آخرت کی دنیا
Al-Risala, April 1979, pp. 38–33
By Maulana Wahiduddin Khan
قطب جنوبی کے سمندروں میں برف کے بہت بڑے تودے ہوتے ہیں جن کو آئس برگ ( Iceberg ) کہا یہ برفانی پہاڑ سطح سمندر پر تیرتے رہتے ہیں۔ ان کے حجم کا دس میں تقریبا نو حصہ پانی کے اندر ڈوبا رہتا ہے اور صرف ایک حصہ پانی کے اوپر دکھائی دیتا ہے۔ ایسی ہی کچھ مثال ہماری زندگی کی ہے۔ خدا نے انسان کو ابدی مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا۔ پھر اس کی عمر کا لگ بھگ سو سال موجودہ دنیا میں رکھ کر بقیہ تمام عمر کو موت کے بعد آنے والی دوسری دنیا میں ڈال دیا۔ ہم ماں کے پیٹ میں پرورش پا کر اس دنیا میں آنکھ کھولتے ہیں۔ اور پھر بچپن، جوانی اور بڑھاپا کے مرحلوں سے گزر کر مر جاتے ہیں۔ تاہم موت ہماری زندگی کا خاتمہ نہیں۔ موت ہم کو دوبارہ ایک نئے پیٹ، کائنات کے پیٹ میں ڈال دیتی ہے۔ اس کے بعد انسان ایک اور عالم میں آنکھ کھولتا ہے۔ یہ آخرت کا عالم ہے۔ دنیا عارضی ہے، آخرت کی دنیا ابدی ہے۔ موجودہ دنیا کی تکلیفیں بھی معمولی ہیں اور لذتیں بھی معمولی۔ مگر اگلی دنیا میں دونوں چیزیں اپنی آخری انتہا پر ہوں گی۔ وہاں جس کے حصہ میں تکلیف آئے گی، وہ بدترین عذاب میں ہمیشہ کے لئے ترستا رہے گا، جس کے حصے میں راحتیں آئیں گی، وہ کمال درجہ کی راحتوں میں ابدی طور پر خوشیوں اور لذتوں کا لطف اٹھاتا رہے گا۔
امتحان کی مصلحت کی بنا پر آخرت کی دنیا کو ہماری نظروں سے اوجھل کر دیا گیا ہے۔ مگر ہمارے گردو پیش آدمی اگر یہ جان لے کہ موت کے دوسری طرف بھی ایک دنیا ہے جو زیادہ مکمل ہے تو موجودہ زندگی اس کے لئے بے حد بامعنی ہو جائے گی۔ وہ اپنی جدوجہد کی منزل کو پالے اس کی زندگی ۔ آخرت رخی زندگی ہو جائے گی (Akhirat Oriented Life)
بالآخر ایک شان دار کامیابی پر ختم ہوگی۔ برعکس جو شخص موت کے بعد آنے والی دنیا کو نہ دیکھ رہا ہو اس کی زندگی دنیا رخی زندگی ہوگی۔ کوششیں اسی دنیا میں بھٹکتی رہیں گی۔ بعد جب وہ اگلی وسیع تر دنیا میں داخل ہوگا تو اچانک اس کو معلوم ہوگا کہ یہاں کے لئے اس کے پاس کچھ نہیں وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقِ (بقره ۲۰۰)
ایسی نشانیاں ہیں، جن کے ذریعہ سے ہم آخرت کی دنیا کو سمجھ سکتے ہیں۔
ایک کمرہ ہے، اس میں کچھ آدمی بیٹھے ہوئے ہیں۔ دیوار، فرنیچر، آدمی وغیرہ کی صورت میں جو چیزیں کمرہ کے اندر نظر آرہی ہیں، بظاہر وہی کمرہ کی کل دنیا ہے۔ اس کے سوا کوئی اور دنیا وہاں موجود نہیں۔ لیکن جب کمرہ میں رکھا ہوا ٹیلی وژن سیٹ کھولا جاتا ہے تو اچانک معلوم ہوتا ہے کہ ہماری اس دنیا کے اندر ایک اور دنیا اپنے تمام اجزاء کے ساتھ موجود تھی۔ اس میں حرکت تھی، آوازیں تھیں ۔ اس میں انسان جیسی ہستیاں تھیں۔ واقعات ہورہے تھے۔ وہ سب مکمل طور پر موجود تھا مگر یہ دیکھنے والوں کے لئے غیر موجود بنا ہوا تھا۔ جب ٹیلی وژن کھولا گیا تو معلوم ہوا کہ ہماری محسوس دنیا کے اندر ایک اور مکمل دنیا موجود تھی۔ اگرچہ اس سے پہلے وہ ہم کودکھائی نہیں دے رہی تھی۔
یہ ایک معلوم مثال ہے جس سے آخرت کے معاملہ کو سمجھا جاسکتا ہے۔ ہماری دنیا ایک دہرا وجود کی حیثیت یہاں ہماری محسوس دنیا کے اندر ایک اور دنیا چھپی ہوئی ہے۔ یہ آخرت کی دنیا ہے۔ ہم اپنی زندگی کا ابتدائی حصہ نظر آنے والی دنیا میں گزارتے ہیں۔ اس کے بعد موجودہ دنیا میں ہماری آنکھ بند ہو جاتی ہے اور ہم کو ایک اور دنیا میں پہنچا دیا جاتا ہے۔ انسانی زندگی کا اصل مسئلہ یہی ہے کہ وہ آئندہ آنے والی دنیا میں کامیابی کیوں کہ وہ دنیا ابدی بھی ہے اور حقیقی بھی۔ اس دنیا کی تکلیفوں اور راحتوں کے مقابلہ میں موجودہ دنیا کی تکلیفوں اور راحتوں کی کوئی حقیقت نہیں۔
موجودہ دنیا میں بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان آزاد ہے کہ جو چاہے کرے۔ مگر یہ آزادی صرف اس لئے ہے کہ انسان حالت امتحان میں ہے۔ یہاں آدمی کو جانچ کر دیکھا جارہا ہے کہ کون اچھا ہے، کون برا۔ اس جانچ کے لئے آزادانہ فضا ضروری تھی۔ ضروری تھا کہ آدمی کو اس بات کا کھلا موقع دیا جائے کہ وہ جس طرح چاہے رہے اور جس قسم کی چاہے زندگی گزارے۔ موجودہ ابتدائی دنیا اسی خاص ضرورت کے تحت خاص ڈھنگ سے بنائی گئی ہے۔ حالات یہاں جمع کئے گئے ہیں جو کسی آدمی کو عمل کا موقع دیئے جانے اور اس کے بعد اس پر حجت قائم کرنے کے لئے ضروری ہیں۔ اس طرح لوگوں کو کسوٹی پر رکھ کر دیکھا جارہا ہے کہ کون اگلی دنیا میں عزت کی جگہ دینے کے قابل ہے اور کون اپنے ظلم اور نالائقی کی بنا پر اس کا مستحق ہے کہ اس کو ذلت کے گڑھے میں ڈال دیا جائے۔ موجودہ دنیا میں دونوں قسم کے آدمی ملے جلے ہیں۔ آخرت کی دنیا میں دونوں کو ان کے آج کے ریکارڈ کے مطابق چھانٹ دیا جائے گا۔ ایک طرف تکلیفوں اور مصیبتوں کا جہنم ہوگا اور برے لوگوں کو اس میں پر عذاب زندگی گزارنے کے لئے ڈال دیا جائے گا۔ دوسری طرف ہر قسم کی راحتوں اور خوشیوں کی جنت ہوگی اور نیک لوگوں کو اس کا دائمی وارث بنا دیا جائے گا کہ وہ اس میں اپنا ٹھکانا بنائیں اور خوشیوں بھری زندگی گزاریں ۔
اب آخرت کے مسئلہ کو ایک اور پہلو سے دیکھئے۔
ایک مرتبہ میں ایک بڑے سرکاری افسر سے ملا۔ شام کا وقت تھا۔ ہم لوگ ان کے شان دار بنگلہ کے لان میں بیٹھے " مولانا صاحب " اچانک انھوں نے کہا " ہم لوگوں کی زندگی بھی کیسی بری زندگی ہے۔ اب دیکھیے ۔ کل صبح کو سورج نکلنے سے پہلے مجھے ہوائی اڈہ پر جانا ہے۔ فلاں ملک کی اعلیٰ سیاسی شخصیت کا ہوائی جہاز ہماری زمین پر اترے گا۔ نہ صرف اپنی نیند کو چھوڑ کر ہوائی اڈہ پر پہنچنا ہے بلکہ دل میں نفرت کے باوجود مسکرا کر ان کا استقبال بھی کرنا ہے۔ یہ ایک سادہ سی مثال ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑے لوگوں کی زندگیاں کس طرح دو رخی ہوتی ہیں۔ ان کی زندگی کا ایک پہلو کار اور کوٹھی اور عزت اور اقتدار ہے۔ مگر اس کا ایک اور پہلو ہے جو اس سے بالکل مختلف ہے۔ یہ چیزیں نہیں کن باتوں کے نتیجہ میں ملتی ہیں۔ اگر آپ کسی بڑے آدمی کے اندر جھانک کر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ اس چمک دمک کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ انھوں نے اپنے آپ کو مصلحت پر راضی کیا ہے، خوشامد ، موقع پرستی، مصلحت پسندی ، زمانہ سازی ، بے ضمیری ظاہر داری، دغلی، ، یہی وہ چیزیں ہیں جن کی قیمت ان کو ایک شان دار زندگی کی صورت میں ملتی ہے۔ ہر بڑے آدمی کی زندگی کے دو رخ ہیں۔ ایک شان دار، دوسرا تاریک اور بے روح۔ وہ اپنے " انسانی وجود " کو قتل کرنے پر راضی ہوتا ہے۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتا ہے کہ " حیوانی وجود " کی سطح پر اس کو جاہ و حشم کی ایک زندگی حاصل ہو سکے۔ عام انسان کی زندگی کے بھی اسی طرح دو پہلو ہوتے ہیں۔ ایک مزدور مئی جون کی گرمی میں کھلی دھوپ میں کام کر رہا ہے۔ وہ سر سے پاؤں تک پسینہ میں شرابور ہے۔ مگر اپنا کام کئے جا رہا ہے۔ وہ کیوں اپنے آپ کو مشقت کی آگ میں جلاتا ہے، اس لئے کہ وہ جانتا ہے کہ اس دھوپ "، کا ایک " سایہ " بھی ہے۔ اس کی مزدوری کا ایک پہلو گرمی اور لو میں جھلسنا ہے اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ شام کو چند روپے حاصل کرے گا جس سے اس کے نبوی بچوں کی ضرورتیں پوری ہوں گی اور وہ رات کو اطمینان کی نیند سوئے گا۔
کسی عمل کے دورخ ہونے کا یہ وہ پہلو ہے جو صرف دنیوی اعتبار سے پایا جاتا ہے۔ اسی طرح دنیا اور آخرت کے اعتبار سے بھی عمل کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ ہر عمل جو آدمی اس دنیا میں کرتا ہے ، اس کا ایک رخ وہ ہے جو دنیا میں نظر آتا ہے۔ وہ ہے جو آخرت میں مرتب ہو رہا ہے۔ آج ہم اپنے عمل کے دنیوی پہلو کو بھگتتے ہیں۔ کل ہم اپنے عمل کے اخروی پہلو کو پائیں گے آج ہم زندگی کے ایک سمت میں کھڑے ہیں۔ اس لئے ہم کو اعمال کا ایک ہی رخ دکھائی دیتا ہے۔ قیامت ہم کو ایک ایسے مقام پر کھڑا کر دے گی جہاں دونوں رخ ہمارے سامنے آجائیں گے۔ جس طرح دیوار کے اوپر کھڑا ہوا آدمی دیوار کے دونوں طرف دیکھتا ہے اسی طرح قیامت کے عالم میں پہنچ کر آدمی حقیقت کے دونوں رخ کو دیکھنے لگے گا۔ ایک طرف پھیلی زندگی کی پوری تاریخ بچپن سے موت تک لمبی فلم کی طرح اس کے سامنے کھلی ہوگی۔ دوسری طرف اس کی بنائی ہوئی تاریخ کے اخروی نتائج بالکل برہنہ ہو کر آنکھوں کے سامنے کھڑے ہوں گے :
عَلِمَتْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ وَأَخَّرْتُ (الانفطار ) اس دن آدمی جان لے گا جو اس نے آگے بھیجا اور جو اس نے پیچھے چھوڑا۔
دنیا کا کام دنیا میں رہ جائے گا اور آخرت کی زندگی کے لیے وہی چیز کار آمد بنے گی جو آخرت کے لیے کی گئی تھی۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں ایک مقدمہ پیش ہوا۔ ایک شخص نے ناجائز طور پر دوسرے کی زمین پر قبضہ کر لیا تھا۔ مگر اس کی قانونی خانہ پُری اتنی مکمل تھی کہ ظاہری طور پر اس کے خلاف فیصلہ دینا بھی مشکل تھا۔ آپ نے فرمایا ” تمھاری ہوشیاری کی بنا پر اگر عدالت نے تمھاری موافقت میں فیصلہ دے دیا تو سمجھو کہ اس نے تم کو آگ کا ایک ٹکڑا دیا ہے، گویا اس آدمی کے عمل کا نتیجہ دنیوی اعتبار سے تو زمین کا ایک محبوب ٹکڑا اٹھا۔ مگر آخرت کے اعتبار سے وہ بھڑکتی ہوئی آگ کا ایک شعلہ تھا۔ وہ اپنے عمل سے پیچھے کی دنیا میں زمین چھوڑ رہا تھا اور آگے آخرت کی دنیا میں آگ بھیج رہا تھا۔ اسی طرح نیک اعمال کا معاملہ بھی ہے۔ امام احمد نے عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یہ قول غصہ کے بارے میں نقل کیا ہے : ما تجرع عبد جرعة من لبن أو عسل خير من کسی بندہ نے غصہ کے گھونٹ سے بہتر دودھ یا شہد جرعة غیظ کا گھونٹ نہیں پیا۔
غصہ کو پی جانا دنیا کے اعتبار سے انتہائی کڑوا گھونٹ ہے۔ مگر اس عمل کا جو اخروی ثمنی ہے، وہ دودھ اور شہد سے بھی زیادہ میٹھا اور لذیذ ہے۔
حدیث میں آیا ہے کہ گرمی کی شدت جہنم کی سانس کی وجہ سے ہوتی ہے (ان شدة الحر من فيح جهنم) اسی طرح حدیث معراج میں ہے کہ آپ سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچے تو وہاں آپ نے چار نہریں دیکھیں۔ دو نہریں اورر بہتی تھیں اور دو جبریل نے بتایا کہ اندر اندر بہنے والی نہریں تو بہشت کے دریا ہیں اور اوپر اوپر بہنے والے نیل اند فرات ۔ دنیا اور آخرت کی دنیا ایک ہی واقعہ کے دو پہلو ہیں۔ دنیوی پہلو حقیر اور عارضی ہے۔ اخروی پہلو بہتر اور مستقل ۔ ہم دنیوی پہلو سے دو چار ہیں۔ موت کے بعد ہم اخروی پہلو سے دوچار ہوں گے۔
انسانی عمل کے اس دوگنہ پہلو کو حدیث معراج میں مختلف تمثیلات کے ذریعہ بتایا گیا ہے۔
بستی میں ایک شخص ہے۔ اس نے اپنی محنت اور جدوجہد سے اپنے لئے ہر قسم کی عزت اور خوش حالی جمع کر لی ہے۔ وہ جب کسی مجلس میں داخل ہوتا ہے تو اچانک ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے مجلس کا سردار آگیا ہے۔ اسی بستی میں دوسرا شخص وہ بالکل ناکام ہے ، اپنی عمر کا بڑا حصہ گزار لینے کے باوجود وہ اپنی مفلوک الحالی کو ختم نہ کر سکا۔ اگر وہ مجلس میں آجائے تو کوئی اس کو اہمیت نہیں دیتا، حتیٰ کہ ایسا معلوم ہوتا ہے گویا کوئی آدمی مجلس میں آیا ہی نہیں ۔ دونوں بظاہر ایک ہی قسم کے انسان ہیں۔ دونوں یکساں قسم کے ہاتھ پاؤں کے ساتھ آتے ہیں۔ سے کوئی بھی اپنی عزت یا اپنی مفلسی کا پشطارہ لے کر نہیں آتا۔ اس کے باوجود دونوں میں اتنا زیادہ فرق کیوں اس کی وجہ آدمی کا وہ دہر اوجود ہے جس کو ”حیثیت“ کہا جاتا ہے۔ ہر آدمی اپنے دکھائی دینے والے وجود کے ساتھ اپنی نہ دکھائی دینے والی حیثیت کو بھی لئے ہوئے ہوتا ہے۔ ظاہری جسم آدمی کو پیدائشی طور پر ملتا ہے اور غیر محسوس حیثیت کو آدمی اپنی کوششوں سے بناتا ہے۔ اسی طرح آدمی کا ایک دنیوی وجود ہے اور ایک اخروی وجود ۔ دنیوی وجود پیسے اور اقتدار سے بنتا ہے اور اخروی وجود خدا ترسی اور نیک عمل سے ۔ آج کی دنیا میں آدمی اپنے دنیوی وجود کے ساتھ جی رہا ہے اور آخرت میں وہ اپنے اخروی وجود کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔
کسی درخت پر کوئی پتھر اٹکا ہوا ہے، آپ اس کے نیچے سے گزرے، یکایک پتھر آپ کے اوپر گرا اور آپ کا سر ٹوٹ گیا، کیا آپ اس درخت پر خفا ہوں گے اور اس سے لڑائی کریں گے، نہیں، بلکہ خاموشی سے اپنا سرپکڑے ہوئے گھر چلے جائیں گے یا اسپتال جاکر اپنا علاج کرائیں گے۔ اس کے برعکس اگر کوئی آدمی جان بوجھ کر آپ کے اوپر ایک پتھر کھینچ مارے اور آپ کا چہرہ زخمی ہو جائے تو آپ اس کے اوپر برس پڑتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کا بھی سر توڑ ڈالیں جس طرح اس نے آپ کا سر توڑا ہے اور اگر خود اس کا سر توڑ نہیں سکتے تو معاملہ کو عدالت میں لے جاتے ہیں اور اں اس کو قانون کے مطابق سزا دی جاتی ہے۔ اسی طرح ایک اور مثال لیجئے۔ آم کا ایک بڑا درخت ہے جس پر فصل کے موقع پر ہزاروں کی تعداد میں پھل آتے ہیں۔ یہ پھل پکتے ہیں اور ایک ایک کر کے گر جاتے ہیں یا توڑ لئے جاتے ہیں، خود آم اپنے ایک پھل کو بھی نہیں کھاتا۔ مگر کوئی شخص کبھی یہ کہتا ہوا نہیں سنا گیا کہ افسوس کہ آم نے اتنے پھل پیدا کئے مگر وہ خود اپنے پھل کو نہ کھا سکا۔ اس کے برعکس ایک آدمی زندگی بھر کی کمائی سے اپنے لئے ایک شاندار مکان بنائے اور مکان کی تعمیر مکمل ہوتے ہی مر جائے تو ہر دیکھنے والا شخص کہے گا کہ کیسا افسوس ناک ہے یہ واقعہ کہ آدمی نے محنت کر کے ایک گھر بنایا اور اس کے اندر رہنا اس کو نصیب ہوا۔
معلوم ہوا کہ درخت اور انسان میں بہت بڑا درخت کوئی برائی کرتا ہے تو اس کو اس برائی کی سزا نہیں دی جاتی۔ اسی طرح درخت کوئی وہ نیکی کرتا ہے تو یہ ضرورت محسوس نہیں ہوتی کہ اس کو اس کی نیکی کا انعام دیا جائے جب کہ انسان کے لئے ہم دونوں چیزیں چاہتے ہیں۔ پکارتا ہے کہ انسان کوئی بُرا عمل کرے تو اس کو ضرور اس کی سزا دی جائے اور انسان کوئی اچھا عمل کرے تو ضرور اس کو اس کا انعام ملے۔
سارے انسانوں کی فطرت یہی مانگ رہی ہے اور تمام علوم متفقہ طور پر اس کی اہمیت کی تصدیق مگر کیسی عجیب بات ہے کہ یہی چیز اس دنیا میں حاصل کرنا ممکن نہیں۔ ہٹلر نے ایک ایسی جنگ چھیڑی جس میں پانچ کروڑ آدمی ہلاک ہو گئے۔ کیا کوئی بھی حکومت ہٹلر کو اس کے اس جرم کی سزا دے سکتی ہے۔ ہم زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہٹلر کو گولی مار کر ختم کر دیں حالانکہ یہ جرم اتنا بڑا ہے کہ ہٹلر اگر ۵ کروڑ بار زندہ ہو اور ۵ کروڑ بار گولی مار کر ہلاک کیا جائے تب بھی اس کی سزا مکمل نہیں ہوگی۔ پھر یہ معاملہ ہٹلر اور اسٹالن جیسے ظالموں کا ہی نہیں حقیقت یہ ہے کہ ایک معمولی آدمی بھی جب کوئی جرم کرتا ہے تو اس کے جرم کے اثرات اتنے وسیع ہوتے ہیں کہ نہ کوئی دنیوی عدالت اس کے سارے پہلوؤں کی تحقیق کر سکتی اور نہ کوئی جیل خانہ اس کو اس کے جرم کی پوری پوری سزا دے سکتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص جو اس دنیا میں کوئی جرم کرتا ہے وہ اپنے جرم کی حقیقی سزا پائے بغیر مر جاتا ہے۔ حالانکہ ساری انسانیت پکار رہی ہے کہ اس کو اس کے جرم کی پوری پوری سزا
یہی معاملہ انعام کا بھی ہے۔ ایک شخص کو اقتدار ملے مگر اقتدار پا کر وہ فرعون نہ بنے بلکہ عام
انسانوں کی طرح اپنے کو ایک انسان سمجھے اور اقتدار کو لوگوں کی حقیقی خدمت میں لگائے، کیا اس دنیا میں اس کو اس عمل کا بدلہ دیا جاسکتا ہے۔ ایک شخص اپنی محنت سے دولت کمائے اور اس دولت کو غریبوں اور محتاجوں کی ضرورتیں پوری کرنے میں صرف کر دے کیا اس کو اس عمل کا انعام دینا ممکن ہے۔ علم میں کمال پیدا کرتا ہے اور اس علم کو انسانیت کی تعمیر میں لگا دیتا ہے، کیا اس کو اس خدمت کا معاوضہ دیا جاسکتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ ایک شخص کے ایک چھوٹے سے نیک عمل کا انعام دنیا بھی اس دنیا کے محدود حالات میں ممکن نہیں جس طرح ایک بُرا عمل بے شمار طریقوں سے انسان کے لئے مصیبت بنتا ہے۔ اسی طرح ایک نیک عمل بے شمار طریقوں سے انسانیت کے لئے خیرو فلاح کا باعث ہوتا ہے۔ کون ہے جو اس کے اعداد و شمار جمع کر سکے اور اس کو اس کے عمل کا پورا پورا بدلہ دے۔ اسی کے ساتھ ایک بات اور بھی ہے۔ میں آدمی بیماری، بڑھاپا، موت اور اس طرح کے دوسرے ناموافق قوانین سے بندھا ہوا ہے۔ کسی کے حسن عمل کا اندازہ کر کے اس کے لئے اس کے کارناموں کے مطابق ایک "جنت" بنا دی جائے، جب بھی وہ اس سے حقیقی طور پر لطف اندوز نہیں ہو سکتا۔ بے شمار انسانوں کا تجربہ بتاتا ہے کہ اس دنیا میں بالفرض کسی کو مسرت مل جائے، جب بھی وہ چند لمحات سے زیادہ امن کا لطف نہیں اُٹھا سکتا۔ ہر انسان اپنے لئے ایک ”جنت“ چاہتا ہے۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ اس دنیا میں جنت نہیں بن سکتی۔ جنت بنانے کے لئے کوئی اور دنیا درکار ہے جو محدودیتوں اور نقائص سے پاک ہو۔ یہ صورتِ حال پکار رہی ہے کہ موجودہ دنیا نامکمل ہے اور اس دنیا کی تکمیل کے لئے ایک اور دنیا وجود میں آنی چاہئے۔
جب ہم کائنات کا مطالعہ کرتے ہیں تو وہ بے پناہ حد تک وسیع معلوم ہوتی ہے ۔ اس کے امکانات لا محدود یہ زمین، جس پر انسان اپنی زندگی بناتا ہے، وہ عظیم کائنات کے اتھاہ امکانات کا ایک بے حد حقیر ہماری زمین، کائنات کا اس سے بھی زیادہ چھوٹا حصہ ہے جتنا سارے سمندروں کے کنارے پائی جانے والی ریت کے مقابلہ میں ایک ذرہ۔ کائنات نے اپنے اتھاہ امکانات میں سے صرف ایک حقیر جزو ہی کو زمین پر کیوں ظاہر کیا۔ عقیدہ اسی سوال کا جواب ہے۔ انسان کے لئے یہاں جو امکانات ہیں، ان کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ اس کا ابتدائی حصہ موجودہ دنیا میں ہم کو مل رہا ہے اور اس کا آخری اور کامل حصہ آخرت کی دنیا میں دیا جائیگا۔ آخرت کا نظریہ ان تمام بہترین آرزوؤں اور تمناؤں کو با معنی بناتا ہے جن کو ایک آدمی اپنے سینہ میں لئے ہوئے مگر ساری کوشش کے باوجود ان کو واقعہ بنانے میں کامیاب نہیں ہوتا۔ اگر وہ ہر قسم کے ناموافق حالات کا مقابلہ کرتا ہوا بالفرض اپنے لئے ایک پسندیدہ زندگی بنالے تب بھی بڑھاپا اور موت اس کی ہر کامیابی کو بہت جلد بے معنی بنا دیتے ہیں۔ آخرت کا عقیدہ بتاتا ہے کہ اس کے خوابوں کی دنیا کہاں ہے اور اس کی مطلوبہ "جنت" کس سمت میں ہے جدھر اس کو دوڑ دھوپ کرنی چاہئے۔ آخرت آدمی کی منزل کو بھی بتاتی ہے اور اس کی جد و جہد کے صحیح رخ کو بھی۔