Al-Risala · June 1979

Only a woman knows what loneliness is

Al-Risala, June 1979, p. 19

By Maulana Wahiduddin Khan

حقیقت یہ ہے کہ ایک عورت ہی اس بات کو جانتی ہے کہ اکیلا پن کیا ہے۔ ناول کا خلاصہ یہ ہے کہ عورت اکیلی نہیں رہ سکتی۔ کے ذریعہ بڑی بڑی کمائی کرنا اور اپنے لئے ایک خود مختار زندگی حاصل کرنا بظاہر بڑا پرکشش معلوم ہوتا ہے۔ مگر جب عورت کی عمر زیادہ ہوتی ہے۔ جب اس کے ساتھیوں میں اس کے لئے کشش باقی نہیں رہتی تو وہ ایک ناقابل برداشت حادثہ سے دوچار اس کے پاس دولت اور مادی ساز و سامان کا انبار ہوتا ہے۔ مگر وہی چیز نہیں ہوتی جس کی ایک عورت کو سب سے زیادہ ضرورت ہے یعنی زندگی کا چین ۔ اس کے پاس سب کچھ ہوتا ہے مگر وہ انسان نہیں ہوتا جو اس کے صبح و شام میں اس کا ساتھی بن سکے۔ وہ ایک ایسے آباد گھر کی مالک نہیں ہوتی جسے وہ اپنا گھر سمجھے :

Here is a loneliness born of independence, of honest indivi- dualism in a society where only dishonesty brings profit. یہ ایک تنہائی ہے جو خود مختار زندگی سے برآمد ہوتی ہے ، ایک دیانت دارانہ فردیت ، ایک ایسے سماج میں جہاں بددیانتی ہی سب سے بڑا نفع بخش سرمایہ ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ انسانی زندگی کا نظام بے حد نازک ترکیب کے ساتھ بنایا گیا ہے۔ اس میں ادنی تبدیلی بھی صرف بربادی پر ختم ہوتی ہے، جمادات اور نباتات کی دنیا کے لئے ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ کامیابی کا راز یہ ہے کہ فطرت کے بنائے ہوئے نظام سے انحراف نہ کیا جائے ۔ یہاں مطلوب نتیجہ تک پہنچنا اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ فطرت کے مقررہ ڈھانچہ کو قبول مگر وہی انسان جو جمادات اور نباتات کے معاملہ میں اس حقیقت کی مکمل پابندی کرتا ہے وہ خود اپنی زندگی کے معاملہ میں اس ابدی حقیقت کو بھول جاتا ہے۔ عورت اور مرد کے لئے فطرت کا بنایا ہوا نظام یہ ہے کہ وہ شادی شدہ زندگی ان کی جسمانی ساخت ، ان کے نفسیاتی اور خاندانی مسائل ، ان کے اجتماعی رشتے سب اپنی درستگی کے لئے شادی شدہ زندگی کا تقاضا کرتے ہیں۔ عورت کا آزاد اور خود مختار ہونا، الفاظ کے اعتبار سے بظاہر بڑا خوبصورت معلوم ہوتا مگر اس کا عملی تجربہ اتنا ہی بھیانک ہے۔ عورت اپنی جوانی کی عمر میں بڑی آسانی سے اس قسم کے نظریات کا شکار ہو جاتی مگر جب اس کی عمر زیادہ ہوتی ہے تو اس کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا راستہ غلط تھا۔ مگر یہ علم اس کو صرف اس وقت ہوتا ہے جب کہ تلافی کا وقت نہیں ہوتا۔ اب اس کے لئے موجودہ دنیا میں جو چیز رہ جاتی ہے وہ صرف یہ کہ کتوں اور خرگوشوں کو پال کر مصنوعی طور پر ان سے دل بہلائے اور بالآخر حسرت اور مایوسی کے قبرستان میں جاکر سو رہے ۔

Printed page