Al-Risala · May 1979

خود نمائی کے شوق میں

Al-Risala, May 1979, pp. 12–13

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک صابن ہے۔ اس کا اشتہار اخبارات میں ایک خاص منظر کے ساتھ شائع ہوتا ہے۔ اس منظر میں ایک لڑکی آبشار کے نیچے نہاتی ہوئی دکھائی گئی ہے۔ یہ منظر کسی آرٹسٹ کے برش نے نہیں بنایا ہے۔ ایک حقیقی منظر ہے۔ 1949 میں شروع کی گئی اور برسوں کے بعد تکمیل کو پہنچی۔ اس مقصد کے لئے ایک خاص لڑکی کا انتخاب کیا گیا، جنگل، سمندر اور دوسرے مقامات کا تجربہ کرنے کے بعد بالآخر آبشار کے غسل کو سب سے زیادہ موزوں سمجھا گیا۔ کیوں کہ آبشار کے گرتے ہوئے پانی میں نہانے کا منظر سب سے زیادہ عوامی کشش رکھتا تھا۔ مختلف آبشاروں کا جائزہ لینے کے بعد کو ڈائی کنال کو مقام غسل کے لئے چنا گیا۔

سب سے مشکل یہ تھا کہ یہ کام صرف جاڑوں میں ہو سکتا تھا۔ کیوں کہ اسی موسم میں پہاڑی آبشاروں میں تیز دھارا دوسری طرف اس مقصد کے لئے ایک نازک لڑکی کا انتخاب ضروری تھا جو نہاتے وقت ”پانی کی پری“ معلوم ہو۔ یہ ایک جان جوکھم منصوبہ تھا۔ مگر ماڈلنگ کے پیشے نے اس کو آسان بنا دیا۔ ایڈورٹائزنگ کمپنی کا عملہ جس کو انتظام کرنا اور فوٹو لینا تھا، مکمل طور پر گرم کپڑوں سے لدا ہوتا تھا۔ دوسری طرف ان کی پارٹی کی سب سے زیادہ نازک اور کمزور ممبر صبح ۷ بجے ٹھٹھرتے ہوئے پانی کے ریلے میں چھلانگ لگاتی تھی پھسلتی ہوئی چٹانوں پر پانی کے مسلسل گرتے ہوئے دریا کے نیچے اس کو اس طرح نہانا پڑتا تھا کہ اس کے چہرے پر صرف فرحت اور خوش گواری کی ہنسی ہو۔ خوف اور گھبراہٹ کی کوئی علامت اس پر ظاہر نہ ہونے پائے۔ کیڑے مکوڑے اور پانی کے سانپ ان سب کے علاوہ وہ تھے۔ کمپنی کے لوگوں کو بھی لڑکی کو جگانا وہ ہر روز صبح کو 8 بجے اپنے گھر پر تیار ملتی تھی۔

یہ واقعہ درجن سے زیادہ بار دہرایا گیا اور ہزاروں کی تعداد میں فوٹو لئے گئے۔ پھر اس ایک فوٹو کا انتخاب ہوا جو آج لوگوں کو اخبار کے اشتہارات میں نظر آتا ہے۔ لڑکی کے لئے اس ایک فوٹو کی قیمت تھی پندرہ ہزار روپیہ ۔ ماڈلنگ کا یہ پیشہ آج ساری دنیا میں بہت بڑے پیمانے پر رائج ہے۔

کیا چیز ہے جو لڑکوں اور لڑکیوں کو ماڈلنگ کے اس سخت کام کی طرف راغب کرتی ہے؟ ایڈورٹائزنگ کمپنی کے ایک افسر نے اس سوال کے جواب میں کہا:

It is, primarily, a case of vanity (Famina, 22.7.1978)

بنیادی طور پر اس کی وجہ نمود و نمائش کا جذبہ ہے۔ کیوں کہ اس کے بعد ہر طرف اس کو اخبارات ورسائل میں اپنا چہرہ چھپا ہوا دکھائی دینے لگتا ہے۔ خود نمائی کا یہ جذبہ جو ایک ” پروفیشنل ماڈل“ کو جان جوکھم کام کی طرف لے جاتا ہے وہی ایک ” لیڈر “ کے کام کا محرک بھی ہے۔ اگرچہ اول الذکر کے مظاہروں کو پیشہ ورانہ نمائش کہا جاتا ہے اور ثانی الذکر کے اسی قسم کے مظاہروں کو قربانی کے پُر فخر نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ انسان کا حقیقی کمال یہ ہے کہ وہ خود نمائی کے شوق سے اوپر اٹھ جائے۔ اگرچہ تمام کاموں میں انسان کے لئے سب سے زیادہ مشکل کام یہی ہے۔

دین کیا ہے۔ دین یہ ہے کہ آدمی کے اندر آخرت کی فکر پیدا ہو جائے ۔ اللہ سے تعلق ، موت کی یاد، جہنم کا اندیشہ ، یہ چیزیں اس پر اتنا چھا جائیں کہ وہ ہر وقت اسی کے لئے سوچے، اس کے ہر قول و عمل سے اسی کا اظہار ہونے لگے۔ مگر موجووہ زمانہ میں یہی چیز اجنبی ہو گئی ہے۔ ہر طرف دین کا غلبہ برپا ہے مگر دین کی جو اصل روح ہے وہ کہیں نظر نہیں آتی۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی کی دو قسمیں ہیں۔ ایک دنیا میں جینا۔ غیر اسلامی زندگی یہ ہے کہ آدمی اسی دنیا میں جی رہا ہو۔ اس کے برعکس اسلامی زندگی یہ ہے کہ آدمی آخرت میں جینے لگے۔ خدا کی اس کائنات میں وہ ابھی سے پہنچ جائے جہاں بالآخر ہر ایک کو پہنچنا ہے۔ دین دار بننا دراصل آخرت کی فضاؤں میں جینا ہے۔ مگر عام طور پر لوگ دین کی اہمیت کو آخرت کی سطح پر سمجھ اس لئے وہ خدا کے دین کو دنیا کی سطح پر اتار لاتے ہیں۔ دین سے مال اور اولاد میں برکت حاصل کرنا، دین کو معاشی اور سیاسی نظام کی صورت میں دیکھنا، دین کو سماج سدھار کی ایک اسکیم کی حیثیت سے پیش کرنا، دین کو سیکولرازم اور سوشلزم کی اصطلاحوں میں بیان کرنا، وغیرہ یہ ساری چیزیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ آدمی دین کی اہمیت کو آخرت کی سطح پر نہ پا سکا۔ وہ اس کو اس دنیا کی سطح پر اتار لایا ہے جہاں وہ خود جی رہا ہے۔

ایک شخص دنیا میں محنت کرے اور عزت ، دولت ، عہدہ اور اعوان و انصار حاصل کرلے تو لوگ اس سے دبتے ہیں اور اس کا لحاظ کرنے لگتے ہیں۔ کیوں کہ لوگ جس معبود دنیا کے قائل ہیں ، اس نے اس معبود کو اپنی پشت پر جمع کر لیا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص آخرت کی فکر کرے اور اس فکر کی وجہ سے دنیا کے ساز و سامان اپنے گر دجمع نہ کر سکے وہ لوگوں کی نظروں میں حقیر ہو جاتا ہے ، کیوں کہ لوگ جس معبود سے واقف ہیں، وہ معبود انھیں اس کے آس پاس دکھائی نہیں دیتا۔ مگر قیامت کا دھماکا جب جھوٹے معبودوں کا خاتمہ کر دے گا تو اچانک لوگ جان لیں گے کہ وہ آخرت پسند شخص جس کو انھوں نے بے قیمت سمجھ لیا تھا وہی سب سے زیادہ قیمت والا انسان تھا۔ کیوں کہ اس کی پشت پر دہ خدا کھڑا ہوا تھا جو زمین و آسمان کے تمام خزانوں کا مالک ہے جھوٹے معبودوں پر بھروسہ کرنے والے اس دن اس حال میں ہوں گے کہ کسی دیوار کا سایہ بھی ان کے لئے نہ ہو گا جہاں وہ پناہ لے سکیں۔

حقیقت کی آواز آدمی کے کان کے پردہ سے ٹکراتی ہے ۔ اس کا دل اس کی صداقت کا اقرار کرتا ہے۔ اپنے جاننے والوں کے درمیان اپنے مقام کو باقی رکھنے کی خاطر وہ حقیقت کا انکار کر دیتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ عوام کے نزدیک اپنے درجہ کو باقی رکھنے کی کوشش میں وہ خدا کے نزدیک اپنے درجہ کو ختم کر رہا ہے

Printed page