Al-Risala · June 1979

نظامِ مصطفیٰ نئی تعبیر

Al-Risala, June 1979, p. 27

By Maulana Wahiduddin Khan

ذوالفقار علی بھٹو کی قید کے زمانہ میں پاکستان قومی اتحاد کے ایک حامی اخبار نے طنزیہ انداز میں لکھا تھا: اب تو بھٹو نے جیل میں سجادہ بچھا لیا ہے، نمازیں پڑھنا شروع کردی ہیں تسبیح ہاتھ میں لئے اور اوراد و وظائف میں مشغول دکھائی دیتے ہیں (المخبر فیصل آباد ۲۳ مئی ۱۹۷۸) ۴ اپریل ۱۹۷۹ء کو راولپنڈی کی جیل میں مسٹر بھٹو کو پھانسی دے بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ مسٹر بھٹو کو جب پھانسی کے تختہ پر کھڑا کیا گیا تو آخری کلمات جو ان کی زبان سے نکلے وہ یہ تھے: ’’خدایا میری مدد کر، میں بے قصور ہوں‘‘۔ رپورٹر مسٹر مارک ٹولی (Mark Tully) کے لئے دنیا کو اس واقعہ کی خبر دینا اتنا مہنگا ثابت ہوا کہ نظامِ مصطفیٰ کے علم بردار نوجوانوں نے اسلام آباد میں رپورٹر کو گھیر کر اشک سے مارا اور حکومت نے اس کے خلاف راولپنڈی کے مجسٹریٹ کے یہاں مقدمہ دائر کردیا۔ نظامِ مصطفیٰ کی یہ قسم بالکل نئی ہے کہ اس کے علم بردار کسی شخص کو صرف اس کے جرم کی سزا دینا کافی نہیں سمجھتے، اسی کے ساتھ وہ اس کو جہنم میں پہنچانا بھی ضروری خیال کرتے ہیں ۔

Printed page