جو اس لئے عمل کرتے ہیں کہ انہیں کہا جائے
Al-Risala, June 1979, pp. 23–24
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک ”ظالم حکمران کو اقتدار سے ہٹانے کے لئے پرشور جہاد شروع ہو تو بہت سے لوگ اس کے جھنڈے کے نیچے جمع ہوجاتے ہیں، حتیٰ کہ ان میں ایسے بھی ہیں جو حکومت کی گولیاں کھا کر جان دے دیتے ہیں، لیکن ایک معمولی آدمی جوان مجاہدین میں سے کسی مجاہد کے ظلم کا شکار ہورہا ہو اور وہ اس مجاہد سے مل کر کہے کہ میرے اوپر اپنا یہ ظلم ختم کر دو تو مجاہد اسلام کو اس معاملہ سے کوئی دلچسپی نہ ہوگی۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ”ظالم حکمران“ کو گدی سے ہٹانا ایک ایسا کام ہے جو اخبارنہ میں چھپتا ہے، اس میں لیڈری ملتی ہے۔ اس سے آدمی کا نام چمکتا ہے، اس کے برعکس ایک انفرادی معاملہ کو نپٹانا اپنے اندر کوئی اخباری اہمیت نہیں رکھتا۔ مزید یہ کہ اس میں اپنے نفس کو دبانا ہے جو ہمیشہ انسان کے لئے مشکل ترین کام رہا ہے۔ اجتماعی خطاب میں الفاظ بولنا کافی ہوجاتا ہے جب کہ انفرادی شکایت کو دور کرنے میں عمل کے تقاضے پورے کرنے ہوتے ہیں، پہلی صورت میں آدمی کی شان بڑھتی ہے، دوسری صورت میں اس کی شان گھٹتی ہے۔ پہلی صورت میں آدمی کا درجہ بلند ہوتا ہے اور دوسری صورت میں یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ اپنے آپ کو دوسرے کے مقابلہ میں نیچا کرنا پڑے گا۔
اسی طرح تقریر و تحریر کے اسٹیج پر دین کی علم برداری کرنی ہو تو بہت سے سورما مل جائیں گے جو اسلامی موضوعات پر الفاظ کے دریا بہا دیں۔ مگر اسلامی تعمیر کے لئے خاموش جدوجہد کرنا ہو تو اس میں اپنا حصہ ادا کرنے کا شوق کسی میں پیدا نہیں ہوگا۔ کسی شہر میں فساد ہو جائے تو رہنماؤں کا قافلہ امدادی چندہ جمع کرنے کے لئے نکل پڑے گا۔ لیکن اگر ایک مصیبت کا مارا آدمی ان کے پاس پہنچے اور ان سے اپنی امداد کے لئے کہے تو اس کی مدد کے لئے کوئی تڑپ ان کے اندر نہ پیدا ہوگی۔ مسلمانوں کی کسی آبادی پر آفت نازل ہو تو وہ اخباری بیان کے ذریعہ لوگوں سے ”یوم دعا“، منانے کی اپیل مگر ان کی اپنی ایک رات بھی ایسی نہ گزرے گی جب کہ ستم رسیدہ مسلمانوں کے غم میں ان کی نیند اڑ گئی ہو اور وہ رو رو کر اپنی تنہائیوں میں اللہ سے دعائیں مانگ رہے ہوں۔ وہ خود اپنا منصب یہ بتائیں گے کہ خدانے ان کو احتساب کائنات کا کام سپرد کیا ہے لیکن اگر ان کی اپنی ذات میں کسی غلطی کی نشان دہی کیجئے تو پھر اٹھیں گے اور چاہیں گے کہ ایسے گستاخ انسان کی جڑ کھود ڈالیں۔
کیوں ایسا ہے کہ پہلی قسم کے کام کا موقع ہو تو سارے رہنما اس کی طرف دوڑتے ہیں۔ اس کے برعکس دوسرے قسم کے کام کے لئے ان کے اندر کوئی اکساہٹ پیدا نہیں ہوتی۔ اس کی وجہ صرف ایک ہے۔ پہلے کام میں شہرت و عزت ملتی ہے۔ دوسرے کام میں آدمی کو اس قسم کا کوئی دنیوی کریڈٹ نہیں ملتا۔ وہ اسلام سے یہ قیمت لینا چاہتے ہیں کہ ان کو ”کہا جائے“۔ اس لئے جہاں کہے جانے کی امید ہو وہاں وہ لپکتے ہیں اور جہاں یہ امید نہ ہو اس سے بے رغبت ہو جاتے ہیں۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ رہنماؤں میں جس اسلام کی دھوم ہے وہ اشتہاری اسلام ہے نہ کہ حقیقی اسلام۔ وہ دنیوی قیادت کا ایک بازار لگاتے ہیں اور اس کو مقدس ظاہر کرنے کے لئے اس کو اسلام کا نام دے دیتے ہیں۔ ان کو اس اسلام سے دلچسپی ہے جس میں اخباری اہمیت (نیوز ویلیو) ہو جس سے ان کی قائدانہ امیج بنتی ہو، جس کے ذریعہ دنیا کا کوئی نفع حاصل ہوتا ہو۔
جس اسلام سے کوئی دل چسپی نہیں جس سے خدا خوش ہوتا ہو، جس سے آخرت کا انعام ملنے والا ہو۔ ایسے لوگوں کی ظاہری کامیابیاں اکثر انہیں دھوکے میں ڈال دیتی ہے۔ مگر انہیں اس حدیث رسول کو نہ بھولنا چاہئے جس کو بیان کرتے ہوئے رسول اللہ کے صحابی بے ہوش ہو گئے تھے :
عن ابی ہریرة رضی الله قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ان اول الناس يقضى يوم القيامة علیہ رجل استشهد فأتی به فعرفه نعمه فعرفها، قال: فما عملت فيها؟ قال: قاتلت فيك حتى استشهدت، قال: كذبت و لكنك قاتلت لأن يقال جری فقد قيل، ثم أمر به فسحب على وجهه حتى القى في النار، ورجل تعلم العلم وعلمه وقرأ القرآن، فأتی به فعرفه نعمه فعرفها، قال: فما عملت فيها؟ قال: تعلمت العلم وعلمته، وقرأت نيك القرآن، قال: كذبت ولكنك تعلمت ليقال عالم، وقرأت القرآن ليقال قاری فقد قيل، ثم أمر به فسحب علی وجهه حتى القى في النار، ورجل وسع الله عليه وأعطاه من اصناف المال فأتی به فعرفه نعمه فعرفها، قال: فما عملت فيها؟ قال: ما تركت من سبيل تحب ان ينفق فيها الا أنفقت فيها لك، قال: كذبت ولكنك فعلت ليقال هو جود نقد قيل، ثم أمر به فسحب على وجهه ثم القى في النار، (رواه مسلم)
حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: قیامت کے دن سب سے پہلے جس کا فیصلہ کیا جائے گا وہ شخص ہے جو شہید ہوا۔ اس کو لایا جائے گا۔ اللہ اس کو اپنی نعمتیں بتائے گا۔ وہ ان کا اقرار کرے گا۔ فرمائے گا تو نے ان نعمتوں کے ساتھ کیا عمل کیا۔ وہ کہے گا میں نے تیری راہ میں جنگ کی یہاں تک کہ میں شہید ہو گیا۔ اللہ فرمائے گا تو نے جھوٹ کہا۔ بلکہ تو نے اس لئے جنگ کی تاکہ کہا جائے کہ تو بہادر ہے۔ سو کہا جا چکا۔ پھر حکم ہو گا اور اس کو منہ کے بل گھسیٹ کر آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ اس کے بعد اس شخص کو بلایا جائے گا جس نے علم دین سیکھا اور اس کی تعلیم دی اور قرآن اللہ اس کو اپنی نعمتیں بتائے گا وہ ان کا اقرار کرے گا۔ اللہ فرمائے گا تو نے ان نعمتوں کے ساتھ کیا عمل کیا۔ وہ کہے گا میں نے علم دین سیکھا اور سکھایا اور تیری راہ میں قرآن پڑھا۔ اللہ فرمائے گا تو نے جھوٹ کہا۔ بلکہ تو نے علم اس لئے سیکھا تاکہ تو عالم کہا جائے اور قرآن اس لئے پڑھا تا کہ تجھ کو قرآن پڑھنے والا کہا جائے‘ سو کہا جا چکا۔ پھر حکم ہوگا اور اس کو منہ کے بل گھسیٹ کر آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ اس کے بعد اس شخص کو بلایا جائے گا جس کو اللہ نے وسعت دی تھی اور مال عطا کیا تھا۔ اللہ اس کو اپنی نعمتیں بتائے گا۔ وہ ان کا اقرار کرے گا۔ اللہ فرمائے گا تو نے ان نعمتوں کے ساتھ کیا عمل کیا۔ وہ کہے گا میں نے ان کو تیرے پسندیدہ راستوں میں خرچ کیا۔ اللہ فرمائے گا تو نے جھوٹ کہا۔ بلکہ تو نے اس لئے خرچ کیا کہ تجھ کو سخی کہا جائے۔ سو کہا جا چکا۔ پھر حکم ہوگا اور اس کو منہ کے بل گھسیٹ کر آگ میں ڈال دیا جائے۔
یہ ان لوگوں کا حال ہے جنہوں نے دین کے نام پر جان دی، دین کی خدمت میں اپنی زندگیاں لگائیں۔ دین کے نام پر اپنے مال کو خرچ کیا۔ مگر یہ سب کچھ انھوں نے نمائش کے جذبہ کے تحت کیا۔ اس لئے وہ خدا کے یہاں مقبول ٹھہرے اور جہنموں میں داخل کر دیئے گئے۔ پھر ان لوگوں کا قیامت کے دن کیا حال ہوگا جنھوں نے دین کو تجارت بنایا جنھوں نے دین کے نام پر دنیا کمائی۔ جو دین کو دینے کے بجائے صرف دین سے لیتے رہے۔