز میں اللہ کی عبادت کی جائے۔ یہ انداز جو رسول کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں سکھایا ہے، اتنا جامع ہے کہ اس سے زیادہ بہتر عبادتی انداز کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ جب وقت آتا ہے تو اذان کے ذریعہ اللہ کی بڑائی کا اعلان کیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ نماز کا وقت آگیا۔ اپنی فلاح کے لئے جمع ہو جاؤ۔ کرکے اپنے پاکی کے احساس کو تازہ کرتے ہیں۔ پھر اللہ کو یاد کرتے ہوئے مسجد پہنچتے ہیں۔ وہاں سب مل کر نماز ادا کرتے ہیں۔ نماز کا ایک امام ہوتا ہے جس کی رہنمائی میں اجتماعی نماز ادا کی جاتی ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے
کہ اسی طرح سارے مسلمان خدا کے رسول کو اپنا مرکز اجتماع قرار دے کر اس کے گرد متحدہ زندگی گزاریں گے۔ رکوع و سجود اور قیام وقعود کی مختلف حالتوں کے ذریعہ خدا کے سامنے اپنی بندگی کا اقرار کیا جاتا ہے۔ کبھی دست بستہ کھڑے ہو کر ، کبھی جھک کر ، کبھی نیاز مندانہ بیٹھ کر کبھی اپنے سر کو زمین پر رکھ کر خدا کے ساتھ اپنے عہد بندگی کو تازہ کرتے نماز میں قرآن کے حصے پڑھے جاتے ہیں۔ قرآن کی ایک عجیب خصوصیت یہ ہے کہ اس کو جہاں کہیں سے اور جتنا بھی پڑھئے، قرآن کی دعوت کا تعارف مل جاتا ہے۔ قرآن کا ہر صفحہ گو یا قرآن کا خلاصہ ہے۔ اس طرح نماز میں اگر چہ بیک قرآن کا مختصر حصہ پڑھا جاتا ہے مگر وہ اللہ کی پسند و ناپسند کو جاننے کے لئے ہمیشہ کافی ہوتا ہے ۔ اسی کے ساتھ نماز میں خدا کی حمد اور ذکر کے کلمات بولے جاتے ہیں ، اس سے دعا کی جاتی ہے ، رسول کے لئے اور تمام اہل ایمان کے لئے نیک جذبات کا اظہار کیا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ اس کا خاتمہ تمام انسانوں کو سلامتی بھیج کر کیا جاتا اس طرح اپنے مختلف اجزاء کے ذریعہ نماز ایک ایسا عمل بن جاتی ہے جو بیک وقت وقت اللہ کی عبادت بھی ہے اور اللہ کے حکموں کی یاد دہانی بھی ۔ وہ اہل ایمان کے لئے دینی غذا بھی ہے اور ان کے درمیان اتحاد واجتماعیت کا ذریعہ بھی ۔ وہ اسلامی زندگی کا نشان بھی ہے اور نظم و ضبط کی تربیت بھی ۔ وہ اللہ سے روحانی اتصال کا مقام بھی ہے اور روزمرہ کی زندگی میں حرکت و عمل کا سبق بھی۔
نماز اپنی شکل کے اعتبار سے مخصوص عبادت کا نام ہے اور اپنی حقیقت کے اعتبار سے تو اضع اور تو جہ الی اللہ کا۔ اپنے مقابلہ میں کسی کی عظمت تسلیم کرنے کے لئے آدمی زبان سے جو آخری کلمہ بول سکتا ہے وہ یہ کہ وہ کہے ” وہ سب سے بڑا ہے “۔ نماز میں بار بار یہ کلمہ (اللہ اکبر) خدا کے لئے بولا جاتا ہے اور اس طرح اپنے مقابلہ میں خدا کی مطلق کبریائی کا لسانی اقرار کیا جاتا ہے۔ جسمانی طور پر کسی کی بڑائی کے اعتراف کی آخری صورت سجدہ ہے۔ سجدہ سے بڑھ کر کوئی صورت نہیں ہو سکتی جس سے آدمی دوسرے کی عظمت کا جسمانی اعتراف کرے۔ نماز میں بار بار خدا کے آگے سجدہ کر کے خدا کی بے مثال عظمتوں کا عملی اعتراف کیا جاتا ہے۔ کسی کو اپنی زندگی کا مرکز و محور بنانے کی سب سے زیادہ کامیاب ہیئت جو تصور کی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ آدمی اپنے چہرے کا رخ پوری طرح اس کی طرف کر دے۔ نماز میں بیت اللہ کی طرف رخ کا اہتمام کر کے ظاہر کیا جاتا ہے کہ بندے نے اپنی زندگی کو خدا کی طرف موڑ دیا ، اس نے اپنی زندگی کو اندر سے لے کر باہر تک خدا رخی (God-oriented) بنانے کا فیصلہ کر لیا۔
اللہ کے آگے بندے کے اس جھکاؤ سے جو کیفیت پیدا ہوتی ہے وہ صرف خدا کے سامنے جھکاؤ تک نہیں رہتی ، وہ اس کی مستقل کیفیت بن جاتی ہے۔ جو آدمی اللہ سے ڈرنے لگے ، جو اللہ کے آگے جھک جائے ۔ جو اللہ کے مقابلہ میں اپنے کو بے حقیقت بنالے وہ بندوں کے سامنے آئے گا تو نا ممکن ہے کہ یہاں اس کے رویہ میں اس کے عبادتی اثرات ظاہر نہ ہوں۔ وہ انسان کے آگے سجدہ میں نہیں گرے گا مگر وہ انسان کے مقابلہ میں گھمنڈ بھی نہیں وہ انسان کو ” تو ٹڑا ہے “ نہیں کہے گا مگر اپنی بڑائی کا سکہ اس پر قائم کرنے کی کوشش بھی نہیں کرے گا۔ میں اس کا ساجد بننا بندوں کے مقابلہ میں تواضع کی صورت میں ظاہر ہو گا۔ زمانہ میں اس کا خدائی تابعداری کا اقرار کرنا
بندوں کے معاملات میں حقوق کی ادائیگی کی صورت میں ظاہر ہو گا۔ نماز میں اس کی رخ بندی بندوں کے معاملات میں اصولی پابندی کی صورت میں ظاہر ہوگی۔ وہ انسان جو خدا کے سامنے کامل بندگی کا اقرار کرکے مسجد سے نکلتا ہے، وہ بندوں کے ومیان کامل اخلاق کا نمووہ بنا ہوا دکھائی دے گا۔ نماز کسی بندہ کے معاملات کو خدا کے ساتھ عجز کی بنیاد پر قائم کرتی ہے، اور بندوں کے ساتھ اس کے معاملات کو تواضع کی بنیاد پر۔
روزانہ پانچ وقت کی نمازوں کے علاوہ نماز کی اور بھی کئی صورتیں ہیں۔ رات کو تہجد کی نماز، کوئی غیر معمولی واقعہ پیش آنے کے وقت کی نماز، حاجت اور استخارہ کی نماز، اسی طرح جمعہ اور عیدین کی جماعت، جنازہ کی نماز، جماعت، یہ نمازیں اسی کیفیت کو مزید اضافے کے ساتھ حاصل کرنے کی کوششیں ہیں جو پنج وقتہ نمازوں سے ہر روز مطلوب حقیقت یہ ہے کہ نماز اگر پوری طرح کسی کو مل جائے تو وہ اس کی پوری زندگی میں شامل ہو جاتی ہے۔ ایک نیا کام شروع کرے تو دو رکعت نماز پڑھ کر خدا سے مدد کی درخواست کرتا ہے، وہ کسی مقام پر پہلی بار جائے تو وہاں وہ نماز پڑھ کر اپنے رب کی یاد کرتا ہے۔ کوئی مسئلہ اس کی سمجھ میں نہ آ رہا ہو تو نماز پڑھ کر اپنے دل کی گرہ کو کھولنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی حال بندوں سے تعلقات کے معاملہ میں بھی ہوتا ہے۔ بندوں سے معاملہ کرتے ہوئے اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے گویا نماز اس کے ساتھ ایک خدائی نگراں کی طرح لگی ہوئی ہے۔ دنیا کی پھیلی ہوئی زندگی میں اپنا حصہ ادا کرتے ہوئے اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ساری زمین خدا کی مسجد ہے اور ہر جگہ اس کو اپنی عبادت گزاری کے تقاضے پورے کرنے ہیں ۳- اسلام کا تیسرا رکن روزہ ہے۔ روزہ میں آدمی صبح کو فجر سے لے کر شام کو سورج ڈوبنے تک نہ کوئی کھانے کی چیز کھاتا اور نہ پینے کی چیز پیتا۔ اس طرح اپنی زندگی کی سب سے بڑی ضرورت کو چھوڑ کر وہ صبر در کنار برداشت کرنے) کی تربیت حاصل کرتا ہے۔ کھانا پینا چھوڑنے کی وجہ سے اس کو دن میں بھوک لگتی ہے پیاس ستاتی ہے، اس کا جسم کمزور ہو جاتا ہے۔ اس کے معمولات درہم برہم ہو جاتے ہیں۔ اس کی پوری زندگی کا نظام کمپٹ ہو جاتا ہے۔ مگر وہ ان تمام چیزوں کو برداشت کرتا ہے۔ وہ ناخوش گواریوں کو جھیلتا ہے۔ جسمانی تکلیفوں پر قابو رکھتے ہوئے اپنے ہوش در حواس کو برقرار رکھتا ہے۔ وہ مشکلات کے باوجود اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں لگا رہتا ہے۔ اس کی آنکھوں کے سامنے پانی ہوتا ہے مگر پیاس کے باوجود وہ اس کو اس کی آنکھوں کے سامنے کھانا ہوتا ہے مگر بھوک کے باوجود وہ اس کو نہیں کھاتا، اس طرح نہ اپنے آپ کو اس کے لئے تیار کرتا ہے کہ وہ ایک پابند اور ذمہ دار زندگی گزارے۔ وہ وہی کرے جو اس کو کرنا چاہئے ۔ وہ نہ کرے جو اس کو نہیں کرنا چاہئے۔ خواہ کسی بھی قسم کی مشکل پیش آئے، ہر حال میں اصل مقصد حیات کی طرف اپنے سفر کو جاری رکھے۔
خدا نے دنیا کی زندگی میں بے حساب نعمتیں انسان کو دے رکھی ہیں۔ مگر یہ نعمتیں خود بخود ملتی رہتی ہیں اس لئے آدمی کو ان کا احساس نہیں ہوتا۔ آدمی کو ایک بے حساب قسم کا پیچیدہ جسمانی نظام دیا گیا ہے۔ ایک رگ میں
فرق آجائے تو سارے جسم کا توازن بگڑ جائے۔ دنیا میں دھوپ، ہوا، پانی اور لاتعداد دوسری چیزیں ہیں حیرت انگیز طور پر اس بغیر ملنے کا اور بتا دی گئی ہیں، مگر ایک چیز بھی ان میں سے نہ رہے تو زندگی عذاب بن جائے۔ تمام چیزیں بغیر کسی اکتسابی کوشش کے آدمی کو ملتی رہتی ہیں، اس لئے آدمی ان کی اہمیت کو سمجھ نہیں پاتا۔ روزہ میں انسان کو اس کی انتہائی بنیادی ضرورت سے عارضی طور پر کچھ دیر کے لئے روکا جاتا ہے۔ انداز اس طرح اس کے اندر خدائی نعمتوں کا شعور جگایا جاتا ہے۔ دن بھر کی بھوک، پیاس، تھکن اور بے آرامی کے بعد شام کو جب آدمی کھانا کھاتا ہے اور پانی پیتا ہے تو اس کو اپنی محتاجی اور خدا کی بے پناہ بخششوں کا احساس ہوتا ہے، وہ اللہ کے شکر کے جذبہ سے بھر جاتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ جس خدا نے ایسی نعمتیں دی ہیں ، اس کے لئے اگر میں اپنی پوری زندگی بھی قربان کر دوں تو حق ادا نہیں ہو سکتا۔
دنیا میں مومن کو جو زندگی گزارنی ہے وہ سرتا پا صبر کی زندگی ہے۔ اس کو اللہ کی جائز کی ہوئی چیزوں تک اپنے کو محدود رکھنا ہے، اس کی ناجائز کی ہوئی چیزوں کو ہاتھ نہیں لگانا ہے۔ حق پرستانہ زندگی کی راہ میں آنے والی مشکلات کو برداشت کرنا ہے۔ دوسروں کی طرف سے پیش آنے والی تکلیفوں کا جواب دینے میں اپنا وقت ضائع نہیں کرتا ہے بلکہ ان کو سہتے ہوئے اپنے فریضہ حیات کو پورا کرنے میں لگا رہتا ہے۔ اس کو دنیا کے نقصانات کی پروا نہ کرتے ہوئے آخرت کی طرف اپنے سفر کو جاری رکھنا ہے۔ ایسے تمام مواقع پر جب اس کے نفس کو چوٹ لگے، جب اس کے اندر کوئی ناپسندیدہ بات پیش آنے کی وجہ سے اشتعال پیدا ہو، تو اس کو منفی رد عمل سے اپنے آپ کو بچانا ہے اور ہر حال میں اپنے آپ کو مثبت مقاصد کے لئے وقف رکھنا ہے۔ یہ تمام چیزیں بے پناہ صبر و برداشت چاہتی ہیں۔ کے کوئی شخص اسلام کے راستہ کا مسافر نہیں بن سکتا۔ روزہ ہر سال اسی صبر کا سبق دیتا ہے۔ وہ ایک مہینہ تک صابرانہ زندگی کی مشق کرا کر آدمی کو تیار کرتا ہے کہ وہ سال کے بقیہ مہینوں کو صبر کے ساتھ گزار سکے۔ ہے کہ مومن کی پوری زندگی ایک قسم کی روزہ دار زندگی ہے۔ اس کو تمام عمر برائی سے، منفی تدبیروں سے ، بے صبری کے اقدامات سے، دوسروں کو ستانے سے، اللہ کے حرام کو حلال کرنے سے روزہ رکھ لینا ہے۔ ایک مہینہ میں ضروریات زندگی پر پابندی لگا کر اسی قسم کی "روزہ دار زندگی کی مشق کرائی جاتی ہے۔ شکل کے اعتبار سے مقررہ اوقات کے لئے کھانا پانی چھوڑنا ہے اور اپنی حقیقت کے اعتبار سے صابرانہ زندگی کی تربیت۔ ۴- اسلام کا چوتھا رکن زکوٰة ہے۔ زکوٰة کا مطلب یہ ہے کہ اپنی کمائی اور اپنی دولت سے ہر سال ایک مقررہ رقم (عام طور پر ڈھائی فی صد) اللہ کے نام پر نکالی جائے۔ اور اس کو دین کی ضرورتوں اور حاجت مندوں کے اوپر خرچ کیا جائے۔ یہ زکوٰۃ ایک قسم کی سالانہ یاد دہانی ہے کہ انسان کے پاس جو کچھ ہے وہ خدا کا ہے، اس کو چاہئے کہ اپنی کسی چیز کو خدا سے بچا نہ رکھے۔ دنیا میں آدمی جو کچھ حاصل کرتا ہے، اس کا اپنا حصہ اس میں بہت تھوڑا ہوتا ہے زمین و آسمان کے اندر جو بے شمار اعلیٰ ترین انتظامات ہیں اگر وہ ساتھ نہ دیں تو آدمی نہ کوئی دانہ اگا سکے، نہ مویشیوں کی پرورش کر سکے۔ نہ صنعتیں قائم ہوسکیں، نہ اور کوئی کام کرنا ممکن ہو۔ انسان کے اپنے وجود سے
لے کر باہر کے عالم تک جو خدائی انتظامات ہیں ، ان میں سے کوئی ایک چیز بھی اگر خدا واپس لے لے تو آدمی کی ساری کوششیں اور منصوبے اکارت چلے جائیں اور کوئی نتیجہ پیدا نہ کریں۔
زکوٰۃ اسی حقیقت واقعہ کا مالی اعتراف ہے۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ آدمی اپنے مال کو خدا کا مال سمجھے ۔ کمائی میں خدا کا حق تسلیم کرے۔ اس معاملہ میں زیادہ کی کوئی حد نہیں ہے۔ تاہم کم سے کم کی حد مقرر کر دی گئی ہے۔ قانونی زکوٰۃ کی صورت میں آدمی ہر سال کم سے کم خدا کا حق نکالتا ہے اور اس کو جمع کرکے خدا کی مقرر کی ہوئی مدوں میں خرچ کیا جاتا ہے، اس نکالنے میں آدمی کو نہ تو یہ اجازت ہے کہ وہ اس کو دوسروں کے اوپر احسان سمجھے اور نہ اس کو ایسا کرنا چاہئے کہ پانے والوں کو ذلیل کرے ۔ اس کو اس جذبہ کے تحت دینا چاہئے کہ یہ خدا کی طرف سے آیا ہوا دوسروں کا حصہ ہے اور وہ اس کو حق داروں کی طرف لوٹا رہا ہے ۔ وہ اس لئے دوسروں کو کھلائے تا کہ خدا آخرت کے دن اس کو کھلائے ، وہ اس لئے دے تا کہ خدا آخرت کے دن اس کو محروم نہ کرے۔
زکوٰۃ ان ذمہ داریوں کی ایک علامت ہے جو ایک آدمی کو دوسرے انسانوں کے درمیان ادا کرنا ہے۔ وہ ذمہ داری یہ ہے کہ ہر آدمی دوسرے آدمی کا حق پہچانے ، ہر آدمی دوسرے آدمی کے لئے دردمند ہو۔ یہاں تک ترقی کریں کہ آدمی خود اپنی چیزوں تک میں دوسرے کا حصہ سمجھنے لگے۔ دوسرے سے کوئی معاوضہ نہ ملتے ہوئے بھی وہ اس کے کام آئے ، دوسرے سے نفع کی امید نہ ہوتے ہوئے بھی وہ اس کی عزت کا نگہبان ہو ۔ دوسرے سے رشتہ اور دوستی کا تعلق نہ ہوتے ہوئے بھی وہ اس کا خیر خواہ ہو۔ زکوٰۃ ایک آدمی کو یہ سبق دیتی ہے کہ اس کی ہر چیز خدا کا عطیہ ہے۔ دوسری طرف اس کو یہ احساس دلاتی ہے کہ تم اگر خدا کے بندے ہو تو تم کو معاشرہ کے اندر بے درد اور خود غرض بن کر نہیں رہنا چاہئے۔ بلکہ تمھاری زندگی میں دوسروں کا بھی حصہ ہونا چاہئے ۔ سماجی تنظیم کی ایک صورت یہ ہے کہ آدمی دوسرے کے کام صرف اس وقت آئے جب کہ اس کو دوسرے سے نفع کی امید ہو۔ وہ کسی کو قرض دے تو اس اعتماد پر دے کہ وہ سود کے ساتھ اس کی طرف اضافہ شدہ حالت میں لوٹے گا ۔ ایسے معاشرہ میں استحصال کا مزاج فروغ پاتا ہے ۔ ہر آدمی دوسرے آدمی کو دبانا اور لوٹنا چاہتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پورا سماج بدظنی کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایسے سماج میں کسی کو بھی سکون حاصل نہیں رہتا ۔ امیر ہو یا غریب۔ سماجی تنظیم کی دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی خدا سے بدلہ پانے کی امید پر دوسرے انسان کے کام وہ اس خدائی یقین دہانی کی بنیاد پر دوسرے کو دے کہ خدا اس کو آخرت میں بہت زیادہ بڑھا کر لوٹائے گا۔ ایسے معاشرہ میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت اور بے تعلقی کے جذبات فروغ نہیں پاتے ۔ لوگ ایک دوسرے کو استحصال کی نظر سے نہیں دیکھتے۔ سماج میں باہمی ناراضی اور انتشار کی فضا پیدا نہیں ہوتی ۔ ہر ایک دوسرے کی طرف سے امن میں رہتا ہے اور پورا سماج سکون اور خوش حالی کا سماج بن جاتا ہے۔ زکوٰۃ قانونی اعتبار سے ایک قسم کا سالانہ ’’ٹیکس‘‘ ہے اور حقیقت کے اعتبار سے اپنی ملکیت میں خدا اور بندے کے حق کا اعتراف ۔ اسلام کا پانچواں رکن حج ہے۔ سال میں ایک بار ساری دنیا کے مسلمان مرکز اسلام میں جمع ہوتے ہیں
اور وہ بالخصوص اجتماعی عبادات انجام دیتے ہیں، حج کی عبادات کیا ہیں۔ یہ دراصل ان اسلامی تعلیمات کو علامتی طور پر دہرانا ہے جو اسلام میں معنوی طور پر مطلوب ہیں۔ یہ اسلام کے احکام کو مخصوص صورتوں میں متشکل کر کے اللہ سے عملی عہد کرنا ہے کہ آدمی انھیں بنیادوں پر اپنی زندگی کو قائم کرے گا۔ اسلام کی دوسری عبادات میں بھی اگرچہ یہ پہلو موجود ہے، تاہم حج میں زیادہ بڑے پیمانے پر اور مجموعی شکل میں یہ تمام چیزیں اکٹھا کر دی گئی ہیں۔ اسلام چاہتا ہے کہ انسانوں کے درمیان ہر قسم کے مصنوعی امتیازات ختم ہو جائیں اور تمام انسان ایک خدا کے بندے بن کر دنیا میں زندگی گزاریں، احرام باندھنا اسی کی ایک عملی صورت ہے جس میں مختلف قوموں اور مختلف ملکوں کے لوگ یکساں طور پر ایک ہی سادہ لباس پہنے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اسلام چاہتا ہے کہ آدمی کی زندگی خدا کے گرد گھومنے لگے، کعبہ کے گرد طواف کرنا اسی کا ایک علامتی مظاہرہ ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ خدا کے بندے خدا کی راہ میں دوڑ دھوپ کرنے والے بنیں، صفا و مروہ کے درمیان دوڑ (سعی) اسی کی ایک مشق ہے۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ جب خدا کی پکار بلند ہو تو اس کے بندے اس کی پکار پر دوڑ پڑیں، حج کے دوران بار بار لبیک اللہم لبیک (حاضر ہوں خدا یا میں حاضر ہوں) کہنا اسی کا ایک عملی اقرار ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ آدمی اس دن کو یاد کرے جب کہ سارے انسان خدا کے یہاں جمع کئے جائیں گے، عرفات کے وسیع کھلے ہوئے میدان میں تمام حاجیوں کا قیام اسی کی ایک ظاہری یاد دہانی ہے۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ آدمی شیطان سے بیزار ہو اور ہمیشہ اس کو اپنے سے دور بھگاتا رہے، رمی جمار کے موقع پر شیطان کی پتھر کی علامتوں پر کنکریاں مارنا اسی کا ایک عملی سبق ہے۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ انسان ہر حال میں خدا کے عہد پر قائم رہے خواہ ایسا کرنا اس کے لئے جان و مال کی قربانی کی قیمت پر کیوں نہ ہو، منیٰ میں جانور کو قربان کرنا اسی کی کی ایک خارجی علامت ہے۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ اجتماعی زندگی میں لوگ ایک دوسرے کی طرف سے پیش آنے والی ناگواریوں کو برداشت کریں، حج کے زمانہ میں اس کی خصوصی تربیت ہوتی ہے۔ مختلف قسم کے لاکھوں لوگ بیک وقت ایک مقام پر جمع ہو جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بار بار ایسے مواقع آتے ہیں جب کہ ایک کو دوسرے سے تکلیف پہنچے۔ حج کے دنوں میں خصوصی طور پر لازم کر دیا گیا کہ غصہ، بد کلامی، مار پیٹ، کسی جان کو تکلیف پہنچانا، بے حیائی اور بد دیانتی کے کام سے مکمل پر ہیز کیا جائے ۔ اللہ سے بہتر سلوک پانے کے شوق میں بندوں کے ساتھ بہتر سلوک کیا جائے ۔
حج خدا رخی زندگی گزارنے کا سبق ہے۔ وہ آخرت کے ہولناک دن کو یاد دلاتا ہے۔ وہ خدا کے لئے سرگرم ہونے کا یہی مرسل ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ آدمی کو خدا کے راستہ میں جدوجہد کرنے والا بننا چاہئے۔ وہ انسان کو بتاتا ہے کہ تمھار اسب سے بڑا دشمن شیطان ہے اس کو کبھی اپنے قریب آنے کا موقع نہ دو۔ اس کا پیغام ہے کہ اللہ کے انعامات حاصل کرنا چاہتے ہو تو اللہ کے لئے اپنے جان و مال کو قربان کرو۔ دہ عملی حالات پیدا کر کے بتاتا ہے کہ مختلف انسانوں کو ایک دوسرے کی ناخوش گواریوں کو برداشت کرتے ہوئے انصاف اور خیر خواہی کے ساتھ مل جل کر رہنا چاہئے۔ وہ انسانی مساوات کا عظیم الشان مظاہرہ ہے غرض حج ایک ایسی مکمل عبادت ہے کہ آدمی اگر اس کو صحیح طور پر انجام دے تو اس کے تمام معاملات درست ہو جائیں۔ خواہ یہ معاملات خدا سے متعلق ہوں یا انسانوں سے متعلق۔