با مقصد زندگی
Al-Risala, January 1979, pp. 25–31
By Maulana Wahiduddin Khan
(جماعت اسلامی ضلع اعظم گڑھ کے ایک اجتماع میں کی گئی تقریر ۔ ہم مسلمان ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم اپنے بارے میں دعویٰ رکھتے ہیں کہ ہم با مقصد لوگ ہیں۔ کیوں کہ اسلام زندگی کا ایک مقصد ہے۔ مگر میں آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ با مقصد ہونے کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ ایک مقصدی تصور آپ کے ذہن میں پایا جا رہا ہو۔ کچھ تقریروں کو سن کر یا کچھ تحریروں کو دیکھ کر ایک مقصدی نظریہ کسی کے دماغ میں پہنچ جائے تو صرف اس بنا پر اسکو با مقصد انسان نہیں کہا جا سکتا۔ انسان تو وہی ہے جو اپنے پورے وجود کے ساتھ با مقصد بن گیا ہو جس کی زندگی اسکے مقصد میں اس طرح ڈھل جائے کہ دونوں کے درمیان کوئی دوئی باقی نہ رہے۔ آپ اس وقت ایک مسجد میں بیٹھے ہیں جس کے اوپر اونچے اونچے مینار کھڑے ہیں اگر ہوا کے ذریعے کچھ آم کے پتے اڑ کر آئیں اور ان میناروں پر اٹک جائیں تو اس بنا پر ان میناروں کو آپ آم کا درخت نہیں کہنے لگیں گے۔ آم کا درخت تو وہی ہے جو اپنی جڑ میں بھی آم ہو، اپنے تنہ میں بھی آم ہو، اپنی شاخوں میں بھی آم ہو، اپنے پتوں میں بھی آم ہو، اور وہ آم ہی کے آم کا درخت آپ اسی کو کہتے ہیں جو اس طرح اوپر سے نیچے تک آم ہو۔ یہ محض کسی لمبی کھڑی ہوئی چیز پر آم سے مشابہت رکھنے والی کچھ چیزوں کا اتفاق سے جمع ہو جانا اس کو ہرگز آم نہیں بنا دیتا۔ اسی طرح آپ کو بھی با مقصد انسان کا لقب اسی وقت دیا جا سکتا ہے جب آپ سر سے پاؤں تک اپنے پورے وجود میں با مقصد بن گئے ہوں۔ محض کچھ نظریات کا کہیں سے آکر آپکے ذہن میں اٹک جانا آپ کو با مقصد نہیں بنا دیتا۔ اسلام زندگی کا ایک مقصد ہے اور ہم اسی وقت مسلمان کہے جانے کے مستحق ہیں جب ہم نے واقعی ایک مقصد کی طرح اسلام کو اپنی زندگی میں شامل کیا ہو۔
با مقصد انسان کی پہچان کیا ہے۔ اس کو دو جنوں پیرایہ سے بیان کیا جاسکتا ہے اس وقت میں اسکی چند خصوصیات کا مختصر طور پر ذکر کرونگا۔
با مقصد آدمی کی پہلی پہچان وہ ہے جس کو ”ارتکاز“ کے لفظ تعبیر کروں گا۔ مطلب یہ ہے کہ آپ کی تمام فکری اور ذہنی قوتیں آپ کے مقصد میں مرکوز ہو جائیں۔ سوچنا، آپ کا محبت کرنا، آپ کا نقشہ کرنا، سب کچھ آپ کے مقصد کے ساتھ وابستہ ہوگئے آپ کی کوئی چیز دوسری سمت بکھری ہوئی نہ ہو۔ جوتا بنانے والوں کے یہاں آپ نے دیکھا ہوگا، کام کرتے کرتے ان کے پاس بہت سی کیلیں پھیل جاتی ہیں۔ اس وقت وہ یہ کرتے ہیں کہ مقناطیس کا ایک ٹکڑا لے کر وہاں پھراتے ہیں جس سے تمام بکھری ہوئی کیلیں کھینچ کھنچ کر اس سے چمٹ جاتی ہیں۔ اور پھر وہ اٹھا کر اسے خانے میں رکھ لیتے ہیں۔ اس مثال میں اگر مقناطیس کی جگہ آپ اپنے مقصد کو رکھیں اور کیلوں کے بجائے اپنے افکار و خیالات اور جذبات و احساسات کا تصور کریں تو زندگی اور مقصد کے درمیان تعلق کو آپ سمجھ سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مقناطیس کے گرد لوہے کے ٹکڑے جس طرح ایک ایک کر کے اکٹھا ہو جاتے ہیں اور آس پاس کا کوئی ٹکڑا ایسا نہیں ہوتا جو اس سے آکر چمٹ نہ گیا ہو، اسی طرح آدمی کے مقصد کے گرد اس کے سارے سے دل اور سارے دماغ کو مرکوز ہو جانا چاہئے۔
یہاں ایک واقعہ مجھے یاد آتا ہے۔ ایک مرتبہ ایک صاحب سیکرٹری ہاں آئے ان کو بازار کا کچھ کام تھا۔ بازار جا کر جب وہ لوٹے تو انھوں نے ایک واقعہ بتایا جس سے مجھے بڑی عبرت ہوئی۔ واقعہ بہت چھوٹا سا ہے مگر اس میں ہمارے لئے بڑی نصیحت ہے، انھوں نے کہا کہ میں ایک جگہ پہنچا جہاں سڑک کے کنارے بہت سے موچی اپنی اپنی دوکان لئے بیٹھے تھے۔ جب میں انکے پاس سے گذرا تو میں نے دیکھا کہ ان میں سے ہر شخص میرے جوتے کی طرف دیکھ رہا ہے۔ جس موچی کی نظر اٹھتی ہے وہ بس میرے جوتے پر آکر رک جاتی ہے۔ میں نے سوچا کہ یہ موچی بھی اپنے مقصد میں کس قدر گم ہیں۔ ان کو انسان صرف جوتے کی شکل میں نظر آتا ہے بھرے ہوئے بازار میں سینکڑوں انسان ان کے سامنے سے آتے جاتے ہیں۔ مگر انھیں ان انسانوں سے کوئی دلچسپی بس۔ وہ ان کو نظر اٹھا کر دیکھتے بھی وہ صرف یہ جانتے ہیں کہ یہ آنے جانے والے لوگ اپنے پاؤں میں ایک ایسی چیز پہنے ہوئے ہیں جس کی پالش کرکے یا جس کی مرمت کرکے وہ کچھ پیسے حاصل کر سکتے ہیں۔ گویا انسان ان کی نظر میں صرف ایک ”جوتا“ ہے اور نہیں۔ اسی طرح با مقصد آدمی اپنے مقصد میں گم رہتا ہے۔ اس کو ہر چیز میں صرف اپنا مقصد نظر آتا ہے۔ وہ ہر واقعہ کو، ہر مسئلہ کو، ہر بات کو اپنے مقصد کی روشنی میں دیکھتا ہے حتیٰ کہ وہ اپنے مقصد کے تصور میں اتنا محو ہو جاتا ہے کہ دوسری چیزیں اسے بھولنے لگتی ہیں۔ ہیں جو بہت فعال آدمی ہیں جو کام بھی کرتے ہیں اس کو پوری طرح لگ کر کرتے ہیں ایک مرتبہ
میں ایک ایسے زمانے میں ان سے ملنے گیا جب وہ اپنا نیا مکان بنوانے میں مصروف تھے۔ دیکھا کہ ان کے پائجامہ میں ایک جگہ بہت سے لال لال دھبے پڑے ہوئے ۔ پوچھا یہ کیا ہے انھوں نے دیکھ کر کہا مجھے خود بھی نہیں معلوم۔ اس کے بعد انھوں نے پائجامہ اٹھایا تو معلوم ہوا کہ اسی سخت چیز سے ٹکرانے کی وجہ سے ٹانگ میں ایک جگہ چوٹ لگ گئی ہے۔ چوٹ لگ کر خون بہا، کپڑے میں لگا، پھر خود بخود سوکھ کر بند ہوگیا۔ اور انھیں مطلق خبر نہیں ہوئی۔ جب آدمی کے سامنے کوئی مقصد ہو تو وہ اسی طرح اس میں منہمک ہو جاتا ہے۔ اس وقت وہ ایک اور ہی دنیا میں پہنچ جاتا ہے جہاں دوسری چیزیں اس کا ساتھ چھوڑ دیتی ہیں۔ جہاں دوسری چیزیں اسے محسوس نہیں ہوتیں، حتیٰ کہ خود اپنی ذات کے جسمانی تقاضے بھی بعض اوقات اسے یاد نہیں رہتے۔ یہی وہ بات ہے جس کو میں نے "ارتکاز" کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔ بامقصد آدمی وہی ہے جس کو اپنے مقصد میں اس درجہ شغف اور انہماک ہو جائے۔ اس کے بغیر اپنے آپ کو بامقصد آدمیوں کی فہرست میں دیکھنا، مقصد کے لفظ سے ایک طرح کا مذاق کرنا ہے۔
بامقصد آدمی کی دوسری پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے مقصد کے مطابق زندگی گزارتا ہو ۔ مقصد کے مطابق عمل" سے میں ایک خاص چیز مراد لے رہا ہوں جس کو آپ ایک مثال سے سمجھ سکتے ایک حکیم صاحب ہیں جو ایک دیہات میں دوا علاج کا کام کرتے ہیں وہ کوئی سند یافتہ طبیب نہیں ہیں نہ پڑھے لکھے آدمی ہیں۔ بس لوگوں کی صحبت اور تجربہ کی وجہ سے کچھ باتیں جان گئے ہیں اور اس کے مطابق کام کر رہے ہیں بلکہ اپنی محنت اور توجہ کی وجہ سے اپنے علاقہ میں اچھے خاصے متعارف بھی ہو گئے ہیں۔ انکے گھر پر کچھ کھیتی باڑی کا کام بھی ہوتا ہے۔ ایک مرتبہ انھوں نے کہا کہ میں کھیتی کے موٹے کام مثلاً کھودنا، ہل چلانا وغیرہ اپنے ہاتھ سے نہیں کرتا۔ آپ سمجھیں گے وہ شاید کوئی شیروانی پوش آدمی ہونگے اور اپنی شیروانی کی عزت رکھنے کے لئے ایسے کاموں سے بچتے ہوں گے مگر ان کو "شیروانی" اور "پتلون" کی زندگی سے کوئی دل چسپی نہیں۔ وہ بالکل سیدھے سادے دیہاتی حکیم ہیں۔ کھیتی کے سخت کاموں سے الگ رہنے کی وجہ انھوں نے یہ بتائی کہ اگر میں اس طرح کے کام کروں تو میرا ہاتھ سخت ہو جائے گا۔ انگلیوں کی کھال موٹی ہو جائے گی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مریض کی نبض میں ٹھیک طرح سے دیکھ نہ سکوں گا۔ نبض کی ضرب میں ہلکی ہوتی ہیں اور ان میں بہت نازک اور لطیف فرق ہوتے ہیں۔ ان کو محسوس کرنے کے لئے انگلیوں کا نرم ہونا بہت ضروری اگر انگلیاں ہل اور کدال پکڑاتے پکڑتے سخت ہو جائیں، جیسا کہ اس طرح کا کام کرنے والوں کی ہوتی ہیں، تو وہ نبض کی ضربیں محسوس کرنے کے قابل نہیں رہیں گی۔
ہر مقصد اپنے اختیار کرنے والے سے کسی کا تقاضہ کرتا ہے۔ جو شخص بھی کسی مقصد کو
اپنائے، ضروری ہے کہ وہ اپنی عملی زندگی اور اپنی روزانہ کی سرگرمیوں کو اپنے مقصد کے ساتھ ہم آہنگ رکھے۔ وہ دونوں میں کوئی تضاد پیدا نہ ہونے دے۔ با مقصد آدمی ایک باشعور آدمی ہوتا اگر اس کے اندر حقیقت ایک مقصد اترا ہوا ہے، تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہونا چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو ایسے عملی حالات اور ایسے مشاغل کی طرف نہ لے جائے جہاں وہ اور اس کا مقصد الگ الگ ہو جائیں۔ جب وہ ویسا بنکر نہ رہ سکے جیسا اپنے مقصد کے اعتبار سے اسے بن کر رہنا چاہئے۔
میں ایک ایسے مسلم خاندان کو جانتا ہوں جس کی آمدنی اتنی تھی کہ وہ معقول طریقے سے ایک سادہ زندگی گزار رہا تھا اور اسی کے ساتھ دین کے تقاضے بھی پورے کر رہا تھا۔ کے بعد اس کے یہاں ایک لڑکی اور ایک لڑکے کی شادی ہوئی۔ اس کے مقصد کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ شادی کو اس طرح کرے کہ اس کی وجہ سے اس کے گھر میں معمول کے مطابق جوزندگی چل رہی ہے اس میں کوئی خلل پیدا نہ ہو۔ مگر اس نے پہلی غلطی یہ کی کہ شادی کے لئے ایک ایسے خاندان کا انتخاب کیا جس کا معیار زندگی اس کے مقابلے میں بڑھا ہوا تھا۔ پھر شادی بھی اس طرح کی جیسے عام دنیا دار لوگ اپنی شادیاں کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نہ صرف اس کے گھر کا سارا سرمایہ شادی میں لگ گیا بلکہ وہ کافی مقروض بھی ہو گیا۔ اس کے پیچھے اس کا سارا کاروبار اجڑ گیا۔ اگر صرف اتنا ہی نقصان ہوا ہوتا جب بھی غنیمت تھا، کیوں کہ جس طرح مختلف قسم کے دستی حادثے آدمی کے اوپر پڑتے ہیں اور پھر وہ سنبھل جاتا ہے، اسی طرح وہ دوبارہ سنبھل جاتا۔ نے اس کو ایک نئی مصیبت میں ڈال دیا۔ جس کا پچھلے اس نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ کو اس نے جو کپڑے اور سامان دیئے اور سسرال سے اس کے لئے جو کپڑے وغیرہ آئے، اس کی وجہ سے شادی شدہ لڑکی کی پوشش اور رہن سہن کا معیار یکایک بہت بڑھ گیا اور جب گھر کی ایک لڑکی کا معیار بڑھا تو اس کے ساتھ دوسروں کا لحاظ کرنا ضروری تھا۔ پھر اسی کے ساتھ نے فرنیچر سے لدی ہوئی پوری ایک گاڑی بھی اس کے گھر اتری ان چیزوں کے نتیجہ میں اس کی گھریلو زندگی کا معیار بالکل مصنوعی طور پر یکایک بدل گیا۔ اب ہر چیز میں پہلے سے زیادہ خرچ ہونے لگا۔ اس طرح ایک طرف پہلے قرضوں کی ادائیگی اور دوسری طرف بڑھے ہوئے اخراجات کو پورا کرنا، ایسے دو پاٹ بن گئے جن کے نیچے اس کی زندگی پس کر رہ گئی ، اس کا گھر دیکھتے دیکھتے ایک دیندار گھر آنے سے ایک دنیا دار گھر آنے میں تبدیل ہو گیا۔
یہ صرف ایک واقعہ نہیں ہے۔ بلکہ میں نے کتنے لوگوں کو دیکھا ہے کہ اسی طرح وہ اپنے دنیوی معاملات میں ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں کہ بالاخر وہ انھیں گھسیٹ کر تباہی کے غار میں پہنچا دیتا
ہے، جو شخص کسی مقصد کے لئے جینا چاہتا ہو، اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ باشعور زندگی وہ اپنی سرگرمیوں پر نظر رکھے۔ اگر اس نے ایسا نہیں کیا تو اس مادی دنیا میں ہر وقت اس کا امکان ہے کہ آدمی ایسے بندھنوں میں اپنے آپ کو پھنسا لے جس کے بعد وہ بظاہر زندہ نظر آتا ہو، مگر مقصد کے اعتبار سے اس نے خود کشی کر لی ہو۔ دنیا کی نمائشِی چیزوں میں دل چسپی، مادی ساز و سامان کی کثرت، سطحی مشاغل میں پڑنا، غیر ضروری عادتوں میں اپنے کو ڈالنا، پست لٹریچر کا مطالعہ۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو آدمی کو مقصد سے دور کر دیتی ہیں، اس کے وقت کو غیر ضروری مشغولیتوں میں لگا دیتی ہیں، اس کے جذبات واحساسات کو مقصد کے بارے میں کمزور کر کے دوسری چیزوں کے بارے میں شدید کر دیتی ہیں۔ اس کو ایسے تعلقات اور ایسے تقاضوں میں الجھا دیتی ہیں کہ وہ نہ چاہنے کے باوجود دوسری طرف کھنچتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ اپنے مقصد سے دور ہو جاتا ہے۔
اگر آپ کو اسلام عزیز ہے اور آپ اس کو اپنا مقصد بنا کر اسی کے لئے جینا اور اسی کے لئے مرنا چاہتے ہیں تو آپ کے لئے لازم ہے کہ اپنی عملی زندگی، اپنے تعلقات اور اپنی روزانہ کی مصروفیتوں کو اس سے ہم آہنگ رکھیں، آپ دونوں میں کوئی تضاد پیدا نہ ہونے دیں۔ معاملے میں آپ کو اس ہوشیار طبیب کی طرح بن جانا چاہیے جو اپنی انگلیوں تک کی اس حیثیت سے حفاظت کرتا ہے کہ وہ ایسے حالات سے دوچار نہ ہوں کہ وہ نبض دیکھنے کی صلاحیت کو کھو دیں پھر ایک مسلمان کا مقصد اس سے زیادہ نازک اور اس سے زیادہ مشکل ہے، اس لئے آپ کو اس سے زیادہ ہوشیاری کے ساتھ اپنی حرکات پر نظر رکھنی چاہیے۔
۳- تیسری چیز با مقصد آدمی کو پہچاننے کی یہ ہے کہ اس کے عمل میں مقصد کی روح موجود ہو۔ یہاں ”عمل“ سے میری مراد عام عمل نہیں ہے، بلکہ وہ عمل ہے جو مقصد کے تعلق سے ظاہر ہوتا آپ تعجب نہ کریں۔ مقصد سے متعلق عمل بھی کبھی بے مقصد ہوتا ہے۔ بہ ظاہر آدمی مقصد کا حامل کر رہا ہوتا ہے، مگر حقیقتاً اس کے عمل کا مقصد سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ایک مثال لیجئے۔ ہمارے یہاں جو مذہبی فرقے ہیں ان کی ابتدا بھی اصلاً ایک مقصدی گروہ کی حیثیت سے ہوئی تھی۔ وہ ایک مخصوص مشن لے کر اٹھے تھے مگر ہر شخص جانتا ہے کہ آج وہ اپنی مقصدی حیثیت کو کھو چکے ہیں۔ وہ تحریک کے بجائے ایک جامد قسم کی روایتی انجمن بن کر رہ گئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کا مقصدی تصور ان کے ذہن سے نکل گیا، اور نہ ایسا ہے کہ مقصد کے لئے کام کرنا انھوں نے چھوڑ دیا ہے۔ یہ سب چیزیں آج بھی کسی نہ کسی شکل میں ان کے اندر پائی مگر ان میں اب وہ اسپرٹ باقی نہیں رہی جو ایک مشن کے علم بردار کے اندر ہوتی ہے۔
اب ان کا مقصد محض ایک بحث و گفتگو کا موضوع ہے جس پر وہ کبھی آپس میں کبھی دوسروں سے باتیں کر لیتے ہیں۔ ان کے رسالے اور اخبار نکلتے ہیں۔ مگر ان رسالوں اور اخباروں کی حیثیت مقصد ی پرچوں سے زیادہ کاروباری اداروں کی ہے ان کے اجتماعات بھی ہوتے ہیں۔ ان اجتماعات کی حیثیت اسی مقصدی سرگرمی کی نہیں ۔ بلکہ وہ ماضی کی ٹپٹی ہوئی ایک لکیر ہے جس پر وہ رسمی طور پر چلے جا رہے ہیں۔ ان کے جماعتی فنڈ بھی ہیں جن میں وہ اپنی آمدنی کا ایک حصہ دیتے ہیں۔ مگر یہ دنیا زیادہ تر جماعتی تقاضے کے تحت ہوتا ہے نہ کہ حقیقتاً انفاق فی سبیل اللہ کے جذبے کے تحت ۔ وہ اپنے خیالات کو پھیلانے کے لئے دورے اور تقریریں کرتے ہیں۔ مگر یہ سب کسی مقصدی بے تابی کا نتیجہ نہیں ہوتا۔ بلکہ یا تو محض روایتی ذوق کا اظہار ہوتا ہے یا اسی قسم کے جذبے کے تحت ہوتا ہے جیسے کسی فرم کی پبلسٹی برانچ کا افسر اپنی ڈیوٹی انجام دینے کے لئے کیا کرتا ہے ۔ وہ اپنے مخصوص موضوعات پر کتابیں اور پمفلٹ چھاپتے ہیں۔ مگر اس کی حقیقت اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوتی کہ ایک بنے ہوئے حلقہ کی مانگ پوری کر دی جائے ۔
وہ عمل جو حقیقتاً داعیانہ جذبے کے تحت نکلتا ہے اور وہ عمل جو روایتی طور پر یا محض ڈیوٹی انجام دینے کے لئے کیا جاتا ہے، دونوں میں بڑا فرق ہے۔ ایک حقیقت ہے اور دوسرا حقیقت کی نقل ۔ ایک جگہ بات صرف حلق سے نکلتی ہے اور دوسری صورت میں آدمی جب بولتا ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس نے اپنے کلام میں اپنی پوری شخصیت کو انڈیل دیا ہے ۔ میں آدمی کا عمل صرف ایک لگی بندھی کارروائی نظر آتا ہے ، اور دوسری صورت میں اس کا عمل اس کے بے تاب جذبات کا اظہار ہوتا ہے۔ ایک صورت میں آدمی کی تمام زندگی سراپا اس کے مقصد میں ڈوبی ہوئی ہوتی ہے اور دوسری صورت میں بعض مقصد نما اجزاء اس کی غیر متعلق زندگی کے ساتھ اس طرح ادھر ادھر اٹکے ہوئے ہوتے ہیں جیسے کسی مینار میں آم کے چند پتے ۔ یہ خطبہ یہ اس گروہ کو ہے جو ایک مقصد کو لے کر اٹھے اور اس پر اس کو پچیس پچاس سال گزر جائیں ۔ لیکن یاد رکھئے کوئی گروہ کسی وقت تک مقصدی گروہ ہے جب تک حقیقت وہ مشنری اسپرٹ کے تحت کام کر رہا ہو۔ اس کے بعد جب اس کی گاڑی اس سے اتر کر روایتی ڈگر پر چل پڑے ، جب اس کی سرگرمیاں بے تابانہ جذبات کے اظہار کے بجائے مقررہ کارروائی بن کر رہ جائیں، تو وہ تحریک کے بجائے رسم اور جماعت کے بجائے انجمن بن جاتی ہے۔ اس کے بعد بھی اگر وہ شکلًا وہ ایک با مقصد گروہ کے مانند نظر آتا ہے ۔ مگر مقصدی حیثیت سے اب اس پر موت وارد ہو چکی ہوتی ہے۔
وہ با مقصد انسان نہیں ہوتا۔ بلکہ سابقہ با مقصد انسان کی لاش ہوتی ہے جو دیکھنے میں سابقہ انسان کی طرح نظر آتی ہے، مگر حقیقتہً انسان نہیں ہوتی۔
اب میں ایک آخری بات کہہ کر اپنی گفتگو کو ختم کروں گا۔ اس طرح کی باتیں جب کہی جاتی ہیں تو بعض لوگ جواب دیتے ہیں_ "آپ کی باتیں تو ٹھیک ہیں، ہم خود بھی اپنے اندر یہی چیز پیدا کرنا چاہتے ہیں، مگر سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ چیز کیسے پیدا ہو۔ " یہ بظاہر ایک سوال ہے مگر حقیقتہً اس کے ذریعے سے اپنے الزام کو اپنے سے ہٹا کر اسے خارج کے اوپر ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مگر سوچیے کہ وہ خارج جس کے اوپر آپ اپنا الزام ڈالنا چاہتے ہیں وہ کون ہے ظاہر ہے کہ وہ اس دنیا کا مالک خدا ہے۔ اسی نے ساری چیزوں کو بنایا ہے۔ خارج کو الزام دینے کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے یہ دنیا اس ڈھنگ سے بنائی ہے کہ ہم وہاں اپنے ایمانی تقاضوں کو حاصل کرنا چاہیں تو حاصل نہ کر سکیں. ظاہر ہے کہ یہ بالکل غلط بات ہے . خدا اس سے پاک ہے کہ اس پر یا اس کی تخلیق پر اس قسم کا الزام عائد ہو سکے . اس لئے خارج پر جب الزام ڈالا نہیں جاسکتا تو لامحالہ وہ آپ کی طرف لوٹے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری اپنی ذات کے سوا اور کوئی نہیں ہے جو ہماری ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والا ہو۔ اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ فطرت اور حقیقت میں تضاد نہیں ہو سکتا۔ اگر یہ حقیقت ہے کہ ہم کو ایسا ہی بننا چاہئے تو لازماً ہماری فطرت اور کائنات کو ایسا ہونا چاہئے کہ ہم ایسے بن سکیں۔
تعمیر ملت اور احیاءِ اسلام کی مہم | ایسی قبول کر کے اس فکری مہم میں ہماری مدد فرمائیں ۔ پانچ پرچہ کی قیمت بعد وضع کمیشن ساڑھے سات روپے ہمارا ہر ہمدرد یہ طے کرے کہ وہ پانچ پرچے | ہر حال میں منگائے گا۔ اور جب تک خرید ار مہیا نہ ہوں لوگوں میں مفت تقسیم کرے گا۔ اور اس وقت تک ساڑھے سات روپے ماہانہ اپنے پاس سے ادا کرتا رہے گا | جب تک خریدار نہیں مل جاتے ۔