Al-Risala · May 1979

آدمی اپنے بارے میں غلط فہمی کا شکار ہو جاتا ہے

Al-Risala, May 1979, pp. 20–21

By Maulana Wahiduddin Khan

بزار نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقداد بن اسود کو ایک مقام پر عامل بنا کر کچھ دن کے بعد وہ آئے تو آپ نے پوچھا: تم نے اس کام کو کیسا پایا۔ مقداد رضی اللہ عنہ نے کہا: كنت احمل دا وضع حتى رأيت بان لى على القوم فضلا (لوگ مجھ کو اٹھاتے اور بڑھاتے رہے۔ یہاں تک کہ میں خیال کرنے لگا کہ مجھے لوگوں کے اوپر فضیلت حاصل ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امارت تو ایسی طرح کی چیز ہے۔ اب تم چاہے اس کو اختیار کرو یا اسے چھوڑ دو۔ مقداد رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، اب میں دو آدمیوں کے اوپر بھی امیر نہیں بنوں گا۔

جس دل میں خدا کا خوف نہ ہو وہ خدائی کیفیات کو سمجھ نہیں سکتا غزوہ تبوک نہایت مشکل حالات میں ہوا۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے کہا کہ وہ اللہ کے راستہ میں نفقه دیں۔ لوگوں نے اپنی اپنی وسعت کے مطابق دینا شروع کیا۔ سب سے زیادہ صدقہ کرنے والوں میں سے ایک عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تھے۔ انھوں نے دو سو اوقیہ دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: صل ترکت لاہلک شیئا (کیا اپنے بچوں کے لئے کچھ چھوڑا) انھوں نے کہا ہاں۔ آپ نے پوچھا کیا چھوڑا۔ کہا : جو میں نے صدقہ میں دیا ہے اس سے اچھا اور بہتر۔ آپ نے پوچھا کتنا۔ عبدالرحمن بن عوف نے جواب دیا : ما وعد الله ورسوله من الرزق والخير (وہ رزق اور خیر جس کا اللہ اور رسول نے وعدہ کیا ہے) ابو عقیل انصاری رضی اللہ عنہ ایک صاع کھجور لے آئے۔ انھوں نے کہا۔ آج ساری رات میں نے ایک یہودی کے یہاں پانی کھینچ کر دو صاع کھجور حاصل کی۔ ایک صاع (ساڑھے تین سیر) میں نے اپنے گھر والوں کو دی اور ایک صاع یہاں لایا ہوں: واللہ ما كان عندي شئی غیرہ وہو یعیتن وہو یحیی وہ عذر کر رہے تھے اور شرمندہ تھے۔ انھوں نے کہا خدا کی قسم اس کے سوا میرے پاس اور کچھ نہیں۔ دوسری طرف مدینہ کے منافقین کا حال یہ تھا کہ جب کوئی مسلمان زیادہ صدقہ دیتا تو کہتے کہ یہ ریا کار (مرائی) ہے اور دوسری قسم کے لوگوں کی بابت کہتے: هذا افقر الى صاعه من غيره شخص اپنے اس ایک صاع کا خود زیادہ محتاج تھا) کتر اعمال

ایک گم نام آدمی کا اجر کبھی بڑے آدمیوں سے زیادہ ہوتا ہے ابن عساکر نے ارطاۃ بن منذر سے نقل کیا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ایک روز اپنے پاس بیٹھنے والوں سے کہا: ای الناس اعظم اجرا (لوگوں میں کس آدمی کا اجر زیادہ ہے؟ کسی نے روزہ دار اور نمازی کا ذکر کیا۔ کسی نے کہا: امیر المومنین کا اجر زیادہ ہے۔ کسی نے اور کسی کا نام لیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں تم کو بتاؤں کہ جن لوگوں کا تم نے ذکر کیا ان سے زیادہ اور امیر المومنین سے بھی زیادہ اجر کس کا ہے۔ لوگوں نے کہا: ہاں۔ آپ نے فرمایا:

رو رجل بالشام آخذ بلجام فرسه يکلا من وراء وہ معمولی آدمی جو شام (مقام جہاد) میں اپنے گھوڑے کی بيضة المسلمين، لا يدرى، ا سبع بترسه لگام پکڑے ہوئے مسلمانوں کر لشکر کی حفاظت کر رہا ہے ام هامة تلدغه او عدو يغشاه، فذلك اسے کچھ خبر نہیں کہ کوئی درندہ اس کو پھاڑ ڈالے گا یا کوئی اعظم اجر امن ذكرتم ومن امير المومنين کیڑا اسے ڈس لے گا یا دشمن اس پر چھاپہ مار دے گا۔ (كنز العمال جلد ۲) شخص کا اجر ان لوگوں سے زیادہ ہے جن کا تم نے ذکر کیا اور امیر المومنین سے بھی۔

Printed page