Al-Risala · April 1979

CS CamScanner

Al-Risala, April 1979, pp. 38–39

By Maulana Wahiduddin Khan

کر اس سے جدا ہو گئی۔

وجے نگر سسٹرس‘‘ کا جگمگاتا ہوا مکان اب تاریک ہو چکا ہے۔ دو جوان لڑکیوں کے کھونے کے بعد ماں باپ کو زندگی بے معنی نظر آتی ہے۔ ہر طرف مایوسی پھیلی ہوئی ہے۔ ’’نرتینہ نندنی‘‘ اسکول اگر چہ نومبر ۱۹۷۵ء سے ’’دجے شری آرٹس انٹرنیشنل‘‘ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ مگر تیسری بہن پدما اپنی ظاہری کامیابیوں کے باوجود ہر آن اپنے کو اسی راستہ پر پاتی ہے جدھر اس سے پہلے اس کی دو محبوب بہنیں جا چکی ہیں۔ سوال اس کو بھی بے چین کئے ہوئے ہے جس کو لے کر اس کی دونوں بہنیں اس دنیا سے چلی گئیں ۔ زیادہ مکمل اور بے عیب کیوں نہیں‘‘ اس کی نفسیاتی حالت کو رپورٹر (مسٹر ایس۔ گنگولی) نے ایک جملہ میں اس طرح ادا کیا ہے :

A PSYCHOLOGICAL AMPUTATION IS NO LESS REAL THAN A PHYSICAL ONE. Eve's Weekly (Bombay) 2.6.1978 نفسیاتی قتل (کسی بھی) حال میں جسمانی قتل سے کم نہیں ہوتا۔ ظاہری رونقیں اور ساز و سامان جمع کر لینے کے باوجود، حقیقی خوشیوں کی زندگی حاصل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ ایک شخص ضروریات زندگی کا محتاج ہو تو وہ سمجھتا ہے کہ سب سے بڑی چیز یہ ہے کہ آدمی کی ضرورتیں اس کو حاصل ہو جائیں۔ جب وہ کوشش کر کے ضرورت کی چیزیں پا لیتا ہے تو اب اس کو عیش و آرام کی طلب ہوتی ہے۔ اب ضرورت کی چیزوں میں اس کے لئے کوئی لذت نہیں ہوتی۔ اب وہ رات دن یہ خواب دیکھتا رہے کہ عیش کے سامان اس کے گرد جمع ہو جائیں۔ اگر حالات اس کا ساتھ دیں اور وہ عیش کی چیزیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے تب بھی اس کی طلب ختم نہیں ہوتی۔ جن چیزوں کو پہلے وہ حرص کی نظروں سے دیکھا کرتا تھا، اب ان میں اس کے لئے کوئی لذت باقی نہیں رہتی۔ اس کے بعد اس کے اندر ایک اور چیز کی طلب جاگ اٹھتی ہے۔ یہ ہے عزت اور مرتبہ۔ چاہتا ہے کہ اس کا مقام سب سے اونچا ہو جائے۔ یہ چیز اس کو بھی حاصل نہیں ہوتی۔ اس کے حصے میں اس کے سوا اور کیا آتا ہے کہ جو لوگ اس کو رو ک نہ سکیں وہ اس کی یہ کوئی اتفاقی مثال نہیں۔ ہمارا پورا سماج اسی قسم کی مثالوں سے بھرا ہوا ہے۔ وہ لوگ جن کو آپ ہنستے ہوئے دیکھتے ہیں ۔ جو بظاہر کامیابیوں کی جگمگاہٹ میں زندگی گزارتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان کو کبھی اندر سے جھانک کر دیکھیے تو خوش نما جسموں کے اندر ایک غم ناک اور اداس روح بسی ہوئی نظر آئے گی ۔ دنیا میں زندگی کے مسائل اتنے پیچیدہ ہیں ، آدمی کو اتنے مختلف قسم کے ناموافق حالات میں رہنا ہوتا ہے اور دوسرے انسانوں کے چھیڑے ہوئے فتنے اس طرح سکون کو درہم برہم کرتے رہتے ہیں کہ کسی شخص کے لئے، کے سوا اور کچھ نہیں آتا بلکہ دوسروں کے سامنے مردوں میں ان پر اپنی بڑائی کا مظاہرہ کرکے اپنی ہوس کی تسکین اور جو لوگ اس کو اپنے سے اوپر دکھائی دیں ان کے خلاف حسد اور بغض کی آگ میں جلتا رہتا ہے وہ انھیں تاریکیوں میں بھٹکتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اچانک اس کی موت آجاتی ہے اور وہ آخرت کی ابدی دنیا میں پہنچا دیا جاتا ہے تاکہ دوبارہ اپنے لئے ایک زیادہ تلخ اور زیادہ تاریک زندگی کا آغاز کرے۔ دنیا کی کامیابیاں بھی اتنی ہی بے قیمت ہیں جتنی دنیا کی ناکامیاں۔ مگر انسان اپنی خوش خیالیوں میں گم رہتا ہے۔ موت کے سوا کوئی چیز نہیں جو اس کو اس کی خوش خیالیوں کی دنیا سے باہر نکالنے والی ثابت ہو۔

دنیا میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو زندگی بھر ناکامی و نامرادی احساس سے دوچار رہتے ہیں۔ وہ لوگ جن کو دنیا میں بہترین مواقع ملے۔ جنہوں نے سمجھا کہ وہ اپنی خوشیوں کی بہاریں اسی دنیا میں دیکھ سکتے ہیں۔ ان کا خاتمہ بھی اکثر بدترین مایوسی کے ساتھ ہوتا ہے، حادثہ، بیماری، منصوبوں کا ناکام ہو جانا۔ اور اگر بالفرض کوئی ان ناخوش گواریوں سے بچ جائے تو آخر میں موت۔ کتنے لوگ ہیں جو "کامیابی کے ساتھ" اپنا سفر طے کر رہے مگر موت عین اس وقت ان کی تمناؤں کے محل کو ڈھا دیتی ہے جب کہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس کے دروازے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

کیا انسان کے لئے یہی مقدر رہے کہ وہ انتہائی قیمتی صلاحیتیں لے کر آئے اور بالآخر ایک بدترین ناکامی کے ساتھ اس کا خاتمہ ہو جائے۔ اگر آخرت کو حذف کر کے زندگی کو دیکھا جائے تو زندگی ایک المناک ڈرامے کے سوا کچھ اور نظر نہیں آتی۔ ہم خواہ کچھ بھی کریں، موجودہ دنیا میں ہم اپنی آرزوؤں کی جنت تعمیر نہیں کر سکتے۔ فیصلہ کن طور پر ہماری راہ میں حائل ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف آخرت کا عقیدہ ہے جو انسانی زندگی کو بامعنی بناتا آخرت کے عقیدہ میں ہم اپنی اس منزل کو پالیتے ہیں جس کی طرف ہم یقین کے ساتھ سفر کر سکیں، جہاں ہم اپنی کوششوں کا انجام پانے کی قطعی امید کر سکیں۔ آخرت کو نہ ماننے والے کو اپنے سامنے مایوسی کے سوا اور کچھ نظر نہیں آتا۔ جب کہ آخرت کو ماننے والا اپنے سامنے امیدوں کا اٹھتا مستقبل دیکھتا ہے۔ زندگی آخرت کے بغیر انتہائی بے معنی ہے مگر زندگی آخرت کے ساتھ اتنی بامعنی ہو جاتی ہے کہ انسانی زبان میں وہ الفاظ ہی نہیں جو اس کو بیان کر سکیں ہالی وڈ (امریکہ) عیش پسندوں کے لئے دنیا کی سب سے بڑی جنت ہے۔ ساری دنیا کے "محروم" لوگ ان کے پائے ہوئے“، لوگوں پر رشک کرتے ہیں جن کو اس جنت ارضی میں کوئی حصہ ملا ہو۔ مگر ہالی وڈ کے ایک جائزہ میں بتایا گیا ہے کہ یہ بظاہر قابل رشک لوگ بے حد قابل رحم حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اس جنت ارضی کے انتہائی خوش قسمت لوگ، سب کچھ پالینے کے بعد بالآخر اکتاہٹ (Boredom) کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان کے پاس اتنی کاریں ہوتی ہیں کہ بسا اوقات ان کو یہ سوچنا پڑتا ہے کہ آج اپنی مختلف کاروں میں سے کس کار میں بیٹھ کر جائیں۔ تاہم ان کی بے اطمینانی یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ وہ آپس میں اپنے مکان حتیٰ کہ بیویوں کا تبادلہ کرتے ہیں تاکہ تنوع کے ذریعہ اپنی اکتاہٹ کو کم کر سکیں۔ اصل یہ ہے کہ انسان لامحدود اطمینان چاہتا ہے۔ دنیا کی چیزیں اس کو صرف محدود اطمینان دیتی ہیں اس لئے وہ اس کی تسکین نہیں بنتیں۔ یہ صرف خدا ہے جو انسان کی طلب کا حقیقی اور ابدی جواب ہے۔ الا بذکر الله تطمئن القلوب سن لو، اللہ کی یاد ہی سے دلوں کو اطمینان ہوتا ہے۔

اللہ کی یاد کا مطلب یہ ہے کہ اس ہستی میں اپنا دل لگایا جائے جو حقیقی اور ابدی ہے۔ اپنی امیدوں اور حوصلوں کو اس عالم سے وابستہ کیا جائے جو ان تمام کمیوں سے پاک ہوگی جن کی وجہ سے موجودہ دنیا ہمارے خوابوں کی تعبیر نہیں جو آدمی اللہ کو پا لیتا ہے وہ گویا اپنا سب کچھ پا لیتا ہے۔ دنیا میں اگر اس کو تکلیف پہنچے تب بھی وہ مطمئن رہتا ہے کیونکہ اس کو یقین ہوتا ہے کہ وہ جس راستہ پر چل رہا ہے وہ بالآخر اس کو منزل تک پہنچانے والا ہے۔

Printed page