Al-Risala · July 1979

جنت کی دنیا

Al-Risala, July 1979, pp. 7–12

By Maulana Wahiduddin Khan

کائنات ایک بے پناہ حد تک وسیع کارخانہ ہے۔ کائنات کے اندر ان گنت دنیا ئیں ہیں اور ان میں سے اکثر ہماری زمین سے کھرب ہاکھرب گنا زیادہ بڑی ہیں۔ کائنات میں دنیاؤں کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہے جتنی تمام سمندروں کے کنارے ریت کے ذرے ۔ یہ تمام دنیا ئیں اپنی ساری وسعتوں کے باوجود یا تو آگ کے بہت بڑے شعلے ہیں جن کو ستارے کہا جاتا ہے یا ان میں سے کچھ خشک چٹانوں اور پھیلے ریگستانوں کی صورت میں ہیں جن کو چاند اور سیارے کہا اتھاہ کائنات اور اس کے اندر پھیلی ہوئی ان گنت دنیاؤں میں زمین ہی واحد کرہ ہے جو سر سبز وشاداب ہے۔ زمین ایک بے حد حسین اور مکمل دنیا ہے۔ زمین وہ واحد مقام ہے جہاں زندگی کی رونقیں ہیں، پانی اور ہوا اور سبزہ ہے۔ طرح طرح کی غذا ئیں ہیں۔ انسان کی تمام ضرورتوں کا سامان غیر معمولی اہتمام کے ساتھ یہاں اکٹھا کر دیا گیا ہے۔

واحد کره ہے جہاں انسان ایک جگمگاتی ہوئی تہذیب بناتا ہے۔ وسیع کائنات میں زمین کے سوا ئی دوسرا مقام نہیں جہاں تہذیب و تمدن کی تعمیر ممکن ہو۔ خلائی مسافروں نے بتایا ہے کہ خلا کے بقیہ کرے انسان جیسی زندگی کے لئے اس درجہ ناموافق ہیں کہ وہ بالکل جہنم معلوم ہوتے ہیں اور ان کے مقابلہ میں ہماری موجودہ زمین جنت۔ زمین کے سوا بقیہ کائنات میں انسان کے لئے کہیں ایک گلاس پانی بھی موجود نہیں۔ حتیٰ کہ امریکی خلا باز جس نے چاند کا سفر کیا، اس کو اس سفر میں پانی کی جگہ اپنا پیشاب صاف کر کے پینا پڑا۔

کیا عجب کہ زمین، اپنی امکانات کے اعتبار سے، خدا کی بنائی ہوئی جنت ہو۔ جنت کی جن نعمتوں کا ذکر قرآن حدیث میں ہے وہ سب وہی ہیں جو بہ تمام و کمال موجودہ زمین پر پائی جاتی ہیں۔ قرآن میں جنت کی تصویر موجودہ دنیا کے "پھلوں" کے مشابہ بتائی گئی ہے (بقرہ (۲۵) حدیث میں ہے کہ سیحون اور جیحون اور فرات اور نیل سب جنت کے دریا ہیں (مسلم) اس دنیا میں وہ سب کچھ انتہائی افراط کے ساتھ موجود ہے جو انسان کو خوشیوں اور کامیابیوں سے بھری ہوئی ایک زندگی بنانے کے لئے درکار ہے (ابراہیم (۳۴) مگر آج زمین کا حسن انسان کو نظر نہیں آتا۔ یہ ویسا ہی ہے جیسے کہ اللہ کی ہستی بے حد نمایاں ہے، وہ آسمان و زمین کا نور ہے۔ مگر انسان اللہ کو نہیں دیکھتا، اللہ نے اس زمین کو بہ حد خوب بنایا ہے (الذي احسن كل شيئ خلقہ ، سجدہ (۷) مگر انسان دنیا کے حسن کو نہیں دیکھ پاتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان اپنے مصنوعی خول سے باہر نکلنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ آدمی کسی چیز کو جب دیکھتا ہے تو وہ اس کو اپنی "آنکھ سے نہیں دیکھتا بلکہ اپنے ذہن" سے دیکھتا ہے۔ اور آدمی کا حال یہ ہے کہ اس نے اپنے ذہن کو سلطحیت ، ظاہر پرستی، خود پسندی اور وقتی مفادات کے پردوں میں ڈھانپ رکھا ہے۔ ہر آدمی ایک بناوٹی خول میں بند ہے۔ اس صورت حال نے آدمی کو اس قابل نہیں رکھا کہ وہ اپنے آپ سے گزر کر کسی چیز کو اس کے اصلی روپ میں دیکھ سکے۔ وہ چیزوں کو خود ان کی سطح پر دیکھنے کے بجائے ان کو اپنی ذات کی سطح پر دیکھتا ہے۔ وہ ہر آن جہنمی دھوئیں میں گھرا ہوا ہوتا ہے۔ اس بنا پر وہ دنیا کی جنتی فضاؤں کو دیکھ نہیں آدمی اگر اپنی ذات کے خول سے باہر آئے اور چیزوں کو خدا کی نظر سے دیکھے تو وہ دنیا کے "پھلوں" میں جنت کو خوشبو پائے گا اور دنیا کے "دریاؤں" میں جنت کا نظارہ کرے گا۔

تاہم اگر کوئی اپنے آپ کو اتنا اوپر اٹھائے کہ دنیا کو اس کے ربانی روپ میں دیکھ سکے تب بھی وہ اس کو برتنے اور اس سے لطف اندوز ہونے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اس کی دو خاص وجہیں ہیں۔ ایک اس لئے کہ انسان کو بر بنائے امتحان جو آزادی اور اختیار دیا گیا ہے، اس کا غلط استعمال کر کے اس نے زمین کو ظلم و فساد سے بھر دیا ہے۔ دوسرے یہ کہ اللہ نے مخصوص مصالح کی بنا پر زمینی زندگی کے اوپر کبد (بلد (۴) کا پردہ ڈال دیا ہے۔ قیامت کے بعد جب زمین کو ان دونوں کیوں سے پاک کر کے دوبارہ سنوارا جائے گا تو وہ اسی طرح نکھر اٹھے گی جس طرح گرمیوں کے سورج سے جھلسے ہوئے اور گرد و غبار سے اٹے ہوئے درخت بارش کے بعد نکھر جاتے ہیں۔ اس وقت ہماری یہ دنیا اتنی حسین اور اتنی لذیذ ہو جائے گی "جس کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی دل میں اس کا خیال گزرا۔ جنت مکروبات سے ڈھکی ہوئی ہے

ہماری دنیا کی ایک خرابی وہ ہے جو انسان کے ہاتھوں (بما كسبت ايدی الناس) پیدا ہوئی ہے۔ یہ زمین خدا کی زمین ہے۔ اس زمین کا انتظام خدا کے وہ پاک کارندے کر رہے ہیں جن کو فرشتے کہا جاتا ہے۔ تاہم انسان کو عارضی مدت کے لئے یہاں اختیار دے دیا گیا ہے۔ اس محدود اختیار کو انسان نے نہایت بری شکل میں استعمال کیا۔ انسان نے فرشتوں کے اس اندیشہ کو بدترین شکل میں درست ثابت کیا کہ انسان کو زمین میں اختیار دیا جائے گا تو وہ زمین پر فساد کرے گا اور خون بہائے گا (بقرہ ۳۰) انسانوں کے علائق (شہر فساد) نے خدا کی دنیا کو اس قدر آلودہ کر دیا ہے کہ کسی خدا کے بندے کے لئے یہ ممکن نہیں رہا کہ دنیا کو اس کے اصلی روپ میں پا سکے۔

انسان خدا کا پرستار بننے کے بجائے اپنی پرستش کا بت کھڑا کرتا ہے۔ وہ خدا کے بتائے ہوئے راستہ پر چلنے کے بجائے اپنی گھڑی ہوئی راہوں پر دوڑتا ہے۔ وہ کامیابی پا کر اکڑتا ہے۔ وہ اپنے بھائی کو اس کا حق دینے کے بجائے اس کو برباد کرنے کے منصوبے بناتا ہے۔ وہ خدا کے دیئے ہوئے مواقع کو حقیقی کاموں میں لگانے کے بجائے ان کو نمائشی کاموں میں برباد کرتا ہے۔ وہ کمزور کو ستاتا ہے اور جھوٹے مظاہرے کر کے حمایت حق کا کریڈٹ لیتا ہے۔ وہ کسی کی ترقی کو دیکھ کر حسد اور بغض میں مبتلا ہوتا ہے اور اس کو گرانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ اعتراف کے طریقہ کو چھوڑ کر ہٹ دھرمی کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ وہ انسانیت کے لئے جینے کے بجائے اپنی ذات کے لئے جیتا ہے۔ وہ امن کے حدود میں کام کرنے کے بجائے قتل اور توڑ پھوڑ کے ذریعہ اپنا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ اپنی بڑائی قائم کرنے کی خاطر پوری قوم اور پوری انسانی نسل کو داؤ پر لگا دیتا ہے۔ انسان کی اس قسم کی بداعمالیوں نے خشکی اور تری کو فساد سے بھر دیا ہے۔ زمین کے جبتی چہرہ کے اوپر اپنا جہنی پردہ ڈال دیا ہے۔

دوسری چیز دنیا کے موجودہ نظام کی محدودیت ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان کو ہم نے رنج اور مشقت (کبد) میں پیدا کیا ہے۔ یہ اس مصلحت یہ ہے کہ انسان آپ سے باہر نہ ہو۔ وہ قادر مطلق کو یاد کرتا رہے۔ دنیا میں انسان کی زندگی ایسی ہی ہے جیسے پھول کے ساتھ کانٹا۔ یہاں ہر چیز کے ساتھ ایک "کانٹا " یا کبد لگا دیا گیا ہے۔ زندگی کے ساتھ موت، جوانی کے ساتھ بڑھا پا، طاقت کے ساتھ کمزوری صحت کے ساتھ بیماری، لذت کے ساتھ محدودیت، آرام کے ساتھ اندیشہ، خوشی کے ساتھ اکتاہٹ عمل کے ساتھ تھکان، ترقی کے ساتھ مسائل دوستی کے ساتھ دشمنی، معتدل موسم کے ساتھ شدید موسم ، بارش کے ساتھ طوفان نسیم صبح کے ساتھ آندھی، تمدن کے ساتھ کثافت (Pollution) کامیابی کے ساتھ حادثہ وغیرہ ۔ دنیا میں پھول کے ساتھ اس طرح " کانٹے " کی یک جائی نے دنیا کی ہر خوشی اور یہاں کی ہر لذت کو بے معنی بنا دیا ہے۔ آدمی یہاں پا کر بھی نہیں پاتا، آدمی یہاں کامیاب ہو کر بھی اپنی کامیابی کا لطف نہیں اٹھاتا۔ حتی کہ وہ اپنی اندرونی پیچیدگیوں اور خارجی مسائل کی وجہ سے اس قابل نہیں رہ جاتا کہ دنیا کو اس کے بے آمیز روپ میں دیکھ سکے۔ اپنے آپ کو حقیقت واقعہ کے مطابق بنانے والے قیامت خدا کا وہ منصوبہ بند دھما کا ہے جو اس لئے آئے گا کہ زمین کو ان دونوں قسم کی خرابیوں سے پاک کر دے۔ اس کے بعد یہ ہوگا کہ خدا زمین کے معاملہ کو براہ راست اپنے چارج میں لے لے گا (مریم (۴۰) خدا اپنی زمین سے خبیث انسانوں

کو نکال دے گا (انفال، ۳) یہاں صرف ان طیب انسانوں کو بسائے گا جو موجووہ امتحانی مدت ہیں۔ اس کا ثبوت دے چکے ہوں کہ وہ خدا کی جنتی دن کے شہری بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے :

وَأُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِينَ غَيْرَ بَعِيدٍ هَذَا مَا اور جنت ڈر والوں کے لئے قریب لائی جائے گی، وہ کچھ دور تُوعَدُونَ لِكُلِّ أَوَّابٍ حَفِيظٍ مَنْ خَشِيَ الرَّحْمَنَ بِالْغَيْبِ نہ رہے گی۔ یہ ہے جس کا وعدہ تم سے کیا جاتا تھا۔ وہ ہر ایسے وَجَاءَ بِقَلْبٍ مُنِيبٍ ( ادْخُلُوهَا بِسَلَامٍ ذَلِكَ يَوْمُ الْخُلُودِ شخص کے لئے ہے جو رجوع ہونے والا یا یاد رکھنے والا ہو، جو بغیر لَهُمْ مَا يَشَاءُونَ فِيهَا وَلَدَيْنَا مَزِيدٌ دیکھے اللہ سے ڈرتا ہو اور اور ایسا دل لایا جس میں رجوع ہے۔ ق ۳۱ - ۳۵ جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ۔ یہ دن ہے ہمیشہ ان کے لئے وہاں سب کچھ ہے جو وہ چاہیں اور ہمارے پاس اور زیادہ بھی ہے۔

اللہ تعالیٰ کو اپنی جنت میں بسانے کے لئے وہ انسان مطلوب ہے جو اللہ کو نہ دیکھتے ہوئے بھی اس طرح رہے جیسے کوئی اللہ کو دیکھ کر رہتا ہے۔ اللہ کی بڑائی اور اس کے کمالات آدمی کے ذہن پر اس طرح چھا جائیں کہ وہ ہر وقت اس کو یاد آنے لگے۔ دل خدا کی باتوں سے لبریز رہے اور اس کی زندگی خدا کے گرد گھومنے لگے۔ ایک آقا اپنے اس ملازم سے بہت زیادہ خوش ہوتا ہے جو آقا کی غیر موجودگی میں بھی مکمل طور پر اس کا وفادار بنا رہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کو وہ انسان سب سے زیادہ پسند ہے جو اللہ کو نہ دیکھ کر بھی اس طرح رہتا ہو جیسے وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے، جو اللہ کی جنت اور جہنم کو نہ دیکھتے ہوئے بھی اس طرح ان کی طرف دل لگائے رہے جیسے کہ جنت اور جہنم اس کے سامنے کھڑی ہوئی ہیں۔

جس آدمی کے اندر یہ صفات نہ ہوں وہ گویا خدا کی معیاری دنیا کے لئے بے جوڑ ہے۔ وہ ایک ایسی دنیا میں رہنے کے قابل نہیں جہاں کی ہر چیز فطرت کی صراط مستقیم پر چل رہی ہو۔ جنت کی حسین دنیا میں رہنے کا اہل وہی ہے جو خدا کو اس طرح اپنا معبود بنائے کہ وہی اس کی زندگی بن جائے۔ جو اپنے شعور کو اس حد تک ترقی دے کہ اپنے آپ کو اپنے سے الگ ہو کر جو خود مختار ہو کر بھی پابند زندگی گزارے، جو آزاد ہو کر بھی اپنی آزادی کو صحیح حدود میں استعمال کرے۔ نظری اور حقیقت پسندی کا وہ مقام ہے جہاں آدمی نفسیاتی پردوں سے باہر آ کر سوچتا ہے۔ جہاں وہ اپنے آپ کو ذاتی نگاہ سے نہیں بلکہ حقیقت واقعہ کی نظر سے دیکھنے لگتا ہے۔ جہاں وہ مجبور نہ ہوتے ہوئے بھی ہر قدم پر اپنے آپ کو اپنے آقا کے آگے جھکا دیتا ہے۔ جہاں مخالف ترغیبات کے باوجود وہ اپنے آپ کو اللہ کے حدود پر قائم رکھتا ہے۔ جہاں ڈھٹائی کے مواقع ہوتے ہوئے بھی وہ سرتا پا اپنے حق کے آگے ڈال دیتا ہے۔ مالک کائنات کے ظہور کے بعد آدمی کا جو حال ہو گا دہ حال اس کا اسی وقت ہو جاتا ہے جب کہ مالک کائنات ابھی غیب کے پردہ میں ہے۔ آج کی دنیا میں حق پرستی اور معقولیت کی کوئی قیمت آج ساری قیمت صرف طاقت میں ہے۔ جنت کی دنیا وہ دنیا ہوگی جہاں حق پرست، اور معقولیت قیمت والی چیزیں بن جائیں گی۔ اس لئے اس کا شہری وہی بن سکتا ہے جس نے موجودہ دنیا میں اپنے اندر ایسے انسان کی پرورش ہو جو حق کو ماننے والا اور معقولیت کو تسلیم کرنے والا ہے۔ اللہ کی ناپسندیدہ چیزیں گویا اللہ کا "شجرہ ممنوعہ میں جنت میں قیام

کا اجازت نامہ اسی کو ملے گا جو دنیا میں اپنے عمل سے ثابت کرے کہ وہ آزاد اور خود مختار ہو کر بھی ممنوعہ درخت کے قریب جو شخص دنیا کے امتحانی مرحلہ میں یہ ثبوت دے کہ وہ لغو اور تائیم سے دور رہنے والا آدمی ہے ، اسی سے امید کی جاسکتی ہے کہ وہ جنت کے لغو اور تائیم سے خالی ماحول میں مناسب طور پر رہ سکے گا۔ جو شخص اس قسم کے ضبط نفس، انسانی شرافت اور بلند کرداری کا ثبوت نہ دے، اس کو جنت میں آبادی کا اہل نہیں قرار دیا جائے گا، بلکہ اس کو دور پھینک دیا جائے گا جہاں وہ محروم اور بے یار و مددگار ہو کر ابدی عذاب سہتا رہے۔ جنت کی تعمیر آخرت وہ دن ہے جب کہ ، قرآن کے الفاظ میں ، اشجار خبیثہ کو اس زمین سے اکھاڑ پھینکا جائے گا۔ اشجار طیبہ کو یہاں باقی رہنے دیا جائے گا جو خدا کے خصوصی انتظامات کے تحت یہاں ہمیشہ کے لیے پھلیں پھولیں گے۔ جنت سے برے لوگوں کو نکالنے اور وہاں اچھے لوگوں کو بسانے کا ذکر بائبل میں ان الفاظ میں آیا ہے : ”تو بد کرداروں کے سبب سے بیزار نہ ہو۔ اور بدی کرنے والوں پر رشک نہ کر ۔ کیونکہ وہ گھاس کی طرح جلد کاٹ ڈالے جائیں گے۔ خداوند میں مطمئن رہ اور صبر سے اس کی آس رکھ۔ قہر سے باز آ اور غضب کو چھوڑ دے۔ کیوں کہ بد کردار کاٹ ڈالے جائیں گے۔ لیکن جن کو خداوند کی آس ہے، ملک کے وارث ہوں گے۔ تھوڑی دیر میں شریر نابود ہو جائے گا ۔ تو اس کی جگہ کو غور سے دیکھے گا، پردہ نہ ہوگا۔ لیکن حلیم ملک کے وارث ہوں گے۔ اور سلامتی کی فراوانی سے شادماں رہیں گے۔ شریروں کے بازو توڑے لیکن خداوند صادقوں کو سنبھالتا ہے۔ کامل لوگوں کے ایام کو خداوند جانتا ہے۔ ان کی میراث ہمیشہ کے لئے جن کو وہ برکت دیتا ہے وہ زمین کے وارث ہوں گے۔ اور جن پر وہ لعنت کرتا ہے وہ کاٹ ڈالے جائیں گے ۔ بدی کو چھوڑ دے اور نیکی کر۔ اور ہمیشہ تک آباد رہ۔ کیوں کہ خداوند انصاف کو پسند کرتا ہے۔ اور اپنے مقدسوں کو ترک وہ ہمیشہ کے لئے محفوظ ہیں۔ پر شریروں کی نسل کاٹ ڈالی جائے گی۔ صادق زمین کے وارث ہوں گے۔ میں ہمیشہ بسے رہیں گے۔ خداوند کی آس رکھ اور اسی کی راہ پر چلتا رہ۔ اور وہ تجھے سرفراز کرکے زمین کا وارث بنائے گا۔ (زبور ، داؤد کا مز مور ۳۷)

قیامت کے دھماکے کے بعد جو دنیا بنے گی وہ ہر قسم کی محدودیت اور ناموافق حالات سے پاک ہوگی۔ حدیث میں آیا ہے : عن ابی سعید ، ان رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، آخرت میں ایک قال ينادی مناد ان لكم ان تصحوا فلا تسقموا ابدا پکارنے والا جنت والوں سے پکار کر یہ کہے گا کہ اب تم وان لكم ان تحيوا فلا تموتوا ابدا وان لكم ان تشبوا فلا ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ ہو گے ۔ اب تم ہمیشہ زندہ تھرموا ابدا وان لكم ان تنعموا فلا تلبسوا ابدا رہو گے کبھی تم کو موت نہ آئے گی ۔ اب تم ہمیشہ جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہوگے ۔ اب تم ہمیشہ نعمتوں میں رہو گے کبھی محتاج نہ ہوگے۔

قرآن و حدیث میں کثرت سے ایسے اشارے ملتے ہیں جو بتاتے ہیں کہ کس طرح وہ تمام ناخوش گوار اور ناموافق چیزیں آخرت

کی دنیا سے حذف کردی جائیں گی جو آج ’کبد‘، بن کر ہم کو گھیرے ہوئے ہیں۔ موجودہ دنیا میں آدمی محنت ومشقت کے بعد کوئی چیز پاتا ہے، جنت میں صرف اشتہار (زخرف ۸۱) کسی چیز کو پانے کے لئے کافی ہوگی۔ آخرت کی دنیا ہر قسم کے دکھ اور ہر طرح کے اندیشوں سے بالکل خالی ہوگی (احقاف ۱۳) اہل جنت جب اس کو دیکھیں گے تو پکار اٹھیں گے: الحمد للہ الذی اذھب عنا الحزن (فاطر ۳۴) سب تعریف اللہ کے لئے ہے جس نے ہم سے غم کو دور کر دیا۔ ساتھ زمین کے امکانات کو بڑھانے کے لئے اس کو بڑا کر دیا جائے گا (إذا الأرض مدت) اس کی ایک صورت یہ ہے کہ غالباً پہاڑوں اور سمندروں کو ختم کرکے پوری زمین کو مسطح کر دیا جائے گا، جس کے اشارے قرآن میں متعدد مقامات پر اسی کے ساتھ غالباً اس کے حجم میں بھی اضافہ کر دیا جائے گا۔ اس کی تصدیق موجودہ جغرافی مطالعہ سے بھی موجودہ زمانہ میں ایک مستقل نظریہ توسیع زمین کا نظریہ (Expanding Earth Theory) کے نام سے وجود میں آیا ہے۔ جغرافی ماہرین نے اندازہ کیا ہے کہ پچھلے دو سو ملین سال میں ہماری زمین تقریباً بیس فی صد تک غبارہ کی طرح پھول گئی ہے۔ اور اب بھی پھولتی اور بڑھتی جارہی ہے:

Printed page