Al-Risala · January 1979

ذمہ دار کون

Al-Risala, January 1979, pp. 19–22

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک شخص حقہ پی رہا تھا۔ اتنے میں مسجد سے اذان کی آواز بلند ہوئی "اللہ اکبر، اللہ اکبر اس کی چھوٹی لڑکی نے پوچھا: یہ مسجد کے ملاجی کیا کہہ رہے ہیں۔ سمجھی نہیں، باپ نے نہایت اطمینان کے ساتھ جواب دیا " وہ کہہ رہے ہیں، اللہ حقہ بھر، اللہ حقہ بھر ایک سیاح دہلی کی جامع مسجد دیکھنے آیا۔

وہ سیڑھی پر چڑھ رہا تھا کہ مسجد کے لاؤڈ اسپیکر پر اذان کی آواز بلند ہوئی " اللہ اکبر، اللہ اکبر سیاح نے گیٹ پر کھڑے ہوئے ایک مسلمان سے کہا: "میاں جی ! مسجد تو شاہجہاں نے بنوائی ہے۔ یہ اکبر کا نام کیوں لے رہے ہیں ۔

دین کی کوئی تشریح لفظوں ہی میں کی جاسکتی ہے۔ مگر انسانی الفاظ دین کی حقیقت کو بتانے کے لئے اسی طرح ناکافی ہیں جس طرح پھول کی حقیقت کو بتانے کے لئے یہ جملہ کہ: "پھول ایک رنگین اور خوشبو دار چیز ہے، گلاب کا درخت ساری کائنات سے غذا لے کر رنگ اور خوشبو اور لطافت کے جس حسین مجموعہ کو اپنی ٹہنی پر کھلاتا ہے، اس کو وہ شخص تو کچھ سمجھ سکتا ہے جو اس کو سونگھ رہا ہو اور دیکھ رہا ہو۔ مگر جس آدمی کے سامنے صرف مذکورہ بالا الفاظ ہوں وہ نہیں جان سکتا کہ گلاب کا پھول حقیقت کس چیز کا نام ہے۔ آپ فقہ کی کتاب میں نماز کا باب پڑھیں تو آپ کو نماز کے بارے میں ساری تفصیلات لکھی ہوئی مل جائیں گی۔ مگر کتاب کے الفاظ کے ذریعہ آپ جس نماز سے واقف ہوں گے، وہ بعض حرکات کا محض ایک خشک ڈھانچہ ہوگا۔ لیکن یہی نماز جب ایک بندہ مومن کی زندگی میں ڈھلتی ہے تو وہ لذتوں اور کیفیتوں کی ایک اتھاہ کائنات بن جاتی ہے۔ یہی پورے دین کا معاملہ ہے۔ دین کو "جاننے" کے لئے الفاظ کا مطالعہ کافی ہو سکتا ہے۔ مگر دین کو "پانے" کے لئے ضروری ہے کہ آدمی اپنے آپ کو اس "مطلع" پر پہنچائے جہاں پہنچ کر آدمی اس کو دیکھنے اور سونگھنے لگتا ہے۔ آدمی اپنے آپ کو کسی تحفظ کے بغیر خدا کے حوالے کر دے۔ وہ دنیا میں سانس لینے کے بجائے آخرت میں سانس لینے لگے۔ وہ نفسیاتی پیچیدگیوں سے آزاد ہو کر فطرت اللہ کی حالت کو پہنچ جائے ۔ وہ دین کو اپنی زندگی کا ضمیمہ بنانے کے بجائے اس کو اپنا سب کچھ بنا چکا ہو۔ اس کے بعد ہی کوئی شخص صحیح معنوں میں دین سے آشنا ہو سکتا ہے۔

--- چاہتے کہ جو کام نہیں کیا اس پر ان کی تعریف ہو ( آل عمران ۱۸۸)

ایک بستی ہے جہاں کسی کو دوسرے سے شکایت نہیں۔ ایک کے ذہن میں دوسرے کے خلاف تلخ یادیں نہیں۔ ایسی بستی میں ایک عام آدمی بھی اخلاق اور انسانیت کی باتیں کر سکتا ہے۔ مگر ایک ایسی بستی جہاں لوگوں کے دل ایک دوسرے سے پھٹے ہوئے ہوں۔ جہاں دلوں میں یہ احساس چھپا ہوا ہو کہ ان کے پڑوسی نے ان پر زیاد تیاں کی ہیں۔ ایسی بستی میں اخلاق اور انسانیت کا وعظ ایک غیر معمولی کام کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہاں کوئی ایسا شخص ہی وعظ کہنے کا حق رکھتا ہے جو اخلاق کے اس بلند مرتبہ پر ہو کہ شکایتوں کے باوجود اپنے پڑوسی کو دوست رکھے ۔ دل پر چوٹ لگنے کے بعد بھی چوٹ لگانے والے سے بیزار نہ ہوتا ہو۔ اس پر زیاد تیاں کی جائیں مگر وہ زیاد تیوں کو بھول کر اخلاق اور انسانیت کا پیکر بنا رہے۔ جو شخص ان بلند اوصاف کا حامل نہ ہو اس کا مذکورہ بستی میں اخلاق اور انسانیت کا وعظ کہنا ایک بے فائدہ حرکت ہے۔ ان وعظوں میں جو وقت اور پیسہ خرچ کیا جائے وہ سب وقت اور پیسہ کو ضائع کرنے کے ہم معنی ہے۔ آدمی کسی دوسرے کو ایسے اخلاق کی تلقین کیسے کر سکتا ہے جس پر وہ خود قائم اور اگر کوئی جوش قیادت میں ایسا کرے تو اس کی تلقین کی قیمت کیا ہوگی۔

اس مثال میں ہم کو اس سوال کا جواب مل رہا ہے کہ بے شمار کوششوں کے باوجود ہمارے ملک میں ظالمانہ صورت حال کی اصلاح کیوں نہیں ہوتی۔ نصف صدی سے بھی زیادہ مدت سے ہمارے یہاں انسانی برادری ، امن کانفرنس، پیام انسانیت جیسے ناموں سے مختلف تحریکیں اٹھتی رہی ہیں۔ دورے کئے جاتے ہیں۔ تقریریں اور کانفرنسیں مگر ابتدائی دھوم کے بعد جلد ہی یہ تحریکیں اس طرح ختم ہو جاتی ہیں جیسے ان کی کوئی حقیقت نہ تھی۔ وجہ یہ ہے کہ اس ملک میں واعظ بننے کے لئے غیر معمولی اخلاقیات والے مصلح درکار ہیں۔ جب کہ ہمارے رہنما صرف معمولی اخلاقیات کا سرمایہ اپنے پاس رکھتے ہیں۔ قوم اپنے دائرہ اختیار میں ” دوستی کے بدلے دوستی، دشمنی کے بدلے دشمنی“ کے جس اصول کو اپنائے ہوئے ہیں، ہمارے رہنما بھی اپنے دائرہ اختیار میں اسی اصول پر چل رہے ہیں۔ حالت میں دوسروں سے یہ کہنا کہ ”دشمنی کے بدلے دوستی کا اصول اپناؤ، خود را فضحت دیگراں را نصیحت کا اس قسم کا وعظ ایک قسم کا مسخرہ ہی ہے نہ کہ حقیقۃً وعظ و نصیحت ۔

انسانیت اور اخلاق کی دو سطحیں ہیں۔ ایک یہ کہ جس کی طرف سے شکایت کا کوئی سبب پیدا نہ ہوا ہو اس کے ساتھ اخلاق اور انسانیت برتنا۔ یہ معمولی اخلاقیات ہیں۔ دوسرے یہ کہ شکایت اور تلخی پیدا ہونے کے بعد اخلاق اور انسانیت کا معاملہ کرنا۔ اس کو غیر معمولی اخلاقیات کہا جا سکتا ہے۔ ہمارے رہنما بلا شبہ معمولی اخلاقیات کے حامل ہیں۔ مگر ہمارے جغرافیہ کا جو مسئلہ ہے وہ غیر معمولی اخلاقیات کا تقاضا کرتا ہے۔ اور اس دوسرے معاملے میں ہمارے رہنما صفر کی حد تک خالی ہیں۔ ” انسانیت کے پرچار کا کام اگر وہ کسی ایسے جغرافیہ میں کر رہے ہوتے جہاں لوگوں کو ایک دوسرے سے شکایات پیدا ہوئی ہوں تو ان پر کسی کو اعتراض کا حق نہ تھا۔ کیوں کہ یہ اخلاق کی

وہ سطح ہے جس پر وہ خود بھی قائم ہیں۔ جو لوگ ان کے ساتھ اچھے بنے ہوئے ہوں وہ بھی ان کے ساتھ اچھے بنے مگر جب معاملہ ایسے لوگوں کا ہو جو ان کے ساتھ برا سلوک کریں جوان کے جذبات کو ٹھیس پہنچائیں ۔ جوان کی انا کی راہ میں حائل ہوں تو ان کو ہمارے رہنما کبھی بخشنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ بالفاظ دیگر، اس معاملہ میں وہ خود بھی اخلاق کی اسی سطح پر ہیں جہاں ان کا مخاطب سماج ہے۔ پھر جو لوگ خود معمولی اخلاقیات کی سطح پر ہوں وہ دوسروں کو غیر معمولی اخلاقیات کا وعظ کس طرح سنا سکتے ہیں۔ جس طرح ایک جھوٹا آدمی سچائی کا مبلغ نہیں بن سکتا اسی طرح معمولی اخلاقیات کے لوگ غیر معمولی اخلاقیات کا درس نہیں دے سکتے اور اگر وہ اس قسم کی جرات کریں تو یہ ایک بے فائدہ لفظی نمائشی ہوگی نہ کہ کوئی حقیقی جدوجہد۔

ہم کسی سادہ جزیرہ میں نہیں ہیں بلکہ ایک ایسے ملک میں ہیں جہاں بے شمار قسم کی تلخیاں پہلے سے لوگوں کے درمیان موجود ہیں۔ ایک گروہ کو دوسرے گروہ سے تاریخی اور غیر تاریخی شکایات ہیں۔ مفادات کے اختلاف نے لوگوں کو بانٹ رکھا ہے۔ اعتقادی اور نظریاتی اختلافات لوگوں کے ذہنوں میں بسے ہوئے ہیں اور ہر ایک اپنے کو برحق اور دوسرے کو برسر باطل سمجھتا ہے۔ کچھ لوگ دولت واقتدار کے مقامات پر قابض ہیں اور کچھ لوگ اس سے محروم پڑے ہوئے ہیں۔ اختلاف مزاج اور اختلاف مفاد کے نتیجہ میں بار بار ایک دوسرے سے شکایت کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ اس صورت حال نے ایک کو دوسرے کا حریف بنا رکھا ہے۔ ایسے ماحول میں انسانیت اور اخلاق کی بات کرنا گو یا لوگوں سے یہ کہنا ہے کہ۔ اختلاف کے باوجود مل کر رہو۔ شکایات کے اسباب ہوتے ہوئے ایک دوسرے کا احترام کرو۔ اختیار واقتدار کے باوجود اپنے کمزور بھائی کے آگے جھک جاؤ۔ متعلق بری رائے رکھتا ہو تب بھی تم اس کے بارہ میں اچھی رائے رکھو۔ دوسرے کی طرف سے قابل نفرت رویہ ظاہر ہونے کے باوجود اپنی طرف سے محبت کا مظاہرہ کرو۔ دوسرے کو اپنا حریف جانتے ہوئے بھی اس کو اپنے گلے سے اور یہ سب کچھ کسی نمائش جلسہ میں وقتی طور پر نہیں، بلکہ انھیں بلند اخلاقیات کو اپنا مستقل رویہ بنالو ۔ سجے ہوئے پنڈال میں الفاظ کا دریا بہانا نہایت آسان ہے۔ مگر عملی زندگی میں ان بلند اخلاقیات کو نبھانا اتنا ہی زیادہ دشوار ہے۔ اس میں شک نہیں کہ وہی وہ بلند اخلاقیات ہیں جن پر کوئی صالح اور صحت مند سماج قائم ہوتا مگر ایسے سماج کی تعمیر کے داعی وہی لوگ بن سکتے ہیں جو خود بھی ان غیر معمولی اخلاقیات کے حامل ہوں معمولی اخلاقیات کا سرمایہ رکھنے والے لوگ اس تعمیری مہم کو نہیں چلا سکتے۔ جہاں تک ہمارے رہنماؤں کا تعلق ہے وہ اس معاملہ میں صفر کی حد تک خالی ہیں۔ رہنماؤں کی طویل فہرست میں غالباً کوئی ایک بھی ایسا رہنما نہیں ہے جو اخلاق وانسانیت کی اس بلند سطح پر ہو۔ جو اپنے مخالف سے پیار کرتا ہو۔ جو اقتدار کا مالک ہونے کے باوجود اپنے کمزور حریف کے ساتھ مسکینی کا رویہ اختیار کرے۔ جو تلخی اور اشتعال کے اعصاب ہوتے ہوئے بھی جذبات کا شکار نہ ہو۔ جو اپنے ماتحت ادارہ میں بلند اخلاقیات کا یہی ماحول قائم کئے ہوئے ہو جس کی طرف وہ تمام اہل ملک کو بلا رہا ہے۔ پھر آدمی خود عمل کی جس سطح پر نہ ہو، وہ محض تقریروں اور تجویزوں کے ذریعہ دوسروں کو وہاں کس طرح لاسکتا ہے۔

لفظی کمالات کی کوئی بھی مقدار عملی کو تابی کا بدل نہیں بن سکتی۔ امگر آپ خود معمولی اخلاق کی سطح پر ہوں تو محض الفاظ کے زور سے دوسروں کو غیر معمولی اخلاقیات کی سطح پر نہیں لاسکتے۔ اس قسم کی تقریری مہم صرف ایک مسخوہ پن ہے اور مسخرہ پن نے کبھی اس زمین پر کوئی تاریخ نہیں بنائی ہے۔

جو چیز لوگوں کے درمیان فساد یا بگاڑ پیدا کرتی ہے وہ معمولی حالات نہیں ہیں بلکہ غیر معمولی حالات ہیں۔ عام حالات میں لوگ ہمیشہ ٹھیک ہی رہتے ہیں۔ مگر اجتماعی زندگی میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایسے مواقع آتے ہیں جب کسی کو کسی سے تکلیف پہنچ جائے۔ بس یہیں سے فساد شروع ہو جاتا ہے۔ ٹھیس پہنچتے ہی آدمی کے اندر کا شیطان جاگ وہ غصہ اور نفرت میں اندھا ہو جاتا ہے اور چاہتا ہے کہ جو کچھ وہ اپنے حریف کے خلاف کر سکتا ہے کر گزرے۔ ہر آدمی کے اندر ایک سانپ ہے۔ عام حالات میں وہ سویا ہوا ہوتا ہے۔ مگر وہ اس وقت جاگ اٹھتا ہے جب اس کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی جائے۔ ایسے موقع پر جو چیز آدمی کو بچاتی ہے وہ صبر اور اللہ کا خوف ہے۔ مگر بدقسمتی سے اس معاملہ میں قوم افلاس کے جس مقام پر ہے ٹھیک وہی حال خود ہمارے واعظوں اور رہنماؤں کا بھی آپ کسی رہنما کے ساتھ نیاز مندی دکھائیے ، اس کی قبائے عظمت کا نمکہ بنے رہے تو وہ آپ سے خوش رہے گا۔ لیکن اگر آپ اس پر تنقید کریں ، اس کی برتری کو مجروح کرنے کی کوشش کریں تو اچانک آپ دیکھیں گے کہ اس کے اندر کا سانپ جاگ اٹھا ہے۔ اس کے بعد کم از کم آپ کے مقابلہ میں وہ اپنا انسانی لباوہ اتار پھینکے گا۔ اگر آپ اس کے ادارہ میں ہیں تو آپ کو ذلیل کر کے وہاں سے نکال دیا جائے گا۔ آپ کے دوستوں اور ملاقاتیوں تک کی بے عزتی کی جائے گی۔ رہنما کے زیر اثر پریس کے لئے آپ بالکل بے قیمت انسان بن جائیں گے۔ آپ کو نقصان پہنچانا عین جائز قرار پائے گا۔ ایک ایسے بے دین شخص کا استقبال وہ پسند کرے گا جس سے اس کی امیج میں اضافہ ہوتا ہو۔ گر آپ سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملاقات کرنا بھی اس کو گوارا نہ ہوگا۔ اس کی نظر میں آپ کے علم و تقویٰ کی کوئی قیمت نہ ہوگی ۔ اس کے برعکس بے دین لوگ اس کے لئے قیمت والے ہوں گے کیوں کہ دہ اس کی شان میں اضافہ کا سبب بنتے ہیں۔

قوم کا اگر یہ حال ہے کہ وہ عام حالات میں ٹھیک رہتی ہے اور جب کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آ جائے تو پھر کر فساد کرنے لگتی ہے تو ہمارے رہنما بھی اپنے دائرہ میں اسی کردار کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ پھر وہ قوم کے او پر انسانیت اور اخلاق کے واعظ کس طرح بن سکتے ہیں۔ " ایک سونے والا دوسرے سونے والے کو کیوں کر جگا سکتا ہے جو لوگ اپنے نیاز مندوں کے لئے شریف ہوں اور اپنے مخالفین کے لئے سانپ بنے ہوئے ہوں رہ دوسروں سے کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ تم اپنے مخالفین کے لئے سانپ نہ بنو بلکہ ان کے ساتھ انسانیت اور اخلاق کا یہی برتاؤ کرو جو تم اپنے دوستوں کے ساتھ کرتے ہو۔ خود معمولی اخلاقیات کی سطح پر ہونا اور دوسروں کو غیر معمولی اخلاق کا وعظ سنانا، ایک ایسے کام کا کریڈٹ لینا ہے جس کو آدمی نے کیا نہیں (آل عمران (۱۸۸) اس قسم کی روش خدا کے غضب کو بھڑکانے والی ہے نہ کہ وہ اللہ کی رحمتوں اور نصرتوں کو نازل کرنے کا سبب بنے۔

Printed page