ریا سے بچنے والا جواب
Al-Risala, May 1979, pp. 21–22
By Maulana Wahiduddin Khan
طبری نے حضرت عروہ کے واسطے سے نقل کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ ایلہ (فلسطین) آئے اور ان کے ساتھ مہاجرین اور انصار کی ایک جماعت تھی۔ آپ نے اسقف کو اپنا کرتہ دیا جو کھدر کے پیوندوں کا تھا۔ لمبے راستہ پر سواری پر بیٹھنے کی وجہ سے کرتا پیچھے کی طرف پھٹ گیا تھا۔ آپ نے اس کو اسقف کو دیا تا کہ وہ اس کو دھودے اور اس پر پیوند لگا اسقف قمیص کو لے گیا۔ اس کو درست کیا اور اس کے ساتھ ایک اور کرتا باریک کپڑے کا سی کے لے آیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو دیکھ کر پوچھا یہ کیا ہے۔ اسقف نے کہا: یہ تو آپ کی قمیص ہے۔ اس کو میں نے دھویا ہے اور اس میں پیوند لگایا یہ دوسرا میری طرف سے آپ کے لئے ہدیہ ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو دیکھا۔ ہاتھ سے چھوا۔ پھر اپنا کرتا پہن لیا اور دوسرا کرتا اسقف کو واپس کر دیا اور فرمایا :
هذ الانشفها للعرق (تاریخ طبری جلد ۴) دونوں میں سے یہ کرتا پسینہ جذب کرنے کے لئے زیادہ اچھا ہے سب کچھ کر کے بھی دنیا میں قیمت نہ چاہنا عبد الرحمن بن زید بن اسلم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ مکہ کے مسلمان ہجرت کر کے مدینہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے کہا: یہ مہاجرین تمھارے بھائی ہیں۔ وہ اپنے مال اور اولاد کو چھوڑ کر تمھارے پاس آئے ہیں۔ انصار نے کہا: ہمارے پاس کھجور کے باغ ہیں۔ ان میں آدھا مہاجرین کا، آدھا ہمارا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے علاوہ بھی تو ہو سکتا ہے۔ انصار نے کہا: اے خدا کے رسول ! وہ کیا ۔ آپ نے فرمایا: یہ مکہ کے لوگ کھیتی اور باغبانی نہیں جانتے تم ان کی طرف سے کام کرو اور پیداوار میں تقسیم کر لو۔ انصار نے کہا سمعنا واطعنا (ہم نے سنا اور ہم نے مان لیا) جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انصار جب فصل کے موقع پر کھجوریں توڑتے تو ہر انصاری یہ کرتا کہ کھجوروں کے دو حصے بناتا۔ ایک حصہ کم ہوتا
اور ایک حصہ زیادہ۔ کم والے حصہ کے ساتھ کھجور کی شاخیں رکھ دیتے ۔ پھر بڑا ڈھیر مہاجرین کو دے دیتے اور چھوٹا ڈھیر خود لے لیتے ۔ یہ سلسلہ فتح خیبر تک جاری رہا (کنز العمال جلد ۷) امام بخاری نے انس اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلایا کہ ان کو بحرین کی زمین دے دیں۔ انھوں نے کہا نہیں جب تک مہاجر بھائیوں کو بھی اتنی ہی زمین نہ ملے۔ آپ نے فرمایا :
اما لا فاصبرو احتی تلقونی فانہ سیصیبکم اثرۃ ایسا ممکن نہیں پھر تم صبر کرو یہاں تک کہ آخرت میں مجھ کیونکہ میرے بعد (حکومتی عہدوں میں) تمھارے اوپر دوشروں کو ترجیح دی جائے گی ۔