Al-Risala · April 1979

ہدایت کا انتظام

Al-Risala, April 1979, pp. 43–35

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا نے انسان کی ہدایت کے لئے غیر معمولی انتظامات کئے ہیں۔ پیغمبر کے ذریعہ اپنی کتاب اتاری ہے۔ کائنات میں بے حساب پیمانہ پر اپنی نشانیاں پھیلادی ہیں۔ اسی کے ساتھ خدا کے فرشتے ہر قدم پر کھڑے ہوئے خاموش زبان میں اس کو بتاتے رہتے ہیں کہ حق کیا ہے اور نا حق کیا۔ ایک بزرگ کو ان کے پڑوسی نے تکلیف پہنچائی، وہ اس سے سخت ناراض ہوگئے اب میں نہ اس سے بات کروں گا اور نہ اس سے تعلقات رکھوں گا۔ انھوں نے اپنے دل میں سوچا، اس کے اگلے دن اتفاق سے ان کے لڑکے سے بھی ان کو ایک تکلیف پہنچی۔ وہ اس سے سخت ناراض ہوئے اور غصہ میں گھر سے باہر نکل آئے۔ رات تک ان کا غصہ جاری رہا، یہاں تک کہ وہ سو گئے۔ اگلی صبح کو سو کر اٹھے تو انھیں محسوس ہوا کہ ان کے دل میں اپنے بچے کے لئے دوبارہ وہی محبت ہے جو پہلے تھی۔ انھوں نے اپنے لڑکے کو بلایا اور لطف و محبت کے ساتھ اس سے بات کر کے کل کے غصہ کی

"اگر میں اپنے لڑکے کا قصور معاف کر سکتا ہوں تو کیا اسی طرح میں اپنے پڑوسی کا قصور معاف نہیں کر سکتا" ان کے دل میں خیال آیا، اور اچانک انھیں محسوس ہوا کہ لڑکے کی غلطی کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے انھیں سبق "اولاد جن مصلحتوں کے تحت دی جاتی ہے ان میں سے ایک مصلحت شاید یہ بھی ہے کہ انسان کو بتایا جائے" کہ وہ کس طرح ایسا کر سکتا ہے کہ ایک قصور وار کا قصور معاف کر دے۔ اگر آدمی کو اولاد نہ دی جاتی تو اس افلاطونی محبت کا عملی سبق کسی اور طرح اس کو نہیں دیا جا سکتا تھا۔ اس کے بعد انھوں نے اللہ سے معافی مانگی اور اپنے پڑوسی سے مل کر اس کو خوش کیا۔

اگر آدمی کے سینہ میں ضمیر دندہ ہو اور وہ خدا کے سامنے پیش ہونے سے ڈرتا ہو تو اسی طرح ہر زن وہ اپنے گر دو پیش خدا کی آواز سنتا ہے۔ وہ ہر موڑ پر دیکھ سکتا ہے کہ خدا کے فرشتے کھڑے ہوئے بتا رہے ہیں کہ اس کو کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں کرنا چاہئے۔ یہ آواز صرف ان لوگوں کو سنائی نہیں دیتی جن کے کان خدا کی آواز سننے کے لئے بہرے ہو چکے ہیں۔ وہ خدا کی آواز صرف اس وقت سنیں گے جب اسرافیل کی چنگھاڑ ان کے کان کے پردے پھاڑ دے۔

ایک بزرگ ایک شخص کے یہاں مہمان ہوئے، اس آدمی کے گھر سے ملی ہوئی مسجد تھی جس میں نمازی بہت کم آتے بزرگ نے اپنے سکون کی خاطر مسجد میں قیام کو پسند کیا۔ مسجد میں داخل ہونے کے بعد انھیں محسوس ہوا کہ عرصہ سے اس کی صفائی نہیں ہوئی ہے۔ یہ برسات کا زمانہ تھا۔ اس لئے ٹپکنے سے اور بوچھار سے مسجد کی صفیں جگہ جگہ سے بھیگ گئی تھیں اور ان میں بو بھی پیدا ہوگئی تھی۔ اگلے دن سورج نکلا تو بزرگ نے ساری صفیں نکال کر باہر دھوپ میں پھیلا مسجد میں خوب صفائی کی۔ اس کے بعد صفوں کو سکھا کر اور جھاڑ کر اپنی جگہ دوبارہ بچھا دیا۔ بزرگ جب پہلی بار مسجد میں داخل ہوئے تھے تو اس کی حالت دیکھ کر انھیں سخت انقباض ہوا تھا۔ اب جو وہ

اس کی صاف ستھری فضا میں بیٹھے تو ان کے دل کو ایک خاص طرح کی خوشی محسوس ہوئی ۔ انھوں نے دو رکعت نماز پڑھ کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اس نے انھیں اس خدمت کی توفیق عطا فرمائی۔ عین اس وقت ان کے میزبان آگئے ۔ " اس شخص سے اتنا بھی نہیں ہو سکتا کہ مسجد کی صفائی کرے،" اس کو دیکھتے ہی ان کے اندر یہ احساس ابھرا " یہ دین کے اوپر لمبی لمبی تقریریں کرتا ہے۔ مگر عمل کا یہ حال ہے کہ اپنے پڑوس کے خانہ خدا کو درست نہیں کر سکتا" اس احساس نے بہت جلد ان کے لاشعور میں یہ جذبہ ڈال دیا کہ دین میں اس سے زیادہ ہوں۔ میری دین داری کے مقابلہ میں اس کی کوئی حیثیت نہیں "

دن گزر گیا۔ شام کو جو مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک اجنبی شخص اندر داخل ہوا ۔ اس کا دبلا پتلا چہرہ اور اس کے پھٹے کپڑے بتا رہے تھے کہ وہ کوئی غریب مسافر ہے۔ بزرگ نے اس کے سلام کے جواب میں وعلیکم السلام تو کہا مگر دل میں سوچا " یہ شخص بھی کتنا بے وقت آیا ہے، اب اس کے لئے رات کے کھانے کا انتظام کرنا ہوگا ۔ رات بھی شاید وہ اسی مسجد میں گزارے اور میری تنہائی میں خلل ڈالے" ابھی وہ اسی انقباض میں تھے کہ ان کے میزبان مسجد میں داخل ہوئے ۔ مسافر کو دیکھ کر انھوں نے فوراً آگے بڑھ کر اس کو سلام کیا، اور مسکراتے ہوئے پوچھا کہاں سے آنا ہوا۔ پھر اس کے حالات معلوم ہونے کے بعد خود ہی بولے " آج آپ یہیں قیام کریں اور ہمارے ساتھ کھانا کھائیں" میزبان نے یہ ساری باتیں اس طرح کیں گو یا یہ نو وارد ایک غریب مسافر نہیں، ایک نعمت ہے جو خدا نے اس وقت خصوصی طور پر ان کے لئے بھیج دی ہے۔

اس واقعہ کے بعد بزرگ نے محسوس کیا کہ ان کے دل میں نئی ہلچل پیدا ہو رہی ہے " مسجد کی صفائی کے معاملہ میں میں نے اپنے میزبان پر سبقت کی تھی۔ مگر مسافر کی خدمت کے معاملہ میں وہ مجھ سے کہیں زیادہ بڑھا ہوا ہے" انھوں نے اپنے دل میں کہا " اگر میرے اندر ایک خصوصیت ہے تو میزبان کے اندر دوسری خصوصیت ہے، اور کیا معلوم مسجد کی صفائی کے مقابلہ میں غریب مسافر کی خدمت اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہو۔ اس خیال کا آنا تھا کہ انھوں نے توبہ کی اور سجدہ میں گر کر اللہ سے دعا کی کہ وہ ان کو اور ان کے میزبان کو ہدایت دے اور اپنی رحمتوں میں حصہ دار بنائے ۔

ہماری دنیا فتنوں سے بھری ہوئی ہے۔ یہاں ہر وقت اندیشہ ہے کہ آدمی کسی گڑھے میں جا گرے ۔ مگر اوپر کے واقعات بتاتے ہیں کہ اللہ نے یہاں بچاؤ اور اصلاح کے بھی بے شمار مواقع رکھ دیئے ہیں۔ اگر آدمی کے اندر ایمانی جذبہ زندہ ہو تو ہر فتنے کے وقت اس کو اپنے قریب ہی ایک روشنی مل جائے گی جس سے فائدہ اٹھا کر وہ دوبارہ اپنے نجات کے راستہ کو پا سکتا ہے۔ مگر جب ایمان کی چنگاری بجھ جائے تو وہ بچاؤ کے الہی انتظام سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا پاتا۔ وہ ہر پھسلن پر گرتا رہتا ہے ۔ یہاں تک کہ اس آخری گڑھے میں پہنچ جاتا ہے جس سے پھر آدمی کو نکلنا نہیں ہے : جو خدا سے ڈرنے والے ہیں جب ان پر شیطان کا گزر ہوتا ہے، وہ چونک جاتے ہیں۔ پھر انھیں سوجھ آجاتی ہے اور وہ شیطان کے بھائی ہیں۔ وہ ان کو کھینچے چلے جاتے ہیں پھر وہ کسی طرح نہیں تھمتے۔

Printed page