Al-Risala · May 1979

ایک سفر

Al-Risala, May 1979, pp. 29–39

By Maulana Wahiduddin Khan

سیرت کے ایک جلسہ (۱۰ فروری ۱۹۷۹ء) میں شرکت کے لئے جھنجھنوں کا سفر ہوا۔ جھنجھنوں، راجستھان کا شہر ہے جس کو پانچ سو سال پہلے ایک مسلم نواب نے بسایا تھا۔ دور کی تاریخی عمارتیں اب بھی یہاں موجود ہیں۔ ہزار سے کچھ اوپر ہے جس میں تقریباً نصف مسلمان ہیں۔ اور غیر مسلم بستیاں بڑی حد تک الگ الگ واقع ہیں۔ فرقوں کے میان اچھے تعلقات ہیں۔ یہ علاقہ قائم خانی پٹھانوں کا علاقہ ہے جو فوجی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ کے زمانہ میں وہ اپنی بہادری کے لئے مشہور تھے، مگر موجودہ زمانہ میں عضلاتی طاقت کے بجائے علم نے اہمیت حاصل کرلی بدلتے ہوئے زمانہ کے لحاظ سے وہ اپنے آپ کو تیار نہ جو دستی طاقت ماضی کے حالات میں ان کو سرداری کے مقام پر پہنچاتی تھی، آج کے حالات میں وہ دستی طاقت صرف مزدوری کے میدان میں اپنا استعمال پارہی ہے تعلیم میں پیچھے ہونا زمانہ سے پیچھے ہونے کے ہم معنی بن گیا۔ ۱۰ فروری کو میں صبح سویرے جھنجھنوں پہنچا تو فجر کا وقت ہو چکا تھا۔ مسجد کے امام ایک اچھے قاری تھے انھوں نے نماز میں سورہ فتح پڑھی۔ جب انھوں نے پر شکوہ لہجہ میں پڑھا: انا فتحنا لك فتحا مبینا ۔ تو اچانک اس کو سن کر ایسا محسوس ہوا جیسے اس سورہ کے الفاظ میں خدا مجھ سے کلام کر رکھا ہے۔ پچھلے مہینہ سے کچھ لوگوں نے راقم الحروف کے خلاف حمیت جاہلیہ (فتح (۲۶) کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ کا دل پر بے حد اثر تھا۔ قاری صاحب کی زبان سے سورہ فتح کی آیتیں سن کر بے اختیار دل بھر آیا اور یہ دعا نکلی "خدایا! اپنے الفاظ کو تو اس عاجز بندے کے حق میں سچا کر دے" نماز کے بعد مجھے ایک صاحب کے مکان میں منتقل کر دیا دن کا بیشتر حصہ اسی مکان میں گزرا۔ کے لئے آتے رہے اور دینی موضوعات پر باتیں ہوتی رہیں۔ شام کو کچھ ساتھی مجھ کو درگاہ قمر الدین شاہ کی طرف لے گئے یہ درگاہ شہر کے کنارے ایک پہاڑی کے دامن میں ہے اور وسیع رقبہ میں پھیلی ہوئی ہے۔ درگاہ کی چھت پر ہم کھڑے ہوئے تو پورا شہر ایک نظر میں دکھائی دے رہا تھا۔ درختوں کے جھنڈ میں ڈوبے ہوئے مکانات بہت خوش منظر معلوم ہو رہے تھے۔ جب ہم مکان کے اندر تھے تو جھونپڑوں کی ظاہر ایک "مکان" کا نام تھا۔ مگر جب ہم اس سے باہر نکل آئے تو جھونپڑوں ایک وسیع حقیقت کی صورت میں نظر آنے لگا۔ آدمی اپنے خول میں ہو تو زندگی ایک سمٹی ہوئی چیز معلوم ہوتی ہے۔ لیکن اگر وہ اپنا خول توڑ کر باہر آ جائے تو زندگی ایک آفاقی حقیقت بن جاتی ہے۔

ایک صاحب نے یہاں کا ایک پرانا لطیفہ بتایا جو پوری ملت پر صادق آتا ہے۔ جاہل مسلمانوں میں یہ عقیدہ ہے کہ کوئی مر جائے تو ملا (قاضی) کو بلا کر میلاد پڑھوا دو۔ بعد مردہ پر دوزخ کی آگ حرام ہو جاتی ہے اور وہ جنت مکہ میں جب خدا کے دشمنوں نے خدا کے رسول کو گھر سے بے گھر کرنے کا منصوبہ بنایا تو خدا نے اپنے رسول کے لئے دوسرا زیادہ بڑا در دروازہ کھول دیا ، اس نے مدینہ کو اسلامی دعوت کا مرکز بنا دیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی خاص سنت وہ ایک حق کا راستہ رد کرنے کا مجرم ثابت کرکے دوسرے کو حق کا استقبال کرنے کا اعزاز دیتا ہے۔ کو ڈس کریڈٹ کر کے دوسرے کو کریڈٹ عطا فرماتا ہے۔ (۶ فروری ۱۹۷۹ء)

میں چلا جاتا ہے ۔ ایک کسان کھیتوں پر کام کر کے دو پہر کو اپنے اس کو بھوک لگ رہی تھی ۔ وہ خود نماز نہیں پڑھتا تھا مگر عورت نماز پڑھتی تھی ۔ وہ گھر ایسے وقت میں پہنچا کہ عورت ظہر کی نماز شروع کر چکی تھی ۔ کسان کو انتظار سخت معلوم ہوا ۔ اس نے کہا یہ کیا مصیبت ہے کہ مجھے کو بھوک لگ رہی ہے اور تمہاری نماز ختم نہیں ہوتی عورت نے فورا نماز کے بعد کھانا آرا قسم کی انتہائی بامعنی سرگرمیاں جاری ہوتی ہیں تب درخت کی شاخ پر ایک حسین پھول وجود میں آتا ہے۔ مگر جب جو ایک پھول سے کھرب ہا کھرب گنا زیادہ حسین ہے ، اس کے متعلق لوگوں نے سمجھ لیا ہے کہ وہ سطحی تماشوں سے حاصل ہو جائے گی ۔

نماز نہیں پڑھتے اور نماز کو برا بھی کہتے ہیں۔ آپ کو جنت کیسے آدمی نے اپنی مارواڑی زبان میں کہا کہ جنت ملنا کیا مشکل ہے :

" دیا کا جیڑے نے ایک روپیہ اور ٹھے جنت کے ماں " یعنی قاضی کو ایک روپیہ دو اور فوراً جنت کے اندر پہنچ جاؤ۔ پہلے میلا د پڑھنے والے ملایا قاضی کو صرف ایک روپیہ دینا کافی ہوتا تھا) موجودہ زمانہ میں ہر ایک نے اسی طرح سستے داموں اپنی جنت حاصل کر رکھی ہے۔ آج نہ کسی کو اپنے نفس کو دبانے کی ضرورت ہے نہ اپنے مصالح کو قربان کرنے کی ۔ کو اللہ کی مقرر کی ہوئی حدوں میں اپنے کو باندھنے کی ضرورت ہے نہ جہنم کے اندیشے سے پگھلنے کی۔ نہ کسی کو خوف خدا میں آنسو بہانے کی ضرورت ہے اور نہ حق نہ انصاف کے آگے اپنا سر جھکانے کی ۔ نہ خدا کے دین کو سمجھنے کے لئے کسی جدوجہد کی ضرورت ہے اور نہ اللہ کی راہ میں اپنا مال دینے کی۔ ایک کے لئے بس اتنا کافی ہے کہ "ایک روپیہ خرچ کر کے اپنی پسندیدہ "میلاد" کا تماشا کھائے اور اس کے بعد بے کھٹکے جنت میں پہنچ جائے ۔ "میلاد" کی صورتیں الگ الگ ہیں۔ مگر یہ بات سب میں مشترک ہے کہ ہر ایک کسی نہ کسی سستی کارروائی کو جنت کا محفوظ ٹکٹ سمجھے ہوئے ہرے بھرے درخت پر ایک پھول اگانے کے لئے کائناتی منصوبہ بندی درکار ہوتی ہے۔ زمین و آسمان میں بے شمار فروری کو ہم پلانی دیئے تھے۔ پلانی ایک معمولی گاؤں تھا جو مشہور صنعت کار برلا کا آبائی وطن ہے۔ نے اس کو جدید طرز پر ترقی دی اور اس کو ایک خوبصورت یہاں ترقی یافتہ فارم ہیں، جن کی فجاروں سے آب پاشی کی جاتی ہے۔ سائنسی تعلیم اور ٹیکنکل تربیت کے ادارے ہیں ۔ ایک بہت بڑا میوزیم ہے جہاں عملی نمونوں کے ذریعے دکھایا گیا ہے کہ قدرت کی طاقتوں کو استعمال کر کے آج کے انسان نے کس طرح ترقیات حاصل کیں ۔ پہیہ کی دریافت سے لے کر جہاز سازی اور خلائی راکٹ تک ہر چیز اس کے اندر نہایت سلیقہ کے ساتھ سجائی گئی ہے ۔ اس میوزیم کو ترتیب دینے والے ایک مسلمان تھے۔ نگرانی میں پورا کام ہوا ہے۔ کوئی شخص اپنی کمائی کو تعمیری سرگرمیوں میں کس طرح لگائے ، پلانی اس کا ایک اچھا نمونہ پیش میوزیم میں عجائب قدرت کے نمونے دیکھ کر نکلے تو ظہر کا وقت ہو گیا تھا۔ ایک پارک میں نماز ادا کی گئی ۔ نماز کے بعد کچھ وقت پارک میں گزرا۔ کھلی فضا، خالص ہوا، سنہری دھوپ، پھولوں کی قطاریں، درختوں کے مناظر، ان چیزوں نے دل کی عجیب کیفیت کر دی ۔ میں نے سوچا : وہ خدا جو کائنات کی سطح پر انتہائی معنویت کا اہتمام کر رہا ہے ، وہ انسانی سطح پر کیا بے معنی کارروائیوں پر راضی ہو گیا ہے ۔ آسمان کی وسعت ، سورج کی روشنی ، ہوا کے جھونکے ، پھولوں

کی نزاکت، درختوں کی سرسبزی، اپنے خالق کا تعارف ایک ایسی ہستی کی حیثیت سے کررہی ہیں جو ناقابل قیاس حد تک جمال و کمال کا مجموعہ ہے۔ تتلیوں کے حسین پروں سے لے کر پھولوں کی نازک پنکھڑیوں تک، زمین کے سبزہ سے لے کر آسمان کے جگمگاتے ہوئے ستاروں تک ہر چیز کہہ رہی ہے کہ جس نے اس کو بنایا ہے وہ بے حد لطیف ذوق کا مالک ہے مگر کیسی عجیب بات ہے کہ اسی خدا کی طرف ہم نے ایک ایسے مذہب کو منسوب کر رکھا ہے جس میں حسن اور لطافت جیسی کوئی چیز نہیں۔ وہ ، مذکورہ لطیفہ کے مطابق، بس یہ ہے کہ : ریا کا جھیڑے نے ایک روپیہ اور گھٹے جنت کے ماں : افكاً آلهة دون الله تريدون ۔ نما ظنكم برب العالمین (صافات) کیا جھوٹ موٹ کے معبودوں کو اللہ کے سوا چاہتے ہو۔ آخر کیا خیال کر رکھا ہے تم نے رب العالمین کے بارہ میں۔

کائنات کی سطح پر خدا ایک حسین اور لطیف ہستی کے روپ میں دکھائی دیتا ہے۔ وہ اعلیٰ ترین واقعات کو اعلیٰ ترین اہتمام کے ساتھ وجود میں لاتا ہے۔ مگر انسان کی سطح پر خدا جو کچھ چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ ہم کچھ بے روح رسموں کو دہرائیں اور وہ زندہ جنتوں کے دروازے ہمارے لئے ہم کچھ رٹے ہوئے الفاظ کی تکرار کریں اور وہ معنویت کے خزانے ہمیں بخش دے۔ ہم مناظروں اور لفظی موشگافیوں میں مشغول ہوں اور وہ ہم کور بانی عالم ہونے کا لقب عطا کرے۔ ہم توڑ پھوڑ کی سیاست چلائیں اور وہ ہم کو نظام صالح قائم کرنے کا کریڈٹ دے۔ ہم جلسوں اور تقریروں کے تماشے دکھائیں اور وہ ہمارے لئے عملی اور تعمیری جدوجہد کا سرٹیفکیٹ جاری کرے۔ ہم عوام کی جذبات کا استحصال کر کے لیڈری کا کاروبار کریں اور وہ اپنے یہاں ہمارا نام مخلص خادموں کی فہرست میں لکھ لے۔ نذرانے اور استقبال کی خاطر مدارے کریں اور وہ اپنے فرشتوں سے کہے کہ دیکھو یہ میرا محبوب بندہ ہے جس نے میری راہ میں اپنے قدموں کو گرد آلود کیا ۔ افردری کو جب کہ ہم پلانی کا سائنسی شہر دیکھ رہے تھے ، کیمپس کی ایک سڑک پر میری ملاقات ایک رکشہ والے یہ سترہ سال کا ایک نوجوان تھا۔ اس کے چہرے پر شرافت کے آثار دیکھ کر مجھے دل چسپی ہوئی۔ کیا ہے "، میں نے پوچھا " ممتاز خاں "، تھکے ہوئے عزم کے ساتھ اس نے جواب دیا۔

C/O Metro Tailors Pilani 33313 (Rajasthan)

اس نے بتایا کہ اس کے باپ کا انتقال ہو گیا۔ گھر کے حالات نے مجبور کر دیا کہ وہ رکشا چلا کر اپنی روزی حاصل کرے۔ اس کو تعلیم کا شوق ہے مگر تعلیم کی فیس ادا کرنے کے لئے وہ پیسہ کہاں سے لائے ۔ پلانی جہاں دوسرے نوجوان اپنا تعلیمی سفر کامیابی کے ساتھ طے کر رہے ہیں، وہ وہاں کی سڑکوں پر رکشا کھینچ کر اپنی زندگی کے دن پورے کر رہا ہے۔ وہ اونچا مینار یاد آیا جو میں نے پچھلے روز دیکھا تھا۔ بتایا گیا کہ اس منقش مینار پر اب تک ایک لاکھ روپے خرچ ہو چکے ہیں اور اس کی تعمیر کا کام ابھی جاری ہے۔ سوچا : اینٹ پتھر کے میناروں کو بلند کرنے کے لئے اتنا جوش دکھایا جا رہا ہے اور انسانی میناروں کو بلند کرنے سے کسی کو دل چسپی نہیں۔ اور یہ اس رسول کے امتی کر رہے ہیں جس نے فرمایا تھا : ما امرت بتشييد المساجد ( مجھے

مساجو کی عمارتیں بلند کرنے کا حکم نہیں دیا گیا ہے ) قوم کے اندر اس قسم کے کتنے نوجوان ہیں جو قدرت سے بہترین صلاحیت لے کر پیدا ہوتے ہیں۔ مگر حالات ان کی صلاحیتوں کو ابھرنے نہیں دیتے ۔ اور جو لوگ اس پوزیشن میں ہیں کہ ان کی مدد کر کے ان کو اٹھائیں ، ان کے پاس اپنی دولت کا مصرف نمائشٰی کاموں کے سوا اور کچھ نہیں ۔

1 فروری کی شام کو سیرت کے موضوع پر ایک تقریر اور مسجد میں دو دن نماز فجر کے بعد قرآن کا درس ہوا۔ 11 فروری کی شام کو میں دہلی واپس آگیا۔

ایک بار مجھے راجستھان کی ایک اور بستی میں جانے کا یہاں سڑک کے کنارے ایک مسجد تھی۔ کشادہ اور پختہ بنی ہوئی تھی۔ مگر عرصہ سے ویران پڑی ہوئی مسجد کے اندرونی حصہ میں ابابیلوں کا قبضہ تھا اور صحن کا یہ حال تھا کہ جگہ جگہ بے ترتیب مٹی کے ڈھیر پڑے ہوئے ہمارے ساتھیوں نے بستی والوں کو کہہ سن کر تیار کیا کہ مسجد کو آباد کریں اور وہاں ایک مکتب شروع کریں۔ نوجوان کو تیار کیا گیا کہ وہ امام اور مدرس کی حیثیت سے اس مسجد میں قیام کریں اور اس طرح بستی کی اصلاح کا کام

مسجد کا حال آپ دیکھ رہے ہیں ، نوجوان نے کہا " یہ تو کوڑا خانہ ہو رہی ہے۔ یہاں بھلا کون سا کام کیا جا سکتا میں نے کہا کہ آپ یہ نہ دیکھئے کہ اس وقت مسجد کا نقشہ بلکہ یہ دیکھئے کہ مستقبل میں آپ اس کو کیا بنا سکتے مسجد کی یہ حالت آپ کو کام کرنے کا زبردست موقع دے آپ یہ کیجئے کہ مسجد کی صفائی کیجئے ، اس کی سفیدی اس کے صحن کو درست کر کے یہاں درخت اور پھول یہ گویا بستی والوں کے سامنے آپ کا عملی تعارف ہوگا اس طرح آپ ان کو بتائیں گے کہ آپ وہ شخص ہیں جو کوڑا خانہ کو گلزار بناتے ہیں۔ وہ بستی جو آج آپ کا استقبال کوڑا خانہ کے ساتھ کر رہی ہے، وہ آپ کو اپنے محبوب کی حیثیت سے قبول کرے گی۔ اس کے بعد میں اور میرے تمام ساتھی مسجد کی صفائی میں لگ گئے۔ چند گھنٹے میں مسجد صاف ستھری مسجد اور مدرسہ کے لوگ عام طور پر چندے اور نذرانے کے طریقوں سے واقف ہیں۔ وہ خدا کی زمین کو گل د گلزار بنا کر اس سے خدا کی نعمتوں کی فصل کاٹنا نہیں جانتے۔ ہر مسجد اور ہر مدرسہ میں یہ موقع ہے کہ اس کی زمین کو صاف ستھرا کیا جائے ۔ وہاں کیاریاں بنائی جائیں ۔ درخت اور سبزیاں اور پھول بوئے جائیں ۔ اس میں بیک وقت کئی فائدے ہیں ۔ یہ ایک صحت بخش مشغلہ ہے۔ سے کم از کم جزئی طور پر معاش حاصل کی جا سکتی ہے۔ کے رزق کو خود اللہ سے مانگنا ہے۔

کوئی سننے والا ہے جوسنے ؟

دفتر کے صحن میں دوڑنے کی آواز نے مجھے چونکادیا، دیکھا تو ہاکر ہاتھ میں اخبار لئے بھاگا چلا آرہا ہے۔ یہ اس کا روزانہ کا معمول ہے۔ صبح کا اخبار اول ترین وقت میں تمام خریداروں کے پاس پہنچانے کا اس کو اتنا خیال ہے کہ وہ دوڑتا ہوا چلتا ہے۔ اور اگر اخبار لینے کے بعد اس سے کوئی سوال کیا جائے تو وہ ٹھہر کر اس کا جواب نہیں دے گا بلکہ واپس بھاگتے ہوئے کہتا چلا جائے گا۔ وہ دوڑ رہا ہے تاکہ وہ بھاگتے ہوئے وقت کو پکڑ لے، تاکہ وہ وقت کے پیچھے نہ رہ جائے۔ یہ دنیا کے لئے انسان کی دوڑ دھوپ کی ایک مثال ہے جس کو آپ اپنے قریب ترین دیکھ سکتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں اگر آپ کا حال یہ ہو کہ آپ صبح کی چائے“ میں طویل وقت صرف کرنے کے بعد اپنے ساتھیوں کے درمیان بے تکلف باتیں کرتے ہوئے نہایت اطمینان کے ساتھ اخبار کی آمد کا انتظار کر رہے ہوں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ آخرت کے اقرار میں اتنے سنجیدہ بھی نہیں ہیں جتنا وہ شخص اپنے پیشے میں سنجیدہ ہے جس کا آپ انتظار کر رہے ہیں۔ آپ مسلمان ہیں، آپ اسلام کے داعی ہیں، لیکن اگر صورت حال یہ ہو تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ کا مسلمان ہونا آپ کی حقیقی زندگی سے کوئی تعلق نہیں آپ کی اسلامی دعوت محض اس سے ایک روایتی وابستگی کا نتیجہ ہے یا زیادہ سے زیادہ ایک ذہنی موضوع ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو آپ آخرت کے لئے اس سے زیادہ بیتاب ہوتے جتنا ایک دنیا پرست دنیوی فائدوں کے لئے بے تاب آخرت کی طلب میں آپ اس سے زیادہ تیز دوڑنے کی کوشش کرتے جتنا کوئی شخص اپنی ملازمت اور کاروبار کے لئے دوڑتا ہے، اپنے وقت اور اپنی صلاحیتوں کے استعمال میں آپ اس سے زیادہ مستعد ہوتے جتنا کہ ایک اخبار بیچنے والا اپنے کام میں نظر آتا ہے۔

اسلام آدمی کو زندگی کی سب سے بڑی کامیابی کے لئے بلاتا ہے۔ جس کے دل میں یہ بات اتر گئی ہو، کیسے ممکن ہے کہ وہ شخص غیر متعلق کام میں یا کمتر درجے کے مقاصد میں اپنا وقت ضائع کرے ، اسلام ہم کو موجودہ زندگی کی غفلتوں کے بدلے بے پناہ عذاب سے ڈراتا ہے۔ جو شخص فی الواقع اس خبر پر ایمان لایا ہو کیسے ممکن ہے کہ آپ اس کو بے فکری کے ساتھ قہقہہ لگاتا ہوا پائیں۔ اسلام کہتا ہے کہ تمھارے اوپر ایک عظیم خدا ہے جو ہر وقت تمھیں دیکھ رہا ہے۔ جو شخص اس حقیقت کو مانتا کیسے ممکن ہے کہ وہ ایک لمحے کے لئے بھی ایسے مشاغل میں مصروف ہونا پسند کرے جس کی خدائے ذوالجلال کے نزدیک کوئی قیمت نہ ہو، اسلام کہتا ہے کہ تمھاری زندگی بالکل غیر یقینی ہے، کسی بھی وقت موت کے فرشتے تمھاری گرفتاری کے لئے پہنچ سکتے ہیں۔ جو شخص حقیقی معنوں میں اس انتہائی نازک صورت حال کا احساس رکھتا ہو، کیسے ممکن ہے کہ وہ روزانہ اپنے اوقات کا ایک حصہ ایسے مشاغل میں صرف کرتا رہے جس کا طلب آخرت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جو شخص خدا سے ڈرتا ہو اس کے لئے ممکن نہیں ہے کہ ایک کام کو مہینوں اور سالوں کرتا رہے اور اس کو احساس نہ ہو کہ وہ ایک غلطی کو دہرا رہا ہے ۔ کیا یہی وہ تصویریں ہیں جو خدا اور آخرت پر ایمان لانے کے بعد بنتی ہیں ۔ یہ فقرہ اکثر ایک درد ناک آہ کے ساتھ میری زبان سے اس وقت نکل جاتا ہے جب میں اپنے گرد و پیش کے لوگوں کو دیکھتا ہوں۔ انسان کے لئے اس کے معاشی مفادات

اُخروی تقاضوں سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ خدا کی مرضی کے لئے سرگرم ہونے سے زیادہ اس کو یہ بات محبوب ہے کہ وہ اپنے ذوق کی تسکین اور اپنی عادتوں کی تکمیل میں لگا رہے ۔ وہ اپنی زندگی کے مقررہ نقشہ کو نہیں بدل سکتا، خواہ اس کی وجہ سے اس کی عبادتیں ناقص ہو جائیں، خواہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو ٹھیک ٹھیک انجام نہ دے سکے، خواہ اس کو بالآخر اپنی بے حسی اور ناکردگی کو چھپانے کے لئے جھوٹے عذرات کا سہارا لینا پڑے۔

یہ شکایت مجھے صرف ان لوگوں سے نہیں ہے جو ملحدانہ ماحول میں پرورش پا کر نکلے ہیں۔ وہ لوگ جو ”دیندار“ کہے جاتے ہیں، جن کی طرف اسلامی مسائل معلوم کرنے کے لئے رجوع کیا جاتا ہے، ان کا حال بھی اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے چند دن پہلے میں ایک راستے سے گزر رہا تھا کہ ایک پر جوش آواز میرے کان میں آئی۔ ’’ہر آدمی کی زبردست خواہش ہوتی ہے کہ اپنی اولاد کو پھلتا پھولتا دیکھے اس سے دل کو بڑی تسکین ہوتی ہے‘‘ دیکھا تو ایک بزرگ ایک دکان میں بیٹھے تقریر کر رہے تھے۔ چہرے پر داڑھی ان کے دین دار ہونے کی علامت تھی اور زبان اور وضع قطع بتا رہی تھی کہ یقیناً کوئی عالم ہوں گے۔ میں نہیں کہتا کہ یہ کوئی نا جائز خواہش ہے۔ مگر جب میں دیکھتا ہوں کہ مسلمانوں کے اندر یہ تمنا تو بہت زیادہ ہے کہ وہ اپنی اولاد کو پھلتا پھولتا دیکھیں مگر اسلام کو پھلتا پھولتا دیکھنے کی تڑپ ان میں باقی نہیں ہے، تو یہ جائز خواہش بھی مجھے ایک جرم معلوم ہونے لگتی ہے۔ ایک بزرگ کو میں نے ایک مرتبہ دیکھا کہ وہ ایک نوجوان کو اس بات پر تنبیہ کر رہے تھے کہ وہ نماز کے بعد دعا کے لئے نہیں ٹھہرتا بلکہ سلام پھیرنے کے بعد فوراً اُٹھ کر چلا جاتا ہے۔ بے شک یہ نوجوان کی غلطی تھی۔ مگر میں جانتا ہوں کہ خود ان بزرگ کا یہ حال ہے کہ صبح کی اور دوپہر کی نیند اکثر نہیں فجر اور ظہر کی نمازوں میں وقت پر مسجد پہنچنے نہیں دیتی۔ شام کی گفتگو میں وہ کبھی کبھی اتنا مصروف ہوتے ہیں کہ مسجد اس وقت پہنچتے ہیں جب امام ایک رکعت پوری کر چکا ہوتا ہے۔ آپ کو ایسے کتنے عالم دین ملیں گے جن کے سامنے اگر و تنک منکم امۃ يدعون إلى الخير کا ترجمہ ’’تم میں سے ایک گروہ ایسا ہونا چاہئے جو لوگوں کو خیر کی طرف بلائے‘‘ کر دیا جائے تو وہ اس پر دو گھنٹے بحث کریں گے کہ یہاں من ” تبعيضيه ‘‘ نہیں بلکہ "بیانیہ" ہے ۔ یعنی آیت کا صحیح ترجمہ یہ ہے کہ ’’ تم کو ایسا گروہ بننا چاہئے جو لوگوں کو خیر کی طرف بلائے‘‘۔ (نہ یہ کہ تم میں سے ۔ ) مگر ان حضرات کے ساتھ آپ مہینوں اور سالوں زندگی گزاریں، آپ یہ نہ دیکھیں گے کہ ان کے اندر فی الواقع دعوت الی الخیر کی کوئی واقعی تڑپ پائی وہ آیت میں عموم ثابت کرنے کے لئے قابلیت صرف کریں گے ۔ مگر اس عموم کو اپنی ذات تک پہنچانے کی ضرورت نہیں سمجھیں گے۔ صلوٰۃ وسطی کا ترجمہ اگر ’’بیچ کی نماز‘‘ یا ’’عصر کی نماز‘‘ کر دیجئے تو وہ آپ کے اوپر جہالت کا فتویٰ صادر کر دیں گے۔ وہ اصرار کریں گے کہ قرآن میں جو صلوٰۃ وسطی کا لفظ آیا ہے اس سے مراد ’’بہترین نماز‘‘ ہے۔ لفظوں میں اس سے مراد کوئی ایک نماز نہیں بلکہ ساری نمازیں ہیں۔ مگر ان کی اپنی نمازوں کو دیکھئے تو آپ یہ نہ پائیں گے کہ وہ اپنی نماز کو بہتر‘‘ بنانے کی جد و جہد کر رہے ہیں۔ دوسروں پر تبلیغ کرتے ہوئے وہ نہایت جوش کے ساتھ اس واقعہ کو بیان کریں گے کہ :

’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو لے کر غزوہ بدر کے لئے نکلے، دوسری طرف مشرکین کا لشکر تھا۔ آپ نے فرمایا‘‘

بڑھو ایک ایسی جنت کی طرف جس کی وسعت زمین و آسمان کے برابر ہے ۔ ایک انصاری عمیر بن حمام نے یہ سنا تو ان کی زبان سے بخ بخ کے الفاظ نکل گئے یعنی خوب ! آپ نے فرمایا ، تم نے بخ بخ کیوں کہا ۔ انھوں نے جواب دیا۔ خدا کی قسم صرف اس لئے کہ شاید میں بھی ان لوگوں میں سے ہوں ۔ آپ نے فرمایا ۔ ہاں تم انہیں میں سے ہو۔ یہ سن کر انھوں نے اپنے برتن میں سے کچھ کھجوریں نکالیں اور اسے کھانے لگے۔ پھر بولے ان کھجوروں کو کھانے کے لئے میں کب تک زندہ رہوں گا ۔ إِنَّهَا لَحَيُوةٌ طَوِيْلَةٌ یہ تو بڑی لمبی زندگی ہے۔ یہ کہہ کر انھوں نے بقیہ کھجوریں ایک طرف ڈال دیں اور جنگ میں کود پڑے اور لڑ کر شہید ہو گئے ( مسلم )

مگر خود ان مبلغین کا کیا حال ہے ۔ مذکورہ صحابی نے تو خدا تک پہنچنے کے شوق میں اپنی دافعی خوراک پھینک دی تھی مگر یہ حضرات اپنے ذوق اور اپنی عادتوں کو بھی خدا کی خاطر پھینکنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ بدر کے میدان میں اسلام اور کفر کا جو معرکہ ہوا تھا وہ آج ہر گلی اور ہر شرک پر پوری شدت کے ساتھ جاری ہے مگر ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ وقت کے اس غزوہ میں شرکت کے لئے اپنے موجودہ مفاد کو ترک کرنا تو در کنار ، مستقبل کی تمناؤں اور اپنی آنے والی پشتوں کے مفاد کو بھی ، خدا کے دین کے لئے خطرے میں ڈالنا وہ گوارا نہیں کر سکتے ۔

میں اکثر سوچتا ہوں کہ اسلام کے دعوے کے ساتھ اتنے بڑے تضاد کو لوگ کس طرح اپنے اندر جمع کئے ہوئے ہیں۔ ہر بار مجھے یہی جواب ملا کہ دراصل " "تاویل" کے فتنے نے لوگوں کو اس تضاد میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ہر آدمی اپنے طرزِ عمل کو صحیح ثابت کرنے کے لئے کچھ خوب صورت جوابات تراش رکھے ہیں اور ضرورت کے وقت وہ فوراً انھیں پیش کر دیتا ہے۔ ایک مسلمان ڈاکٹر کو میں نے ایک بار دعوت دین کی جد و جہد میں حصہ لینے کی ترغیب دلائی۔ انھوں نے فوراً اپنے پیشے کی اہمیت پر تقریر شروع کر دی۔ ان کے نزدیک ان کا پیشہ خدمت خلق کا ایک زبردست کام ہے جس کو وہ رات دن کی محنت سے انجام دے رہے ہیں۔ انھوں نے بعض سنگین مریضوں کا ذکر کیا جو ان کے زیر علاج تھے۔ انھوں نے کہا ” بتائیے میں انھیں چھوڑ کر کیسے کہیں جا سکتا ہوں۔ میرا ایسا اقدام انسانیت دوستی ہوگی یا انسانیت دشمنی “ ، بظاہر یہ بہت معقول لیکن اگر میں آپ کو یاد دلاؤں کہ اکثر ڈاکٹروں کی ” انسانیت دوستی “ ہمیشہ ان مریضوں کے ساتھ مخصوص ہوتی ہے جو اس کے زیر علاج ہوں اور ان میں بھی سب سے زیادہ اس کی توجہ کے مستحق وہ مریض ہوتے ہیں جو زیادہ (Paying) ہوں تو آپ سمجھ جائیں گے کہ اس خدمت خلق کی حقیقت کیا ہے ۔

اسی طرح ہر شخص کے پاس اپنے طرز عمل کو صحیح ثابت کرنے کے لئے ایک جواب موجود ہے۔ کوئی لوگوں کی ناکردگی کو اس بات کے لئے کافی سمجھے ہوئے ہے کہ وہ خود بھی کوئی کام نہ کرے، کوئی دوسروں کے غلط خیالات کو اپنے لئے رکاوٹ سمجھتا ہے کوئی دقتوں اور پابندیوں کی ایک فہرست لئے بیٹھا ہے ، کسی کو ایک ایسا فقہی اور قانونی پیمانہ مل گیا ہے جس سے ناپنے میں اس کا جامہ بالکل درست اترتا ہے ، کسی نے احادیث کے ذخیرے میں سے اپنے مناسب حال چند موزوں حدیثوں کو چھانٹ لیا ہے جو اس کے طرز عمل کو صحیح ترین ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں۔ اسی طرح ہر شخص کے پاس اپنے غیر اسلامی رویے کی ایک اسلامی توجیہہ اور اپنی آخرت فراموش زندگی کی ایک خالص دینی تاویل موجود ہے۔ اور اگر آپ ان تاویلات کی حقیقت کھول دیں تو موجودہ

دور میں شیطان نے چند ایسے الفاظ موہیا کردئے ہیں جن کے ذریعہ کسی بھی صحیح ترین تنقید کو نہایت آسانی سے رد کیا جاسکتا ہے ـــــــــ "یہ شدت پسندی ہے۔ " یہ تمھارا انتہاپسندانہ زوی ہے۔ " "تم ایک رُخنے انداز میں سوچتے ہو۔ " "تم اعتدال کے راستے سے ہٹ گئے ہو" وغیرہ وغیرہ۔ ظاہر ہے کہ آپ کے پاس ان باتوں کا کوئی جواب نہیں ہوگا۔ کیوں کہ خدا کے رسول پہلے ہی اعلان فرما چکے ہیں کہ الدّینُ يُسْرُ !

مگر یاد رکھئے آج آپ ایک نام نہاد کو ان جوابات سے خاموش کر سکتے ہیں۔ مگر خدا کے یہاں اس قسم کے جوابات ہرگز کافی نہ ہوں گے۔ وہاں تو آپ کی پوری زندگی کا بخیہ ادھیڑ کر رکھ دیا جائے گا اور کہا جائے گا تم خود دیکھ لو کہ دنیا کی زندگی میں تم جن مشاغل میں مصروف تھے ان کے پیچھے کیا کیا محرکات کام کر رہے تھے۔

میرے ایک ساتھی نے ایک مرتبہ بہت عمدہ بات کہی ـــــــــ "آخرت میں خدا کا انعام اسی کو ملے گا جس نے دنیا میں خدا کے انعام کو پالیا ہو۔ " اس بات پر غور کیجئے تو اس میں نصیحت کے بہت سے پہلو چھپے ہوئے ہیں۔ آپ اپنے کو مسلمان کہتے ہیں، آپ دین حق کے علم بردار ہیں، یہ دراصل اس بات کا اعلان ہے کہ آپ خدا کی جنت کے امیدوار ہیں۔ ظاہر ہے کہ وہ انعام "جس کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا"، وہ محض دعوؤں اور خوش گمانیوں کے ذریعہ تو کسی کو نہیں مل سکتا۔ صرف اس کے لئے ہے جس نے دنیا میں اپنی آخرت طلبی کو نمایاں طور پر ثابت کر دیا ہو، جس نے اپنے مسلسل رویے سے یہ دکھا دیا ہو کہ دوسرے انسانوں کے مقابلے میں وہ اس کے پانے کا استحقاق رکھتا ہے۔ جب دوسرے لوگ دنیا کی لذتوں میں کھوئے ہوئے تھے تو وہ خدا کے انعام کے تصور میں اتنا محو ہوا کہ اسے دنیا کی لذتیں بھول گئیں۔ جب دوسرے لوگ اپنے ذوق کو تسکین دینے میں مصروف تھے تو وہ خدا کی رضا حاصل کرنے کے لئے تڑپ رہا تھا، جب دوسرے لوگ سوتے تھے تو وہ جاگتا تھا، جب دوسرے آرام کرتے تھے تو وہ تکلیف اٹھاتا تھا، جب دوسرے لوگ ہنسی اور تفریح میں دل بہلا رہے تھے تو وہ آنسو بہا رہا ہوتا تھا۔ مختصر یہ کہ جب دوسرے لوگ دنیا کی زندگی میں اپنے آپ کو گم کئے ہوئے تھے تو وہ آخرت کی زندگی کے لئے اپنا ایک ایک لمحہ صرف کر رہا تھا۔

جنت کا مستحق ہونا دوسرے لفظوں میں آخرت میں کسی کا ممتاز مقام حاصل کرنا ہے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ دنیا میں صرف وہی شخص کسی ممتاز مقام کو پاتا ہے جس نے اس کے لئے بے پناہ جدوجہد کی۔ ٹھیک اسی طرح آخرت کے درجات عالیہ بھی ہی لوگ پائیں گے جنھوں نے اپنے آپ کو اس کے لیے کھپا دیا ہو۔ اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ اپنی سطحی زندگی کے نتیجہ میں وہ آخرت کے انعامات کو حاصل کر لے گا تو یہ محض خوش فہمی ہے۔ ٹھیک ویسی ہی خوش فہمی جیسے کوئی شخص سمجھ لے کہ وہ بستر پر لیٹے لیٹے وہ مقام حاصل کر سکتا ہے جب کہ دنیا اسے " فاتح ایورسٹ" کے نام سے پکارے اور اس کو وہ اعزازات نصیب ہوں جو ملیریا اور زمین زنگ کو لمبی جدوجہد کے بعد حاصل ہوئے۔

۱۹۸۴ء میں انگلینڈ کے دیہات میں ایک لڑکا پیدا ہوا۔ پیدائش کے وقت وہ اتنا کمزور تھا کہ دائیوں نے اس کی زندگی کی طرف سے مایوسی ظاہر کی۔ اس کا کمزور سر حفاظت کی خاطر چمڑے کی پٹی سے لپیٹ دیا گیا۔ اس کے بعد جب وہ بڑا ہوکر ہائی اسکول پہنچا تو وہ اپنے ساتھیوں میں سب سے پیچھے تھا۔ مگر یہی کمزور لڑکا جب پچاسی سال کی عمر میں مرا تو وہ نیوٹن کے

پر عظمت نام سے مشہور ہو چکا تھا۔ نہ صرف انگلینڈ میں اس کو بلند ترین اعزازات حاصل ہوئے بلکہ ساری دنیا میں اپنی ذہنی عظمت کا اس نے ایسا سکہ بٹھایا کہ اس کے مرنے کے سو سال بعد جب دور بینی مطالعہ میں سائنس دانوں نے دیکھا کہ سیارہ یورے نس نیوٹن کے قانون تجاذب کے بتائے ہوئے راستے سے کچھ ہٹا ہوا ہے تو انھوں نے نیوٹن کے اصول کی غلطی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ یہاں کوئی اور سیارہ ہونا چاہئے جس کی کشش سے اس کی رفتار میں یہ فرق پیدا ہوا ہے۔

نیوٹن کو یہ عظمت کیوں کر حاصل ہوئی اس کا جواب خود اس کی زبان سے سنئے ۔ ایک مرتبہ اس کے کارناموں کی تعریف کی گئی تو اس نے کہا:

"I had no special sagacity ------- only the power of patient thought". یعنی میرے اندر کوئی خصوصی قابلیت نہیں ہے۔ مجھے جو کچھ ملا وہ صرف اس وجہ سے ملا کہ میں نے کائنات کو سمجھنے کے لئے انتھک جد و جہد سے کام لیا ہے۔ اپنی مشہور کتاب (Principia) کی تیاری کے دوران میں اٹھارہ مہینے تک اس کا یہ حال تھا کہ وہ گھنٹوں بے حس و حرکت پڑا سو چتا رہتا۔ اس کے بعد یکایک اپنی ڈسک پر جاکر کھڑا ہو جاتا اور گھنٹوں مسلسل اس کو اتنا بھی ہوش نہیں رہتا تھا کہ قریب کی کرسی کھینچ کر اس پر بیٹھ جائے۔ اس کے سکریٹری کی رپورٹ ہے کہ اس دوران میں بہت کم ایسا ہوا کہ وہ دو بجے سے پہلے بستر پر گیا ہو اور بعض اوقات تو پانچ اور چھ بج جاتے تھے ۔ کھانا بھی وہ اکثر بھول جاتا تھا۔ اس کی زندگی کی ضروریات بہت محدود تھیں ۔ ایک مرتبہ اس سے پوچھا گیا کہ تم سگریٹ کیوں نہیں پیتے، اس نے جواب دیا:

"Because I do not want to aquire any new necessities". یعنی میں سگریٹ اس لئے نہیں پیتا کہ اس کی وجہ سے میری ضروریات زندگی میں خواہ مخواہ ایک نئی ضرورت کا اضافہ ہو جائے گا۔ ولیم ہرشل (William Harschell) ایک جرمن سائنس داں گزرا ہے۔ اس نے فلکیات کے مطالعہ میں انسان کے علم کو بہت آگے بڑھایا۔ اس کا حال یہ تھا کہ معاشی تنگی کی وجہ سے اسکول کے بعد وہ اپنی تعلیم جاری نہ رکھ سکا اور ایک ملازمت کر لی۔ لیکن صحت کی خرابی کی وجہ سے انیس سال کی عمر میں یہ ملازمت بھی چھوڑنی پڑی۔ اس کے بعد اس نے اپنے خاندانی پیشے کو اختیار کیا اور وائلن بجانے لگا۔ اسی دوران میں اس کو فلکیات کے موضوع پر ایک کتاب ملی۔ اس کتاب کو اس نے بہت غور سے پڑھا۔ اس کے بعد ہر شل کو ستاروں کے مطالعہ سے گہری دل چسپی پیدا ہو گئی۔ اس کا یہ شوق اتنا بڑھا کہ کبھی کبھی رات کے وقت جب اس کی ٹولی ساز و نغمہ میں مصروف ہوتی تھی وہ مجلس چھوڑ کر تھوڑی دیر کے لئے باہر نکل جاتا تا کہ آسمان پر جگمگاتے ہوئے ستاروں کی ایک جھلک دیکھ آئے۔

ستاروں کے مطالعہ کے لئے دوربین ضروری تھی۔ مگر یہ اٹھارھویں صدی کا زمانہ تھا جب کہ دوربین ابھی جلد ہی ایجاد ہوئی تھی اور نہ صرف یہ کہ ناقص تھی بلکہ اس کا ملنا بھی آسان نہیں تھا۔ ہرشل نے خود اپنی دوربین بنانے کا فیصلہ کیا۔ متعلق فنی واقفیت حاصل کرنے کے لئے اس نے ریاضی پڑھنی شروع کی اور لمبی محنت کے بعد خود اپنے ہاتھ سے دوربین

تیار کی ۔ ظاہر ہے کہ اس کی پہلی دوربین ابھی بہت ناقص تھی۔ مگر وہ ہمت نہ ہارا۔ دوربین کو ترقی دینے اور اس کو بہتر بنانے میں اس کا انہماک اتنا بڑھا کہ اس کا پورا گھر دوربین کا ایک کارخانہ بن گیا۔ اس زمانے میں ہسٹل کی مشغولیت کا یہ حال تھا کہ وہ کھانے کے لئے بھی اپنی ورکشاپ سے نہیں نکلتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی بہن کو اکثر اس طرح اسے کھانے کے لئے آمادہ کرنا پڑتا کہ وہ اپنے کام میں لگا رہتا اور بہن اس کے پہلو میں کھڑی ہوئی اس کے منہ میں لقمہ ڈالتی جاتی۔ صاف راتوں میں جب کہ آسمان پر بادل نہیں ہوتے تھے، بہت کم ایسا ہوتا کہ ہرشل بستر کے اوپر نظر آئے۔ راتوں کا بہترین مصرف اس کے نزدیک یہ تھا کہ اس کو ستاروں کا مشاہدہ کرنے میں بسر کرے۔ اس کی انھی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ اس کو تاریخ میں وہ مقام حاصل ہوا جس کو ایک مصنف نے ان لفظوں میں بیان کیا ہے:

"...he had loped farther into space than any other eye had yet seen". یعنی اس نے کائنات میں اتنی دور تک دیکھا جتنا اس سے پہلے کسی آنکھ نے نہیں دیکھا تھا۔

نومبر ۱۹۵۱ء کی ایک تاریخ کو جب ایک یوروپین ڈاکٹر کے کمرے میں اس کا ملازم داخل ہوا تو ڈاکٹر اور اس کے دو ساتھی اپنی کرسیوں سے گر کر فرش پر اوندھے منہ بے ہوش پڑے ہوئے تھے۔ ملازم نے سمجھا کہ شاید ان لوگوں نے کوئی تیز قسم کی شراب پی لی ہے۔ اس نے ان کے کپڑے درست کئے اور خاموشی کے ساتھ باہر چلا گیا۔ مگر حقیقت کچھ اور تھی۔ در اصل جیمز سمپسن اور اس کے دو اسسٹنٹ تھے جنہوں نے پہلی بار کلورو فارم کے اثرات کا تجربہ کرنے کے لئے اس کو سانس کے ذریعہ اپنے اندر داخل کر لیا تھا۔ سمپسن ایک دیہاتی نانبائی کے سات لڑکوں میں سب سے چھوٹا تھا۔ کی عمر میں اس نے دیہات کے اسکول میں تعلیم شروع کی اور اس میں اتنی دلچسپی اور توجہ دکھائی کہ اس کا باپ اور چھ بھائی اس پر راضی ہو گئے کہ نہایت ضروری مصارف پر قناعت کر کے اس کو اعلیٰ تعلیم کے لئے شہر بھیجیں۔ اس طرح وہ ایڈنبرا اسی نانبائی کے لڑکے کے سراس بات کا سہرا ہے کہ اس نے آپریشن کے موقع پر کلورو فارم کا استعمال دریافت کر کے انسانیت کو ایک طویل اور جانکاہ مصیبت سے نجات دی ۔ اس انسان کو وہ چیز دی جس کو ڈاکٹر جان براؤن نے ان لفظوں میں ادا کیا ہے :

"...one of God's best gifts to his suffering children."

یعنی دکھی انسانوں کے نام خدا کے تحفوں میں سے ایک بہترین تحفہ ۔ مگر سمپسن یہ تاریخی کام صرف اس وقت کر سکا جبکہ اس کی تحقیق میں اس نے اپنے آپ کو پوری طرح لگا دیا اور اس کے لئے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالنے سے بھی گریز نہیں کیا۔ یہ ان لوگوں میں سے صرف چند کا ذکر ہے جنہوں نے دنیا میں عزت کا مقام حاصل کیا۔ آپ اس طرح کے بہت سے واقعات کو کتابوں میں پڑھ سکتے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جنت دنیوی میں صرف وہ لوگ داخل ہو سکے جنہوں نے بے پناہ مشقت اٹھائی ۔ جنہوں نے اپنی ساری صلاحیتوں کو اس کے پیچھے جھونک دیا۔ دنیا اپنی پشت پر چلنے والے کروڑوں اور اربوں انسانوں میں سے صرف ان تھوڑے سے لوگوں کو عزت اور سربلندی کا مقام دینے کے لئے منتخب کرتی ہے جو اس کے لئے اپنے آپ کو فنا کر دیتے ہیں، جو اپنا سب کچھ اس کے حوالے کر دیتے ہیں پھر خدا کی جنت جو اس سے کہیں زیادہ قیمتی ہے، کس قدر

خام خیالی ہوگی اگر کوئی شخص سمجھے کہ محض سطحی قسم کے عمل کے ذریعہ وہ اسے حاصل کرلے گا :

اَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُمْ مَّثَلُ (اےمسلمانو! ) کیا تم نے سمجھ رکھا ہے کہ تمہیں جنت میں داخلہ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُم مَّسَّتْهُمُ الْبَاْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ مل جائے گا۔ حالانکہ ابھی تم پر وہ حالات گزرے ہی نہیں وَزُلْزِلُوا حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا جو اس سے پہلے کے لوگوں پر گزر چکے ہیں۔ ان کو تکلیفیں اور مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللَّهِ اَلَا اِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ 0 مصیبتیں لاحق ہوئیں ، وہ ہلا مارے گئے ، یہاں تک کہ رسول اور اس کے ساتھی اہل ایمان پکار اٹھے کہ خدا کی مدد کب سن لو ( ایسے لوگوں کے لئے) خدا کی مدد قریب ہے۔

آخر میں آپ کو میں ایک واقعہ سنانا چاہتا ہوں جو پچھلے دس سال سے میری یاد داشت کا بہترین حصہ رہا ہے یہ ایک انگریز مسٹر آرنلڈ کا واقعہ ہے جو علی گڑھ میں فلسفہ کے پروفیسر تھے۔ ۱۸۹۲ء میں جب مولاناشبلی نے قسطنطنیہ کا سفر کیا تو جہاز میں پورٹ سعید تک مسٹر آرنلڈ کا بھی ساتھ رہا۔ مولاناشبلی لکھتے ہیں :

ارمٹی کی صبح کو میں سوتے سے اٹھا تو ایک ہم سفر نے کہا کہ جہاز کا انجن ٹوٹ گیا ۔ میں نے دیکھا تو واقعی کپتان اور جہاز کے ملازم گھبرائے پھرتے تھے اور اس کی درستی کی تدبیریں کر رہے تھے۔ انجن بالکل بے کار ہو گیا تھا اور جہاز نہایت آہستہ آہستہ ہوا کے سہارے چل رہا تھا۔ میں سخت گھبرایا اور نہایت ناگوار خیالات دل میں آنے لگے ۔ اضطراب میں اور کیا کر سکتا تھا ۔ دوڑا ہوا مسٹر آرنلڈ کے پاس گیا ۔ وہ اس وقت نہایت اطمینان کے ساتھ کتاب کا مطالعہ کر رہے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ کو خبر بھی ہے ۔ بولے کہ ہاں انجن ٹوٹ گیا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ کو کچھ اضطراب بھلا یہ کتاب دیکھنے کا موقع ہے۔ فرمایا کہ جہاز کو اگر بر بادی ہونا ہے تو یہ تھوڑا سا دقت اور بھی قدر کے قابل ہے اور ایسے قابلِ قدر وقت کو رائیگاں کرنا بالکل بے عقلی ہے"۔ سفر نامہ روم و مصر و شام صفحہ ۱۳ سمندر کی لہروں کے درمیان جہاز کی یہ غیر یقینی حالت آٹھ گھنٹے قائم رہی ۔ آٹھ گھنٹے کا یہ وقت مسٹر آرنلڈ کے لئے جو حیثیت رکھتا تھا مومن کے لئے وہی حیثیت اس کی پوری زندگی کی ہے ، آپ ہر وقت اس خطرے میں مبتلا ہیں کہ اچانک آپ کی موت آجائے۔ ہر لمحہ آپ کے لئے زندگی کا آخری لمحہ ہے۔ اگر آدمی کو اس بات کا دائمی احساس ہو جائے تو وہ اسی طرح ہمہ تن مشغول نظر آئے گا جیسے امتحان میں بیٹھا ہوا وہ طالب علم جس کا دقت ختم ہورہا ہو اور ابھی اسے کئی سوال کرنے لیکن اگر آپ غفلت کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ اگر آپ اپنے وقت کی اہمیت نہیں سمجھتے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ کو اس نازک صورت حال کا احساس نہیں ہے جس میں آپ کی زندگی کا جہاز گھرا ہوا ہے۔ آپ موت سے نہیں ڈرتے آپ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ سوچئے کہ آپ کی زندگی آپ کے بارے میں کس چیز کا ثبوت دے رہی ہے ۔ اسلامک یوتھ آرگنائزیشن (رام پور) کے اجتماع میں کی گئی تقریر ۔ ۱۳ جولائی ۱۹۶۱

Printed page