Al-Risala · June 1979

وہ جنت کو چھوڑ کر جہنم کو لے رہے ہیں

Al-Risala, June 1979, pp. 5–12

By Maulana Wahiduddin Khan

اِنَّ الَّذِیۡنَ لَا یَرۡجُوۡنَ لِقَآءَنَا رَضُوۡا بِالۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا جن لوگوں کو ہمارے پاس آنے کا کھٹکا نہیں ہے اور وہ دنیا وَ اطۡمَاۡنُوۡا بِهَا وَ الَّذِیۡنَ هُمۡ عَنۡ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوۡنَ ٭ کی زندگی پر راضی ہو گئے ہیں اور اس میں ہی لگا بیٹھے ہیں، اُوۡلٰٓئِکَ مَاۡوَاهُمُ النَّارُ بِمَا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ ٭ اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا اور جو ہماری نشانیوں سے بے پروا ہیں، ایسے لوگوں کا ٹھکانا وَ عَمِلُوا الصَّالِحٰتِ یَهۡدِیۡهِمۡ رَبُّهُمۡ بِاِیۡمَانِهِمۡ ۚ تَجۡرِیۡ مِنۡ آگ ہے ان کے اعمال کی وجہ سے۔ جو لوگ یقین لائے اور تَحۡتِهِمُ الۡاَنۡہٰرُ فِیۡ جَنّٰتِ النَّعِیۡمِ نیک کام کیا ان کا رب ان کے ایمان کی وجہ سے ان کو راہ دے (یونس ۷-۹) گا جنت کی، ان کے نیچے نہریں جاری ہوں گی آرام کے

انسانوں کی ایک قسم وہ ہے جن کو دنیا کی چیزیں اپنی طرف کھینچ لیتی ہیں۔ ان میں سے کچھ لوگ پیسے کے فریب میں ہوتے ہیں۔ ان کو نظر آتا ہے کہ پیسہ سب کچھ ہے، اس لئے وہ پیسہ کمانے اور اس کے مسائل سے نمٹنے میں محو رہتے ہیں۔ کچھ لوگ شہرت و عزت کے فریب میں ہوتے ہیں۔ ان کی دل چسپیوں کا مرکز وہ چیزیں بن جاتی ہیں جن سے ان کی امیج بڑھے، جن سے ان کی عوامی تصویر میں اضافہ ہو۔ کچھ لوگ اقتدار کے فریب میں ہوتے ہیں۔ ان کی توجہ اپنے اقتدار کے مسائل میں لگی رہتی ہے۔ یہ تمام لوگ اپنی دنیوی زندگی میں اتنا گم ہو جاتے ہیں کہ ان کے ذہن و فکر کی تمام طاقتیں اسی پر لگ جاتی ہیں۔ وہ انھیں چیزوں کے اندر جینے لگتے ہیں۔ ان کو دنیا میں جو کچھ مل رہا ہے، اسی پر وہ راضی اور مطمئن ہو جاتے۔ ان کی یہ ذہنی کیفیت ان کو آخرت کی طرف سے غافل کر دیتی ہے۔ ان کی زندگی ایسی بن جاتی ہے جیسے انھیں اللہ سے ملاقات کا کھٹکا ہی نہ ہو، جیسے وہ اس اندیشہ سے خالی ہو گئے ہوں کہ ہار اور جیت، کامیابی اور ناکامی کا اصل فیصلہ اللہ کے یہاں ہونے والا ہے۔ ان کی غفلت یہاں تک بڑھتی ہے کہ خدا کے دلائل ان کے سامنے ظاہر ہوتے ہیں مگر وہ بے پروائی کے ساتھ ان کو نظر انداز کر دیتے ہیں ۔ دنیا میں ان کے معاملات کا درست ہونا ان کو اس غلط فہمی میں ڈال دیتا ہے کہ کسی دلیل اور ثبوت پر ان کو دھیان دینے کی خدا کی بات لفظوں یا خاموش اشاروں کی صورت میں ہوتی ہے۔ اس کے مقابلہ میں مال و جائداد، عزت و شہرت اور عہوہ و اقتدار ایسی مادی صورتوں میں ہوتے ہیں جن کے مزے کو وہ چکھ رہے ہوں، جن کی اہمیت کو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ "حقیر" کو چھوڑ کر "بڑی چیز" کو لے رہے ہیں۔ مگر حقیقۃً وہ جنت کو چھوڑ کر جہنم کو لے رہے ہوتے ہیں۔ موجودہ دنیا میں ان کی مدہوشی ان کو یہ بات سمجھنے نہیں دیتی۔ مگر مرنے کے بعد جب وہ اپنے سامنے جہنم کو بھڑکتا ہوا دیکھیں گے، اس وقت ان کو معلوم ہوگا کہ دنیا میں وہ جو کچھ کر رہے تھے اس کی حقیقت آخرت کے اعتبار سے

اس کے برعکس معاملہ ان لوگوں کا ہے جو خدا پر اس وقت سے پہلے یقین لے آتے ہیں جب کہ دہ اپنی طاقتوں اور غفلَتوں کے ساتھ ظاہر ہو جائے گا۔ ان کا یقین ان کو صحیح اور درست رویہ پر قائم رکھتا ہے۔ وہ اپنی کوششوں اور سرگرمیوں

کو آخرت کی بنیاد پر چلاتے ہیں نہ کہ دنیا کی بنیاد پر۔ اللہ پر ان کا یقین ان کی رہنمائی کرتا رہتا ہے۔ ان کا ایمان اور عمل صالح ان کو ان نفسیاتی پیچیدگیوں سے پاک کر دیتا ہے جو کسی معاملہ میں حق کے پہلو کو سمجھنے میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ جب اللہ کی کوئی نشانی ظاہر ہوتی ہے تو وہ اس کو پہچان لیتے ہیں۔ جب اللہ کی کوئی دلیل سامنے آتی ہے تو اس کی معقولیت کو سمجھنے میں نہیں دیر نہیں لگتی۔ جب خدائی اشارے اپنی خاموش زبان میں بولتے ہیں تو ان کے کان ان کو سننے کے لئے بہرے ثابت نہیں ہوتے۔ اس طرح ان کا زندہ ایمان ان کو خدائی راستہ پر چلاتا رہتا ہے، یہاں تک کہ ان کو جنت میں پہنچا دیتا ہے جہاں وہ خوشیوں کے سرسبز باغوں کے اندر بنے ہوئے بہترین مکانات میں ہمیشہ رہیں گے۔

انسان کے لئے صحیح راستہ یہ ہے کہ وہ اپنے رب کو پکڑے اور اس کی مرضی کے مطابق زندگی گزارے۔ دنیا میں آدمی کو اس طرح رکھا گیا ہے کہ خدا اس کے سامنے موجود نہیں ہے۔ یہاں خدا کا ظہور آیات کی صورت میں ہوا ہے۔ آخرت میں خدا اپنی بے حجاب صورت میں نمایاں ہوگا، حتی کہ لوگ اس کو چاند اور سورج کی طرح دیکھیں گے۔ مگر موجودہ دنیا میں وہ دلائل اور نشانیوں کے ذریعہ اپنے آپ کو ظاہر کرتا ہے۔ یہاں آدمی کو خدا کی کتاب میں خدا کو پانا ہے۔ پھیلے ہوئے کرشموں میں خدا کو دیکھنا ہے۔ خدا کی طرف پکارنے والے انسانوں کی آواز میں خدا کی آواز کو سننا ہے، جو شخص اس طرح خدا کو پائے، اسی نے خدا کو پایا۔ وہی خدا کا مومن بنا۔

یہی موجودہ دنیا میں آدمی کا اصل امتحان ہے۔ اگرچہ یہ بڑا سخت امتحان ہے۔ یہ ”غیب“ کو شہود بنانا ہے۔ ظاہر ہونے سے پہلے ہی اس طرح اس کا مومن بن جانا ہے جیسے کہ وہ اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ ظاہر ہو چکا ہے۔ لیکن اگر ایک بار آدمی اپنے آپ کو اس مقام پر پہنچا دے تو خدا اس کا ہاتھ تھام لیتا ہے۔ وہ اس کی رہنمائی اور مدد کے لئے اتر آتا ہے۔ اس وقت تک ہم سے الگ کھڑا رہتا ہے جب تک ہم غیب کے پردہ سے گزر کر اس کی طرف نہ لپکیں۔ مگر جب ہم اس کی طرف لپکتے ہیں تو اس کے بعد وہ ہم سے الگ نہیں رہتا۔ اب وہ ہمارا ہم نشین بن جاتا ہے۔ اب وہ مومن کی آنکھ بن جاتا ہے جس سے وہ وہ مومن کا ہاتھ بن جاتا ہے جس سے وہ پکڑتا ہے، وہ مومن کا پاؤں بن جاتا ہے جس سے وہ چلتا ہے، ”جو ایک بار خدا کا دامن پکڑ لے، خدا خود ضامن بن جاتا ہے کہ اس کے ہاتھ سے اب خدا کا دامن کبھی نہ چھوٹے گا، وہ کبھی اپنے رب سے محروم نہ ہوگا۔ الایہ کہ اس نے خدا کا دامن نہ پایا ہو، وہ کسی اور دامن کو خدا کا دامن سمجھ بیٹھا ہو۔ ”ان کا رب ان کے ایمان کی وجہ سے ان کو جنت تک پہنچا دے گا۔ “ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنت میں داخلہ کسی آدمی کو اپنے ایمانی وجود کی وجہ سے ملے گا نہ کہ اس کے ظاہری کمالات کی وجہ سے۔ جس شخص کی شعوری ہستی اور اس کا اندرونی انسان اس قابل پایا جائے گا کہ جنت کی لطیف اور نفیس دنیا میں اس کو بسایا جائے ، اسی کو وہاں بسنے کا اجازت نامہ عطا ہوگا۔ جنت کی دنیا کا شہری وہی شخص بن سکے گا جو اپنے فکر و مزاج اور اپنے کیفیات و رجحانات کے اعتبار سے وہاں کی آباد کاری کے لئے موزوں ثابت ہو۔ جن لوگوں کے اندر یہ اعلیٰ انسان ، نہ پایا جائے گا ان کو جنت کے ماحول سے دور پھینک دیا جائے گا جہاں وہ ابد تک عذاب کے اندھیروں میں بھٹکتے رہیں گے۔ طیب روحوں کی آباد کاری کا مقام ہے اور جہنم خبیث روحوں کا قید خانہ۔

مجھے ایک بار لکھنؤ کے ایک علاقہ میں جانا ہوا جہاں آم کے باغات تھے۔ میں نے دیکھا کہ درختوں پر پھل لگے ہوئے ہیں مگر سب کے سب کالے ہو رہے ہیں۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ دھوئیں کی وجہ سے کالے ہو گئے ہیں۔ کے پاس اینٹ کے بھٹے تھے جن کی چمنیوں سے ہر وقت کوئلہ کا دھواں نکلتا رہتا تھا۔ اس دھوئیں کی وجہ سے تمام پھل کالے ہو کر خراب ہو گئے۔ ان کی بڑھوتری رک گئی۔ وہ منڈی میں بیچنے کے قابل نہ رہے ۔

یہی اس دنیا کی تمام چیزوں کا حال ہے۔ دنیا کے بنانے والے نے اس کو نہایت حکمت کے ساتھ بنایا ہے۔ ہر چیز بے حد نازک اور لطیف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کائنات ایک انتہائی با معنی کارخانہ ہے۔ وہ کسی ایسی چیز کو قبول نہیں کرتی جو اس کے مزاج کے خلاف ہو، جو اس کی تخلیقی اسکیم کے مطابق نہ ہو۔ مگر کائنات کے سب سے زیادہ سر سبز اور قیمتی حصہ پر انسان ہر وقت ظلم و فساد جاری کئے ہوئے ہے۔ حق کے نام پر حق کو قتل کیا جا رہا ہے۔ اور کائنات اپنی تمام معنویت کے باوجود خاموش کھڑی ہوئی ہے۔ وہ زمین پر سب کچھ ہوتے ہوئے دیکھتی ہے مگر اس کے بارے میں اپنا کوئی بیان نہیں دیتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے خدا نے ایک مقرر مدت تک کے لیے اسی کو روک رکھا ہے۔ جب یہ مدت ختم ہوگی تو اچانک وہ بول پڑے گی۔ اس وقت وہ سب کچھ کہہ ڈالے گی جس کو آج وہ دیکھتی ہے مگر نہیں کہتی ۔

آدمی اپنے اقتدار کی سیاست چلاتا ہے اور اس کو خدا کی سیاست کا نام دیتا ہے۔ وہ مکمل اصلاح کے نفاذ کا نعرہ لگاتا ہے اور جب آزمایا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ جزئی اصلاح پر بھی قائم نہیں۔ وہ اپنے پڑوسی کو ستاتا ہے اور دور کے ظالم کے خلاف جھنڈا لے کر کھڑا ہوتا ہے۔ وہ اپنی انا کی پرستش میں لگا ہوتا ہے اور دوسرے کی انانیت اور تعصب کا اعلان کرنے کے لئے اسٹیج سجاتا ہے۔ وہ مفاد پرستی اور استحصال میں غرق ہوتا ہے اور انصاف اور انسانیت کے عنوان پر تقریریں وہ ضد اور نفرت اور انتقام کے تحت کارروائی کرتا ہے اور زبان سے یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ صرف حق کے لئے ایسا کر رہا ہے۔ وہ اپنے بدترین شیطانی کاموں کو بیان کرنے کے لئے بھی نہایت خوب صورت الفاظ پالیتا ہے۔ یہ سب کچھ انسانی دنیا میں ہورہا ہے اور کائنات اپنی تمام نفاست اور لطافت کے باوجود چپ رہتی ہے۔ وہ سچ کو سچ نہیں کہتی اور جھوٹ کے جھوٹ ہونے کا اعلان نہیں کرتی۔

کیا کائنات کے اندر تضاد ہے، کیا یہ ایک گونگی کائنات ہے۔ جس کائنات کے پاس سریلے نغمے بکھیرنے والی چڑیاں ہوں، کیا اس کے پاس حق کا اعلان کرنے کے لئے زبان نہیں۔ قرآن اس سوال کا جواب دیتا ہے۔ قرآن بتاتا ہے کہ کائنات کی یہ خاموشی اس لئے ہے کہ خدا نے اس کو قیامت کے آنے تک خاموش رہنے کا حکم دے رکھا ہے، جیسے ہی صور پھونکا جائے گا تمام زبانوں کی مہریں ٹوٹ جائیں گی۔ اس وقت ساری کائنات ایک عظیم الشان ٹیپ ریکارڈر بن جائے گی اور پھر خدا کے کے گواہ کی حیثیت سے وہ سب کچھ بتائے گی جو حق اور عدل کے مطابق اسے بتانا چاہئے۔ اس وقت لوگوں کو معلوم ہوگا کہ جس کائنات کے پاس رات کو دن بنا دینے والا سورج تھا اس کے پاس یہ بھی انتظام تھا کہ تاریخی میں چھپے ہوئے اعمال کو اجالے میں لاسکے۔

حقیقی دین داری کیا ہے ؟

ولكل امة جعلنا منسكا ليذكروا اسم الله على ما رزقهم من بهيمة الانعام فالهكم اله واحد فله اسلموا وبشر المخبتين الذين اذا ذكر الله وجلت قلوبهم والصابرين على ما اصابهم والمقيمي الصلوة ومما رزقنهم ينفقون والبدن جعلنها لكم من شعائر الله لكم فيها خير فاذكروا اسم الله عليها صواف فاذا وجبت جنوبها فكلوا منها واطعموا القانع والمعتر كذالك سخرنها لكم لعلكم تشكرون لن ينال الله لحومها ولا دماؤها ولكن يناه التقوى منكم كذالك سخرها لكم لتكبروا الله على ما هديكم وبشر المحسنين ( حج ۳۴-۳۷ )

اور ہر امت کے لئے ہم نے قربانی کرنا مقرر کیا تاکہ وہ اللہ کا نام لیں ان چوپایوں پر جو اس نے ان کو دئے ہیں۔ اللہ ہی تمھارا ایک اللہ ہے، تم اسی کے ہو کر رہو اور خوش خبری دے دو عاجزی کرنے والوں کو۔ وہ لوگ کہ جب اللہ کو یاد کیا جائے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور وہ سہنے والے ہیں جوان پر پڑے اور نماز قائم رکھنے والے ہیں اور ہمارے دئے میں سے خرچ کرتے ہیں۔ اور قربانی کے جانور کو ہم نے تمھارے لئے اللہ کی نشانی بنایا ہے۔ اس میں تمھارا بھلا ہے۔ پس تم ذبح کے وقت ان پر اللہ کا نام جب وہ ذبح ہو جائیں تو تم خود بھی کھاؤ اور بے سوال کو اور سوال کرنے والے کو کھلاؤ۔ ہم نے ان جانوروں کو تمھارے تابع کر دیا ہے تا کہ تم شکر کرو۔ اللہ کو ان کا گوشت اور ان کا خون نہیں پہنچتا۔ اس طرح ہم نے ان جانوروں کو تمھارے میں کر دیا ہے تا کہ تم اللہ کی بڑائی کرو اس پر کہ اس نے تم کو راہ سمجھائی اور خوش خبری دے دو نیکی کرنے والوں کو۔ ایک شخص ہے، اس نے قیمت دے کر ایک جانور خریدا اور قربانی کے دن منتر کی طرح کچھ رٹے ہوئے جملوں کو پڑھ کر اس کو ذبح کر دیا۔ گوشت کا کچھ حصہ خود کھایا، کچھ دوسروں کو دے دیا۔ خریداری کے وقت سے لے کر گوشت کھانے تک قربانی کے نام سے جو چیز اس لتے جاتی وہ بس ایک جانور تھا یا اس کا گوشت و خون۔ اس کی روح نے اس کے سوا کسی اور چیز کا تجربہ نہیں کیا۔ دوسرا شخص وہ ہے جس نے ندایت کے جذبہ سے ایک جانور لیا۔ جب وہ اس کو مذبح کی طرف لے چلا تو اس کا دل کہہ رہا تھا : خدایا ! میں جانور کو نہیں خود اپنے آپ کو تیری طرف لے کر آرہا ہوں، جب اس نے جانور کو مقررہ طریقہ پر ذبح کیا تو اس کی زبان سے نکلا : " خدایا ! یہ میری اپنی جان کا ہدیہ ہے جو میں جانور کی جان کی صورت میں تجھ کو پیش کر رہا ہوں۔ تو اس کو قبول کر لے " جانور کی قربانی کے معاملہ نے اس کو اس قربانی کے معاملہ کو یاد دلایا جو بندے کی طرف سے خالق کی خدمت میں پیش کی جاتی ہے اور جانور کی قربانی اس کی صرف ایک ظاہری علامت ہے۔ قربانی کے دوران اس کا دل پگھلتا رہا۔ اس کی آنکھیں آنسو بہاتی رہیں۔ قربانی اس کے اندر نرمی پیدا کر کے ہر قسم کے جذبات کو نکالتی رہی۔ وہ کبر، عداوت، انتقام اور خودنمائی کے جذبات کو اللہ کے لئے قربان کرتا رہا ۔ ___________ جو شخص گوشت اور خون کی سطح پر رہا اس نے گویا اپنے اللہ کو قربانی کا صرف گوشت اور خون بھیجا اور جو شخص قربانی کے دوران تقویٰ کا تجربہ کرتا رہا اس نے گویا اپنے اللہ کو قربانی کا تقویٰ بھیجا۔ اور تقویٰ ہی وہ چیز ہے

جو اللہ کو اپنے بندوں سے مطلوب ہے ، اس کو ہمارے گوشت اور خون کی ضرورت یں ۔

یہی معاملہ پورے دین کا ہے ۔ دین کا ایک گوشت اور خون ہے اور دین کا ایک تقویٰ ہے ۔ ایک اس کا چھلکا ہے اور ایک اس کا مغز ہے۔ اللہ کو مغز کی ضرورت ہے نہ کہ چھلکے کی ۔ جو لوگ چھلکے کی سطح پر دین کو پائیں ، انہوں نے ایسے دین کو پایا جو دنیا کی زندگی میں خواہ دین نظر آئے مگر آخرت میں خدا کے یہاں اس کی کوئی قیمت نہ ہوگی ۔ لوگوں کا دین قیمت والا ہوگا جنھوں نے مغز کی سطح پر دین کو پایا ہو۔

کچھ لوگ ایمان اور ذکر اور تلاوت اور نماز کا چرچا کرتے ہیں اور ان میں مشغول ہوتے ہیں۔ بظاہر وہ اچھا دینی کام کر رہے ہیں لیکن اگر ان کا حال یہ ہو کہ ایمان ان کے لئے زبان سے کچھ الفاظ بول دینے کا نام ہو۔ ذکر یہ ہو کہ گنتی کا ایک نصاب مقرر کیا جائے اور کچھ مقرر الفاظ کو اس کے مطابق صبح و شام دانوں پر شمار کر لیا جائے ۔ تلاوت کا مطلب ان کے لئے یہ ہو کہ کتاب اللہ کے الفاظ کو ، کسی غور وفکر کے بغیر، محض مخارج کی صحت کے ساتھ وہرایا جائے ۔ نماز سے ان کو جو جینے وہ بس یہ ہو کہ مقررہ وقت پر کچھ مقررہ اعمال کو اعضاء و جوارح کے ذریعہ ادا کر لیا ۔ اگر ان کا حال یہ ہو تو گویا انھوں نے دین کے نام پر گوشت اور خون کا تحفہ اپنے رب کو بھیجا، وہ تقویٰ کا تحفہ اس کو نہ بھیج سکے ۔ اور معلوم ہے کہ اللہ کو تقویٰ کا تحفہ مطلوب ہے نہ کہ گوشت اور خون کا ۔

اسی طرح کچھ لوگ مکمل اسلامی نظام کے نفاذ کا نعرہ لگائیں۔ مگر ان کا مکمل اسلام عملاً جس چیز کا نام ہو وہ یہ کہ کوڑے اور پھانسی کی سزائیں جاری کی جائیں۔ اور اسی طرح کے کچھ اور حکومتی قوانین کے اجراء کا اعلان کر دیا جائے۔ ان کا مکمل اسلام ان کو بس خارجی اور ظاہری چیزیں دے ۔ دہ ان کو نہ اللہ کی تربیت کا تجربہ کرائے اور نہ دل کی گھلاوٹ کہ وہ نہ آدمی کو کبر اور انانیت سے خالی کرے اور نہ انتقام اور عداوت کے جذبات سے ۔ وہ نہ ان کو نفسیاتی پیچیدگیوں سے بلند انسان بنائے اور نہ یہ مزاج بنائے کہ وہ دوسروں کے لئے وہی پسند کریں جو خود اپنے لئے پسند کرتے ہیں۔ وہ دوسروں پر شرعی سزائیں نافذ کرنے کا نعرہ لگائیں مگر خود لفظی تنقید کو بھی برداشت نہ کریں۔ ان کے اندر حقیقی معنوں میں نہ خدا کا خوف ابھرے اور نہ بندوں کی خیر خواہی۔ اگر ایسا ہو تو کہا جائے گا کہ انھوں نے اسلامی نظام کا صرف گوشت اور خون پایا ہے ، اسلامی نظام کا تقویٰ پانے میں وہ ناکام ثابت ہوئے ہیں۔

اسی طرح جو لوگ دین کی ان شکلوں پر دوڑیں جن میں عوامی بھیڑ جمع ہوتی ہے ، جن سے چندے اور نذرانے وصول ہوتے ہیں ۔ جن سے سستی قیادت حاصل ہوتی ہے جن سے اخباری شہرت ملتی ہے ، جن سے اعزازات اور مناصب کے دروازے کھلتے ہیں ۔ جن کے ذریعہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی ایک شان دار جلسہ میں معزز مہمان بن کر جائے اور ایک نقلی تقریر کر کے خدمت اور عمل کا کریڈٹ حاصل کرے ۔ ایسے لوگ گوشت اور خون کی سطح پر دین داری دکھارہے ہیں ۔ جب کہ تقویٰ کی سطح پر دینداری یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو توڑے اور سچائی کے آگے اپنے کو جھکائے ۔ خدا کو اشتہاری دین داری مطلوب نہیں ہے بلکہ وہ دینداری مطلوب ہے جو تقریری اسٹیج پر نہیں بلکہ خاموش عمل کے میدان میں ہوتی ہے ۔ جہاں آدمی دوسرے سے زیادہ اپنے آپ کو دیکھتا ہے ۔ جب وہ نفس پر چوٹ برداشت کرتے ہوئے دوسرے کو اس کا حق ادا کرتا ہے۔

خوش خیالیاں حقیقت کا بدل نہیں بن سکتیں !

سڑک پر مجمع 21 نمبر کی بس کا انتظار کر رہا تھا۔ اتنے میں ایک بس آتی دکھائی دی اور سارے لوگ اس کی طرف دوڑ " اوہ ! تو ۱۲ نمبر کی بس ہے ۔ یہ بورڈ دیکھ کر ایک شخص بولا ۔ " ۱۲ کو ۲۱ کر لو اور چلے جاؤ " دوسرے نے کہا۔ ظاہر ہے کہ یہ صرف مذاق تھا۔ کوئی شخص ایسا نہیں کرے گا کہ گھر یامٹی لے کر بس پر اپنا مطلوبہ نمبر لکھے اور اس پر بیٹھ کر سمجھے کہ اب وہ اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گیا ہے۔ یہ ہندسہ کا فرق نہیں، حقیقت کا فرق تھا۔ اور حقیقت کے فرق کو ہندسہ کے فرق سے بدلا نہیں جاسکتا۔ یہ بات اپنی ذاتی زندگی کے معاملات میں ہر شخص جانتا ہے ، مگر عجیب بات ہے کہ ملت کے رہنما جب ملت کا مسئلہ حل کرنے کے لئے اٹھتے ہیں تو ہاں وہ اس انتہائی معلوم حقیقت کو بھول جاتے ہیں۔ لئے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ہندسہ کو بدل کر وہ اُس کام کا کریڈٹ حاصل کر لیں جو صرف حقیقت کو بدلنے کے نتیجہ میں کسی کو ملتا ہے ایک ایسا سماج جہاں امتیاز اور لیاقت کی بنیاد پر لوگوں کو درجات ملتے ہیں، ہم مراعات اور تحفظات کے عنوان پر کانفرنس کر رہے ہیں۔ ایک ایسا نظام جہاں علمی اور اقتصادی طاقت کے بل پر قوموں کے فیصلے ہوتے ہیں، ہم احتجاج اور مطالبات کے پوسٹر دیواروں پر چپکا رہے ہیں۔ ایک ایسی دنیا جہاں زبان و بیان نے بالکل نیا انداز اختیار کر لیا ہے، ہم اپنے روایتی کتب خانہ کے بورڈ پر دورِ جدید "کا لفظ لکھنے کے لئے آرٹسٹ کی خدمات حاصل کر رہے ہیں۔ ایسا زمانہ جہاں عالمی ذہن نے سیاست کو سیکولر بنیادوں پر قائم کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے، ہم عوام کا ذہن بدلے بغیر بیلٹ بکس سے اسلامی نظام برآمد کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ ایک ایسی آبادی جہاں اختلاف اور شکایت کے گہرے مادی اسباب موجود ہیں، ہم لفظی تقریروں کے کرشمے دکھا کر حالات کو درست کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ ایک ایسے معاشرہ میں جہاں ہم تعلیم، اقتصادیات، باہمی اتحاد ہر لحاظ سے تمام گروہوں میں سب سے پیچھے ہیں، ہم جلسوں اور کانفرنسوں کے ذریعہ ملک کی قسمت بدلنے کا نعرہ لگا رہے ہیں۔ ایک ایسا جغرافیہ جہاں ہمارے پاس اپنے تحفظ کی بھی طاقت نہیں ، ہم " حریف کو نقصان پہنچاؤ " کا طریق کار اختیار کر کے باعزت زندگی حاصل کرنے کی تجویزیں پیش کر رہے ہیں۔ کی تمام باتیں اسی طرح بے معنی ہیں جس طرح ۱۲ نمبر کی بس پر ۲۱ نمبر لکھ کر اپنی منزل کی طرف شروع کرنا۔ دنیا میں مخلص افراد کی کمی نہیں۔ مگر زمین کی پیٹھ شاید ایسے لوگوں سے خالی ہے جو دوسروں کے ساتھ انصاف کرنا جانتے آدمی اپنے اخلاص میں اتنا گم ہے کہ اس کو دوسرے کے اخلاص کی خبر نہیں۔ اور اگر دوسرے کی طرف سے کوئی اتفاقی تکلیف پہنچ جائے یا کوئی شکایت کی بات ہو جائے ، جو اجتماعی زندگی میں بالکل فطری ہے، تو اس کے بعد آدمی کا حال عجیب ہو جاتا ہے۔ دوسرے شخص کا برا ہونا اور خود اپنا بر سر حق ہونا اس کے لئے اتنا یقینی بن جاتا ہے کہ کوئی بھی دلیل یا کوئی بھی وضاحت اس کے دل کو صاف کرنے میں کامیاب ثابت نہیں ہوتی۔ خوش گمانی کی تمام قسموں کو وہ اپنے لئے خاص کر لیتا ہے اور بدگمانی کی تمام قسموں کو دوسروں کے لئے ۔ ( ۶ مارچ ۱۹۷۹)

خدا کا سرا اس وقت آدمی کے ہاتھ آتا ہے جب خدا کی طرف بڑھنے میں دنیا کے سرے اس سے چھوٹ گئے ہوں حضرت ابراہیم علیہ السلام عراق کے شہر ار میں پیدا ہوئے ۔ مخالفین نے جب وہاں رہنا آپ کے لئے ناممکن بنا دیا تو آپ اللہ کے حکم سے عرب کے صحرا میں پہنچے اور مکہ میں بیت اللہ کی تعمیر کی جو اس وقت ایک غیر آباد مقام تھا۔ اس موقع پر آپ کی زبان سے جو دعائیں نکلیں ان میں سے ایک یہ تھی :

ربنا انی اسكنت من ذريتي بواد غير ذی زرع عند اے ہمارے رب میں نے اپنی اولاد کو تیرے محترم گھر کے ربنا ليقيموا الصلوة فاجعل پاس ایک میدان میں بسا دیا ہے جہاں کھیتی نہیں۔ افئدة من الناس تهوى اليهم وارزقهم من ہمارے رب تا کہ وہ نماز قائم رکھیں۔ پس تو کچھ لوگوں کے الثمرات لعلهم يشكرون - ربنا انك تعلم دل ان کی طرف مائل کر دے اور ان کو روزی دے میووں ما نخفی وما نعلن وما يخفی علی اللہ من شیئی فی سے۔ تاکہ وہ شکر کریں۔ اے ہمارے رب تو جانتا ہے جو ہم الارض ولا فى السماء (ابراهيم (۳۸) چھپاتے ہیں اور جو ہم ظاہر کرتے ہیں، اور اللہ سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں نہ زمین میں اور نہ آسمان میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کا یہ واقعہ ایک علامتی واقعہ ہے۔ یہ تاریخ کی زبان میں بتا رہا ہے کہ ایک بندہ خدا کے ساتھ اس وقت کیا پیش آتا ہے جب کہ وہ بے آمیز حق کی دعوت کو لے کر کھڑا ہو جائے ۔ ________ وقت کے قائم شدہ نظام میں وہ بے جگہ ہو جاتا ہے ، مذہبی ادارے اس کو قبول کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ حتی کہ دوستوں اور رشتہ داروں کے لئے اس میں کوئی کشش باقی نہیں رہتی۔ دنیا کی ذی زرع وادیاں، اپنی تمام سرسبزی کے باوجود، اس کے لئے خشک ہو جاتی ہیں۔ وہ مجبور ہو جاتا ہے کہ اپنے بیوی بچوں کو لے کر برباد معاشیات کی ایک زمین میں جابسے اور اپنے رب سے کہے کہ : خدایا ! تیرے سوا ان کا کوئی سہارا نہیں۔ انسانوں کی بنائی ہوئی دنیا نے ان کو رزق دینے سے انکار کر دیا ہے ۔ اب تو ان کے قدموں کے نیچے سے ان کے لئے رزق کے چشمے جاری کر دے۔ یہ تاریخ انسانی کا نازک ترین لمحہ ہوتا ہے۔ وقت ہوتا ہے جب کہ کائنات کی نبض رک جاتی ہے۔ زمین و آسمان کی گردشیں نئے حکم کا انتظار کرنے لگتی ہیں۔ نئے تجربہ سے متعارف ہوتی ہے : بیابان میں چشمے پھوٹ پڑتے ہیں۔ چھتیں پھاڑ کر خدا کے خزانے اترتے ہیں۔ آواز ہواؤں کے دوش پر پھیلنے لگتی ہے۔ خدا اپنی طاقتوں کے ساتھ اپنے ان بندوں کی مدد پر اتر پڑتا ہے جن کو بے حقیقت سمجھ کر دنیا والوں نے اپنی مدد سے محروم کر دیا تھا۔ بے آمیز دعوت کا کام اس آسمان کے نیچے سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔ یہی وہ کام ہے جو خدا کی مدد کو سب سے زیادہ کھینچنے والا ہے۔ اگر چہ یہ مدد اس وقت آتی ہے جب کہ دعوت کا اظہار اور اس کی پاداش میں داعی کی مظلومی، دونوں اپنی آخری انتہا پر پہنچ چکے ہوں ۔

آدمی اگر اپنے آپ سے باخبر ہو جائے تو وہ زیادہ بہتر طور پر خدا سے باخبر ہو سکتا ہے آدمی اگر اپنے آپ کو موت کے کنارے کھڑا ہوا پائے تو وہ زیادہ بہتر طور پر زندگی کا مقام حاصل کر سکتا ہے آدمی اگر اصلاح کا آغاز اپنے آپ سے کرے تو وہ زیادہ بہتر طور پر دوسرے کی اصلاح کر سکتا ہے آدمی اگر چھوٹے مقاصد کو اپنا نشانہ بنائے تو وہ زیادہ بہتر طور پر بڑے مقاصد تک پہنچ سکتا ہے آدمی اگر یہ جان لے کہ اس کو چپ رہنا چاہئے تو وہ زیادہ بہتر طور پر بولنے والا بن سکتا ہے۔ آدمی اگر لڑائی کے میدان سے ہٹ جائے تو وہ زیادہ بہتر طور پر اپنی لڑائی کو جیت سکتا ہے آدمی اگر اپنی غلطی کا اعتراف کرلے تو وہ زیادہ بہتر طور پر اپنے آپ کو صحیح ثابت کر سکتا ہے آدمی اگر اپنے جاہل ہونے کا اقرار کر لے تو وہ زیادہ بہتر طور پر اپنے عالم ہونے کا ثبوت دے سکتا ہے آدمی اگر خود اپنے امکانات کو بروئے کار لانے کے لئے سرگرم ہو تو وہ زیادہ بہتر طور پر اس چیز کو پالے جس کو وہ دوسروں سے مانگ کر پانا چاہتا ہے آدمی اگر جہنم کے شعلوں کو دیکھ لے تو وہ زیادہ بہتر طور پر جنت کے باغوں کو دیکھ سکتا ہے

Printed page