ذہنی کھول : سب سے بڑی رکاوٹ
Al-Risala, June 1979, pp. 31–26
By Maulana Wahiduddin Khan
وقال الذين كفروا للذين آمنوا لوكان خيرا انکار کرنے والے لوگ ماننے والوں کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ ما سبقونا اليه ط واذ لم يهتدوابه فسيقولون قرآن اگر کوئی اچھی چیز ہوتی تو اس کو قبول کرنے میں یہ لوگ هذا افك قديم (احقاف (۱۱) ہم سے آگے نہ نکل جاتے۔ جب نہ اس کے بتانے سے راہ پر نہیں آئے تو اب وہ کہیں گے کہ یہ پرانا جھوٹ ہے۔
کسی معاشرے میں جب حق کی آواز بلند ہوتی ہے تو عام طور پر وہ لوگ اس کی طرف کھنچتے ہیں جو کسی نہ کسی قسم کی کمی سے دوچار ہوں اور اپنے اندر خلا محسوس کرتے ہوں۔ ان کا اندرونی خلا کا احساس ان کے لئے ایک مددگار قوت بن جاتا ہے اور وہ کسی حجاب یار کاوٹ کے بغیر حق کو پالیتے ہیں اور اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔
اس کے برعکس وہ لوگ جن کی عزت وشہرت کے کھونٹے گڑے ہوئے ہوں، جو فتح وکامرانى کے احساس میں مگن ہوں، جن کی تمام ضرورتیں بافراط پوری ہو رہی ہوں، جن کو ہر طرف اپنے لئے میدان کھلے ہوئے نظر آتے ہوں۔ ایسے لوگوں کے اندر ایک قسم کی قناعت پیدا ہو جاتی ہے، وہ اپنے سے باہر کسی آواز کو اپنانے کی ضرورت نہیں کرتے۔ حق کی آواز کو قبول کرنے میں سب سے زیادہ پیچھے وہ لوگ رہتے ہیں جن کو روایتی مذہبی نظام میں بڑی بڑی گدیاں حاصل ہوگئی ہوں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کو اسلاف کا جانشین کہا جاتا ہے۔ مذہب کی نمائندگی کے اسٹیج پر وہ تقریری کمال دکھار ہے ہوتے ہیں، صدارت اور استقبال کے اعزازات ہر جگہ ان کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ ہدیے اور نذرانے کی رئیس ان کے پاس اس طرح آنے لگتی ہیں گویا وہ مذہبی شہزادے ہیں اور ساری قوم ان کی باج گزار ہے۔ یہ صورت حال ان کے اور ان کے پیروؤں کے اندر یہ جھوٹا یقین پیدا کر دیتی ہے کہ وہی حق پر ہیں۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ حق کی آواز کی طرف نسبتاً کمتر درجہ کے لوگ بڑھ رہے ہیں، اور وہ اپنے اندر اس کے لئے کشش نہیں پاتے، تو وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ یہ حق نہیں ہے۔ اگر وہ حق ہوتا تو لازم تھا کہ وہ سب سے پہلے ان کو اپنی طرف کھینچتا۔ خدا کو پانے کی واحد قیمت اپنی ذات کی نفی ہے۔ اپنی نفی کے بعد ہی خدا کا اثبات ہوتا ہے۔ خداظاہر کو نہیں باطن کو دیکھتا ہے۔ وہ ٹوٹے ہوئے دلوں کے پاس ہوتا ہے۔ وہ ان سینوں میں اترتا ہے جنہوں نے غیر خدائی چیزوں سے اپنے کو پوری طرح خالی کر لیا ہو۔ جب آدمی اس مقام پر پہنچتا ہے جہاں وہ خدا کا ہم صحبت بن سکے تو یہ وقت وہ ہوتا ہے جب کہ وہ ان دنیوی زخارف سے خالی ہو چکا ہوتا ہے جو انسانوں کی نظر میں اہمیت رکھتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ جن کی نظر میں دنیا کی چمک دمک سے اوپر نہ اٹھی ہوں وہ ان کی اہمیت کو سمجھ نہیں پاتے ۔ ایسے انسان کو وہ حق کا علبردار سمجھنے کے بجائے ایک سرپھرا آدمی سمجھ لیتے ہیں۔ وہ اپنی "گدیوں" پر بیٹھے ہوئے نہایت اطمینان سے کہہ دیتے ہیں : برخود غلط قسم کے لوگ ہمیشہ اس قسم کا ڈھونگ کھڑا کرتے رہتے ہیں، یہ بھی اسی فہرست میں ایک اضافہ ہے۔ زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں۔
آخرت میں اللہ کا دھیان سامنے آجائے گا۔ مگر موجودہ دنیا میں اللہ پر اس حال میں ایمان لانا ہے کہ وہ حالتِ غیب یہاں خدا کی نشانیوں سے خدا کو پہچاننا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اس دنیا میں خدا دلیل اور برہان کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ قرآن میں بار بار کہا گیا ہے کہ آیات اللہ پر غور کرو۔ اللہ کی آیتوں کو ماننا خدا کو ماننا ہے۔ اور اللہ کی آیتوں کا انکار کرنا خدا کا انکار کرنا ہے، آیات کیا ہیں۔ یہ خدا کو پہچاننے کے دلائل ہیں جو کبھی فطرت کے اشاروں میں اور کبھی وحی کے الفاظ کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔
صحیح دلیل خدا کی طرف سے آئی ہوئی بات ہوتی ہے۔ اس کی صحت کو پا لینا خدا کو پا لینا ہے اور اس کے آگے جھکنا خدا کے آگے جھک جانا۔ صحیح دلیل سامنے آنے کے بعد جو شخص جدال کرے، جو اپنی دولت اور وجاہت کے گھمنڈ میں اس کو نظر انداز کردے، وہ گویا خدا کو نظر انداز کر رہا ہے۔ اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے جس کے پاس خدا خود آیا مگر اس نے خدا کا استقبال نہ کیا۔
پیغمبروں نے خدا کی طرف سے حق کی آواز بلند کی۔ مگر وقت کے غالب لوگوں نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا۔ اس کی بڑی وجہ ان کی خود فریبی تھی۔ چوں کہ وہ وقت کی معاشیات پر قابض تھے۔ اقتدار کے اداروں میں ان کو رتبہ حاصل تھا۔ انصار کی بھیڑ ان کے گرد جمع تھی۔ اس بنا پر ان کے لئے یہ یقین کرنا مشکل ہو گیا کہ وہ حق پر نہیں ہیں۔ جب انھوں نے دیکھا کہ جس چیز کو حق کہا جاتا ہے اس کا انکار کرنے سے ان کا کچھ نہیں بگڑا۔ ان کا دبدبہ بدستور قائم ہے، ان کے مواقع پھر بھی کھلے ہوئے ہیں اور ان کے دنیوی کام اس کے باوجود بن رہے ہیں تو وہ ایک قسم کے نفسیاتی فریب میں مبتلا ہو گئے۔ وہ دائمی حق کے مقابلہ میں اپنی کامیابیوں کو دیکھ کر دھوکے میں پڑ گئے۔ وہ سمجھنے لگے کہ ”جب میں کامیاب ہوں تو یقیناً میں ہی حق پر ہوں“ ظاہری کامیابی کسی کے برحق ہونے کا کوئی ثبوت نہیں۔ مگر ظاہری کامیابی اکثر آدمی کو خود فریبی میں مبتلا کر دیتی ہے۔ آدمی کا رب بعض اوقات اس کو وقتی اور ظاہری کامیابی اس لئے دے دیتا ہے کہ اس کے ذریعہ سے وہ اس کو آزمائے۔ کہ کیا وہ اپنی کامیابیوں کو دیکھ کر دھوکے میں پڑ جاتا ہے۔ مگر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اپنے ذہنی خول میں اپنا ایک گھروندا بنا لیتا ہے اور اسی کے اندر جینے لگتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ اس کے خیالی گھروندے کا حقیقت کی دنیا سے کوئی تعلق نہیں۔ خود ساختہ گھروندے کے خانہ میں چوں کہ اس کو اپنی ذات درست نظر آتی ہے، اس لئے وہ سمجھ لیتا ہے کہ فی الواقع بھی وہ درست اور صحیح ہے۔
خدا زمین و آسمان کی خاموش زبان میں بولتا ہے۔ وہ اپنے چنے ہوئے بندوں کے ذریعہ اپنی بات کا اعلان کرتا ہے وہ انسان کے ضمیر میں داخل ہو کر حقیقت کا آئینہ اس کے سامنے کر دیتا ہے۔ مگر انسان اپنی جھوٹی خوش گمانیوں کی وجہ سے ان پر دھیان نہیں دیتا۔ خدا اس کو سچائی کی جھلک دکھاتا ہے۔ مگر وہ اپنے نفسیاتی بندھنوں کو توڑ کر اس کی طرف نہیں خدا کا حسین روپ اس کے سامنے کھولا جاتا ہے۔ مگر وہ اس کی قدر دانی کا حق ادا نہیں کرتا۔ موت ان جھوٹی خوش گمانیوں کے طلسم کو توڑ دے گی ۔ اس وقت آدمی کو معلوم ہوگا کہ وہ جہنم کے کنارے کھڑا ہوا تھا اگرچہ وہ اپنے آپ کو جنت کا مالک سمجھ رہا تھا۔