Al-Risala · June 1979

آخرت کا راستہ صبر کا راستہ ہے

Al-Risala, June 1979, pp. 29–30

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ لوگ اپنے واجبات کو پورا کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی سختی ہر طرف پھیلی ہوئی ہوگی۔ وہ اللہ کی محبت میں غریب اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔ ہم تم کو صرف اللہ کی رضا مندی کے لئے کھلا رہے ہیں۔ ہم تم سے کوئی بدلہ نہیں چاہتے اور نہ شکر گزاری چاہتے ہیں۔ ہم کو تو اپنے رب کی طرف سے ایک سخت اور تلخ دن کا اندیشہ ہے۔ ان کو اس دن کی سختی سے بچائے گا اور ان کو تازگی اور خوشی عطا کرے گا اور ان کے صبر کے بدلے ان کو جنت اور ریشمی لباس عطا کرے گا۔ وہ وہاں تختوں پر مسندیں لگائے ہوئے ہوں گے۔ وہاں نہ گرمی کی تکلیف ہوگی اور نہ سردی کی۔ کے درخت ان پر جھکے ہوئے سایہ کر رہے ہوں گے۔ اس کے پھل ہر وقت ان کے بس میں ہوں گے۔ لوگ ان کے پاس چاندی کے برتن اور شیشے کے پیالے لئے پھر رہے ہوں گے۔ وہ شیشے بھی چاندی کے ہوں گے جن کو بھرنے والوں نے ٹھیک اندازہ کے مطابق بھرا ہوگا۔ ان کو وہاں ایسے پیالے پلائے جائیں گے جن میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی۔ یہ جنت کا ایک چشمہ ہوگا جس کو سلسبیل کہا جاتا ہے۔ ان کی خدمت کے لئے ایسے لڑکے دوڑتے پھر رہے ہوں گے جو ہمیشہ لڑکے رہیں گے۔ تم ان کو دیکھو تو سمجھو کہ موتی ہیں جو بکھیر دیئے گئے ہیں۔ وہاں تم جدھر بھی نگاہ ڈالو گے ہر طرف نعمتیں اور بڑی بادشاہی دیکھو گے۔ اوپر باریک ریشم کے سبز لباس اور اطلس و دیبا کے کپڑے ہوں گے۔ ان کو چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کا رب ان کو پاکیزہ شراب پلائے گا۔ یہ ہے تمھارا بدلہ اور تمھاری کوشش اللہ کے یہاں مقبول ہوئی (الدھر) قرآن کا یہ ارشاد بتا رہا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جن کی کوششیں آخرت میں سعی مشکور (دہر (۲۲) کا درجہ حاصل یہ لوگ ہیں جو آخرت کی ہولناکیوں کا اتنا شدید احساس رکھتے ہیں کہ وہ ان کے اوپر ایک قسم کا آسمانی محاسب بن کر چھا جائے۔ ان کا حال یہ ہو جائے جیسے کہ وہ موت کے دوسری طرف جہنم کو بھڑکتا ہوا دیکھ رہے ہوں اور اسی کے زیر اثر سارا کام کر رہے ہیں۔ وہ جب کوئی کریں ، خواہ منت کا عہد ہو یا ایمان کا عہد یا قول و قرار کا عہد، تو وہ اس کو اس طرح پورا کریں جیسے وہ بے پناہ یقین کے ساتھ یہ محسوس کر رہے ہیں کہ اگر انھوں نے اس کو پورا نہ کیا تو جہنم کی آگ انھیں ان کا ایمان بالله ان پر جن باتوں کو لازم کر رہا ہے اور ان کا عہد ان کو عہد جن چیزوں کا پابند بنا رہا ہے، ان کو وہ اس طرح پورا کریں جیسے وہ ایک ایسی سرحد پر کھڑے ہوئے ہیں جہاں ان کے دو میں سے صرف ایک چیز کے انتخاب کا یا قول و قرار کے تقاضوں کو پورا کرنا یا جانتے بوجھتے اپنے آپ کو جہنم کے الاؤ میں گرا دینا۔ آخرت کے احساس ہی کے تحت ان کے اندر جو دوسری خصوصیت پیدا ہوتی ہے وہ بندوں کے ساتھ مہربانی ہے۔ وہ اپنے لئے اپنے رب سے مہربانی چاہتے ہیں اس لئے وہ خود بھی دوسروں کے ساتھ مہربانی کرتے ہیں نہ اپنی کمائی میں محتاجوں کا حق سمجھنے لگتے ہیں۔ وہ ان لوگوں کا سہارا بنتے ہیں جو حالات کے نتیجہ میں بے بس ہو گئے تھے یا بندشوں میں پھنسے ہوئے تھے۔ بندگان خدا کی خدمت کا یہ کام جو وہ کرتے ہیں، بدلہ اور شکرانہ وصول کرنے کے لئے نہیں اس کا محرک تمام تر یہ ہوتا ہے کہ آخرت کے دن جب وہ خدا کے سامنے تمام کمزوروں سے زیادہ کمزور حالت میں کھڑے

ہوں ، اس وقت ان کا خدا ان کو بے یار و مددگار نہ چھوڑے بلتاکہ ان کی مدد فرمائے۔ دنیا کی زندگی میں کسی کے ساتھ اچھا سلوک ان کے لئے دراصل ایک عملی دعا ہوتی ہے۔ وہ بھوکے کو کھلاتے ہیں تاکہ خدا ان کو کھلائے، ، وہ کمزوروں کو سہارا دیتے ہیں ، کہ خدا ان کو سہارا دے۔ وہ انسانوں کی طرف سے ڈالی ہوئی تکلیفوں کو معاف کرتے ہیں تاکہ خدا ان کی غلطیوں کو معاف کر دے۔

ان لوگوں کو یہ نعمتیں اس لئے ملیں گی کہ انھوں نے صبر کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کی دنیا میں کل کی دنیا کے لئے جینا ، دکھائی دینے والے ”جنت اور جہنم“ کو نظر انداز کر کے نہ دکھائی دینے والے جنت و جہنم کے لئے سرگرم ہونا ایک بے حد مشکل کام ہے۔ اس میں ہر وقت آدمی کے صبر کا امتحان ہے۔ اس راہ میں کہیں ملتے ہوئے فائدوں سے محرومی کو گوارا کرنا پڑتا ہے۔ کبھی خارجی مجبوری کے بغیر خود سے اپنے آپ کو کسی چیز کا پابند کر لینا پڑتا ہے۔ کہیں اپنی بے عزتی کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ کہیں زیادہ کو چھوڑ کر کم پر قانع ہونا پڑتا ہے۔ کہیں قدرت رکھتے ہوئے اپنے ہاتھ پاؤں کو روک لینا پڑتا کہیں اپنی مقبولیت کو دفن کرنے پر راضی ہونا پڑتا ہے۔ کہیں شہرت اور استقبال کے راستے کو چھوڑ کر گم نامی کے طریقے کو اختیار کرنا پڑتا ہے۔ کہیں الفاظ کا ذخیرہ ہوتے ہوئے اپنی زبان کو بند کر لینا پڑتا ہے۔ کہیں جانتے بوجھتے دوسرے کا بوجھ اپنے سر پر لے لینا پڑتا ہے۔ کہیں اپنے آپ کو ایک ایسے کام میں شریک کرنا پڑتا ہے جس میں کسی قسم کا کوئی کریڈٹ ملنے والا نہیں۔ غرض جنت کی طرف سفر کا سارا معاملہ صبر و برداشت کا معاملہ ہے۔ جو اپنے آپ کو دبانے اور کچلنے کے لئے تیار نہ ہو وہ کبھی اس راہ کو طے نہیں کر سکتا :

وقال الذین اوتوا العلم ویلکم ثواب اللہ خیر لمن آمن اور کہا ان لوگوں نے جن کو علم ملا تھا ، خرابی ہو تمھاری ۔ کا ثواب بہتر ہے اس شخص کے لئے جو ایمان لایا اور نیک عمل کیا۔

اور یہ بات انھیں کے دل میں پڑتی ہے جو صبر کرنے والے ہیں۔

دنیا کی زندگی دراصل صبر کا امتحان ہے۔ صبر کی ایک قسم وہ ہے جو باہر کی دنیا کے خلاف ظاہر ہوتی ہے۔ ماحول کی رکاوٹوں کا خاموش مقابلہ کرتے ہوۓ ، اپنے دینی سفر کو جاری رکھتا ہے۔ مگر سب سے بڑا صبر وہ ہے جو خود اپنے خلاف پیش آتا ہے۔ زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ کوئی نا خوش گوار واقعہ پیش آنے کی وجہ سے اپنے کسی بھائی کے خلاف نفرت اور انتقام کی آگ بھڑک اٹھتی ہے ، ایسے موقع پر منفی جذبات کی پرورش سے اپنے کو روکنا پڑتا ہے۔ کسی کی ترقی اور مقبولیت کو دیکھ کر اس کے خلاف حسد جاگ اٹھتا ہے۔ اس وقت دشمن جیسی بے رحمانہ نظر سے اپنے دل کو ٹوٹنا پڑتا ہے تاکہ حسد اور رقابت کے بیج کو نکال پھینکا جائے۔ کبھی آدمی ایک شخص کو اچھا سمجھتا ہے حالاں کہ اس کی وجہ صرف اس کا نیاز مندانہ انداز ہوتا ہے اور کبھی ایک شخص کو برا سمجھتا ہے حالاں کہ اس کی وجہ صرف اس کا تنقید و احتساب کا مزاج ہوتا ہے ، ایسے مواقع پر اپنے آپ کو کھینچ کر ایسے مقام پر لے جانا پڑتا ہے جہاں وہ تعریف و تنقید سے بلند ہو کر دوسروں کے بارے میں رائے قائم کر سکے۔ دوسروں کے ساتھ انصاف اور خیر خواہی کے بغیر کوئی شخص دین دار نہیں بنتا اور انصاف اور خیر خواہی پر قائم ہو نا صبر کے بغیر ممکن نہیں۔

وعل عمل صالحا ولا یلقھا الا الصبرون

Printed page