Al-Risala · June 1979

غیر اسلام کو اسلام کے نام پر کرنا

Al-Risala, June 1979, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

عباسی دور میں جب عقلی علوم مسلمانوں میں پھیلے تو ایک طبقہ اس کا سخت مخالف ہو گیا۔ اس زمانے میں یہ فقرہ ضرب المثل بن گیا تھا: من منطق فقد تزندق (جس نے منطق سیکھی وہ زندیق ہو گیا) اسی طرح انیسویں صدی میں جب مغرب کے علوم اسلامی ملکوں میں داخل ہوئے اور لوگوں نے اس سے دل چسپی لینا شروع کیا تو ایک ازہری شاعر نے کہا: من يعقل بالطبع او بالعلة فذالک کفر عند اهل الملة سید جمال الدین افغانی ۱۰۱۸ میں مصر آئے تو ازہر کے بہت سے طلبہ ان کے پاس آنے لگے۔ ان کے غیر روایتی انداز سے طلبہ بہت متاثر ہوتے تھے۔ انھی میں سے ایک محمد عبده تھے جو اس زمانہ میں ازہر کے طالب علم تھے وہ جمال الدین افغانی سے اس درجہ قریب ہوئے کہ کہا جاتا ہے کہ جس طرح افلاطون کے بغیر سقراط کا علم ناپید ہو جاتا کیونکہ اس نے اپنی کوئی کتاب نہیں اسی طرح مفتی محمد عبده کے بغیر جمال الدین افغانی بھی گم نام ہو جاتے۔ کیونکہ انھوں نے بھی اپنے افکار کو کتاب کی شکل میں مرتب نہیں کیا۔ یہ کام ان کے بعد مفتی محمد عبده نے کیا۔

محمد عبده جب ازہر میں طالب کی حیثیت سے تھے اور جمال الدین افغانی کے پاس آتے جاتے تھے تو ازہر میں ان کے استادوں نے ان کو بد عقیدہ قرار دے دیا۔ حتی کہ طلبہ میں سے کسی نے ایک روز ایک شیخ کے پاس خبر پہنچائی کہ محمد عبده وضو کے بغیر عصر کی نماز پڑھ رہے ہیں۔ ان کے بارے میں بدگمانی اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ استاد موصوف نے یقین کر لیا اور طلبہ کی ایک جماعت بھیجی کہ جاؤ ان کو پکڑ لاؤ۔ یہ لوگ پہنچے تو محمد عبدہ نماز کے لیے نیت باندھے کھڑے تھے۔ ان لڑکوں نے ان کو نماز کی حالت ہی میں پکڑ لیا اور گھسیٹتے ہوئے شیخ کے پاس لائے۔ شیخ نے ان کی تعزیر کا حکم دیا اور لڑکوں نے مل کر انھیں مارا۔ جمال الدین الافغانی، از محمود البورپہ، صفحه ۲ ۔

Printed page