Al-Risala · April 1979

خدا - انسانی فطرت کی آواز ہے

Al-Risala, April 1979, pp. 44–41

By Maulana Wahiduddin Khan

مسٹر الطاف گوہر پاکستان کے چوٹی کے صحافی ہیں۔ وہ پاکستان کے اخبار دان کے ایڈیٹر تھے بھٹو حکومت (۷۷-۱۹۷۱) نے اپنے اقتدار کے ابتدائی زمانہ میں الطاف گوہر کو جیل خانہ میں ڈال دیا جیل کا مطلب ، سیاسی قیدیوں کے لئے اپنے میدان عمل سے محرومی کے ہم معنی ہوتا ہے ، ایسی حالت میں عام طور پر سب سے بہتر مشغلہ یہ رہ جاتا ہے کہ آدمی اپنے آپ کو مذہبی کتابوں کے مطالعہ میں مصروف کرلے۔ الطاف گوہر نے قرآن کو ترجمہ کی مدد سے پڑھنا شروع کردیا۔

یہ مطالعہ ، حیرت انگیز طور پر ، ان کے لئے ایک نیا تجربہ ثابت ہوا۔ وہ زندگی کی نئی وسعتوں سے آشنا ہوئے جس سے اب تک وہ اپنے صحافتی مشاغل کی ہماہمی میں بے خبر رہے تھے۔ وہ شخص جس کا قلم چند دن پہلے تک عالمی سیاست کا جائزہ لیا کرتا تھا ، جو اپنی خدا داد ذہانت کے ساتھ قلم کا شہ سوار بنا ہوا تھا ، جیل خانہ میں اس نے اپنے آپ کو اچانک بالکل بے بس پایا۔ اس کی دنیا ایک محدود کوٹھری تھی جہاں اس کی اپنی ذات کے سوا کوئی اور نہ تھا۔ تنہائی کی زندگی ، ہر معاملہ میں دوسروں پر انحصار ، تمام ظاہری سہاروں کا رخصت ہو جانا ، ان واقعات نے جیل کے ماحول کو الطاف گوہر کے لئے ایک عظیم حقیقت کے ادراک کی تربیت گاہ بنا دیا۔ ان کی فطرت، غیر ارادی طور پر ، ایک ایسی ہہستی کو تلاش کرنے لگی جو ہر طاقت سے بڑھ کر طاقت ور ہو۔ جس کو آدمی ہر آن پاسکتا ہو۔ جو ہر حال میں آدمی کی چٹان بن سکے۔ حتیٰ کہ اس وقت بھی جب کہ حالات اس کو دھکیل کر ایسے مقام پر پہنچا دیں جہاں اس کے اپنے کمزور وجود کے سوا کوئی اس کے پاس نہ ہو، جہاں اس کے تمام سہارے اس کا ساتھ چھوڑ چکے ہوں۔ اس نازک لمحہ میں جب مسٹر الطاف گوہر نے قرآن کی سورہ فاتحہ کھولی اور اس کو پڑھتے ہوئے اس فقرہ تک پہنچے: اِيَّاکَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ، تو اچانک ان پر کھلا کہ وہ ستی في الواقع کائنات میں موجود ہے جس کی تلاش ان کی فطرت کا سب سے بڑا سوال بنی ہوئی تھی۔ سورہ کی آیت نمبر ۴ میں ان کو انسان کی حقیقی عظمت اور آزادی کا راز مل گیا۔ یہاں بندہ اپنے خدا کے ساتھ ایک ایسے ابدی عہد میں نا بستہ نظر آیا جو مکمل طور پر اس کے عجز کا بدل بن جاتا ہے ، جو اس کو ایک اتھاہ طاقت کی دائمی سر پرستی میں دے دیتا ہے۔ الطاف گوہر اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

I REMEMBER VIVIDLY THE MOMENT WHEN I FIRST REALIZED THE SIGNIFICANCE OF THIS VERSE. 'WE WORSHIP YOU ALONE, AND TO YOU ALONE WE TURN FOR HELP. IT WAS A DRAMATIC MOMENT OF FREEDOM, A MOMENT IN WHICH FEAR DIS- APPEARED, AND WITHIN ME I FELT A RESURGENCE OF CONFIDENCE AND FAITH. مجھے وہ لمحہ خوب یاد ہے جب کہ میں نے پہلی بار اس قرآنی فقرہ کی معنویت کو سمجھا " ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور ہم صرف تجھی سے مدد چاہتے ہیں " یہ آزادی کا ایک ڈرامائی لمحہ تھا ، ایک ایسا لمحہ جس کے بعد خوف مٹ گیا۔ اور میں نے محسوس کیا کہ میرے اندر ایک نیا اعتما دو یقین ابھر آیا ہے۔

خدا انسانی فطرت کی آواز ہے۔ عام حالات میں یہ آواز چھپی رہتی ہے۔ مگر جب زندگی میں کوئی نازک لمحہ آتا ہے تو یہ آواز جاگ اٹھتی ہے۔ تاریخ میں بے شمار مثالیں ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی بھی انسان اس فطرت سے خالی نہیں۔ فرانس کی ایک فلم ایکٹریس گائنا لووبر اسیکیڈیا (GINA LOLLOBRIGIDA) جنوری ۱۹۷۵ میں ہندوستان آئی تھی، ایک پریس کانفرنس میں ایک اخباری رپورٹر سے اس کا سوال و جواب یہ تھا:

TO A QUESTION WHETHER SHE BELIEVED IN GOD, GINA SAID:

I BELIEVE IN GOD. I BELIEVE IN GOD, MORE WHEN I AM ON

کوئی شخص خواہ کتنا ہی سرکش اور منکر کیوں نہ ہو، جب مشکل حالات پڑتے ہیں تو وہ بے اختیار خدا کو پکار اٹھتا یہی اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا انسانی فطرت کی

روسی ڈکٹیٹر مارشل اسٹالن (م ۱۹۵۴ء، ۱۸۷۹ء) خدا کا منکر تھا۔ مگر اس کی زندگی میں ایسے واقعات میں جو ثابت کرتے ہیں کہ مشکل اوقات میں وہ بے اختیار خدا کو یاد کرنے لگتا تھا۔ ونسٹن چرچل (۱۹۶۵ء - ۱۸۷۴ء) نے دوسری جنگ عظیم کے موقع پر اگست ۱۹۴۲ء میں ماسکو کا Times of India, ایک سوال کے جواب میں کہ کیا وہ خدا کو مانتی ہے، گائنا نے کہا: میں خدا کو مانتی ہوں، میں خدا کو مانتی ہوں، اس وقت اور بھی زیادہ جب میں ہوائی جہاز میں ہوتی ہوں۔ آدمی جب ہوائی جہاز میں اُڑ رہا ہو تو اس وقت وہ مکمل طور پر ایسے خارجی اسباب کے رحم و کرم پر ہوتا ہے جن کے توازن میں معمولی فرق بھی اس کو ہلاک کرنے کے لئے کافی ہے۔ انسان کی یہی بے چارگی سمندری سفروں میں بھی ہوتی ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : "کیا تم دیکھتے نہیں کہ کشتی سمندر میں اللہ کے فضل سے چلتی ہے، تاکہ وہ تمہیں اپنی قدرتیں دکھائے۔ اس میں نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لئے جو صبر اور شکر کرنے والا ہو۔ اور جب سمندر میں ان لوگوں کو موجیں بدلیوں کی طرح گھیر لیتی ہیں تو یہ اللہ کو پکارتے ہیں، اپنے دین کو اسی کے لئے خالص کر کے۔ پھر جب وہ بچا کر انہیں خشکی کی طرف لاتا ہے تو آدم میں سے کوئی اعتدال پر رہتا ہے۔ سفر کیا تاکہ ہٹلر کے خلاف دوسرا محاذ (سکنڈ فرنٹ) قائم کرنے کے لیے روسی لیڈروں سے گفتگو کرے۔ اس سلسلہ میں اتحادیوں کا فوجی منصوبہ اسٹالن کے سامنے رکھا جس کا خفیہ نام ٹارچ (TORCH) رکھا گیا اسٹالن چونکہ خود بھی ہٹلر کی بڑھتی ہوئی یلغار سے خائف تھا، اس نے اس فوجی منصوبہ میں گہری دلچسپی لی۔ چرچل کا بیان ہے کہ منصوبہ کی تشریح کے ایک خاص مرحلہ پر جب کہ اسٹالن کی دلچسپیاں اس سے بہت بڑھ چکی تھیں اس کی زبان سے نکلا:

MAY GOD PROSPER THIS UNDERTAKING خدا اس منصوبہ کو کامیاب کرے۔

Printed page