شہادت کو وہ جنت کا مختصر راستہ سمجھتے تھے
Al-Risala, June 1979, pp. 35–46
By Maulana Wahiduddin Khan
شہید کے معنی گواہ کے ہیں۔ اس سے مراد اصلا وہ لوگ ہیں جو دنیا میں لوگوں کو زندگی کی اس حقیقت سے باخبر کریں کہ مرنے کے بعد انہیں خدا کی عدالت میں حساب کے لئے کھڑا ہونا ہے۔ جو لوگ دنیا میں یہ یاد دہانی دینے کا یہ کام وہ آخرت کی عدالت میں خدا کی طرف سے بطور گواہ پیش ہوں گے۔ ان کی گواہی کی بنیاد پر ان لوگوں کے اخروی مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا جن کے اوپر انہوں نے دنیا کی زندگی میں گواہی دی تھی۔ تاہم شہید کا لفظ مقتول فی سبیل اللہ کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اللہ کی راہ میں لڑ کر جان دینے والوں کی فضیلت میں جو احادیث آئی ہیں، ان میں سے ایک حدیث یہ ہے:
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم قَامَ فِيهِمْ فَذَكَرَ أَنَّ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالإِيمَانَ بِاللَّهِ أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ ، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ قَتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تُكَفَّرْ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم : نَعَمْ إِنْ قَتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلٌ غَيْرَ مُدْبِرٍ“ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم : ”كَيف قلت ؟ “؛ قَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ قَتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَتُكَفَّرُ عَنِّي خَطَايَايَ ؟ فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم : ” نعم وأنت صابر محتسب مقبل غير مدبر، إلا الدين فإن جبريل قال لي ذلك“، رواه مسلم ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اور اللہ پر ایمان لانا بہترین اعمال ہیں۔ ایک شخص نے اٹھ کر سوال کیا: اے خدا کے رسول اگر میں اللہ کی راہ میں مارا جاؤں تو کیا میری خطائیں معاف ہو جائیں گی۔ آپ نے فرمایا: ” ہاں، اگر تم اللہ کی راہ میں مارے جاؤ اور تم صابر ہو، اجر کے طلب گار ہو، آگے بڑھنے والے ہو۔ پیچھے مڑنے والے نہ ہو۔ “ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تم نے کس طرح کہا تھا، اس نے کہا: اگر میں اللہ کی راہ میں مارا جاؤں تو کیا میری خطائیں معاف ہو جائیں گے آپ نے فرمایا: ہاں، جب کہ تم صابر ہو، اجر کے طلب گار ہو، آگے بڑھنے والے ہو، پیچھے مڑنے والے نہیں ہو۔ سوا قرض کے کیونکہ جبریل نے مجھ کو یہی بتایا ہے ۔
صحابہ کرام کے حالات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ شہادت یا اللہ کی راہ میں قتل ہونے کو وہ جنت کا مختصر راستہ سمجھتے تھے ان کے نزدیک اصل مسئلہ یہ تھا کہ وہ اپنے رب کی جنت میں پہنچ جائیں۔ اللہ کی ناراضی سے بچنا اور اس کی رضا کو حاصل کرنا وہ چیز تھی جس کے لئے وہ سب سے زیادہ بے چین رہتے تھے۔ ہجرت کے بعد دشمنان اسلام سے مقابلہ چھڑا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ اللہ کی راہ میں جان دے دینا اللہ کی رضا اور اس کی جنت حاصل کرنے کا یقینی ذریعہ ہے۔ یہ سن کر وہ بیتابانہ اس کی طرف دوڑ پڑے۔ زندہ رہنے سے زیادہ اللہ کی خاطر مر جانا ان کے لئے محبوب بن گیا۔ کیونکہ یہ اللہ تک پہنچنے کا یقینی راستہ تھا اور اسی کے ساتھ قریبی بھی۔ شہادت ان کے لئے اللہ سے ملنے کا عنوان تھا نہ کہ حقیقتہ میدان جنگ کے لوگوں سے ملنے کا۔
ابن جریر نے شعبی کے واسطے سے نقل کیا ہے، خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ہرمز کے نام خط روانہ کیا، وہ ان دنوں ایران کی سرحد پر متعین تھا۔ انھوں نے لکھا :
اما بعد، ناسلم تسلم او اعتقد لنفسك قومك اما بعد، اسلام لاؤ نجات پاؤ گے۔ اسلام منظور نہیں ہے الذمة واقرر بالجزية والا فلا تلومن الا تو اپنی اور اپنی قوم کی طرف سے جزیہ ادا کر دو، ورنہ اپنے نفسك فقد جئتك بقوم يحبون الموت كما سوا کسی اور کو ملامت نہ کرنا۔ کیوں کہ میں تمھارے اوپر تحبون الحياة (تاریخ طبری، جلد ۲) ایک ایسی قوم لے کر آیا ہوں جس کو موت اسی طرح محبوب ہے جس طرح تم کو زندگی۔
صحاابل کرام اللہ کی راہ میں لڑ کر شہید ہونے کو نہ صرف نجات کا یقینی ذریعہ سمجھتے بلکہ ان کو یقین تھا کہ یہ وہ عمل ہے جو جنت کے سفر کو مختصر کر دیتا ہے۔ ابوبکر بن ابو موسیٰ اشعری رضہ کہتے ہیں کہ انھوں نے اپنے باپ سے سنا۔ جنگ کا موقع تھا، دشمن سامنے تھے۔ انھوں نے کہا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے : ان ابواب الجنة تحت ظلال السيوف (جنت کے دروازے تلواروں کی چھاؤں میں ہیں) ایک شخص نے جو پھٹے کپڑے پہنے ہوئے تھا، کہا: اے ابو موسیٰ ! کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے۔ انھوں نے کہا: ہاں، وہ آدمی اسی وقت اپنے ساتھیوں میں آیا۔ ان کو سلام کیا۔ پھر اپنی تلوار کی میان توڑ ڈالی اور تلوار لے کر دشمنوں کی صف میں گھس گیا۔ لڑتا رہا یہاں تک کہ مارا گیا (مسلم) جنگ بدر کے موقع پر جب دشمن بالکل قریب آگئے تو آپ نے فرمایا: قوموا الی جنة عرضها السموات والارض ایسی جنت کی طرف چلو جس کی چوڑائی آسمان و زمین کے برابر ہے) عمیر بن حمام انصاری نے کہا " آسمان و زمین جیسی چوڑی ؟ آپ نے فرمایا ہاں۔ ان کی زبان سے نکلا: بخ بخ (واہ واہ) آپ نے فرمایا تم نے بخ بخ کیوں کہا۔ انھوں نے جواب دیا : خدا کی قسم اس امید میں کہ شاید میں بھی جنت والوں میں ہو جاؤں ۔ آپ نے فرمایا تم ان میں سے ہو۔ انھوں نے کھجور نکالی اور کھانے لگے۔ پھر بولے : لئن انا حییت حتی آکل تمراتی هذہ انها لحياة طويلة (اگر میں ان کھجوروں کے کھانے تک زندہ رہوں تو یہ بڑی لمبی زندگی ہوگی) انھوں نے کھجوریں پھینک دیں دشمنوں میں گھس گئے اور لڑتے ہوئے شہید ہو گئے (مسلم) انس بن مالک کہتے ہیں کہ حرام بن ملحان رم کو جبار بن سلمی کلابی نے زخم کاری تھا، جسم سے خون بہ پڑا۔ حضرت حرام کی زبان سے نکلا: اللہ اکبر! فزت و رب الکعبہ (کعبہ کے رب کی قسم میں کامیاب ہو گیا) یعنی جنت کو پانے میں (بخاری) عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ ذی الحجہ ۸ ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین ہزار آدمی موتہ کی طرف روانہ کئے۔ یہ لوگ سرحد شام پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ ہرقل ایک لاکھ یا دولاکھ رومی لشکر کے ساتھ بلقاء میں ٹھہرا ہوا ہے۔ مسلمانوں میں سے کچھ لوگوں نے کہا کہ مقابلہ سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دشمنوں کی تعداد سے مطلع کیا جائے۔ عبداللہ بن رواحہ کھڑے ہوئے اور انھوں نے کہا :
یا قوم ! واللہ ان التی تكرهون للتي خرجتم تطلبون لوگو! خدا کی قسم جس چیز کو تم ناپسند کر رہے ہو، وہ وہی ہے الشهادة (البدایہ والنہایہ جلد ۴) جس کے لئے تم نکلے ہو۔