Al-Risala · May 1979

درخت کی زبان سے

Al-Risala, May 1979, pp. 9–10

By Maulana Wahiduddin Khan

درخت کیا ہے۔ ایک بیج کی اس صلاحیت کا ظہور کہ وہ مٹی اور پانی سے اپنا رزق لے کر اپنے آپ کو تنہ اور شاخ اور پتی اور پھول کے اس مجموعہ کی صورت دے سکے جس سے زیادہ خوش منظر مجموعہ اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔ انسان کی مثال بھی کچھ اسی قسم کی ہے۔ وہ اس دنیا میں ایک بیج کی مانند ڈالا گیا ہے۔ اس کو اپنی کوششوں سے ’’درخت‘‘ بننا ہے۔ خدا کی اس دنیا میں اس کے لئے رزق کے بے پناہ ربانی مواقع رکھ دیئے گئے ہیں۔ وہ اس دنیا سے اپنا رزق لے کر اپنے لئے ایک ایسے ابدی مستقبل کی تعمیر کر سکتا ہے جو اگلی زندگی میں جنت کے ہرے بھرے باغوں کی شکل میں اس کی طرف لوٹے اور اس کے لئے لازوال خوشی کا باعث ہو۔

اس کے برعکس جو لوگ ان مواقع سے اپنا ربانی حصہ پانے میں ناکام رہیں، ان کی مثال اس بیج کی سی ہے جو کسی پتھر پر پڑ گیا ہو یا جس نے کسی ناموافق زمین میں جگہ پائی ہو۔ ایسا بیج کبھی لہلہاتے ہوئے درخت کی صورت اختیار نہیں کرتا۔ اسی طرح موجودہ دنیا میں جس نے اپنی تعمیر کے امکانات سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ وہ گویا ایک ایسا بیج ہے جس کی کوتاہیوں نے اس کو درخت نہیں بنایا۔ ایسا شخص اگلی طویل تر زندگی میں ابدی ناکامی سے دوچار ہوگا۔ وہ آخرت کی دنیا میں ایک ایسی زندگی کا وارث ہوگا جو ہر قسم کی شادابی سے مکمل طور پر محروم ہو۔

آپ کی تندرستی اور صحت کا تقاضہ ہے کہ پہلے اپنے ملک کی جڑی بوٹیوں سے بنی ہوئی دوائیں استعمال کریں۔

پوسٹ بکس نمبر ۱۰۷ ، دہلی ۲ اپنے ملک کی جڑی بوٹیوں سے تیار کی ہوئی دوائیں ۱۹۱۶ء سے پیش کر رہا ہے۔

موجووہ زمانہ میں بعض مسلم حکمرانوں نے اپنی حکومت کے استحکوم کی یہ آسان تدبیر دریافت کی ہے کہ اسلام کے نام پر کوڑے مارو اور خوفناک سزائیں جاری کرو، تاکہ عوام اور انقلاب پسند عناصر سہم جائیں اور ان کی آمریت کے خلاف اٹھنے کی ہمت نہ کریں۔ قدیم زمانہ میں بادشاہوں کو ایسے علماء مل جاتے تھے جو ان کی ہوسِ نکی کے منصوبوں کے لیے شرعی سند عطا کرتے اسی طرح موجودہ زمانہ کے ان حکمرانوں کی خوش قسمتی سے ان کو ایسے افراد اور ادارے مل گئے ہیں جو ان کے تاریک منصوبوں کے حق میں یہ فتوی دے سکیں کہ یہی اسلام کا اصل مطلوب ہے، صرف اس قیمت میں کہ ان کو کچھ نذرانے اور اعزازی عہدے

مگر اسلام کوڑے مارنے اور ہولناک سزائیں جاری کرنے کا نام نہیں۔ اس قسم کی حدود اور تعزیرات اسلام کے پورے با معنی وجود سے بس اتنی ہی نسبت رکھتے ہیں جیسے ایک زندہ انسان کا اپنے بڑھے ہوئے ناخن کا کاٹنا۔ اسلام خدا کی رحمتوں کا دین ہے، وہ جنتی فضاؤں کا دنیوی ظہور ہے۔ وہ موت کے بعد آنے والی دنیا کا موت سے پہلے والی دنیا میں یہ جنت کے شہریوں کا دنیا میں اتر آنا ہے۔ وہ ملکوتی اوصاف جو کسی بندہ خدا کو جنت کی ناقابل بیان خوشیوں کا مستحق بناتے ہیں، جب ایسے اوصاف کے لوگ اقتدار کے مناصب پر قبضہ پالیں تو اسی کا دوسرا نام اسلامی نظام ہے۔ نظام وہ لوگ قائم کرتے ہیں جو آسمانوں والے خدا کو زمین پر کھڑا ہوا دیکھتے ہوں۔ جو اپنے آپ کو خدائی منصوبہ میں اس حد تک گم کر چکے ہوں کہ اپنی ذات کے منصوبے ان کے لیے باقی نہ رہیں۔ اسلامی نظام برپا کرنے والے وہ ہیں جو دوسرے کے درد پر جو دوسرے کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھتے ہوں۔ جن کا حال یہ ہو کہ ذمہ داریوں کا احساس ان سے زندگی کی خوشیاں چھین لے۔ اللہ کے سامنے جواب دہی کا فکر ان کے لیے اقتدار کی کرسی کو کانٹوں کی کرسی بنا دے۔ جو حکومتی مواقع کے ملنے پر آنسو بہانے والے ہوں نہ کہ قہقہہ بلند کرنے والے۔

زمین کے اوپر جب ایک درخت کھڑا ہوتا ہے اور اپنی سرسبز ٹہنیوں میں پھول اور پھل لگاتا ہے تو یہ ایک پیچیدہ ترین کائناتی منصوبہ کی تکمیل ہوتی ہے۔ اسی طرح اسلامی نظام گویا انسانی سماج میں خدا کا شری پھول اور پھل اگانا ہے۔ انتہائی لطیف اور انتہائی مشکل منصوبہ ہے۔ جس طرح ایک درخت طویل مدت تک خاموش عمل میں مصروف رہنے کے بعد اس قابل بنتا ہے کہ وہ اپنے ہریالے تن کے اوپر رنگ اور مزہ اور خوشبو کا وہ فرحت بخش مجموعہ ظہور میں لائے جس کو پھول اور پھل کہا جاتا ہے۔ اسی طرح اسلامی نظام کا قیام بھی ایک بے حد سنجیدہ اور بے حد طویل منصوبہ ہے۔ یہ نہایت گہری جدوجہد کا کچھ زندگیاں درخت کے بیج کی مانند اپنے آپ کو عظیم مقصد کی خاطر قربان کر دیتی ہیں۔ کچھ روحیں عالم حقائق میں گم ہوکر خدا کے چھپے ہوئے خزانوں کو اجتماعی سطح پر بکھیرتی ہیں تو اس کے بعد دہ واقعہ رونما ہوتا ہے جس کو اسلامی نظام کہا جاتا ہے کچھ لوگ جو جیتے جی اپنے آپ کو آخرت میں پہنچا چکے ہوں، جب وہ آخرت کی ابدی تجلیوں کو دنیا میں اتارتے ہیں تو اسی انعکاس نور کا نام اسلامی نظام ہوتا ہے۔ اسلامی نظام خدا کی اخروی نعمتوں کا زمینی ظہور ہے۔ جو لوگ اپنی جاہ طلبی کے تماشوں کو اسلامی نظام کا نام دیتے ہیں، ایسے لوگ اسلامی نظام قائم کرنے کا کریڈٹ تو کیا پائیں گے، البتہ یہ اندیشہ ہے کہ خدا کے یہاں وہ دھوکہ بازی کے مجرم قرار دئے جائیں کیونکہ انہوں نے اپنے ٹھنڈ کو خدا کا سر سبز و شاداب درخت کہنے کی جسارت کی تھی۔ (۲۴ اپریل ۱۹۷۹)

Printed page