Al-Risala · May 1979

دنیا بے معنی ہنگامہ آرائیوں کا وقتی اسٹیج نہیں

Al-Risala, May 1979, pp. 14–15

By Maulana Wahiduddin Khan

وما خلقنا السماء والارض وما بينهما باطلاً اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو ان کے درمیان ہے ذلك ظن الذین کفروا فویل للذین کفروا من بے فائدہ نہیں بنایا۔ یہ ان کا گمان ہے جو منکر ہیں۔ ام نجعل الذین آمنوا وعملوا الصّلحت منکروں کے لئے خرابی ہے آگ سے۔ کیا ہم ایمان والوں اور كالمفسدین فی الارض ام نجعل المتقین اچھے کام کرنے والوں کو ان کے برابر کر دیں گے، جو زمین میں كالفجار (ص - ۲۸-۲۷) فساد کرتے ہیں یا ہم ڈر رکھنے والوں کو ڈھیٹ لوگوں کے برابر کر دیں گے۔

دنیا میں جو لوگ اپنی خواہشات پر چلتے ہیں اور کسی پابندی کو اپنے لئے ضروری نہیں سمجھتے، وہ گویا یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ یہ کارخانہ خدا نے بے فائدہ کھڑا کر دیا ہے۔ ایسے لوگ خواہ بظاہر اپنے کو دیندار ظاہر کرتے ہوں یا دین سے بالکل بے تعلق ہوں، وہ مفسدین کے گروہ میں شامل ہیں۔ کیوں کہ ان کی ڈھٹائی بتا رہی ہے کہ وہ دنیا کو خدا کی دنیا نہیں سمجھتے بلکہ اس کو اپنی ہنگامہ آرائیوں کا ایک وقتی اسٹیج سمجھتے ہیں، ان کا خیال ہے کہ وہ جو چاہے کرتے رہیں، کوئی ایسا دن آنے والا نہیں جب کہ انصاف کا ترازو کھڑا ہو اور ان کے عمل کا ان سے حساب لیا جائے۔ اللہ نے اپنے قانون امتحان کی بنا پر ان کو مہلت دے رکھی ہے۔ اس مہلت نے ان کو دھوکے میں ڈال دیا ہے۔ مگر بہت جلد وہ جان لیں گے کہ وہ شدید ترین غلط فہمی میں تھے۔ اگر چہ یہ جاننا ان کے کام نہ آئے گا، کیوں کہ وہ وقت اپنے عمل کا بدلہ پانے کا ہوگا نہ عمل کرنے کا۔ ایک شخص وہ ہے جو اپنے رب سے ڈرتا ہے۔ وہ خدا کے بندوں کے درمیان انصاف اور خیر خواہی کے ساتھ زندگی گزارتا ہے۔ وہ اپنے وسائل کو نمائش اور تخریب میں ضائع نہیں کرتا بلکہ اس کو اصلاح اور تعمیر کے کاموں میں وہ خدا کے حکم کے آگے جھک جاتا ہے نہ کہ اپنی خواہشوں اور امنگوں کو حق کا معیار سمجھنے لگے۔ وہ انسان ہے جو خدا کی زمین میں متکبر بن کر رہتا ہے۔ وہ خدا کے دیئے ہوئے مال کو اپنے ذاتی شوق میں برباد کرتا ہے۔ وہ خدا کی دی ہوئی طاقت کو دوسرے انسانوں کی جڑ اکھاڑنے میں لگاتا ہے۔ وہ خدا کی طرف سے ملے ہوئے مواقع کو اپنی بڑائی قائم کرنے میں استعمال کرتا ہے۔ جب کوئی معاملہ پڑتا ہے تو وہ حق کے آگے جھکنے کے بجائے خود حق کو اپنے آگے جھکانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ دونوں انسان مکمل طور پر ایک دوسرے سے مختلف انسان ہیں۔ ان کا انجام ایک ایسی کائنات میں یکساں نہیں ہو سکتا جو حق اور عدل پر بنائی گئی ہے۔ کائنات اپنی اتھاہ معنویت کے ساتھ ایسے انجام کو ماننے سے انکار کرتی ہے جس میں ڈرنے والے اور ڈھٹائی کرنے والے دونوں یکساں ہو جائیں۔ اس قسم کا گمان کائنات پر اور کائنات کے بنانے والے پر اتہام ہے۔ جو لوگ ایسا گمان کریں وہ صرف اپنے جرم میں اضافہ کرتے ہیں، وہ آنے والے انجام کو بدل نہیں سکتے۔ تخلیق کا پورا کارخانہ اپنے خالق کا تعارف ایک عادل اور حکیم ہستی کی حیثیت سے کر رہا ہے پھر کیسے ممکن ہے کہ اس کا خاتمہ ایک ایسے انجام پر ہو جو عدل و حکمت کے سراسر خلاف ہے۔

حاسبو ا قبل ان تحاسبوا (حدیث)

دنیا میں اپنا حساب کر لو، اس سے پہلے آخرت میں تمھارا حساب کیا جائے آپ کے ساتھ کوئی شخص غلط سلوک کرے، کسی سے آپ کو کوئی تکلیف پہنچ جائے تو فوراً آپ کے دل کو چوٹ لگتی ہے۔ اس کو ذلیل اور حقیر سمجھنے لگتے ہیں۔ آپ کی نظر میں اس سے زیادہ برا اور کوئی شخص نہیں ہوتا۔ مومن وہ ہے جس کے اندر یہی شدت احساس خود اپنی غلطیوں کے بارہ میں پیدا ہو جائے۔ اس سے کوئی غلطی ہو تو فوراً وہ جان لے کہ مجھ سے غلطی ہوگئی۔ اپنی غلطیوں کو جاننے کے لئے وہ اتنا ہی حساس ہو جائے جتنا کوئی شخص دوسرے کی غلطیوں کو جاننے کے لئے ہوتا ہے۔ غلطی سرزد ہوتے ہی وہ تڑپ اٹھے کہ مجھ سے ایسا فعل ہو گیا جو مجھ کو خدا سے دور کرنے جو مجھ کو آخرت میں بے قیمت بنا دینے والا ہے۔ اس کا یہ احساس اتنا شدید ہو کہ اپنا وجود اس کو اپنی نظر میں حقیر معلوم ہونے لگے۔ اپنے احتساب کے لئے وہ اس سے زیادہ بے رحم ہو جائے جتنا کوئی شخص اپنے دشمن کے احتساب کے لئے ہوتا ہے۔

ایسے ہی لوگ اللہ والے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو اللہ کے ہاتھ بیچ دیا تا کہ ان کے لئے اللہ کے یہاں جنت ہو۔ جو لوگ دنیا میں اس قسم کی متقیانہ زندگی کا ثبوت دیں وہی وہ لوگ ہیں جو آخرت کی دنیا میں جہنم سے دور رکھے جائیں گے۔ ان کا رب ان سے ملاقات کے عظیم دن کہے گا کہ آج تمھارے اوپر کوئی الزام نہیں۔ ان کے لئے جنت کے تمام دروازے کھول دیئے جائیں گے اور خدا کی طرف سے پکارنے والا پکارے گا : ابدی باغوں میں بنے ہوئے جمنی مکانات آج تمھاری وراثت میں دے دیئے گئے۔ جس دروازہ سے چاہو اس میں داخل ہو جاؤ۔ آج کے بعد نہ تمھارے لئے کوئی غم ہے اور نہ تکلیف۔

چھری ، کانٹے اور چمچے کی آوازیں سنتے ہیں۔ پھر ان آوازوں میں سے کسی آواز کو اپنے بچہ کے نام کے لئے منتخب کر لیتے مثلاً پنگ ، چنگ ، ٹنگ، فنگ، چیانگ وغیرہ لطیفوں سے استدلال کا یہ طریقہ کہ آپ کسی بھی چیز کے خلاف استعمال کر سکتے ہیں۔ قرآن در حدیث سے لے کر عام کتابوں تک کوئی بھی چیز اس کی زد سے محفوظ نہیں۔

ایک شخص سب کو یکساں طور پر اپنی لطیفہ گوئی کا نشانہ بنا تاہم اس قسم کے دلائل" کا ایک ہی آزمودہ مسکرا کر چپ ہو جانا۔

چینیوں کے نام ایسے ہوتے ہیں جن میں اکثر ٹن ٹن جیسی آوازیں ہوتی ہیں۔ اس پر کسی نے لطیفہ بنایا کہ چین میں جب کسی کے گھر میں بچہ پیدا ہوتا ہے تو گھر والے نام رکھنے کی تقریب ایک شخص سب کو یکساں طور پر اپنی لطیفہ گوئی کا نشانہ بنا مناتے ہیں۔ اس تقریب میں گھر کی تمام کٹلری (چھری چمچہ وغیرہ) فضا میں اچھالی جاتی ہے ۔ ماں باپ گرتے ہوئے

Printed page