Al-Risala · July 1979

انسان کی منزل: جنت

Al-Risala, July 1979, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

اللہ نے انسان کو بہترین تخلیق پر پیدا کیا۔ پھر ان کے لیے ایک جنت بنائی کہ وہ اس میں فراغت کے ساتھ رہے۔ پھر اللہ کی حکمت متقضی ہوئی کہ زمین کے اوپر امتحانی حالات کا پردہ ڈال دیا جائے۔ جنت کو اس نے، حدیث کے الفاظ میں، مکروہات سے ڈھانپ دیا۔ اس کے بعد اس نے انتظام کیا کہ زمین پر انسانی نسل پیدا ہو۔ وہ مختلف حالات سے گزرے تاکہ ہر فرد کے بارے میں معلوم ہو کہ ان میں سے کون جنت کے ماحول میں بسنے کے قابل ہے اور کون اس قابل ہے کہ اس کو جنت کی دنیا سے باہر پھینک دیا جائے۔ اس وقت ہماری زمین اسی دور سے گزر رہی ہے۔ لوگ اپنا اپنا تعارف پیش کر چکے ہوں گے تو امتحانی حالات ختم کر دئے جائیں گے اور جنت کی دنیا اپنی تمام تابانیوں کے ساتھ سامنے آجائے گی۔ جن لوگوں نے موجودہ امتحانی مدت میں، اپنے آپ کو جنتی معاشرہ کا اہل ثابت کیا ہو گا وہ وہاں خدائی انتظام واہتمام کے ساتھ بسائے جائیں گے ۔ اور جن لوگوں نے اپنی موجودہ زندگی سے یہ ثبوت دیا ہو گا کہ وہ جنتی معاشرہ میں بسائے جانے کی اہلیت نہیں رکھتے، ان کو اسفل سافلین میں پھینک دیا جائے گا جہاں وہ دائمی طور پر ایک پر عذاب ماحول میں رہیں گے، دکھ بھری زندگی کے سوا کوئی اور زندگی اس کے لئے ممکن نہ ہو گی۔ آخرت کی مکمل دنیا کائنات کے کس مقام پر بنے گی اور اس کی متعین صورت کیا ہوگی، آج کا انسان اس کو سمجھ نہیں سکتا۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے پیٹ کا ایک بچہ پیٹ کے باہر کی دنیا کو سمجھ نہیں سکتا۔ تاہم موجودہ دنیا میں وہ سارے اسباب موجود ہیں جن کا مطالعہ ہمارے لئے اگلی دنیا کے معاملہ کو قابل فہم بنا دیتا ہے۔ اللہ نے جس طرح موجودہ دنیا کو عدم سے بنایا، اسی طرح وہ ایک اور زیادہ بہتر دنیا کو از سر نو پیدا کر سکتا ہے۔ وہ بلا شبہ ہر چیز پر قادر ہے۔ طرح اللہ اس پر بھی قدرت رکھتا ہے کہ اسی موجودہ دنیا میں ایسی مستقل تبدیلیاں پیدا کر دے کہ یہی دنیا اپنے بدلے ہوئے روپ میں جنت کی دنیا بن جائے۔ جنت کے معاملہ کو قابل فہم بنانے کے لئے ذیل کی سطروں میں اس کا ایک تصوراتی خاکہ، ثانی الذکر امکان کی روشنی میں، قرآن وحدیث کے اشارات کی مدد سے پیش کیا جاتا ہے۔

Printed page