نماز سے آغاز
Al-Risala, April 1979, pp. 44–45
By Maulana Wahiduddin Khan
مولانا محمد علی ایم اے (کینٹ) اپنی تفسیری کتاب میں لکھتے ہیں : "ایک دفعہ راقم الحروف کے یہاں بہت سے احباب جمع تھے۔ ان میں لالہ لاجپت رائے بھی تھے۔ وہ باتوں باتوں میں کہنے لگے۔ مولوی صاحب ! میری سمجھ میں ایک بات وہیں آتی کہ جس قوم کے پاس نماز اور زکوٰۃ جیسے دو بے مثال ادارے (Institutions) ہوں وہ قوم کیوں ذلیل و خوار ہو"۔ قرآنی دعوت انقلاب، ۱۹۵۱، مکتبہ شعر و ادب لاہور، صفحہ ۳۱۶ نماز اللہ کے آگے اپنے کو جھکا دینے کا نام ہے اور زکوٰۃ کا مطلب ہے اللہ کی راہ میں اپنے مال کو قربان کرنا۔ جوان دونوں عبادتوں کو حقیقی طور پر اپنی زندگی میں شامل کرلے، اللہ اس سے راضی ہو جاتا ہے اور اس کو ابدی جنت میں جگہ دیتا ہے۔
یہ نماز اور زکوٰۃ کا اخروی پہلو ہے اور یہی ان کا اصل مقصود ہے۔ تاہم ان عبادتوں کے زبردست دنیوی فائدے بھی ہیں۔ نماز اگر صحیح شعور کے ساتھ قائم کی جائے تو وہ سارے مسلمانوں کو ایک مرکز پر متحد کردیتی ہے اور اتحاد بلاشبہ کسی قوم کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ زکوٰۃ وسیع ترین قسم کا سوشل انشورنس ہے۔ کسی مسلم گروہ میں زکوٰۃ کا نظام اگر پوری طرح قائم ہو جائے تو اس کے اندر سے یہ مسئلہ سرے سے ختم ہو جاتا ہے کہ اس کے کچھ افراد مالیاتی کمی کے سبب سے اپنے لئے قابل اعتماد معاشی بنیاد نہ پاسکیں۔ زکوٰۃ کا نظام اس بات کی ضمانت ہے کہ قوم کا صرف ایک حصہ خوش حال نہ ہو بلکہ پوری قوم مجموعی حیثیت سے ترقی کرے۔
نماز اور زکوٰۃ، دنیوی اعتبار سے، اتحاد اور فارغ البالی کی علامتیں ہیں۔ اور یہ دونوں چیزیں جس قوم ، میں پیدا ہوجائیں، وہ بلاشبہ عزت و سربلندی حاصل کرے گی ۔ کوئی اس کی کامیابی کو روک نہیں سکتا۔ نماز آدمی کے اوپر خدا کے حقوق کو بتاتی ہے اور زکوٰۃ آدمی کے اوپر آدمی کے حقوق کو۔ خدا کا حق آدمی کے اوپر یہ ہے کہ وہ اس کے آگے جھک جائے ۔ آدمی کا حق آدمی کے اوپر یہ ہے کہ نہ اس کا خیر خواہ ہو۔ چیزیں اتنی بنیادی ہیں کہ اگر وہ کسی قوم کے افراد میں پیدا ہوجائیں تو اس کے سارے معاملات کو درست کر دیتی ہیں۔ خدا کے آگے جھکنا نہ صرف اس کو خدا کی نظر میں محبوب بناتا ہے اور خدا اس پر اپنے انعامات کے دروازے کھول بلکہ اسی کے ساتھ اس کے اندر وہ اوصاف پیدا ہوتے ہیں جو ہر قسم کی دنیوی ترقی کے ضامن ہیں۔ کے آگے جھکنا اپنے رب کے سامنے اپنی عبدیت کا اقرار ہے اور عبدیت کا شعور جن لوگوں میں زندہ ہو جائے ان کا معاملہ جب دوسرے انسانوں سے پڑتا ہے تو یہ شعور وہاں تواضع ، بے غرضی، انصاف پسندی اور حق کے لئے سپر اندازی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اسی طرح زکوٰۃ نہ صرف بندے کے اوپر بندے کے حق کو یاد دلاتی ہے بلکہ یہ سبق دیتی ہے کہ تمھاری انسانیت اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی جب تک تمھارا یہ حال نہ ہو جائے کہ اپنی ذاتی چیزوں میں بھی دوسرے کا حق سمجھنے لگو۔
نماز کے اندر ایک عجیب خصوصیت یہ ہے کہ وہ انسانی فطرت کا عملی ظہور ہے۔ اس کی خصوصیت نے حیرت انگیز طور پر نماز کے اندر ایک دعوتی قدر پیدا کر دی ہے۔
چار برس پہلے کی بات ہے، میں اپنی کتاب “الاسلام‘‘ کی ترتیب کے دوران ایک سوال سے دوچار تھا۔ تجربوں اور مشاہدوں کا زمانہ ہے۔ آج کا انسان اگر مجھ سے پوچھے کہ کیا اسلام کی صداقت کو ہم تجرباتی طور پر جان سکتے ہیں، تو میرا جواب کیا ہوگا؟ اسی اثنا میں ۱۳ اور ۱۴ جولائی ۱۹۷۹ء کی درمیانی شب کو میں نے دہلی میں خواب دیکھا کہ میں کچھ غیر مسلموں کے ساتھ ہوں اور ان کو اسلام کی باتیں بتا رہا ہوں۔ یہ غالباً یورپ کے کچھ لوگ تھے اور مجھ سے ٹھیک یہی سوال کر رہے تھے۔ عجیب بات ہے کہ وہ سوال جس کو میں حالت بیداری میں حل نہ کر سکا تھا، اللہ تعالیٰ نے حالت خواب میں اس کو کھول دیا۔ نے دیکھا کہ میں اس سوال کے جواب میں ان سے پورے اعتماد کے ساتھ کہہ رہا ہوں: ’’ ہاں اسلام کی تجرباتی آزمائش ممکن ہے اور اس کی ایک صورت یہ ہے کہ آپ نماز کا تجربہ کریں! ‘‘ مخاطب کے رعایت سے خواب کی یہ گفتگو انگریزی میں ہو رہی تھی۔ میری نیند کھلی تو اپنا ایک جملہ مجھے لفظ بہ لفظ یاد تھا۔ میں نے ان سے کہا تھا: