دو رو په
Al-Risala, May 1979
By Maulana Wahiduddin Khan
دین کیا ہے تجدید دین مذہب اور جدید چیلنج صفحات 12 قیمت 150 Rs صفحات 48 قیمت - 2 .Rs علم جدید کا چیلنج کا نظر ثانی شدہ ایڈیشن صفحات 224 قیمت 1350 Rs تعمیر ملت الاسلام اسلام دین فطرت صفحات 40 قیمت - 2 .Rs صفحات 176 قیمت - 12 .Rs صفحات 48 قیمت - 2 Rs " ماہنامہ الرساله "
صفحات 200 قیمت - 12 .Rs صفحات 64 قیمت - 3 .Rs اپنی نوعیت کا واحد دینی اور صفحات 60 قیمت - 2 .Rs صفحات 48 قیمت - 7 .Rs زر تعاون سالانہ 24 .Rs قاسم جان اسٹریٹ دہلی110006 • MAKTABA AL-RISALA JAMIAT BUILDING QASIMJAN STREET DELHI 110006
یہاں سرخ نشان اس بات کی علامت ہے کہ آپ کی مدتِ خریداری ختم ہو چکی ہے۔ براہ کرم اپنا زرِ تعاون بذریعہمنی آرڈر بھیج کر شکریہ کا موقع دیں _ _ _ مینیجر الرسالہ شماره ۳۰ مئی ۱۹۴۹ جمعیۃ بلڈنگ ٭ قاسم جان اسٹریٹ ٭ دہلی ۶ نئی دہلی کا راشٹرپتی بھون ، پارلیمنٹ ہاؤس اور اور دوسری عالی شان عمارتیں انگریزوں کی تعمیر کی ہوئی کہا جاتا ہے کہ جب یہ عمارتیں بن کر تیار ہوئیں تو کناڈا کے ایک بڑے سرکاری عہدیدار نے نئی دہلی کا دورہ کیا۔ اس نے شان دار دار السلطنت کو دیکھ کر کہا : What a magnificent world they built to leave. انھوں نے کیسی شان دار دنیا بنائی ہے صرف اس لئے کہ وہ اس کو چھوڑ دیں۔
مذکورہ مغربی لیڈر کے سامنے صرف سیاسی اندیشے تھے۔ مگر موت کا اندیشہ اس سے بھی زیادہ سنگین ہے جو ہر ایک کے پیچھے دوڑا چلا آ رہا ہے۔ ہر آدمی زمین پر یا کم از کم اپنے ذہن میں ایک عالی شان دنیا تعمیر کرنے میں لگا ہوا ہے۔ اس کو خبر نہیں کہ بہت جلد موت کا طوفان اس کو اس طرح ڈھا دے گا، جیسے کہ اس کا سارا محل صرف ریت پر کھڑا ہوا تھا ۔
"الرسالہ ایک قسم کی فیکٹری ہے" ایک تعلیم یافتہ شخص نے کہا "اس میں نظریاتی ہتھیار ڈھالے جاتے ہیں تاکہ لوگ ان سے مسلح ہوں اور اپنی گفتگوؤں، تقریروں اور تحریروں میں ان کو استعمال کریں۔ " الرسالہ کے بارہ میں یہ تبصرہ بہت با معنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ الرسالہ کا مقصد لوگوں کو دینی ہتھیار فراہم کرنا ہے۔ ہمارے گردو پیش بے شمار معلومات بکھری ہوئی ہیں۔ تا ہم ان معلومات کی مثال، ابتدائی حالت میں، سونے کی کان جیسی ہے۔ مٹی اور پتھر کے انبار میں جس طرح سونے کے ذرات چھپے ہوتے ہیں جن کو دیدہ ریزی کے ساتھ چن کر الگ کیا جاتا ہے۔ معلومات کے اس ڈھیر میں وہ چیزیں بکھری ہوئی ہیں جو دینی پہلو رکھتی ہیں، جن سے دینی محاذ کو تقویت پہنچ سکتی ہے۔ الرسالہ میں یہ کیا جاتا ہے کہ معلومات کے انبار سے دینی اہمیت کی چیزوں کو چھانٹ کر الگ کیا جاتا ہے اور ان کو جدید اسلوب میں مرتب کر کے قارئین کے سامنے لایا جاتا ہے تاکہ وہ ایک طرف اس سے خود اپنے لئے دینی غذا حاصل کریں اور دوسری طرف ان کے ذریعہ دوسروں کے اوپر دعوت کا کام کریں۔
الرسالہ کے ادارہ سے شائع ہونے والی کتابوں کی نوعیت بھی یہی ہے۔ الرسالہ میں جو چیز" صحافتی" سطح پر انجام دی جارہی ہے وہی ان کتابوں میں "تصنیفی" سطح پر انجام دینا حقیقت یہ ہے کہ الرسالہ اور اس کی کتابیں ہر طبقہ اور ہر حلقہ کے مسلمانوں کے لئے وقت کا اسلامی ان میں ہر ایک کے لئے غذا اور ہر ایک کے لئے مواد ہے۔ ان سے ہر ایک یکساں طور پر فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
ریت کی تعمیر آخری انجام قبر ہے انگلستان آج اسلامی ملک ہوتا با معنی کائنات بے معنی انجام نہیں ہو سکتا آدمی خدا کی حمایت سے محروم ہو جاتا ہے درخت کی زبان سے پہلے کچھ سہنا پڑتا ہے خوش خیالی حقیقت کا بدل نہیں ہو سکتی اخلاص کی پہچان اسلام کے نام پر اسلام کا قتل خود نمائی کے شوق میں دین کیا ہے یہ ہنگامہ آرائی کا وقتی اسٹیج نہیں اپنا حساب آپ کر لو لطیفوں سے استدلال پاک کو ناپاک سے جدا کیا جانا آخرت کے باغوں میں جگہ پانے والے وقت کا سوال نہ کہ قیمت کا یہ اپنی کمزوری کا اعلان ہے اسلامی زندگی سیرت کی روشنی میں ملت کی تعمیر کے لئے تبدیلی مذہب پر پابندی کا قانون کوئی سننے والا ہے جو سنے اقامت دین کے بارے میں
دو آدمی ایک دوسرے کے دشمن ہو گئے۔ دوسرے کو بدنام کرنے اور اس کو نقصان پہنچانے میں مگر آخری چیز جس نے دونوں کے درمیان فیصلہ کیا وہ موت تھی۔ موت نے ان میں سے ہر ایک کو اسی قبر میں پہنچا دیا جس میں وہ اپنے بھائی کو پہنچانا چاہتا تھا۔ موت کا یہ واقعہ ہر روز ہمارے سامنے پیش آتا ہے مگر ہر ایک یہ سمجھتا ہے کہ یہ واقعہ اسی آدمی کے لئے ہے جس کے ساتھ وہ بظاہر پیش آ رہا ہے۔ خود اپنے لئے کوئی شخص اس میں سبق نہیں پاتا۔
How England was Lost to Islam? that he would also abandon Christian faith which he considered false and would faithfully adhere to law of Baron Hardington, who was ac- companied by Baron Relph Fitznicho- las and Catholic priest Master Robert de London handed King John's letter to the Emir and with the aid of an interpreter proceeded to convey with oratorial skill the rich- ness of England's soil, fertility of its fields and skill of its people "who are handsome and ingenious, are skilled in three languages, Latin, French and English as well as in every liberal and mechanical pur- Ronay describes Emir's reply as "exceptionally level headed" when he said, "I have never read or heard that any king possessing such pros- perous kingdom, subject and obe- dient to him, would thus voluntarily ruin his sovereignty by making tri- butary to a country that is free by giving to a stranger that which is his own by turning happiness to misery and thus giving himself up to will of another conquered as it were without wound". Upon his emissary's return to England, King John "wept bitterly in being baulked in his purpose". Catholic priest, Master Robert de London later was excommunicated and banished from England as result of his role in Magna Carta rebellion. He went to Mongolia to become Tartar Khan's chief diplomat and later to return to Europe even- tually as head of the Tartars that converted nearly half of Europe to Sunday TIMES (London)