Al-Risala · June 1979

قانونِ فطرت اور قانونِ شریعت

Al-Risala, June 1979, pp. 18–19

By Maulana Wahiduddin Khan

زندگی کے معاملات کا بننا اور بگڑنا، ایک لفظ میں، ماج السنہ پر منحصر ہے۔ امام احمد بن حنبل نے کہا: عجبْتُ لِقَوْمٍ عَرَفُوا الْإِسْنَادَ وَصِحَّتَهُ يَدَعُونَ مُجھ کو ان لوگوں پر تعجب ہے جو حدیث کو سند اور صحت معلوم کرنے إِلَى رَأْيِ سُفْيَانَ۔ واللہ تعالیٰ يقول: فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ کے بعد سفیان ثوری کی رائے کو اختیار کرتے ہیں۔ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: پس چاہئے کہ ڈریں وہ لوگ جو خلاف عَذَابٌ أَلِيمٌ (نور ۶۳) کرتے ہیں اس کے امر کے کہ پڑے ان پر کچھ خرابی یا پہنچے ان کو

اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر جو شریعت نازل فرمائی اور رسول نے جس کی اپنی زندگی میں برت کر اس کا کامل نمونہ پیش فرمایا، اس کو اس آیت میں امر رسول کہا گیا ہے۔ اس امر رسول کو اختیار نہ کرنے میں، انسان کی دنیا و آخرت کا بناڈ ہے اور اس امر رسول سے انحراف میں انسان کی دنیا و آخرت کا بگاڑ۔ یہ امر رسول یا سنت رسول انسانی زندگی کے لئے وہی اہمیت رکھتا ہے جو مادی دنیا کے لئے قانون فطرت۔ ہم ایک باغ کے مالک بننا چاہیں تو ہم قانون فطرت کی پیروی کر کے ہی باغ کے مالک بن سکتے ہیں۔ مثلاً ہم کو یہ کرنا پڑے گا کہ ہم بیج کو زمین میں دفن کریں۔ اگر ہم بیج کو فضا میں اچھالیں یا شاخوں کو زمین میں گاڑیں تو ہم اپنے لئے ایک ہرا بھرا باغ نہیں پا سکتے۔ ہم کو بہر حال یہ کرنا ہوگا کہ ہم بیج کو زمین میں گاڑیں اور فطرت کے مقررہ قانون کے مطابق اس کی پرورش کریں۔ اس کے بعد ہی ہم اپنے لئے ایک ہرا بھرا باغ دیکھ سکتے ہیں۔ ٹھیک یہی معاملہ قانون شریعت کا بھی ہے۔ جس طرح مادی کائنات کے لئے ایک دین اللہ ہے، اسی طرح انسانی زندگی کے لئے بھی ایک دین اللہ (آل عمران ۸۴) اللہ نے جس طرح مادی دنیا کے لئے ایک قانون مقرر کیا ہے، اسی طرح اس نے انسانی دنیا کے لئے بھی ایک قانون (رعد ۲) مقرر کیا ہے۔ جمادات و نباتات کی دنیا کے معاملات ہوں یا انسان کی انفرادی واجتماعی زندگی کے معاملات، دونوں جگہ کوئی حقیقی نتیجہ خدا کے مقررہ راستہ کو اختیار کر کے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

فطرت کے نظام میں تبدیلی صرف مسائل پیدا کرتی ہے امریکہ سے ایک ناول چھپا ہے جس کا نام ہے ” اکیلی خاتون “ Harold Robbins, The Lonely Lady New English Library, London, 1976, pp. 446 اس ناول میں امریکہ کے ترقی یافتہ معاشرہ کی ایک کمزوری کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ وہ یہ کہ عورت کی غیر شادی شدہ زندگی بالآخر ایک ناقابل برداشت تنہائی پر ختم ہوتی ہے۔ کہانی کے مطابق، ایک خوبصورت اور نوجوان امریکی خاتون فلمی دنیا کی چمک دمک (Glamour) سے متاثر ہوتی ہے۔ وہ شادی شدہ زندگی کو چھوڑ کر فلم ایکٹرس بن جاتی ہے ۔ اس کی با کمال نسوانیت

اس کی مدد کرتی ہے۔ وہ بہت جلد ترقی کی سیڑھیاں طے کرنے لگتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ ترقی کے آسمان پر پہنچ جاتی ہے ۔ دولت، شہرت، عزت اور چاہنے والوں کی بھیڑ، ہر چیز بافراط اس کے گرد جمع ہو جاتی ہے۔ مگر ترقی کی آخری انتہا پر پہنچنا اس کو سکون نہیں دیتا۔ اب وہ ایک تلخ حقیقت (Bitter Truth) کو دریافت کرتی ہے :

That fame has a way of fading, and friends a way of disappearing when they are most needed. یہ کہ شہرت بالآخر ختم ہو جاتی ہے۔ اور دوست بالآخر ساتھ چھوڑ دیتے ہیں جب کہ ایک عورت کو ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے، یہ امریکی خاتون نہایت حسرت بھرے انداز میں کہتی ہے :

Printed page