Al-Risala · May 1979

اپنے عمل کو بے قیمت سمجھنا

Al-Risala, May 1979, pp. 22–23

By Maulana Wahiduddin Khan

ابن عساکر نے عبداللہ بن عمر سے روایت کیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ ابو موسی اشعری سے ملے۔ فرمایا : اے ابو موسیٰ ! کیا تم کو یہ پسند ہے کہ تم نے جو عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہ کر کئے، وہی تمھارے لئے ہوں، اور تم اپنے عمل سے برابر سرا بر چھوٹ جاؤ۔ خیر سر سے اور شر خیر سے برابر ہو جائے ، نہ تمھارے لئے کوئی ثواب ہو نہ عذاب، ابو موسیٰ اشعری رضی نے کہا : نہیں اے امیر المومنین ! خدا کی قسم میں بصرہ آیا اور ظلم کرنا ان کے اندر عام تھا۔ میں نے ان کو قرآن اور سنت کی تعلیم دی۔ ان کے ساتھ اللہ کی راہ میں غزوہ کیا : (وانی لارجوا باذن اللہ فضلہ میں ان اعمال کے ذریعہ اللہ کے فضل کی امید رکھتا ہوں) عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا :

لیکن مجھے یہ پسند ہے کہ میں اپنے عمل سے اس طرح نکل جاؤں لیکن وددت ان خرجت من عملی مع کہ خیر شر سے اور شر خیر سے برابر ہو جائے۔ میرے اوپر نہ کوئی

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم المخلص گناہ ہو اور نہ کوئی ثواب۔ میرے لئے وہی حل رہ جائے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئے۔

Printed page