توحید کے مکملی تقاضے
Al-Risala, July 1979, pp. 5–6
By Maulana Wahiduddin Khan
توحید کے عملی تقاضوں کو دو حصتے میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ عبادات اور اخلاقیات۔ اللہ نے جو وسیع کائنات بنائی ہے، اس کی ہر چیز اپنے رب کی عبادت اور بندگی میں لگی ہوئی ہے۔ ولَهُ طَوْعاً وَكَرْهاً، اسی دین توحید کو اختیار کئے ہوئے جسے انسان کو اپنے ارادہ سے اپنی زندگی میں اختیار کرنا ہے:
اَفَغَيْرَ دِينِ اللّٰهِ يَبْغُونَ وَلَهُ اَسْلَمَ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ کیا وہ خدا کے دین کے سوا کوئی اور دین چاہتے ہیں۔ وَالْاَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً وَاِلَيْهِ يُرْجَعُونَ حالاں کہ اسی کے حکم میں ہے جو کوئی آسمان اور زمین میں ہے، خوشی سے یا ناخوشی سے۔ اور سب اللہ ہی کی آل عمران ۔ طرف پھیرے جائیں گے۔
درخت اور دوسری کھڑی ہوئی چیزیں اپنا ساوہ زمین پر ڈال دیتی ہیں۔ اس طرح گویا یہ خدا کو سجدہ کر رہی ہیں (نخل ۴۹) یہی عبادت کی اصل حقیقت ہے۔ عبادت یہ ہے کہ آدمی اللہ کے قدموں میں اپنا سر رکھ دے۔ وہ اس کے آگے جھک وہ اپنے وجود کو خدا کے آگے اس طرح بچھ دے جس طرح درخت اپنے سایہ کے ساتھ زمین پر بچھا جاتا ہے۔ کائنات کی اخلاقیات کیا ہیں۔ اس کی اخلاقیات یہ ہیں کہ اس کا ہر جزو خدا کے مقررہ نقشہ پر ٹھیک ٹھیک قائم ہے (فرقان ۲) اسی کے ساتھ کائنات کا ہر جزو اس کے دوسرے اجزاء کے ساتھ پوری ہم آہنگی کے ساتھ عمل کرتا ہے (یس ۴۰) اپنے فرض منصبی سے بال برابر نہ ہٹنا اور دوسرے کائناتی اجزاء کے ساتھ دائمی طور پر متوافق رہتے ہوئے اپنا کام انجام دینا یہ کائنات کا اخلاق ہے۔ یہی اخلاق آدمی کو بھی اپنی زندگی میں اختیار کرنا ہے۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو ذمہ داریاں سونپی ہیں، ان پر اسے ہر حال میں قائم رہنا ہے اور جن بھائیوں کے درمیان رہ کر اس کو زندگی گزارنی ہے ان سے کامل اتحاد اور موافقت کرتے ہوئے اپنے حصہ کا کام انجام دینا ہے۔ اس معاملے میں انسانی معاشرے کی مثال، حدیث کے الفاظ میں، ایک جسم کی سی ہونی چاہئے۔ جسم کا ایک حصہ جب ایک صحیح عمل کرنا چاہتا ہے تو جسم کے بقیہ تمام حصے عمل طور پر اس کا ساتھ دیتے ہیں۔ جسم کے ایک حصہ کی آرام و تکلیف اس کے دوسرے تمام حصوں کی آرام و تکلیف ہوتی ہے۔ شناسی اور اجتماعیت انسان سے بھی دنیا کی زندگی میں مطلوب ہے۔
عبادت اور اخلاقیات کا یہ سبق جو کائنات کے خاموش نظام میں رکھا گیا ہے۔ یہی انسانی سطح پر پیمگیری کی زندگی میں نمایاں کیا گیا ہے پیمگیری کی زندگی خدا پرستی کی عملی اور معیاری مثال ہے:
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةُ (احزاب ۲۱) اللہ کے رسول میں تمھارے لئے بہترین نمونہ ہے رسول وہ کامل اور مکمل انسان ہے جس نے توحید کو اعتقادی اور عملی طور پر اس کی آخری معیاری صورت میں اپنایا ۔ اللہ تعالیٰ نے خصوصی اہتمام کے ذریعہ رسول کی زندگی کے ریکارڈ کو ہمیشہ کے لئے تاریخ میں محفوظ کر دیا۔ اب جو بندہ خدا یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے رب کے یہاں اس حال میں پہنچے کہ اس کا رب اس سے راضی ہو، اس کو چاہئے کہ وہ خدا کے
دین کو خدا کی کتاب سے معلوم کرے اور پھر رسول کی سنت کی روشنی میں اس کو اپنی زندگی میں اختیار کرے، اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ جو آدمی کو خدا کی پکڑ سے بچانے والا اور اس کے انعامات کا مستحق بنانے والا ہو۔ دو قسم کی زندگیاں قرآن کی چودھویں سورہ میں شجرہ طیبہ اور شجرہ خبیثہ کی مثال دے کر اس حقیقت کو سمجھایا گیا ہے کہ توحید کی بنیاد پر اٹھنے والی زندگی کیسی ہوتی ہے اور مشرک کی بنیاد پر اٹھنے والی زندگی کیسی "کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے کیسی مثال بیان فرمائی ہے۔ کلمہ طیبہ ایسا ہی ہے جیسے شجرہ طیبہ جس کی جڑ خوب گڑی ہوئی ہو۔ اور اس کی شاخیں بلند ہوں۔ وہ خدا کے حکم سے ہر فصل میں اپنا پھل دیتا ہے۔ اللہ لوگوں کے لئے مثالیں بیان کرتا ہے تاکہ وہ سمجھیں۔ اور کلمہ خبیثہ کی مثال ایسی ہے جیسے شجرہ خبیثہ کہ وہ زمین کے اوپر ہی اوپر سے اکھاڑ لیا جائے۔ اس کو کچھ ٹھہراؤ نہیں۔ اللہ ایمان والوں کو مضبوط کرتا ہے مضبوط بات سے دنیا میں اور آخرت میں۔ اور اللہ بے انصاف لوگوں کو بے راہ کر دیتا ہے اور اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے (ابراہیم ۲۴ - ۲۷)
زمین میں دو قسم کے درخت پائے جاتے ہیں۔ ایک شیشم اور چنار جیسے درخت جو زمین میں چٹان کی طرح گڑے ہوتے ہیں اور فضا کی پہنائیوں میں اپنی شاخیں پھیلائے رہتے ہیں۔ دوسرے برساتی پودے، جو زمین کے اوپر اوپر اگ آتے ہیں اور جو بھی چاہتا ہے ان کو ہاتھ بڑھا کر اکھاڑ لیتا ہے۔ دونوں قسم کے درخت گویا موحد اور شرک کی زندگی کو علامتی طور پر بتا رہے ہیں۔ موحد انسان اس کائنات کا مطلوب ”درخت“ ہے۔ ایک شخص جب موحد بنتا ہے تو ساری کائنات اس کی رزق رسانی کے لئے مستعد ہو جاتی ہے۔ وہ ایک تناور درخت کی شکل میں اگنا شروع ہو جاتا ہے۔ زمین میں بھی اس کو جماؤ ملتا ہے اور آسمان تک بھی اس کی سر سبزیاں اور شادابیاں پہنچتی ہیں۔ خدا کی نصرتیں اس کے ساتھ ہوتی ہیں۔ موسموں میں اپنی بہار دکھاتا ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
اس کے برعکس مشرک کی زندگی گویا برساتی جھاڑ جھنکار کی مانند ہے۔ وہ زمین میں بس اوپر اوپر اگ آتا ہے۔ مدد اس کے ساتھ نہیں ہوتی۔ اس لئے نہ دنیا میں اس کو جماؤ حاصل ہوتا اور نہ آخرت کے موسم میں وہ کوئی پھل دیتا۔ تعالیٰ نے قانون امتحان کی بنا پر یہ موجودہ دنیا میں جو مہلت دے رکھی ہے، اس کی وجہ سے اس کو وقتی طور پر زمین کی سطح پر اگنے کا موقع مل جاتا ہے۔ مگر امتحان کی مدت ختم ہوتے ہی اس کو زمین سے اکھاڑ دیا جائے گا۔ اس کے بعد اس کو آگ کی دنیا میں پھینک دیا جائے گا جہاں وہ جہنم کا ایندھن بنے۔ اور خدا کی یہ سرسبز و شاداب زمین سے اہتمام اور سنوار کے ساتھ صرف ان لوگوں کی وراثت میں دے دی جائے گی جو موت سے پہلے کی زندگی میں سچے خدا پرست ثابت ہوئے تھے۔ موحدانہ زندگي اور مشرکانہ زندگی کا فرق اپنی کامل صورت میں اگر چہ صرف آخرت میں ظاہر ہوگا، تاہم اس کا ظہور اسی دنیا سے شروع ہو جاتا ہے۔ توحید پرست اگر تنہا ہے تو خدا کا انعام اس کو اس طرح ملتا ہے کہ باطل قوتیں، ، اپنی ساری کوشش کے باوجود، اس کی آواز کو مغلوب نہیں کر پاتیں ، وہ نظریاتی طور پر غالب ہو کر رہتا ہے اور اگر توحید پرست قابل لحاظ تعداد میں مجتمع ہو جائیں تو ان کو زمین میں سیاسی اور سماجی غلبہ بھی دے دیا جاتا ہے۔