خدمت دین کی مشکلات
Al-Risala, June 1979, pp. 37–47
By Maulana Wahiduddin Khan
پندرہ سال پہلے کا ایک واقعہ مجھے یاد آرہا ہے۔ رواں نامی بستی کے باہر ایک باغ میں جماعت اسلامی کامقامی ماہانہ اجتماع ہورہا تھا۔ ظہر کا وقت تھا۔ اذان ہوچکی تھی، ایک بڑے درخت کے نیچے فرش بچھا ہوا تھا جہاں کچھ لوگ سنتیں پڑھ رہے تھے اور کچھ نماز کے وقت کا انتظار کر رہے تھے۔ اتنے میں ایک حادثہ پیش آیا۔ اجتماع کے بالکل قریب ایک بڑا سا گڑھا تھا جس کے عین کنارے سے راستہ گزرتا تھا۔ اس راستہ پر ایک بیل گاڑی جارہی تھی۔ جیسے ہی وہ گڑھے کے کنارے پہنچی اس کا ایک طرف کا پہیہ پھسل گیا اور پوری گاڑی کروٹ ہو کر گڑھے میں اس طرح گر گئی کہ ایک پہیہ اوپر کھڑا تھا اور دوسرا نیچے دبا ہوا تھا۔ جیسے ہی ہم میں سے کچھ لوگوں کی نظر اس پر پڑی، وہ فوراً اس کی مدد کے لئے دوڑ پڑے۔ گاڑی سامان سے لدی ہوئی تھی۔ بیل بھی اس کے ساتھ جوئے میں پھنسے ہوئے تھے۔ بظاہر سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ یہ چند لوگ کیسے اس مسئلہ کو حل کر سکیں گے۔ مگر یہ سوچنے کا وقت نہیں تھا، بلکہ فی الفور اقدام کرنے کا وقت تھا۔ والے فوراً اپنے کام میں لگ گئے۔ کچھ نے نیچے سے زور لگایا اور کچھ نے اوپر سے پکڑ کر گاڑی کو اٹھانا شروع کیا۔ خوش نصیبوں میں تھا جو گاڑی کو نیچے سے اٹھانے کی کوشش کر رہے تھے۔
اس کے بعد ایک حیرت انگیز واقعہ پیش آیا۔ یکایک ہم نے دیکھا کہ گاڑی اٹھا کر اوپر رکھ دی گئی ہے۔ واقعی ایسا ہی جو چند آدمی اس کام میں لگے تھے ان سب کا متفقہ احساس تھا کہ گاڑی ہم نے نہیں اٹھائی ہے، بلکہ وہ توکسی اور نے اٹھاکر کھڑی کر دی ہے۔ نیچے ہاتھ دینے والوں کو ایسا لگ رہا تھا جیسے اوپر سے کوئی اس کو کھینچے چلا جارہاہے۔ لوگ اوپر تھے ان کو ایسا محسوس ہورہا تھا گویا گاڑی نیچے سے اٹھتی چلی آرہی ہے۔
یہ واقعہ جو پچھلے پندرہ سال سے میری یادداشت کا بہترین سرمایہ رہا ہے اس کو میں نے قصہ خوانی کے طور پر آپ کے سامنے پیش نہیں کیا ہے، خدا مجھ کو اس سے بچائے کہ میں قصہ خوانی کو اپنا طریقہ بناؤں اور قصے سنانے میں آپ کا وقت ضائع کروں۔ میں نے اس کو صرف اس لئے بیان کیا ہے کہ آپ اس پر غور کریں۔ کیوں کہ اس کے اندر ہمارے لئے بڑی عبرت کا سامان ہے، یہ واقعہ ہمارے لئے اس بات کا پیغام ہے کہ خدا انسانوں کی مدد کرتا ہے، یہ ہمارے لئے خدا کی مدد کا ایک ذاتی تجربہ ہے۔ تاریخ میں ایسے بے شمار واقعات ہم پڑھتے ہیں۔ مگر یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو ہماری اپنی زندگی میں پیش آیا ہے جس کا ہم نے براہ راست تجربہ کیا ہے۔ لدی ہوئی اور پھنسی ہوئی گاڑی کا محض چند آدمیوں کے ہاتھ لگانے سے دم بھر میں اٹھ کر کھڑی ہو جانا، یقیناً خدا کی مدد کی وجہ سے تھا۔ اگر ہم کو وہ آنکھیں حاصل ہوتیں جن سے غیر مادی حقیقتوں کو دیکھا جا سکے تو ہم دیکھتے کہ عین اس وقت جب کہ چند کمزور آدمی محض خدا کے بھروسے پر بالکل حسبتہ اللہ ایک نیک کام کے لئے دوڑ پڑے تو اسی وقت آسمان سے فرشتوں کی بھی ایک فوج اتر آئی اور اس نے آن کی آن میں وہ کام کر دیا جو ہمارے کم زور ہاتھوں سے نہیں ہو سکتا تھا۔
اسی طرح سے ایک اور گاڑی پھنسی ہوئی ہے۔ یہ دین کی گاڑی ہے۔ اسلام کی گاڑی چلتے چلتے حالات
میں پھنس گئی ہے۔ پاسبانوں کی غفلت سے باطل اس پر حملہ آور ہو گیا ہے۔ زمین کی خرابی سے اس کے پھٹنے اپنی جگہ سے ہٹ گئے اس صورت حال کا تقاضا ہے کہ آپ اس کے لئے دوڑ پڑیں۔ آپ اس کو اٹھانے کے لئے اپنے وجود کو لگا دیں۔ زندگی کا بہترین مصرف، آپ کے اوقات کا اعلیٰ ترین استعمال اس وقت اگر کوئی ہو سکتا ہے تو وہ یہی ہے کہ آپ خدا کے دین کی گاڑی کو اٹھانے میں لگے ہوئے ہوں، اس زمین پر انسان کے لئے اس سے بڑی اور کوئی سعادت نہیں۔ خدا کے دین کا مظلوم ہونا ہمارے لئے سعادت و کامرانی کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ اگر چہ دین اور اہل دین کے لئے انتہائی سخت حالت ہے، مگر انہیں سخت حالات میں ہمارے لئے اس سب سے بڑی کامیابی کا راز چھپا ہوا ہے جس کی اس دنیا میں کوئی شخص تمنا کر سکتا ہے۔ انسان کے لئے اس سے بڑی اور کوئی سعادت نہیں کہ وہ خدا کے کام میں لگا ہوا ہو۔ ہمارا عاجز اور کمزور وجود باکی خدمت میں مصروف ہو۔ کیا اس سے بڑی بھی کوئی بات ہو سکتی ہے جس کی ہم آرزو کریں۔ لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوتی اس سے بڑی بات یہ ہے کہ خدا کی مدد کے لئے اٹھنا خود ہم کو خدا کی مدد کا مستحق بناتا ہے۔ جب بندہ خدا کے کام میں مصروف ہوتا ہے تو وہ تنہا نہیں ہوتا، بلکہ خود خدا بھی اس کے ساتھ ہو جاتا ہے۔ خدمت دین وہ بہترین وقت ہے جب بندے کو خدا کی معیت حاصل اب آپ سمجھ سکتے ہیں کہ وہ لمحات کس قدر قیمتی ہیں جب بندہ خدا کے ساتھ چل رہا ہو، جب وہ خدا کے سایہ میں سفر کر رہا ہو، جب خدا کے فرشتے اس کے ہم رکاب ہوں، جب وہ براہ راست خدا کی نگرانی میں آگیا ہو۔ آپ جانتے ہیں کہ ایک معمولی آدمی کو اگر کسی حاکم کی معیت حاصل ہو جائے تو وہ پھولا نہیں سماتا۔ پھر خدا کی معیت اور اس کی مدد کا کیا ٹھکانا۔ دین آج جس چیز کا تقاضا کر رہا ہے، اسے آپ ہی کو پورا کرنا ہے۔ یہ کام آپ کو انجام دینا ہے۔ خدا کی طرف سے آپ کو ایمان کی توفیق ملنا اور آخری رسول کی امت میں شامل کیا جانا، گویا خدا کی طرف سے آپ کو اس کام پر مقرر کیا جانا ہے۔ کا ایمان، اس کام پر آپ کے تقرر کا نشان ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ جب کسی شخص کو کسی کام پر مقرر کیا جاتا ہے تو اس کے لئے اس کی ڈیوٹی کے مطابق تمام انتظامات بھی کر دئے جاتے ہیں۔ ایک شخص کو حکومت کی طرف سے خط ملے کہ تم کو فلاں جنگلی علاقے میں فارسٹ افسر بنایا گیا ہے، تم وہاں جا کر اپنی ڈیوٹی سنبھالو۔ تو اس کے ذہن میں فوراً چند سوالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ وقت وہ سرکاری ملازمتوں کے متعلق حکومت کے شائع شدہ قواعد و ضوابط سے رجوع کرے تو وہ دیکھے گا کہ وہاں اس کے سارے سوالات کا پیشگی جواب لکھ دیا گیا ہے۔ "گھر سے ڈیوٹی کے مقام تک جانے کی صورت کیا ہوگی؟ " جواب یہ کہ تم کو پوری مسافت کے لئے معقول سفر خرچ دیا جاتا ہے۔ "میں وہاں جا کر کس جگہ رہوں گا؟ " اس کا جواب یہ ہوگا کہ وہاں تمہارے رہنے کے لئے سرکاری بنگلہ بنا ہوا ہے۔ "جنگل میں اپنی حفاظت کے لئے میں کیا کروں گا؟ " حفاظتی دستہ تمھارے ساتھ موجود رہے گا۔ "گھر کے اخراجات کے لئے کیا ہوگا؟ " تم کو ماہانہ تنخواہ کے طور پر ایک معقول رقم دی جائے گی۔ اسی طرح ملازم کے ہر سوال کا ایک اطمینان بخش جواب حکومت کے پاس موجود ہوگا۔ ہر تقرر لازماً یہ چاہتا ہے کہ جس کو مقرر کیا جائے، اس کی ضروریات اور مشکلات کا بھی اس میں پورا لحاظ کیا گیا ہو ۔
اسی طرح خدا نے جب آپ کو ایک کام پر مقرر کیا ہے تو اسی کے ساتھ اس نے یقینی طور پر آپ کی ہر ضرورت کا انتظام بھی کر دیا ہے۔ خدا تمام مہربانوں سے بڑھ کر مہربان ہے۔ اس کے ہاتھ میں زمین و آسمان کا اقتدار ہے۔ ذرائع و وسائل کا
سارا خزانہ اس کی مٹھی میں ہے، ناممکن ہے کہ وہ اپنے عاجز اور حقیر بندوں کو ایک کام پر مقرر کرے اور پھر ان کی ضروریات کا لحاظ نہ کرے۔ یہ اس کی صفت رحیمیت کے خلاف ہے، یہ اس کی شانِ اقتدار کے منافی ہے۔ بلاشبہ اس نے خادمانِ دین کی تمام ضروریات کا اس دنیا میں مکمل انتظام کر دیا ہے۔ ایسا انتظام کہ آخرت میں کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ دین کی خدمت کرنا چاہتا تھا مگر دشواریوں اور مشکلوں کی وجہ سے وہ ایسا نہ کر سکا۔
یہ انتظام کیا ہے اور ہم کس طرح اسے جانیں، اس کی میں نہایت آسان صورت آپ کو بتاؤں۔ آپ خدمت دین کے کام کا ارادہ کیجئے اور اس کے بعد سوچئے کہ اس کام میں آپ کی کیا کیا ضرورتیں ہو سکتی ہیں۔ جتنی معقول ضرورتیں اور واقعی مسائل آپ کی سمجھ میں آئیں، ان سب کی ایک فہرست بنا ڈالئے اور اس کے بعد خدا کی کتاب کھول کر اس کو ابتدا سے پڑھنا بالکل اسی طرح جیسے ایک ملازم سرکار اپنی ملازمت کے مسائل کے متعلق جاننے کے لئے حکومت کے قواعد و ضوابط کا مطالعہ کرتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جب آپ ایسا کریں گے تو آپ کو نظر آئے گا کہ خدا کی کتاب آپ کے ہر معقول مطالبے کا قطعی اور یقینی جواب دیتی چلی جا رہی ہے۔ کسی بھی ایسی حقیقی ضرورت کا آپ تصور نہیں کر سکتے جس کا خدا کی کتاب ذمہ نہ لے اس معاملہ میں ہرگز آپ کتاب الہی کو خاموش نہ پائیں گے۔ اس کے بعد مجھے یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ خدا کی کتاب میں ہماری کسی ضرورت کے بارے میں ایک یقین دہانی کا مل جانا اس بات کی کافی ضمانت ہے کہ ہم اس پر بھروسہ کریں۔ مطلب خدا پر توکل ہے اور ایمان کے لفظی معنی بھروسہ اور اعتبار ہی کے آتے ہیں (یوسف (۱) خدا پر اور قرآن پر ایمان لانے کا اصل مطلب یہی ہے۔ اس لئے اگر ہم خدا کی کتاب میں ایک یقین دہانی پالینے کے باوجود اس پر اعتماد نہ کریں تو یہ خود ہمارے ایمان کے خلاف ہوگا۔ ایسی صورت میں ہم کو خود اپنے ایمان پر نظر ثانی کرنی چاہئے نہ کہ ہم قرآن کے الفاظ پر شبہ کریں۔ ۱- آیئے ہم اس حیثیت سے قرآن کا ایک مختصر مطالعہ کریں۔ موجودہ زمانے میں دین کی خدمت کرنے کا ارادہ ہم سے کن ضرورتوں کا تقاضا کرتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ ایک داعی کے سامنے سب سے پہلا سوال جو آتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ ٹراشل کام ہے دمیں نہایت کمزور ہوں۔ خاص طور پر اس کے لئے زبان و قلم کی زبردست طاقت درکار ہے اور مجھے اس پر قدرت نہیں۔ اس کا آغاز زبان و قلم ہی سے ہوتا ہے۔ اس لئے اس اعتبار سے اپنی بے مائیگی کا احساس اور حالات کی نامساعدت کی وجہ سے پست ہمتی ــــ یہ دو چیزیں سب سے پہلے موجودہ زمانے میں دعوتی کام کی بات سوچنے والے پر طاری ہوتی ہیں۔ یہ مسئلہ ذہن میں رکھ کر جب ہم قرآن کے صفحات پر نظر ڈالتے ہیں تو بنی اسرائیل کی تاریخ کا ایک واقعہ ہمارے سامنے آکر کھڑا ہو جاتا ہے۔ بنی اسرائیل کے ایک مرد صالح کو اللہ تعالیٰ کوہ طور پر بلا کر اس کو پیغمبری عطا کرتا ہے اور اس کو یہ خدمت سونپتا ہے کہ وہ فرعون اور مصر کی قبطی قوم کے پاس جا کر اس کو خدا کا پیغام پہنچائے۔ حضرت موسیٰ محکوم فرقہ سے تعلق رکھتے تھے اور ان کو ملک کی حکمراں قوم کو خطاب کرنے کا کام سونپا جا رہا تھا ۔ اس تقرر کو سن کر وہ بے اختیار کہہ اٹھے کہ خدایا میں اپنے اندر اس کی ہمت نہیں پارہا ہوں اور میری زبان میرا ساتھ دیتی ہوئی نظر نہیں آتی :
رَبِّ إِنِّي أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونَ وَيَضِيقُ صَدْرِي وَلَا خدایا مجھے اندیشہ ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے میرا سینہ يَنطَلِقُ لِسَانِي شعراء ۱۲ - ۱۳ تنگ ہو رہا ہے اور میری زبان نہیں چلتی۔
خدا کی طرف سے جواب ملتا ہے کہ تم ڈرو مت۔ تمھاری ضرورت کی سب چیزیں تم کو ہماری طرف سے دے دی گئیں۔ قَدْ اُوْتِيْتَ سُؤْلَكَ يَا مُوسٰى (طه - ٣٦)
یہ مانگنے اور دئے جانے کا واقعہ جو قرآن میں نقل کیا گیا ہے، وہ بنی اسرائیل کی تاریخ کے ایک واقعہ کی شکل میں ہماری اسی قسم کی مانگ کا جواب ہے۔ امت محمدیہ کے افراد جو ختم نبوت کے بعد نبوت کے کام پر مامور کئے گئے ہیں ان کے لئے بنی اسرائیل کے پیغمبر کا یہ واقعہ ایک پیشگی بشارت ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ اگر تم ہمارے دین کی دعوت دینے کے لئے اٹھو تو ہم تم کو زبان دیں گے جس سے تم بولو گے، اور ہم تمھاری ڈھارس بندھائیں گے۔ جس کے بعد تم بڑے بڑے مواقع پر کسی ہچکچاہٹ کے بغیر ہماری آواز پہنچا سکو گے۔ مجھے اس میں ذرا بھی شبہ نہیں کہ اگر آج کسی بندہ خدا کے اندر حقیقتہً د داعی بننے کا جذبہ ابھر آئے اور وہ بے تابا نہ اپنے رب کو پکار اٹھے کہ میں یہ کام کرنا چاہتا ہوں مگر : اللهم یضیق صدری ولا ينطلق لسانی خدا یا میرا سینہ تنگ ہو رہا ہے اور میری زبان چلتی نہیں تو یقیناً کلام الہی اس کو دوبارہ آواز دے گا کہ جاؤ ہم نے تم کو وہ چیز دے دی جس کی تمھیں ضرورت تھی۔ آج بھی اس دنیا کا خدا ہے جس نے کوہ طور پر حضرت موسیٰ کو خطاب کیا تھا۔ وہ آج بھی وہی کچھ کر سکتا ہے جو اس نے ہزاروں برس پہلے اپنے ایک بندے کے ساتھ کیا تھا۔ وہ چاہے تو گونگے کو نطق بنادے اور بولتے ہوئے شخص کو گونگا کر دے۔ کم زور دل کو ہمت دے دے اور ہمت والے کو پست کرکے بٹھادے۔ وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔ پھر ہم کیوں نہ اس کے اوپر بھروسہ کریں ۔
۲- دوسری ضرورت جس کا اس سلسلے میں سوال پیدا ہوتا ہے، وہ معاش کا مسئلہ ہے۔ آدمی جب دین کی ضرورت پوری کرنے کے لئے اٹھتا ہے تو ظاہر ہے کہ اس کی اپنی ضروریات تو ختم نہیں ہو جاتیں۔ اس کے جسمانی تقاضے، اس کا گھر، اس کا خاندان، اس سے بہت سی چیزیں مانگتے ہیں۔ اگر وہ دین کے کام کی طرف جھکے تو ذاتی کاموں میں کمی ہوتی ہے اور ذاتی ضروریات میں اپنی توجہ صرف کرے تو دین کا خانہ خالی رہ جاتا ہے۔ یہ دوسرا سوال ہے جو ہر داعی کے سامنے لازماً پیش آتا ہے اور اس کو پریشان کرتا ہے۔
یہ سوال لے کر ہم قرآن پڑھنا شروع کرتے ہیں تو بہت سے مقامات ہم کو ملتے ہیں جہاں اس معاملے میں ہم کو خدا کی مدد کا یقین دلایا گیا ہے۔ یہاں تک کہ ہم قرآن کی ۵۵ ویں سورہ میں پہنچ جاتے ہیں اور وہاں یہ الفاظ لکھے ہوئے پاتے ہیں : وَمَنْ يَّتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَّهَ مَخْرَجًا ٭ وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ
جو اللہ کا تقویٰ اختیار کرے گا تو اللہ اس کے لئے کشادگی پیدا کر دے گا اور اس کو ایسی ایسی جگہوں سے رزق پہنچائے گا جہاں اس کا گمان بھی نہیں جاسکتا۔
یہ ایک بہت بڑی یقین دہانی ہے، یہ ایک عظیم انشورنس ہے جو خدا کی طرف سے اہل ایمان کو دیا گیا ہے۔ آج کا انسان سمجھتا ہے کہ صرف اس کا کھیت، اس کی دکان اور اس کی ملازمت واحد ذریعہ ہیں جو کسی کو رزق دیتے ہیں ، اس کو خدا کے عظیم سرچشمے کی سرے سے خبرہی نہیں۔ اس کو معلوم ہی نہیں کہ یہاں ایک اور خزانہ ہے جو تمام معلوم خوانوں سے زیادہ بھرا ہوا ہے۔
اللہ دینے والا ہے جو تمام دینے والوں سے زیادہ دے سکتا ہے، اس لئے یہ لوگ خدا کے خزانے کو چھوڑ کر بس ادبی خزائنوں کے سامنے دامن پھیلائے کھڑے ہیں۔ وہ چھوٹے ذریعہ کو پاکر خوش ہیں۔ حالاں کہ وہ اس سے بڑا ذریعہ بھی حاصل کرسکتے تھے ۔ موجودہ انسان کی مثال اس بے صبرے نوجوان کی سی ہے جس کو گھر پر باپ کی وراثت میں معقول زمین ملی ہو۔ مگر دیہات کے خشک ماحول سے گھبرا کر وہ بمبئی بھاگ جائے اور وہاں واشنگ فیکٹری میں کلر کی حاصل کرکے سمجھے کہ میں نے اپنے رزق کا ذریعہ حاصل کر لیا، حالاں کہ بمبئی کی اس ملازمانہ زندگی میں وہ جو کچھ حاصل کررہا ہے، اس سے بہت زیادہ خود اپنے گھر پر وہ اپنے کھیجوں اور باغوں میں کام کرکے آزادانہ طور پر حاصل کرسکتا تھا۔
۳- اب تیسری ضرورت کا تصور کیجئے جو اس وقت پیدا ہوتی ہے جب داعی مشکلات میں پھنس گیا ہو۔ سے اس کا ٹکراؤ شروع ہوگیا ہو، جب باطل طاقتیں اس کو کچلنے کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی ہوں۔ یہ ہمارے احتیاج کا نازک وقت ہوتا ہے یہ وہ وقت ہوتا ہے جب داعی کے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے۔
اس صورت حال کا احساس لے کر جب ہم قرآن کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بار بار نازک اوقاتت میں اہل ایمان کی مدد کی ہے۔ بلکہ ایسے وقت میں مدد کے لئے پہنچا، اس نے اپنے اوپر اہل ایمان کا حق قرار دیا ہے۔ كَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِينَ روم ۴۷ اہل ایمان کی مدد کرنا ہمارے اوپر اہل ایمان کا حق ہے بندے کے لئے احتیاج کا انتہائی وقت، آقا کے لئے بھی اس کی طرف متوجہ ہونے کا انتہائی وقت ہوتا ہے حتیٰ کہ نازک اوقا میں وہ یہاں تک کرتا ہے کہ اپنی مخصوص فوج کو اہل ایمان کی کمک کے لئے روانہ کردیتا ہے، جیسا کہ ارشاد ہوا ہے : اِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُمْ جب تم اپنے رب سے مدد مانگ رہے تھے تو اللہ نے جواب دیا کہ میں بِأَلْفِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مُرْدِفِينَ (انفال -۹) ہزار فرشتے بھیج کر تمھاری مدد کروں گا یہ ممکن نہیں ہے کہ خدا کے خادم، حقیقی خادم پر خدا کے دشمن حملہ آور ہوں ۔ انھوں نے اس کا نرغہ کر لیا ہو، اور خدا بس دور سے اس کا تماشا دیکھتا رہے، یہ بالکل نا قابل تصور ہے۔ ایسے مواقع پر تو خدا کی غیرت وحمیت دوسرے مواقع کے مقابلے میں اور زیادہ شدت کے ساتھ بھڑک اٹھتی ہے۔ مگر مدد کا یہ معاملہ صرف ایسے ہی لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو حقیقی خادم اور سچے اکتوبر ۱۹۶۲ میں جب تیز پور میں چینی حملہ کا خطرہ بہت بڑھ گیا تھا حکومت ہند کا ایک اعلیٰ افسر وہاں سے ڈر کر قبل از وقت بھاگ گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حکومت نے اس کو ملازمت سے برخاست کر دیا۔ اگر وہ جرات اور وفاداری کے ساتھ اپنے مقام پر ڈٹا رہتا، تو ہو سکتا تھا کہ خطرہ پیش آنے کی صورت میں حکومت کا خاص ہوائی جہاز بھیجا جاتا کہ وہاں جاکر افسر اور اس کے خاندان کو شہر سے نکال لائے۔
یہ چند مثالیں یہ سمجھنے کے لئے کافی ہیں کہ کس طرح خدا نے اپنے دین کے خادموں کی تمام ضروریات ومسائل کا ذمہ مگر یاد رکھئے قرآن میں ہماری ضرورتوں کے بارے میں یہ تو یقین دہانیاں کی گئی ہیں اس کا مطلب لازمی طور پر یہ نہیں ہے کہ خدا کے فرشتے ہر صبح و شام آسمان سے خوان لے کر اتریں گے اور ہمارے سامنے بچھا دیا کریں گے۔ اگر چہ ایسا بھی ہو سکتا ہے مگر عام حالات میں اللہ تعالیٰ کی سنت یہ نہیں ہے۔ ہماری احتیاجات کی تکمیل کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کی مدد کا مطلب
دراصل یہ ہے کہ وہ حالات کو اس طرح ہمارے موافق بنا دے گا کہ ہم باآسانی اپنی ضروریات پوری کر سکیں۔ امکانات پیدا کرے گا جن کو استعمال کر کے ہم اپنی کار برآری کر سکتے ہوں، وہ لوگوں کے دلوں میں ہمارے متعلق ایسے خیالات ڈالے گا کہ وہ ہمارے کام آسکیں، وہ ہمارے ذہن کو ایسی تدبیروں کی طرف لے جائے گا، جس کے بعد مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے۔ وہ ایمان کی برکت ہے ذہنی اور نفسیاتی صلاحیتوں کو ایسی جلا دے گا کہ کم صلاحیت والے بہتر صلاحیت والوں سے زیادہ کام کر سکیں گے، مقابلے کے وقت وہ ہمارے دل کو مضبوط کرے گا اور دشمن کو مرعوب کر کے شکست کو آسان بنا دے گا۔ مختصر یہ کہ ہمارے کام بھی اوہیں ظاہری حالات کے اندر ہوں گے جیسے سب کے ہوتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ ایمان کی برکت اور اللہ تعالیٰ کی توجہ کی بنا پر حالات میں کچھ ایسا غیر معمولی پن آ جائے گا کہ کمتر وسائل سے ہم زیادہ کام لے سکیں گے اور معمولی ساز و سامان کے باوجود زیادہ نتائج حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
یہ باتیں جو میں نے آپ کے سامنے عرض کی ہیں، یہ کوئی جذباتی نعرہ نہیں ہے اور نہ شاعری ہے۔ سراپا حقیقت کا اظہار ہے۔ اگراس دنیا میں کوئی چیز ممکن ہے تو سب سے بڑا ممکن یہ ہے کہ بندہ جب خدا کی مدد کا محتاج ہو تو خدا اس کی مدد کرے۔ اس زمین و آسمان میں ہر دوسرے امکان کے بارے میں مجھے شبہ ہو سکتا ہے۔ مگر یہ امکان میرے لئے ہر شبہ اور تردد سے بالاتر ہے کہ خدا اپنے ان بندوں کی مدد کرتا ہے جو اس کے دین کی مدد کے لئے اٹھتے ہیں۔ وجہ یہ نہیں ہے کہ بندے کے اندر کوئی ذاتی طاقت ہے۔ بعض مذاہب کی طرح میں اس نظرئے پر کوئی عقیدہ نہیں رکھتا کہ انسان اپنی ریاضت سے خدا کو یا فطرت کی بر تر طاقتوں کو مسخر کر لیتا ہے۔ میرے نزدیک یہ بالکل لغویات ہے۔ خدا کی مدد کو میں سب سے زیادہ قطعی اس لئے قرار دے رہا ہوں کہ یہ خدا کی اپنی صفت ہے۔ خدا کا رحیم اور قادر ہونا، اس کا خالق اور مالک ہونا لازمی طور پر تقاضا کرتا ہے کہ وہ اپنے عجز اور محتاج بندوں کی مدد کرے۔ یاد رکھئے کہ یہ خدا کی شانِ خدائی کے بالکل خلاف ہے کہ وہ بندوں کو عاجز و مجبور کی حیثیت سے پیدا کرے۔ اور جب بندوں کا عاجز کسی ضرورت کا محتاج ہو تو وہ ان کی مدد یہ خدا کی شان کے خلاف ہے۔ اس لئے یہ قطعا نا ممکن ہے ۔
اگر آپ کے پاس سننے کے لئے کان ہوں تو خدا کی کتاب پکار رہی ہے من انصاری الی اللہ (کون ہے جو خدا کے کام میں اس کا مددگار بنے) اور اسی کے ساتھ اس میں یہ ضمانت بھی موجود ہے کہ ان تنصر اللہ ینصرکم (اگر تم خدا کی مدد کے لئے اٹھو گے تو خدا تمھاری مدد کرے گا) خدا آپ کو ایسے کام کے لئے پکار رہا ہے جس میں نہ خود آپ کا مددگار ہے۔ دین کی خدمت خدا کی معیت کا راستہ ہے۔ اس کی مدد سے ہم کنار ہونے کا راستہ ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جو آپ کو جنت کی طرف لے جاتا ہے، اگر ایک ایسے کام کے لئے بھی آپ نہیں اٹھیں گے تو اور کس کام کے لئے اٹھیں گے۔ خدمت کے بغیر مرگئے تو خدا کا سامنا کس طرح کریں گے۔
اٹھئے کہ اس سے بڑا کوئی کام نہیں، اٹھئے کہ اس سے بڑی کوئی سعادت نہیں ہو سکتی۔
ایک سفر نامہ (۸)
مالاپورم، کیرلا کا ایک ضلع ہے جو دہلی نے ۲۸۰۰ کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ ندوۃ المجاہدین کے اجلاس میں شرکت کے لئے ۹ مارچ ۱۹۷۹ء کو یہاں پہنچا اور ۱۶ مارچ کو دہلی واپس آیا۔ ذاتی طور پر میں ایک گوشہ نشین آدمی ہوں جلسوں اور کانفرنسوں کا مجھے بالکل ذوق نہیں۔ میرا مشغلہ بس کتابیں پڑھنا ہے اور پڑھنے کے دوران میں کوئی مضمون ذہن میں آجائے تو اس کو لکھ لینا ۔ تاہم بعض اوقات دوستوں اور بزرگوں کے اصرار پر "السلامۃ فی الوحدۃ" کے اپنے اصول کو توڑنا پڑتا اسی قسم کا ایک واقعہ کیرلا کا سفر بھی تھا۔
ملاپورم کا ضلع ۱۹۶۸ء میں بنا۔ یہاں کی کل آبادی پندرہ لاکھ ہے جس میں گیارہ لاکھ مسلمان ہیں۔ یعنی تقریباً ستر فیصد۔ تاہم یہاں کی زمینوں اور باغات میں ان کا حصہ پچاس فی صد سے زیادہ نہیں ہے کیرلا میں تعلیم کا رواج بہت ہے۔ مگر ریاست کے گیارہ ضلعوں میں تعلیم میں سب سے پیچھے ملاپورم ہے۔ ممبو دری پاڈ کی وزارت کے زمانہ میں مسلم لیگ نے ان سے جو تعاون کیا، اس سے مسلمانوں کو کئی فائدے ہوئے۔ ان میں سے ایک کالی کٹ یونیورسٹی کا قیام ہے، یہ یونیورسٹی ملاپورم ضلع کی سرحد پر ہے اور اس میں مسلمانوں کی تعداد کافی ہے۔ یونیورسٹی کی انتظامیہ، اس کے اسٹاف اور طلبہ میں مسلمانوں کا تناسب نصف کے قریب وائس چانسلر بھی اکثر مسلمان ہوتا ہے۔ مسلم لیگ نے اس ریاست میں توازن طاقت کا مقام حاصل کر لیا ہے۔ اس میں اس واقعہ کا بھی دخل ہے کہ یہاں کے مسلمان دہشت گردوں کی ۱۰۰ فی صد تعداد مسلم لیگ کے جھنڈے کے نیچے متحد ہے۔ ہم لوگوں کے قیام کا انتظام اگر چہ کالی کٹ میں کیا گیا تھا۔ مگر اجلاس کا انتظام ۳۰ کلومیٹر کے فاصلہ پر پولیکل میں تھا۔ گاؤں کے باہر ایک میدان میں جلسہ گاہ تھی۔ چاروں طرف ناریل کے گھنے درختوں کے جھنڈ کھڑے ہوئے تھے اور درمیان میں کھلے میدان میں پنڈال بنایا گیا تھا۔ اس قدرتی منظر سے پنڈال میں عجیب حسن پیدا کر دیا تھا۔ تقریر و خطاب کے علاوہ بعض دوسرے پرو گرام بھی رکھے گئے تھے۔ مثلاً پنڈال کے ایک حصہ میں ایک نمائش کا انتظام۔ اجلاس میں عرب شیوخ ایک درج سے زیادہ تعداد میں شریک ہوئے ۔
کالی کٹ میں مسجدوں کا طرز تعمیر نرالا ہے۔ ایک مسجد پانچ منزلہ دیکھی ۔ بڑے چوکور ہال کی مانند ایک کے اوپر ایک پانچ ”ہال“ ہیں جو جدید طرز تعمیر کے مطابق کھمبوں (Pillars) پر کھڑے کئے گئے ہیں۔ ایک اور مسجد اسی ڈھنگ پر زیر تعمیر وہ اور زیادہ اونچی ہوگی۔ یہ جگہ کی قلت کا حل ہے۔ زمین پر پھیلنے کی جگہ کم ہو تو عمودی اٹھان (Vertical Growth) اس کا بہترین حل ہوتا ہے۔ اسی سے قومی تعمیر کا راز بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ اگر سیاسی میدان میں پھیلنے کے مواقع کم ہوں تو زندہ قومیں زندگی کے دوسرے میدان پالیتی ہیں جن میں نفوذ کر کے وہ اپنی سیاسی کمی کی تلافی کر سکیں اور بالآخر خود سیاست کو بھی اپنے دائرہ میں لے لیں ۔
ندوۃ المجاہدین کے بانی مرحوم محمد کاتب طیباری تھے ۔ اس مجلس کے تحت بہت سے ادارے اور تعلیم گاہیں ان کا کام پورے کیرلا میں ہو رہا ہے۔ انھوں نے ریاست میں چودہ "عربک کالج قائم کئے ہیں جو ان کے اہتمام میں چل رہے ہیں۔ فارغین کو "افضل العلماء" کی سند ملتی ہے جو سرکاری طور پر تسلیم شدہ ہے۔ اس کے علاوہ ایک اعلیٰ تعلیمی ادارہ
الجامعۃ الندویۃ کے نام سے قائم ہے۔ ان کا اپنا پریس ہے جو طبالۂ عربی اور انگریزی زبانوں میں کتابیں چھاپتا ہے۔ ایک عربی پرچہ نکلتا ہے جس کا نام سلسبیل ہے۔ طبالہ زبان میں المنار (ماہنامہ) اور الشباب (پندرہ روزہ) نکلتے ہیں۔ میں تقریباً دو مسجدیں بھی ان کے اہتمام میں ہیں نیز دارالیتامیٰ وغیرہ کے نام سے متعدد ادارے قائم ہیں۔ اندھوں اور بہروں کی تعلیم کا بھی انتظام کیا ہے۔ سوراخ دار کاغذ جو اس قسم کے طالب علموں کے لئے ہوتے ہیں، انگریزی کے علاوہ طبالۂ عالم اور عربی میں بھی تیار کئے گئے ہیں۔ ایک اندھے بچے کے سامنے ہم نے ایک کاغذ نکال کر رکھا۔ ہمارے دیکھنے میں وہ ایک خالی کاغذ تھا جس میں متفرق طور پر چھوٹے چھوٹے سوراخ بنے ہوئے تھے۔ بچے نے کاغذ پر انگلی پھیری اور قرات کے ساتھ پڑھنے لگا : قل ھو اللہ احد، اللہ الصمد _______ ۔ مجھے قرآن کا وہ بیان یاد آیا، جس میں کہا گیا ہے کہ آخرت میں آدمی کی کھَالَ تک گواہی دے گی۔ میں نے سوچا : اللہ اپنی قدرت کا ہاتھ چیزوں پر پھیرے گا اور ہر چیز اچانک وہ سب باتیں دہرانے لگے گی جو اللہ کے حکم سے اس پر نقش تھی، اگرچہ آج وہ ہم کو دکھائی نہیں دیتی۔ اس علاقہ کی ایک خصوصیت سب سے زیادہ اہم معلوم ہوئی ۔ وہ یہ کہ یہاں قومی اور مذہبی تعصب نہیں ہے۔ صورت حال نے جنوب کے علاقہ کو اسلامی دعوت کا نہایت عمدہ میدان بنا دیا ہے۔ یہاں کے مسلمان اگر دوسری قوموں تک اسلام کی دعوت پہنچانے میں سرگرم ہو جائیں تو اس کے عظیم الشان نتائج نکل سکتے ہیں عرب شیوخ اور ہندوستانی علماء پر مشتمل ایک قافلہ نے دو دن تک کیرلا کے مختلف ادارے دیکھے۔ کئی سومیل کے رقبہ میں قائم شدہ مدرسہ، مسلم کالج، مسلم دارالیتامیٰ وغیرہ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ کیرلا کی ریاست ایک بے حد ہری بھری ریاست ہے۔ بعض لوگوں کے خیال کے مطابق کشمیر سے بھی زیادہ خوبصورت۔ چنانچہ ہر ادارہ ایک خوبصورت باغ میں واقع ہے۔ علاقہ کے مسلمانوں نے جگہ جگہ کثرت سے تعلیمی اور رفاہی ادارے قائم کر رکھے ہیں۔ مثلاً یتیم خانے، اسکول، کالج، اندھوں اور گونگوں کو پڑھانا، اپاہجوں کو ہنر سکھانا، وغیرہ ۔ ان اداروں میں عام طور پر قوم کے تعاون کے علاوہ حکومت سے بھی امداد لی جاتی ہے۔ اس طرح بہت بڑے پیمانہ پر قوم کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ حکومت کی طرف سے امداد کی یہ صورتیں شمالی ہند میں بھی پوری طرح موجود ہیں اور دوسری قومیں ان کو حاصل کر کے بے شمار ادارے قائم کئے ہوئے ہیں۔ مگر شمالی ہند کے مسلمان ابھی اس امکان سے فائدہ اٹھانے میں بہت پیچھے ہیں۔ ان کے لیڈر جلسوں اور تقریروں اور مطالبوں میں مصروف ہیں اور اسی کے ساتھ ان کی قوم بھی۔ انھوں نے الفاظ کے ذریعہ سستی لیڈری حاصل کرنے کے نسخے دریافت کر رکھے ہیں۔ پھر ان کو عمل کے ذریعہ قیادت حاصل کرنے کی کیا ضرورت۔
کیرلا کے ضلع تریچور کا ایک مقام کدنگلور (Kodungallore) ہے۔ یہاں ایک قدیم مسجد ہے جس کا نام مسجد چر مان ہے۔ کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ (۶۲۶ء) میں یہاں ایک صحابی حبیب بن مالک رضی اللہ عنہ ان کے اثر سے اس وقت کا راجہ سامری مسلمان ہو گیا ۔ موجودہ مسجد اس کے رطہ کی بنائی ہوئی بتائی جاتی ہے اگر یہ روایت صحیح ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مدینہ کے بعد یہ پہلی مسجد ہے جو دنیا کے کسی مقام پر بنائی گئی۔ اس تاریخی مسجد کو بھی دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اور ۱۳ مارچ کو مغرب کی نماز اس مسجد میں پڑھی۔
مولانا وحید الدین خاں جس کو پڑھ کر دل دہل اٹھیں اور آنکھیں آنسو بہائیں قیمت تین روپے قرآن کا مطلوب انسان قیمت چارروپےپچاس پیسے اسلام ایک عظیم جدوجہد قرآن کا مطلوب انسان مومن کی تصویر با مقصد زندگی یہ بے حسی کیوں کوئی سننے والا ہے جو سنے خدمت دین کی مشکلات ہمیں کیا کرنا ہے ۔ مکتبہ الرسالہ • جمعیۃ بلڈنگ • قاسم جان اسٹریٹ • دہلی ۶-۱۱۰۰
مولانا وحید الدین خاں قیمت دو روپے مولانا وحید الدین خاں قیمت بارہ روپے جمعیۃ بلڈنگ قاسم جان اسٹریٹ دہلی 6 مؤلفه : عبدالرحمن کو ند و کشمیری قیمت مُجَلَّد : چالیس روپے سائز : ۱۸ × ۲۲ ، صفحات ، ۷۰، "الأنور" امام العصر علامہ انور شاہ کشمیری کی سوانح حیات، اخلاق و عادات اور علمی و عملی کمالات کا خوب صورت مرقع ہے۔ حضرت انور شاہ کشمیری پر عربی اور اردو میں اب تک جو کتابیں شائع ہوئی ہیں، اُن میں کسی میں یہ حالات اتنی جامعیت اور تحقیق سے درج نہیں ہیں۔ علامہ کی مفصل سوانح حیات کے علاوہ اسمیں مختلف اربابِ علم اور اصحاب فکر و نظر کے قلم سے آپ کے کمالات و تجلیات پر چھوٹے بڑے متعدد مقالات ہیں جن سے آپ کا فلسفہ تعلیم اور طریقہ تعلیم، قوتِ حفظ و استحضار، ذہانت و فطانت اور عبقریت کی دیگر خصائص کا نقشہ پوری طرح پیش نظر ہو جاتا ہے۔ کتاب اتنی جامعیت سے مرتب کی گئی ہے کہ علامہ کشمیری کی حیاتِ مجموعہ کمالات کا کوئی گوشہ باقی یا تشنہ نہیں رہا ہے۔ کتب کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سوا دو سال کے قلیل عرصہ میں کتاب تیسری بار چھپ گئی ہے ۔ همدرد بک ڈپو (رجسٹرڈ) پبلشرز اسلامیہ ہائی سکول روڈ سرینگر ۱۹۰۰۰۲ کشمیر (ہند)
مولا نا وحیدالدین خاں قیمت تیرہ روپ۷۔