اقامت دین کے بارے میں
Al-Risala, May 1979, pp. 40–47
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبر ۴۲ میں ارشاد ہوا ہے کہ جو دین اللہ دوسرے نبیوں کو دیا تھا وہی دین تم کو بھی دیا گیا ہے ۔ اس دین کو قائم رکھو، اس میں متفرق نہ ہو (شوریٰ) اس آیت کی تفسیر تمام مفسرین یہ کرتے ہیں کہ اس میں دین کے وہ اساسی احکام مراد ہیں جو تمام نبیوں کے یہاں یکساں طور پر پائے جاتے ہیں۔ اس میں شرائع اور منہاج مراد نہیں ہیں۔ کیوں کہ قرآن کی صراحت کے مطابق ان میں مختلف نبیوں کے درمیان فرق پایا جاتا ہے (مائدہ ۴۸) شرائع اور منہاج جب مختلف ہوں تو ان کی متحدہ پیروی ممکن نہیں، متحدہ تعلیمات ہی کی متحدہ پیروی کی اس لئے اس آیت میں حکم اقامت کا اطلاق اساسی تعلیمات پر ہوگا نہ کہ تفصیلی تعلیمات پر۔ کا منشا یہ ہے کہ تفصیلی احکام میں توسع اور حالات کی رعایت کا طریقہ اختیار کیا جائے اور مستقل زور اور تاکید صرف متفق علیہ باتوں پر دیا جائے۔ اس طرح ملت کے اندر حقیقی دینی فضا پیدا ہوگی۔ دین کے وہ ذیلی یا تفصیلی امور جن میں زمانہ اور حالات کے اعتبار سے فرق ہوتا رہتا ہے ، ان کو اگر مستقل تاکید کی بنیاد بنایا گیا تو ملت کے اندر تفریق وانتشار ظہور میں آئے گا اور دین کے نام پر ایک ایسی فضا پیدا ہوگی جو دین کے لئے قاتل کی حیثیت رکھتی ہے (تفصیل کے لئے : تعبیر کی غلطی ، الإسلام)
موجودہ زمانہ میں کچھ لوگوں نے اس آیت کی یہ تفسیر کی کہ اقامت دین کے حکم کا مطلب یہ ہے کہ سارے اسلامی قوانین کو بحیثیت ایک مکمل نظام کے جاری و نافذ کیا جائے۔ اب چوں کہ مکمل قانون کے نفاذ میں سب سے بڑی رکاوٹ حکومتی ادارہ تھا، اس تفسیر کے مطابق اقامت دین کا پہلا کام یہ قرار پایا کہ حکومت وقت سے تصادم کرکے اس سے اقتدار چھینا جائے تاکہ مکمل قانون کو نافذ کیا جاسکے مسلم اقلیت کے ملکوں میں اس قسم کے سیاسی جہاد کے مواقع نہیں تھے ، اس لئے یہاں یہ تفسیر تقریری اور تحریری مہم تک محدود رہی ۔ مسلم اکثریت کے ممالک جہاں مواقع کھلے ہوئے تھے، وہاں اس نے نے قائم شدہ مسلم حکومت کے خلاف براہ راست اقدام کی صورت اختیار کی۔ کے نتیجہ میں نہ صرف حرث و نسل کی ہلاکت اور باہمی فساد وجود میں آیا بلکہ اقامت دین کے نام پر یہ عظیم نقصان ہوا کہ ملت کے اندر دینی اتحاد کی وہ فضا بالکل برباد ہوگئی جو اقامت دین کے حکم کا مقصود اصلی تھا۔ اقامت دین کی تحریک کے یہ برعکس نتائج کافی تھے کہ اس کے علم بردار اپنے فکر پر نظر ثانی کریں۔ مگر انھوں نے یہ کیا کہ نئی نئی تفسیریں لکھ کر اپنے پیروؤں کے ذہن کو مزید پختہ کرنے کی کوشش کی ۔ یہاں ہم اس سلسلے میں ایک تفسیر میں شائع شدہ بحث کا جائزہ لینا چاہتے ہیں۔ مذکورہ مفسر قرآن سورہ شوریٰ کی تفسیر کے تحت لکھتے ہیں : «بعض لوگوں نے دیکھا کہ جس دین کو قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے وہ تمام انبیاء علیہم السلام کے درمیان مشترک ہے اور شریعتیں ان سب کی مختلف رہی ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے: لكل جعلنا منكم شرعة و منهاجا، اس لئے انھوں نے یہ رائے قائم کرلی کہ لامحالہ اس دین سے مراد شرعی احکام و ضوابط نہیں ہیں بلکہ
صرف توحید و آخرت اور کتاب و نبوت کا ماننا اور اللہ تعالی کی عبادت بجا لانا ہے۔ یا حد سے صدرس میں موٹے موٹے اخلاقی اصول شامل ہیں جو سب شریعتوں میں مشترک رہے ہیں۔ لیکن یہ بڑی سطحی راہ ہے جو محض سرسری نگاہ سے دین کی وحدت اور شرائع کے اختلاف کو دیکھ کر قائم کر لی گئی ہے اور یہ ایسی خطر ناک رائے ہے کہ اگر اس کی اصلاح نہ نہ کردی جائے تو آگے بڑھ کر بات دین و شریعت کی اس تفریق تک جا پہنچے گی جس میں مبتلا ہو کر سینٹ پال نے دین بلا مشرک کا نظریہ پیش کیا اور سیدنا مسیح علیہ السلام کی امت کو خراب کر دیا۔ اس لئے کہ جب شریعت دین سے الگ ایک چیز ہے اور حکم صرف دین کو قائم کرنے کا ہے نہ کہ شریعت کو ، تو لامحالہ مسلمان بھی عیسائیوں کی طرح شریعت کو غیر اہم اور اس کی اقامت کو غیر مقصود بالذات سمجھ کر نظر انداز کر دیں گے اور صرف ایمانیات اور موٹے موٹے اخلاقی اصولوں کو لے کر بیٹھ جائیں گے۔ اس طرح کے قیاسات سے دین کا مفہوم متعین کرنے کے بجائے آخر کیوں نہ ہم خود اللہ کی کتاب سے پوچھ لیں کہ جس دین کو قائم کرنے کا حکم یہاں دیا گیا ہے، آیا اس سے مراد صرف ایمانیات اور چند بڑے بڑے اخلاقی اصول ہی ہیں یا شرعی احکام بھی ۔ اس کے بعد مختلف آیتیں نقل کر کے دکھایا گیا ہے کہ قرآن میں دین کا لفظ ایمانیات کے علاوہ قوانین وا حکام کے لئے بھی آیا ہے۔ اس لئے لازما تمام احکام کو دین میں شمار ہونا چاہئے اور ان سب کو بروئے کار لانے کا نام اقامت دین ہونا چاہئے ) ۴۰ - ۴۸ مذکورہ بالا اقتباس میں " بعض کا لفظ معاملہ کی سنگینی کو گھٹا رہا ہے ۔ کیوں کہ یہ رائے صرف " بعض مفسرین کی نہیں ہے بلکہ بلا استثناء تمام قابل ذکر مفسرین کی ہے۔
مذکورہ رائے کو سطحی اور سرسری قرار دینے کے لئے کوئی دلیل نہیں۔ جب حکم کہے الفاظ یہ ہیں کہ " تمام نبیوں کے دین کی پیروی کرو، اس میں متفرق نہ ہو، تو لا محالہ قرآن کی اس خاص آیت میں دین کا مشترک حصہ مراد لینا ہوگا نہ کہ متفرق حصہ۔
اقیموا الصلوۃ کی آیت میں کوئی شخص اقیموا الزکوۃ کو شامل نہ سمجھے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ حکم زکوۃ کا انکار کر رہا ہے ۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ زکوۃ کا حکم دوسری آیت میں ہے نہ کہ اقیموا الصلوۃ کی آیت میں ۔ اسی طرح اقیموا الدین میں شرائع کو مراد نہ لینے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ شرائع سرے سے مطلوب نہیں ہیں ۔ مطلب صرف یہ ہے کہ وہ اس آیت میں شامل نہیں ہیں۔ ان کا حکم دوسری آیتوں سے نکلتا ہے اور وہاں جو الفاظ ہیں انہیں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس حکم کی نوعیت کیا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص ان الارض لله (اعراف ۱۲۸) سے اجتماعی ملکیت کا اصول نکالے تو کہا جائے گا کہ اس آیت کا ملکیت کے مسئلہ سے کوئی تعلق ملکیت کے بارے میں بھی بلاشبہ اسلام کے احکام ہیں۔ مگر وہ دوسری آیتوں سے معلوم ہوتے ہیں نہ کہ ان الارض لله سے ۔
اس ضمن میں سینٹ پال کا حوالہ بالکل غیر متعلق ہے۔ سینٹ پالیت جس چیز کا نام ہے وہ یہ کہ کوئی شخص اپنے فعل (خواہ اعتقادی ہو یا عملی) سے نجات نہیں پاتا۔ بلکہ اس خاص عقیدہ کو ماننے سے نجات پاتا ہے کہ خدا کا بیٹا
مصلوب ہو کر انسان کے پیدائشی گناہوں کا کفارہ ہو گیا۔ بالفاظ دیگر، سینٹ پالیت یہ ہے کہ انسان کی نجات کا دار و مدار معروف معنوں میں نہ ایمانیات پر ہے اور نہ اعمال پر، بلکہ کفارہ کے مخصوص تصور کو مان لینے پر ہے۔ ہے کہ یہ باطل ایک علیحدہ مذہب ہے۔ اقيمو الدين کی مذکورہ تفسیر سے اس کو کوئی مشاہرت نہیں۔ یہ بات بھی صحیح نہیں کہ جب اقامت دین کے حکم سے مراد صرف اساسات دین کی اقامت ہے تو بقیہ احکام ضوابط کس لئے ہیں۔ قرآن سے ثابت ہے کہ شرعی احکام کی تکلیف با اعتبار ”وسع“ ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہوا کہ جس حکم کی تعمیل کسی شخص یا گروہ کے وسع میں نہ ہو اس کے لئے وہ حکم اس وقت تک عملاً موقوف رہے گا جب تک اس کے اندر اس کی قدرت نہ پیدا ہو جائے۔ اساسات دین وہ ہیں جن کی استطاعت ہر شخص کو ہر وقت رہتی ہے، اللہ سے خوف و محبت کا تعلق قائم کرنا اور بندوں کے ساتھ انصاف اور خیر خواہی کا معاملہ کرنا کس کے لئے ممکن نہیں۔ اس لئے اساسات دین کی اقامت ایک عام حکم ہے جس کا مکلف ہر شخص ہمیشہ رہتا ہے۔ اس کے برعکس احکام اجتماعی کے نفاذ کا معاملہ اقتدار کا طالب ہے۔ اس لئے اس کے نفاذ کو اقتدار کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے۔ جس کو جتنا اقتدار حاصل ہو، اس کے اعتبار سے اس پر وہ احکام مفروض ہوتے چلے جائیں گے جو اس کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں ۔ اسی سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں مدنی دور میں حکومتی قوانین جاری کئے اور ابو الانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کیوں تاجر ایسا نہیں کیا۔ اس فرق کے باوجود دونوں اللہ کی نظر میں مومن کامل تھے، کیونکہ کسی کے دین کا مکمل ہونا یہ ہے کہ وہ اپنے نفس کے اوپر دین کو مکمل طور پر غالب کر لے نہ کہ دوسروں کے اوپر مکمل داروغہ بننے کے لئے ایجی ٹیشن چلائے۔
یہ اندیشہ بھی صحیح نہیں کہ یہ اہل اسلام کو انفرادی عمل پر قانع بناتا ہے۔ اقيمو الدین کی آیت میں جس توحید پر قائم ہونے کا حکم ہے، دوسرے مقامات (یوسف ۱۰۸) پر یہ عمومی حکم بھی موجود ہے کہ اس پیغام توحید کو دوسرے بندگان خدا تک پہنچا ڈر تنفیذ قانون بلا شبہ ایک مشروط حکم ہے۔ مگر دعوت الی اللہ ایک عام حکم ہے جو بہ حال میں دعوت کا کام پوری امت کے لئے عظیم ترین اجتماعی نشانہ عطا کرتا ہے۔
ایک لفظ اکثر ایک سے زیادہ معنی رکھتا ہے۔ ”دین“ کا لفظ بھی قرآن میں لغوی اور مرادی اعتبار سے کئی معنوں میں آیا ہے۔ ان تمام معانی کی فہرست بنانا اور یہ کہنا کہ اقيمو الدین میں لفظ دین کے یہ تمام معانی مراد ہیں، ایک غیر علمی بات ہے۔ کیوں کہ لفظ کا مفہوم ہمیشہ سیاق کے اعتبار سے متعین ہوتا ہے نہ کہ مختلف مفہومات کی گنتی سے۔ طریق استدلال کی غلطی اس سے واضح ہے کہ قرآن کی پہلی سورہ میں دین کا لفظ ”جزاا“ کے معنی میں آیا ہے۔ مذکورہ طریق استدلال کو صحیح سمجھا جائے تو اقامت دین کے مفہوم میں یہ بھی شامل کرنا پڑے گا کہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ جد و جہد کر کے روز جز کو برپا کریں تا کہ لوگوں کو ان کے عمل کا بدلہ دیا جاسکے۔ پھر کیا اس انقلابی تعبیر کے دعوے دار اپنے دین کو مکمل کرنے کے لئے مالک یوم الدین بننے کو بھی اپنے پروگرام میں شامل کریں گے۔ اقيمو الدین کو اساسات دین کی اقامت کے معنی میں لینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ” موٹی موٹی تعلیمات کو
لے لیا اور باقی سب کو چھوڑ دیا"۔ انہیں کا مطلب صرف یہ ہے کہ اس متفق علیہ دین کو پکڑو جو اصلاً اور دائماً مطلوب فروعی اور اختلافی چیزوں کو مدار اقامت نہ بناؤ۔ اس سے مراد موٹی موٹی تعلیمات" نہیں بلکہ وہ اصل اور حقیقی تعلیمات ہیں جن پر آخرت کا نجات کا انحصار ہے۔ انبیاء کی غیر اختلافی تعلیمات کیا تھیں، اس کے متعلق ہم کو قیاس کرنے کی ضرورت نہیں۔ قرآن کے تتبع سے اس کو واضح طور پر معلوم کیا جاسکتا ہے۔ چند حوالے ملاحظہ ہوں: ۲۵ انبیاء 1- اللہ کے سوا کسی کو الہٰ نہ بنانا ۱۳ فصلت 2- صرف ایک اللہ کی عبادت کرنا ۲ نحل 3- اللہ سے ڈر کر زندگی گزارنا ۵۱ مومنون 4- رزق طیب کھانا اور عمل صالح کرنا ۵۲ حدید 5- ایک دوسرے کے ساتھ انصاف برتنا ۳۵ احقاف 6- دوسروں کی ڈالی ہوئی اذیت پر صبر کرنا ۸۱ آل عمران 7- دعوت حق کا ساتھ دینا ۱۶۵ نساء 8- لوگوں کو جہنم سے ڈرانا اور جنت کی خوش خبری دینا یہی تمام انبیاء کا دین رہا ہے اور یہی وہ دین ہے جو اصلاً اور حقیقۃً اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے۔ ظاہری اعمال بھی وہی مقبول ہیں جن میں مندرجہ بالا تعلیمات کی روح پائی جائے۔ اس کے بغیر کسی عمل کی کوئی قیمت نہیں۔ مزید یہ کہ انہیں تعلیمات میں اللہ کا پورا دین آ جاتا ہے۔ جو شخص ان چیزوں پر قائم ہو جائے وہ پورے دین پر قائم ہو گیا۔ نزدیک اس نے اپنے دین کو کامل کر لیا۔ دین اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے کوئی خارجی نظام" نہیں ہے جس کو اقتدار پر قبضہ کر کے لوگوں کے اوپر نافذ کیا جائے۔ دین حقیقۃً آدمی کی اپنی زندگی کا نقشہ ہے۔ آدمی کا اپنا وجود جس کے ساتھ وہ صبح و شام جی رہا ہے، جس کو لے کر وہ پیدا ہوتا ہے اور جس کو لے کر وہ مر جاتا ہے، اس وجود کو دین دار بنانا اور اس کو ہمہ تن اللہ کی مرضیات پر ڈھال لینا ہی در اصل اقامت دین ہے۔ یہ انسانی وجود کی قانون یا کسی سیاسی ادارہ کی گرفت سے باہر کی چیز ہے۔ یہ صرف آدمی کے اپنے ارادہ کی گرفت میں آتا ہے۔ اس پر کسی دوسرے کا حکم نہیں چلتا بلکہ صرف اپنا حکم چلتا ہے۔ اسی انسانی وجود پر خود اپنے ارادہ سے دین کو غالب کرنے کا نام اقامت دین ہے نہ کہ حکمرانوں سے سیاسی منازعت کرنے یا دوسروں کی پیٹھ پر کوڑا مارنے کا۔
سیاسی اقتدار بھی بلاشبہ اسلام میں مطلوب ہے۔ مگر وہ اہل اسلام پر اللہ تعالیٰ کا انعام (نور ۵۵ ) یہ انعام صرف اس وقت ملتا ہے جب کہ اہل اسلام کا کوئی گروہ قابلِ تعداد میں اپنے اوپر مذکورہ دین کو قائم کر چکا ہو۔ اساسات دین کی اقامت کے بعد ہی شرائع دین کی اقامت کے مواقع کھولے جاتے ہیں اصل دین پر خود قائم ہو جانا گویا اپنی پیٹھ کو "کوڑے" کے لئے پیش کر دینا ہے۔ جو لوگ اس خود سپردگی کا ثبوت دے دیں اس کو دوسروں کی پیٹھ پر کوڑا مارنے کی سیاسی اجازت نامہ عطا ہوتا ہے۔ خود سپردگی کی اس کیفیت کے بغیر لوگوں کو کوڑا
مارنا خدا کی زمین میں صرف فساد برپا کرنے کا باعث ہتا ہے نہ کہ انصاف قائم کرنے کا۔ ایسے لوگ جو دوسروں کی پیٹھ پر کوڑا لگانے کے لئے تو بہت بے قرار ہوں۔ مگر خود اپنی ’’پیٹھ‘‘ پر لفظی تنقید کو بھی برداشت نہ کریں، وہ اللہ کی نظر میں ظالم ہیں۔ قیامت میں ان سے پوچھا جائے گا کہ جب تمھاری انسانیت کا یہ حال تھا کہ تم لفظی کوڑے کی مار برداشت کرنے کے لئے بھی تیار نہ تھے تو تم کو کیا حق تھا کہ دوسروں کے اوپر مادی کوڑے برسانے کے لئے کھڑے ہو جاؤ۔ اس تعبیر کا ایک نتیجہ یہ ہوا کہ جو چیز خدا کے نزدیک اہم تھی وہ غیر اہم بن گئی اور جو غیر اہم تھی وہ اہم مذکورہ مفسر اقیمو الدین کی تفسیر کے ذیل میں لکھتے ہیں:
’’انبیاء علیہم السلام کو جب اس دین کے قائم کرنے اور قائم رکھنے کا حکم دیا گیا تو اس سے مراد صرف اتنی بات نہ تھی کہ وہ خود اس دین پر عمل کریں۔ اور اتنی بات بھی نہ تھی کہ وہ دوسروں میں اس کی تبلیغ کریں تاکہ لوگ اس کا حق تسلیم کر لیں، بلکہ یہ بھی تھی کہ جب لوگ اسے تسلیم کر لیں تو اس سے آگے قدم بڑھا کر پورا کا پورا دین اس میں عملاً رائج اور نافذ تاکہ اس کے مطابق عمل در آمد ہونے لگے اور ہوتا رہے۔ اس میں شک نبیں کہ دعوت و تبلیغ اس کام کا لازمی ابتدائی مرحلہ ہے جس کے بغیر دوسرا مرحلہ پیش نہیں آ سکتا۔ لیکن ہر صاحب عقل آدمی خود دیکھ سکتا ہے کہ اس حکم میں دعوت و تبلیغ کو مقصود کی حیثیت نہیں دی گئی ہے۔ بلکہ دین قائم کرنے اور قائم رکھنے کو مقصود قرار دیا دعوت و تبلیغ اس مقصد کے حصول کا ذریعہ ضرور ہے مگر بجائے خود مقصد نہیں ہے۔ کجا کہ کوئی شخص اسے انبیاء کے مشن کا مقصد و وحید قرار دے بیٹھے۔ قرآن میں تمام انبیاء کے بارے میں صراحتہ یہ بات کہی گئی ہے کہ وہ صرف تبلیغ (پہنچادینے) پر مامور تھے۔ قوموں کو پوری طرح باخبر کر دینے کے بعد ذاتی ذمہ داری کی حد تک ان کا کام ختم ہو جاتا تھا۔ ’’قائم کرنا اور قائم رکھنا‘‘ تمام تر مدعو کے اپنے رد عمل پر منحصر ہے۔ اس کو انبیاء کی ذمہ داری کس طرح قرار دیا جا سکتا ہے۔ قرآن میں کوئی ایک آیت ایسی نہیں ہے جس میں نبیوں کے مشن کو ’’قائم کرنے اور قائم رکھنے‘‘ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہو۔ اس کے برعکس کثرت سے ایسی آیتیں موجود ہیں جن میں پہنچا دینے کو ان کا فرض منصبی بتایا گیا ہے۔ فھل علی الرسل الا البلاغ المبین (نحل (۳۵) پس رسولوں پر ذمہ نہیں مگر پہنچا دینا کھول کر وما نرسل المرسلين الا مبشرين ومنذرین (انعام (۴۸) اور نہیں بھیجتے ہیں ہم پیغمبروں کو مگر بشارت دینے والے اور ڈرانے والے ۔
دعوتی جد و جہد کی عملی تفسیر انبیاء کرام کی زندگیاں ہیں، ہر نہی نے دعوت دین کے کام کو کامل اور مکمل صورت میں انجام دیا۔ اس لئے اس مہم کی اُسی انجام دہی کو ’’مقصود‘‘ کی حیثیت دی جائے گی جو تمام انبیاء کے یہاں مشترک طور پر پائی جاتی ہو۔ اور معلوم ہے کہ تمام انبیاء کے یہاں جو چیز مشترک طور پر پائی جاتی ہے وہ پہنچا دینا ہی ہے نہ کہ پورے کے پورے دین کو عملاً رائج و نافذ کر دینا۔ یہ واقعہ یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ دعوتی مشن کا اصل مقصود یہ ہے کہ مدعو تک خدا کا پیغام پوری طرح پہنچ جائے ۔ نہ کہ اس کا قائم کرنا اور قائم رکھنا۔
مولانا وحید الدین خاں جس کو پڑھ کر دل دہل اٹھیں اور آنکھیں آنسو بہائیں قیمت تین روپے مولانا وحید الدین خاں اسلام کے خلاف جدید اعتراضات کا علمی و عقلی جواب قیمت دو روپے مکتبہ الرساله • جمعیۃ بلڈنگ • قاسم جان اسٹریٹ • دہلی ۱۱۰۰۰۶
مولانا وحید الدین خاں قیمت دو روپے مولانا وحید الدین خاں قیمت ۱۲ روپے مکتبہ الرسالہ جمعیۃ بلڈنگ قاسم جان اسٹریٹ دہلی مولانا وحید الدین خاں قیمت بارہ روپے جمعیۃ بلڈنگ قاسم جان اسٹریٹ دہلی ۶ دین کیا ہے مولانا وحیدالدین خاں قیمت ایک روپیہ پچاس پیسے
یہ ”علم جدید کا چیلنج“ کا نظر ثانی کیا ہوا ایڈیشن ہے اس کتاب کا عربی ایڈیشن ”الاسلام یتحدی“ کے نام سے شائع ہو چکا ہے جو قاہرہ کی جامعۃ الازہر کے نصاب میں ایک ”مددگار کتاب“ کی حیثیت سے داخل ہے ۔ اسی طرح طرابلس یونیورسٹی نے اس کو اپنی تمام فیکلٹیوں میں ”ثقافت اسلامیہ“ کے موضوع کے تحت بی اے اور بی ایس سی کے پہلے اور دوسرے سال کے طلبہ کی تعلیم کے لئے مقرر کر دیا ہے۔
مولانا وحید الدین خاں قیمت دو روپے تاریخ کا سبق مولانا وحید الدین خاں قیمت دو روپے مکتبہ الرسالہ ، جمیعہ بلڈنگ ، قاسم جان اسٹریٹ دہلی ۶