October 22, 1978
Al-Risala, May 1979, pp. 4–5
By Maulana Wahiduddin Khan
Had powerful Moorish ruler Emir Mohammed Al-Nassir overlooked the fact that Islam forbids taking undue advantage of helpless people, England would have become a Muslim country in the 13th century -some 800 years ago. Gabriel Ronay in his book "The Tarter Khan's Englishman" published by Cassel, disclosed that in 1213 King John of England sent a secret emissary of three persons to Moorish ruler Emir Mohammed Al-Nassir with offer of homage and promise that if England were to be received into the Arab fold King John would become the Emir's tribute-paying vassal and he along with his subjects convert to Islam. Ronay came across verbatim account of secret emissary while researching for book on Robert Dad, London Catholic priest who was also one of the emissary sent to Al-Nassir and who was later ex- communicated and banished from England by King John for his role in the Magna Carta rebellion of 1215. This forgotten episode of English history when King John offered to become Muslim along with his sub- jects was dutifully recorded by Saint Alban's chronicler of 13th century, Mathew Paris. There is little to question veracity of his account writes Ronay, because he heard it straight from those emissaries. Nasser's Rebuff: Baron Thoma Hardington, head of King John's emissary, according to Paris accounts, was instructed by John to tell Emir Al-Nassir "great King of Africa, Morocco and Spain that he would voluntarily give up to him, himself and his kingdom, and if he pleased, would hold it as tributary for him and
سلطنت موحدین کے حوصلہ مند فرماں روا عبدالمومن اندلس پر اپنے قبضہ کو مکمل کرنے کے بعد سارے یورپ کو فتح کرنا چاہتا تھا۔ مگر اس کی عمر نے وفا نہ کی۔ وہ پانچ لاکھ کے ناقابل تسخیر لشکر لے کر آگے بڑھنے والا تھا کہ جمادی الثانی ۵۵۸ھ میں اس کا انتقال ہو گیا۔ تاہم اس کی اگلی پشت میں امیر ابو عبداللہ محمد ناصر لدین اللہ کے زمانہ حکومت (۶۱۰-۵۹۵ھ) میں خود یورپ کی سیاست نے اس خواب کی تکمیل کے اسباب پیدا کر دیتے۔ اگر چہ ناصر لدین اللہ کی کم ہمتی کی وجہ سے یہ خواب تکمیل کو نہ پہنچ سکا۔
اس زمانہ میں جان لاک لینڈ (۱۲۱۶ - ۱۱۶۹ء) انگلستان کا بادشاہ تھا۔ یہی وہ بادشاہ ہے جس نے مشہور میگنا کارٹا (منشور آزادی) پر ۱۲۱۵ میں دستخط کئے تھے۔ اس کے زمانہ میں ملک کے کچھ امرا ر نے اپنے حقوق کی آزادی کا مطالبہ کیا۔ امرا اور بادشاہ کے درمیان کشمکش بڑھی۔ پوپ انوسنٹ سوم (۱۲۱۶ - ۱۱۶۰) نے اس معاملہ میں احرار کا ساتھ دیا۔ لندن کا پادری رابرٹ ، جو اس مقابلہ میں بادشاہ کے ساتھ تھا، پوپ نے اس کو کلیسا سے خارج کر دیا۔ ان حالات میں شاہ جان نے یہ منصوبہ بنایا کہ وہ اندلس کے مسلم حکمران کا تعاون حاصل کر کے اپنے حریفوں کو شکست دے۔ اس نے ۱۲۱۳ء میں ناصر لدین اللہ کے پاس ایک خفیہ سفارت بھیجی۔ اس سفارتی وفد کے ارکان یہ تھے : تھامس ہارڈنگٹن، ، رالف فر نکوٹس ، ماسٹر رابرٹ۔ یہ وفد سمندری سفر کر کے مراکش پہنچا جہاں ناصر لدین اللہ مقیم تھا۔ وفد کے ارکان وسیع محل کے ایوان اور ڈیوڑھیوں سے گزرتے ہوئے، جن کے دونوں طرف شاہی خدام کی صفیں کھڑی ہوئی تھیں، امیر ناصر لدین اللہ کے سامنے پہنچے۔ انھوں نے امیر کو شاہ جان کا خط پیش کیا اور ترجمان کے ذریعہ امیر سے گفتگو کی۔ اپنے بادشاہ کی ہدایت کے مطابق انگلستانی وفد نے ناصر لدین اللہ سے کہا کہ اگر آپ شاہ جان کی مدد کریں تو وہ آپ کے باج گزار بن جائیں گے ۔ نیز یہ کہ عیسائیت پر ان کا اعتقاد ختم ہو گیا ہے اور وہ افریقہ اور مراکش اور اسپین کے عظیم بادشاہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کرنے کے لئے تیار ہیں اور اسی کے ساتھ ان کی رعایا بھی ۔ وفد نے انگلستان کی تعریف میں مزید کہا کہ وہ ایک زرخیز ملک ہے۔ اس کے باشندے تین زبانوں کو جاننے والے ہیں: لاطینی، فرانسیسی اور انگریزی۔ وہ مختلف قسم کی فنی صلاحیتیں بھی رکھتے ہیں ۔
مگر امیر ناصر لدین اللہ نے اس پیش کش کو قبول نہیں کیا۔ اس نے اس کو سیاسی چال سمجھا۔ اس نے کہا میں نے کبھی نہیں سنا کہ کوئی بادشاہ جس کے پاس اتنا قیمتی ملک ہو، خود سے اپنے آپ کو دوسرے بادشاہ کے حوالے کر دے۔ اس نے وفد کے لوگوں کو اپنے دربار سے نکال دیا اور کہا کہ اب کبھی میرے پاس نہ آنا۔ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے گئبرٹ روڈ نے لکھا ہے: ” تیرہویں صدی عیسوی میں انگلستان مکمل طور پر ایک مسلم ملک بن جاتا اگر ناصر لدین اللہ شاہ جان کی پیش کش کو قبول کر لیتا“ شاہ انگلستان کا اسلام کو قبول نہ کرنا ناصر لدین اللہ کے لئے مہنگا پڑا۔ ۶۰۹ ھ میں یورپی فوجیں بہت بڑی تعداد میں شاہ الفانسو کے جھنڈے کے نیچے جمع ہو کر مسلم اندلس پر حملہ آور ہوئیں۔ ناصر لدین اللہ کے ساتھ چھ لاکھ کا لشکر تھا۔ مگر امیر کی نااہلی کی وجہ سے اس کو بری طرح شکست ہوئی ۔ بیشتر مسلم فوجی العقاب کے میدان میں عیسائیوں کے ہاتھوں مار ڈالے گئے۔ عظیم امکان ایک بدترین انجام میں تبدیل ہو گیا۔