انصاف میں چھوٹے اور بڑے برابر ہیں
Al-Risala, May 1979, pp. 24–25
By Maulana Wahiduddin Khan
ابن عبدالحکم نے انس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ مصر کا ایک باشندہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ اس نے کہا: اے امیر المؤمنین ! میں ظلم سے پناہ لینے کے لئے آپ کے پاس آیا ہوں۔ آپ نے فرمایا میں نے تجھ کو پناہ دی۔ مصری نے کہا : مصر کے عامل کے لڑکے محمد بن عمروبن العاص سے میرا دوڑ میں مقابلہ ہوا اور میں اس سے آگے نکل گیا۔ وہ خفا ہوگیا اور اس نے مجھے کوڑے سے مارنا شروع کیا اور کہتا جاتا تھا : خذ ھاو انا ابن الاكرمین (لے اور میں بڑے آدمیوں کا بیٹا ہوں) یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ نے عمروبن عاص رض کو لکھا کہ وہ اپنے لڑکے کو لے کر فوراً مدینہ پہنچیں۔ وہ آئے تو آپ نے مصری کو بلایا اور اس کو کوڑا دے کر کہا کہ اس کو مارو۔ اس نے مارنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے جاتے تھے : اضرب ابن الاکرمین (بڑے آدمیوں کے بیٹے کو مارو) جب وہ لڑکے کو خوب مار چکا تو آپ نے فرمایا کہ اب عمرو بن العاص کو مارو۔ کیوں کہ ان کے لڑکے نے اپنے باپ ہی کے بل پر تم کو مارا ہے (فواللہ ماض بك ابنه الا بفضل سلطانه) مصری نے کہا : مجھ کو جس نے مارا تھا، اس کو میں نے مار لیا۔ اب کسی اور کو مارنے کی مجھے حاجت نہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر تو ان کو مارتا تو ہم تیری راہ میں حائل نہ ہوتے الا یہ کہ تو خود ہی ان کو چھوڑ دے۔ پھر عمرو بن العاص رض سے مخاطب ہو کر فرمایا:
تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنا لیا حالاں کہ ان کی ماؤں نے ان کو آزاد جنا تھا یا عماد متقی تعبد تم الناس وقد ولدتهم امهاتهم احرارا امیر کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ اپنے ماتحتوں کے کام کو دیکھے اخر ج البيهقي وابن عساكر عن طاوس ان عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے کہا: بتاؤ اگر میں تمھارے عمر رضی الله قال : ار أيتم ان استعملت اوپر کسی بھلے آدمی کو عامل بناؤں جس کو میں بھلا عليكم خيرا ممن اعلم ثم امرته بالعدل، جانتا ہوں اور پھر اس کو حکم دوں کہ وہ انصاف اقضیت ماعلی - قالوا نعم - قال لا حتی انظر ، کرے تو کیا میں نے اس ذمہ داری کو ادا کر دیا جو میرے فی عمله اعمل بما امرته ام لا اوپر ہے۔ لوگوں نے کہا ہاں۔ حضرت عمر رض نے فرمایا: نہیں، جب تک میں اس کے کاموں کا جائزہ لے کر یہ بھی نہ دیکھ لوں کہ جس چیز کا میں نے اس کو حکم دیا تھا اس پر اس نے عمل کیا یا نہیں۔
حضرت ابراہیم سے روایت ہے کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ جب کسی کو عامل بناتے اور اس طرف سے کوئی وفد آپ کے پاس آتا تو اس سے پوچھتے: تمھارا امیر کیسا ہے۔ وہ غلاموں کی عیادت کرتا ہے یا نہیں ۔ جنازہ کے پیچھے چلتا ہے اس کے دروازہ پر جو لوگ آتے ہیں ان کے ساتھ اس کا رویہ کیسا ہے۔ وہ نرم ہے یا نہیں۔ اگر لوگ کہتے کہ اس کا دروازہ نرم ہے اور وہ غلاموں کی دیکھ بھال کرتا ہے تو کچھ نہ کہتے ۔ ورنہ اس سے امارت چھیننے کے لئے فداً آدمی روانہ کرتے ۔