Al-Risala · May 1979

خدا کو شور کے ساتھ پکارنے کی ضرورت نہیں

Al-Risala, May 1979, p. 22

By Maulana Wahiduddin Khan

ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خیبر کے لئے روانہ ہوئے۔ ریگ ایک وادی کے قریب پہنچے تو انھوں نے بلند آواز سے تکبیر کہی : اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اربعوا علی انفسکم انکم لا تدعون اصم ولا غائبا انکم تدعون سمیعا قریبا (بو معکم ، بخاری) لوگو اپنے اوپر نرمی کرو۔ تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے۔ تم ایک ایسی ذات کو پکار رہے ہو جو سننے والی اور قریب ہے اور وہ تمھارے ساتھ ہے۔ آخرت کے حساب سے کانپنا ابن ابی شیبہ اور بیہقی نے ضحاک کے واسطے سے نقل کیا ہے کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک چڑیا کو درخت پر بیٹھے ہوئے دیکھا۔ آپ نے فرمایا : اے چڑیا ! تو کیسی خوش نصیب ہے۔ کاش میں بھی تیری طرح ہوتا۔ تو درخت پر بیٹھتی ہے اس کا پھل کھاتی ہے ، پھر اُڑ جاتی ہے۔ تیرے اوپر نہ کوئی حساب ہے اور نہ عذاب۔ خدا کی قسم مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ میں راستہ کے کنارے کا ایک درخت ہوتا۔ میرے پاس سے ایک اونٹ گزرتا، مجھے پکڑتا اور مجھ کو اپنے منہ میں داخل مجھے چباتا، مجھے نگل لیتا اور پھر مینگنی کر کے باہر نکال دیتا۔

Printed page