Al-Risala · April 1979

انسان کی تلاش

Al-Risala, April 1979, pp. 36–37

By Maulana Wahiduddin Khan

انسان ایک ایسی دنیا چاہتا ہے جہاں وہ اپنے خوابوں کی تعبیر پا سکے، جو عیب اور محدودیت سے خالی ہو۔ موجودہ دنیا میں اس کو یہ چیز حاصل نہیں ہوتی۔

ڈاکٹر سی وی۔ رمن ہندوستان کے مشہور ترین سائنس داں ہیں۔ انھوں نے اٹھارہ سال کی عمر میں ایم اے ان کو سائنس کا نوبل انعام ملا۔ ان کی ایک سائنسی تحقیق (۱۹۲۸) نے رمن ایفیکٹ کے نام سے عالمی شہرت حاصل کی ۔ بنگلور میں ان کے نام پر رمن انسٹی ٹیوٹ قائم ہے۔ ان کو اپنے سائنسی مطالعہ میں اتنا انہماک رہتا تھا کہ وہ ملاقاتیوں کی آمد کو بالکل پسند نہیں کرتے تھے۔ ایک بار انھوں نے ایک آنے والے کے پرچہ ملاقات کو دیکھ کر کہا: ”یہ ملنے کے لئے آنے والے اس ابتدائی آداب کو بھی نہیں جانتے کہ مجھے تنہا رہنے دیں۔ ٹیلی فون کی گھنٹی بجتی تو اکثر وہ ”ایس“ یا ”نو“ کہہ کر ریسیور رکھ دیتے۔ ان کے یہاں کثرت سے خطوط آتے تھے جن کو بس ایک نظر دیکھنے کے بعد وہ پھاڑ کر پھینک سیاست دانوں کی بابت ایک بار انھوں نے کہا: ”انڈیا میں کامیاب ہونے کے لئے آج کل جو چیز درکار ہے وہ صرف یہ کہ آپ کے سر پر ایک گاندھی ٹوپی ہو اور اس کے نیچے کچھ نہ ہو۔ “ ڈاکٹر رمن کی خود اعتمادی اتنی بڑھی کہ انھوں نے مذہب کا بھی انکار کر دیا۔ انھوں نے ایک بار ایک اخباری نمائندہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ”نہ کوئی جنت ہے اور نہ کوئی دوزخ۔ اور نہ موت کے بعد آدمی کا کوئی وجود ہے “ مگر آخر عمر میں ڈاکٹر رمن سخت مایوسی کا شکار ہو گئے ۔ نومبر ۱۹۷۰ میں اپنے انتقال سے کچھ پہلے انھوں نے کہا تھا ”میری زندگی مکمل طور پر ایک ناکام زندگی رہی“ :

My life has been an utter failure (T.O.I. 21-1-1979)

ڈاکٹر رمن کو اتنا بڑا مقام حاصل ہونے کے باوجود یہ احساس کیوں ہوا کہ وہ مکمل طور پر ناکام ہیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے خوابوں کی دنیا کو نہ پا سکے۔ ان کی سب سے بڑی تمنا یہ تھی کہ ملک میں سچی سائنس (True Science) مگر جن ملکی سائنس دانوں سے انھوں نے کام لینا چاہا، ان کے متعلق ان کا تجربہ یہ رہا کہ وہ مغرب کی تقلید اور اس کی خیمہ برداری کے سوا اور کوئی مزاج نہیں رکھتے۔ وہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس (بنگلور) کے ڈائرکٹر انھوں نے چاہا کہ نازی حکومت کے نکالے ہوئے جرمن سائنس دانوں کو بلائیں۔ مگر حکومت نے اپنے سیاسی مصالح کے تحت اس کی اجازت نہ دی۔ پھر انھوں نے طے کیا کہ خود اپنا جمع کیا ہوا تمام سرمایہ لگا کر ذاتی طور پر ایک سائنسی ادارہ قائم کریں۔ مگر یہاں بھی ایک رکاوٹ حائل ہوگئی۔ ان کی رقم ایک پرائیویٹ بنک میں تھی جو دیوالیہ ہو گیا اور ان کی ساری رقم ڈوب گئی۔ وہ شخص جو اعلیٰ حوصلوں اور اونچی تمناؤں کے ساتھ زندگی کے میدان میں داخل ہوا تھا وہ ایک انتہائی مایوس انسان کی حیثیت سے اس دنیا سے رخصت ہوا ۔

یہ ایک ”کامیاب مرد“ کا قصہ تھا۔ اب ایک ”کامیاب عورت“ کا حال دیکھئے ۔

"ہماری دنیا مکمل کیوں نہیں؟

آدمی اس سوال کا جواب نہیں پاسکتا جب تک وہ آخرت کی دنیا کو نہ جان لے ۱۶ سالہ نندنی اپنے وجے نگر کے مکان میں آئینہ کے سامنے کھڑی گئی۔ اسے نظر آیا کہ اس کی نازک گردن پر ایک گو مٹر ابھر رہا ہے۔ "زندگی زیادہ مکمل اور بے عیب کیوں نہیں؟

Why life could not have been more perfect. اس نے اپنے دل میں کہا۔ کامیاب رقاصہ تھی اور اپنی دو ہم پیشہ بہنوں (پدما اور جے شری) کے ساتھ ابھی ابھی کشمیر کے ایک رنگارنگ سفر سے یہ حوصلہ لے کر واپس آئی تھی کہ وہ اپنے پیشہ میں اور زیادہ توجہ لے کر اعلیٰ ترین رقاصہ بنے گی۔ کے ساتھ اس نے ملک کے مختلف شہروں میں رقص کے ۵۰ مظاہرے کئے تھے۔ تینوں بہنیں ”وجے نگر سسٹرس" کے نام سے مشہور ہو گئی تھیں۔ تاہم کل کی تقریب میں شرکت سے اس نے معذوری ظاہر کر دی۔ کے ساتھ وہ آرٹ کی محفل میں کیسے شریک ہو سکتی تھی۔ مگر خلاف امید اس کا گو مٹر بڑھتا گیا۔ کو پریشانی ہوئی۔ ڈاکٹروں اور اسپتالوں کی دوڑ شروع بالآخر صرف یہ جاننے کے لئے کہ ان کی نندنی کینسر کے ناقابل علاج مرض میں مبتلا ہو چکی ہے۔ میں داخلہ کے نویں دن اس کی موت کا پیغام آگیا۔ پر ایک بے حس و حرکت جسم پڑا ہوا تھا اور دوست اور رشتہ دار چاروں طرف اس کو گھیرے ہوئے یہ سوچا رہے تھے " وہ ہنستی ہوئی روح آخر کہاں چلی گئی۔ یہ جولائی ۱۹۴۹ کا واقعہ ہے۔ اس کے بعد نندنی کی بقیہ دو بہنوں نے مدرتیہ نندنی" کے نام سے ایک ڈانس اسکول کھولا۔ زندہ رہنے کے لئے کوئی مشغولیت دونوں باصلاحیت بہنوں کی شہرت میں مزید ان کو موقع ملا کہ وہ یورپ کے شہروں لندن، جنیوا، فرینکفرٹ، برلن، ایمسٹرڈم، پیرس وغیرہ میں اپنے کمال فن کی داد دے سکیں۔ ان کو اپنے پیشہ میں اتنی کامیابی ہوئی کہ ایک اخبار نے لکھا :

The gods of India can smile when the bells on the Vijayanagar sisters tinkle ہندوستان کے دیوتا مسکرا اٹھتے ہیں جب وجے نگر بہنوں کے گھونگر بجتے ہیں۔

فروری ۱۹۵۷ء میں دونوں " رقص رانیوں" کی شادی روایتی جشن کے ساتھ ہو گئی۔

شادی کے صرف دو دن بعد جے شری کے آئینے نے بتایا کہ اس کی ٹھوڑی کے پاس ایک گو مڑا ابھر رہا ہے ۔ دواؤں اور آپریشن کے بعد گھر والوں نے سمجھا کہ ان کی جے شری اچھی ہو چکی ہے۔ مگر مقررہ جگہ پر درد کا باقی رہنا جے شری کو پریشان کئے ہوئے تھا۔ " بے وقوف نہ بنو جے شری " ، ڈاکٹر نے کہا " تمھارے جیسی جوان اور تندرست عورت کو کینسر کس طرح ہو سکتا ہے "۔ کے بعد گو مڑ کا ایک ٹکڑا ٹاٹا میموریل اسپتال (بمبئی) کو جانچ کے لئے بھیجا گیا۔ رپورٹ نے بتایا کہ نندنی کے بعد اب اس کی بہن کو بھی کینسر ہو چکا ہے۔ مرض ٹھوڑی اور سینہ سے گزر کر پیروں تک پہنچ گیا۔ ہر قسم کے بہترین علاج کے باوجود تکلیف بڑھتی تھی ۔ یہاں تک کہ ۱۸ مارچ ۱۹۷۴ کو جے شری کی روح بھی ایک بھیانک جسم کو بستر پر چھوڑ

Printed page