Al-Risala · June 1979

Dr. Lyall Watson, The Romeo Error

Al-Risala, June 1979, p. 20

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کتاب میں مصنف نے کثیر تعداد میں ایسے لوگوں کے واقعات جمع کئے ہیں جن کو ڈاکٹروں نے "مردہ" قرار دے دیا تھا، پھر وہ "زندہ" ہوگئے۔ انھوں نے اپنی "موت" کے تجربات بتائے۔ یہ واقعات مختلف الگ الگ ملکوں سے جمع کئے گئے ہیں۔ مگر ان میں حیرت انگیز یکسانیت ہے۔ مثلاً "موت" کے بعد اپنے مردہ جسم سے الگ اپنے وجود کا ایک تیز روشنی کا دیکھنا۔ اپنے مردہ عزیزوں سے ملاقات، وغیرہ۔ اس یکسانیت کی وجہ سے علماء یہ ماننے پر مجبور ہوئے ہیں کہ ضروران میں کوئی صداقت ہے۔

کانفرنس میں جو مقالات پیش کئے گئے ان میں ایک اہم مقالہ ڈاکٹر کارلوز اوسس (Carlos Osis) کا انھوں نے ایک ہزار ایسے واقعات کا تجزیہ کیا جن میں مرنے والے لوگوں کے آخری لمحات کا ریکارڈ جمع کیا گیا ہے۔ یہ واقعات امریکہ اور ہندوستان کے لوگوں کے تھے۔ ماحول اور جغرافیہ کے غیر معمولی فرق کے باوجود مرنے والوں کے تاثرات انتہائی یکساں تھے۔ مثلاً ہر ایک کو آخر وقت میں ایسے الفاظ سنائی دیئے جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ اپنے آپ کو ایک اور دنیا میں داخل ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں جہاں ان کے مرے ہوئے اعزہ پہلے سے موجود ہیں۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آدمی جب موت کے بالکل قریب پہنچتا ہے تو اس کے اوپر سے غیب کے پردے ہٹنے وہ دوسرے عالم کو دیکھنے لگتا ہے۔ اس وقت اس کی زبان سے جو کلمات نکلتے ہیں وہ گویا ایک ایسے شخص کے کلمات ہوتے ہیں جو اپنے سفر حیات کو مکمل کرکے اگلی دنیا کے دروازے پر کھڑا ہو گیا ہو۔ سورہ واقعہ کے اس بیان سے اس کی تائید ہوتی ہے کہ جب جان حلق تک آ جاتی ہے تو "ہم مرنے والے کے پاس ہوتے ہیں مگر تم نہیں دیکھتے۔

Printed page