Al-Risala · May 1979

با معنی کائنات بے معنی انجام پر ختم نہیں ہوسکتی

Al-Risala, May 1979, pp. 6–7

By Maulana Wahiduddin Khan

وما خلقنا السموات والارض وما بينهما ادہر ہم نے زمین و آسمان کو اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے لعبين - ما خلقنهما الا بالحق ولكن اكثرهم لا کھیل کے لئے نہیں بنایا۔ ان کو ہم نے حق کے ساتھ بنایا ہے۔ يعلمون - ان يوم الفصل ميقاتهم اجمعين مگر اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔ بلاشبہ فیصلہ کا دن سب کا يوم لا يغني مولى عن مولى شيئا ولا هم ينصرون مقرر ہے جس دن کوئی دوست کام نہ آئے گا اور نہ ان کو الا من رحم الله انه هو العزيز الرحيم کچھ مدد پہنچے گی۔ ہاں جس پر اللہ رحم کرے وہ زبردست دخان (۴۴ - ۳۸) ہے اور مہربان یہی بات قرآن میں دوسرے مقام پر ان لفظوں میں کہی گئی ہے کہ زمین و آسمان کو ہم نے باطل اور عبث نہیں بنایا (مومنون، ص) ایک عام آدمی جب دنیا کے منظر کو دیکھتا ہے تو اس کو عجیب نقشہ دکھائی دیتا ہے۔ یہاں سچے اپنی سچائی کا انعام نہیں پاتے اور برے دلوں کو ان کی برائی کی سزا نہیں ملتی۔ وہ دیکھتا ہے کہ اس دنیا میں کہیں پتھر عقلت پائے ہوئے ہیں اور انسان ذلیل ہو رہا ہے۔ کہیں شریر لوگوں کو اونچا درجہ مل رہا ہے اور نیک لوگ روندے جا رہے کوئی مفاد اور مصلحت پر چل کر کامیابیاں سمیٹ رہا ہے اور کوئی اصولوں کی خاطر اپنی زندگی کو تباہ کئے ہوئے کسی کو نعروں اور تقریروں پر لیڈریاں مل رہی ہیں اور کسی کو اپنے آپ کو مٹا دینے کے بعد بھی کوئی کریڈٹ نہیں کہیں انسانوں کو آپس میں لڑانے والے صلح کا خطاب پا رہے ہیں اور کہیں لڑائی سے بچنے کی کوشش کرنے والوں کو سزا مل رہی ہے۔ کہیں ایک شخص کھلی غلطی کر کے بھی الفاظ کا نہ ختم ہونے والا ذخیرہ پالیتہا ہے جس سے وہ اپنے کو حق بجانب ثابت کر سکے اور کہیں غلطی کر کے آدمی پر ایسی چپ لگتی ہے گویا اس کے پاس بولنے کے لئے الفاظ ہی نہیں۔ کہیں خدا کے نام پر کسی کو شان دار کاروبار بار رہا ہے اور کہیں خدا کا نام لینا آدمی کے لئے اپنے کو مٹانے کے ہم معنی بن رہا ہے۔ کوئی شخص ہے جو ایک انسان کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر اس کے اوپر درندوں کی طرح ٹوٹ پڑتا ہے اور کوئی ہے جو دوسرے پر قابو یافتہ ہونے کے با وجود اس کو چھوڑ دیتا ہے۔ کہیں ایک شخص حق پسندی کی خاطر اپنے آپ کو دوسرے کے مسئلہ میں الجھا دیتا ہے اور کہیں آدمی حق کی پامالی دیکھتا ہے اور یہ سوچ کر چپ رہ جاتا ہے کہ جب میرا کچھ بگڑنے والا نہیں ہے تو میں دوسرے کے مسئلہ میں اپنے کو کیوں پھنساؤں۔ کہیں سچائی ظاہر ہونے کے بعد بھی آدمی اپنی عزت کو بچانے کے لئے اس کا اعتراف نہیں کرتا اور کہیں ایک آدمی اپنی عزت کے سوال کو بھول کر اس کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔ کہیں ایک آدمی اپنے ذاتی مفاد کی خاطر پورے ملک اور قوم کی قسمت کو داؤ پر لگا دیتا ہے اور کہیں آدمی اپنی قوم کو بچانے کی کوشش میں اپنے آپ کو ہلاک کر لیتا ہے۔ کوئی اپنے دل میں دوسروں کی خیر خواہی کا جذبہ لئے ہوئے ہے اور کوئی حسد اور عداوت کا کوئی دوسرے کی اصلاح کے لئے دعائیں کر رہا ہے اور کوئی دوسرے کی بربادی کی سازشیں کر رہا ہے۔ خلاصہ یہ کہ کوئی جہنم کے شعلے بکھیر رہا ہے اور پھر بھی وہ پھولوں کے باغ میں ہے اور

کوئی جنت کے دروازے کھولنا چاہتا ہے مگر وہ کانٹوں اور آگ کے شعلوں میں پڑا ہوا ہے کیا یہ دونوں قسم کے لوگ اپنی اپنی کارگزاری دکھا کر ختم ہو جائیں گے اور اس کے بعد دونوں کا کوئی فیصلہ نہیں ہونا ہے ۔ کیا کوئی ایسی دنیا نہیں جہاں دونوں کا فرق ظا ہو۔ کیا یہ دنیا عیاروں اور باطل پرستوں کی تماشاگاہ کیا خدا نے یہ عظیم اہتمام اس لئے کیا ہے کہ یہاں حق پرستوں کے اوپر کتے بھونکیں اور جہاد کریں ، بھیڑیے ان کا خون پئیں ۔ کیا دنیا کا اسٹیج اس لئے ہے کہ کچھ لوگ یہاں اپنی شیطانی ہوس کی تسکین حاصل کریں اور کچھ لوگ ان کی ہوس کا شکار ہوتے رہیں۔ اور اس کے بعد یہ سارا ڈرامہ یوں ہی ختم ہو جائے ۔ ایسا ناممکن ہے۔ کائنات کی بے پناہ معنویت اپنے پورے وجود کے ساتھ پکار رہی ہے کہ اس کا خاتمہ ایسے بے معنی انجام پر نہیں ہو سکتا ۔ صرف با معنی انجام پر ہی ختم ہو سکتی ہے ۔ موجووہ دنیا اپنے پورے وجود کے ساتھ پکار رہی ہے کہ یہ نامکمل ہے اور اس کا نامکمل ہونا ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کے بعد ایک آخرت ہو جہاں ہر ایک کو جانچا جائے اور اس کے عمل کے مطابق اس کو اچھا یا برا مقام عطا کیا جائے ۔

درخت میں غلط کھاد ڈالئے تو وہ سوکھ کر ختم ہو جائے گا اور جب آپ اس کو صحیح کھاد اور پانی پہنچاتے ہیں تو وہ ایک ہری بھری کائنات کی صورت میں زمین کے اوپر ابھرتا ہے۔ وہ رنگ اور خوشبو اور ذائقہ دیتا ہے ۔ وہ تازہ مہا کھیتا ہے اور زمین کی خوش نمائی میں اضافہ کرتا ہے ۔ اور بے شمار دوسرے فائدے پہنچاتا ہے۔ یہی حال اس درخت کا ہے جس کو انسان کہتے ہیں ، جو شخص خدا کے قانون کے مطابق اپنے وجود کی صحیح نگہداشت کرے گا ، جو اپنی ہستی کو صالح خوراک پہنچائے گا وہ خدا کی زمین میں پھلے پھولے گا اور آخرت میں ایک عالی شان باغ کی صورت میں نمایاں ہوگا۔ وہ خوشیوں اور لذتوں کی ایک ایسی کائنات کی شکل اختیار کرے گا جس کی بہاریں کبھی ختم نہ ہوں، جس کے امکانات کی کوئی حد نہ ہو۔ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو اپنی ہستی کے درخت کو غلط پانی دیں اور اس کی جڑوں میں دہ کھاد ڈالیں جو خدا نے اس کے لئے مقرر نہیں کی ہے۔ ایسے لوگ اپنے درخت کو ٹھنڈ بنا رہے ہیں۔ وہ اس کے اجاڑ کی صلاحیت کو فنا کر رہے ہیں۔ ایسے لوگ آخرت کی دنیا میں اس حال میں پہنچیں گے کہ ان کے پاس درخت حیات کے نام سے سوکھی لکڑیوں کے سوا اور کچھ نہ ہو گا ۔ جو جہنم میں جلنے کے لئے ڈال دی جائیں ۔ اس قسم کے لوگ موجودہ دنیا میں اگر بظاہر ہر تر و تازہ دکھائی دیتے ہوں تو یہ بھی ان کے اوپر خدا کے غضب کی ایک صورت ہے۔ خدا ان کو مہلت دے کر یہ بتاتا ہے کہ وہ اپنی ظاہری سرسبزی سے دھوکے میں پڑ جائیں اور مزید سرکشی کرکے اپنے جرم کو اور زیادہ ثابت کر دیں ۔ دنیا میں آدمی اپنے گرد و پیش اعوان وانصار کو دیکھ کر غلط فہمی میں پڑ جاتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ جس طرح دنیا کی زندگی میں اپنے مددگاروں کے ذریعہ میں اپنے کام بنا رہا ہوں اسی طرح آخرت میں بھی بنالوں گا۔ مگر یہ زبردست بھول ہے۔ آخرت میں آدمی اس حال میں پہنچے گا کہ ہر قسم کا سہارا اس سے دور ہو چکا ہو گا ، وہاں وہی شخص سہارے والا ہوگا جس کا خدا سہارا بنے۔ آخرت میں وہ تمام الفاظ بے معنی ہو جائیں گے جو دنیا میں لوگوں کو با معنی نظر آتے ہیں اور نہ تمام طاقتیں بالکل بے زور ثابت ہوں گی جن کے بل پر آدمی آج اپنے کو طاقت ور سمجھے ہوئے ہیں۔

Printed page