Al-Risala · July 1979

New Scientist, London, February 8, 1978, p. 389.

Al-Risala, July 1979, pp. 12–14

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت ہماری موجودہ زمین ہی پر تعمیر ہوگی (زمر ۷۴) آج یہ زمین انسان کے چارج میں ہے اس وقت خدا براہ راست اس کو اپنے قبضے میں لے لے گا (مریم ۴۰) اچھے اور برے ایک دوسرے سے الگ کردیئے جائیں گے (روم ۱۳) اور زمین کو اللہ اپنے پسندیدہ بندوں کے حوالے کردے گا (انبیاء ۱۰۵) اس وقت زمین براہ راست خدا کے نور سے جگمگائے گی (زمر ۶۹) زمین پر جنتی ماحول پیدا کرنے کے لئے اس میں بہت سی تبدیلیاں کی جائیں گی (ابراہیم ۴۸) اس کے اوپر سے پہاڑوں کو ختم کرکے ہموار کر دیا جائے گا (طہ ۱۰۴) دریاؤں اور سمندروں کو سطح زمین کے نیچے کر دیا جائے گا (انفطار ۳) اور اس کے بعد زیر زمین آب رسانی کا نظام قائم کیا جائے گا (تجري من تَحْتِہَا الأنهار) زمین کا آبادی کا رقبہ موجودہ رقبہ سے کئی گنا زیادہ بڑھ جائے گا (انشقاق ۳) ساری زمین ہموار کھلی ہوئی ہو جائے گی (کہف ۴۸) سخت سردی اور سخت گرمی کو ختم کرکے موسموں کو بالکل معتدل کر دیا جائے گا (دہر ۱۳) اس قسم کی اور بہت سی خوش گوار تبدیلیاں کرنے کے بعد زمین پر نہایت عمدہ مکانات، بہترین پارکوں اور باغوں میں بنائے جائیں گے (صف ۱۲) وہاں کا ماحول بے حد ستھرا ماحول ہوگا جو ہر قسم کی لغویات وخرافات سے بالکل پاک ہوگا (واقعہ ۲۵) وہاں اللہ کی بڑائی کے سواکسی اور کی بڑائی کا چرچا نہ ہوگا (زمر ۷۳) وہاں ہر طرف امن وسلامتی کا ماحول ہوگا (واقعہ ۲۰) وہاں عالی شان کثیر منزلہ عمارتیں ہوں گی (زمر ۲۰) اہل جنت کو ہر قسم کی شاہانہ نعمتیں اور عزت و مرتبہ حاصل ہوگا (دہر ۲۰) وہاں انسان کی تمام مطلوبہ لذتیں مزید اضافہ کے ساتھ موجود ہوں گی (حم سجدہ ۳۱) وہاں کی مشغولیتیں بھی سب کی سب فرحت بخش ہوں گی (يس ۵۵) جب زمین کا یہ نیا انتظام ہوگا تو زمین سے تمام برے انسان اکھاڑ پھینکے جائیں گے (ابراہیم ۴۷) زمین پر صرف وہ لوگ باقی رہیں گے جو موجودہ زندگی میں باقیمت ثابت ہوئے ہوں (رعد ۱۷) جنھوں نے اپنی پہلی زندگی میں عبد صالح کی حیثیت سے زندگی گزاری ہو (انبیاء ۱۰۵) اصل جنت غالباً اسی زمین پر قائم ہوگی مگر اہل جنت کی پہنچ ساری کائنات

تک ہوگی (حدید (۲۱) وہ پوری کا ئنات میں جہاں چاہیں گے دیکھیں گے اور جس سے چاہیں گے بات کریں گے (صادق وہ جہاں چاہیں گے باسیانی جا سکیں گے (زمر ۷)۔ جس طرح آج کی دنیا میں پانی اور ہوا اور روشنی اور دوسرے بے شمار سامانِ خدائی انتظام کے تحت مسلسل فراہم کئے جا رہے ہیں، اسی طرح جنت میں انسان کی تمام مرغوب چیزیں اس کو خدائی انتظام کے تحت فراہم ہوں گی۔

نیو انگلینڈ کے طبی جرنل (Journal of Medicine) میں ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ صنعتی کثافت نے امریکی باشندوں کی صحت کے لئے کس طرح کے مسائل پیدا کر دیئے ہیں ان میں سے ایک کے الفاظ میں یہ ہے: Industrial pollution has raised the lead content in the bodies of Americans to 500 times the human body's natural level. The Times of India, April 29, 1979. انسانی جسم میں فطری طور پر جست کی جو مقدار ہوتی ہے، اس کے مقابلہ میں امریکیوں کے جسم میں پانچ سو گنا زیادہ جست ہو گیا اور اس کی وجہ صنعتی کثافت ہے ، اس قسم کے بے شمار مسئلے ہیں جو موجودہ زمانہ میں صنعتی کثافت نے پیدا کئے ہیں ۔ ہماری مشینی صنعت اگر ایک طرف ہماری ضرورت کے سامان تیار کرتی ہے تو اس کے ساتھ وہ پانی کو اور فضا کو اپنی کثافتوں سے بھر دیتی ہے۔ انسان ابھی تک ایسی ٹیکنالوجی دریافت نہ کر سکا جو کثافت پیدا کئے بغیر تمدن کی گاڑی چلا سکے قدرت ہماری زندگی کے تمام سامان بے حساب مقدار میں مہیا کرتی ہے اور اس کے لئے ان گنت صنعتیں چلاتی ہے۔ درخت سے لے کر زندہ اجسام تک اور ذرہ سے لے کر شمسی اور کہکشانی مجموعوں تک ہر چیز متحرک ہے، ہر چیز انتہائی پیچیدہ صنعتی نظام ہے جو ہمارے لئے زندگی کے اسباب مہیا کرتا ہے۔ مگر اتنے بڑے پیمانے پر صنعتی سرگرمیاں جاری ہونے کے باوجود ہمارے لئے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا۔ یہاں حرکت ہے مگر شور نہیں۔ یہاں سامان تیار ہو رہے ہیں مگر دھواں نہیں۔ یہاں پرانی چیزیں نئی صورت اختیار کرتی رہتی ہیں مگر کہیں کوئی گندگی نہیں۔ اللہ کی اس عظیم الشان صنعت گاہ میں صرف چند تمدنی چیزیں انسان کے اوپر چھوڑ دی گئی ہیں۔ مثلاً مکان ، سواری ، برتن، کپڑا، فرنیچر وغیرہ ۔ اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی خام اشیاء بنائیں اور ان کو تیار شدہ سامان کی صورت دینے کے لئے بھی اعلیٰ درجہ کے مواقع فراہم کر دئے ۔ اور اس کے بعد انسان کے ذمہ یہ کام سپرد کر دیا کہ وہ ان کو استعمال کر کے اپنے لئے تمدنی اشیاء تیار کرے۔

نظامِ کائنات میں انسان کی اس محدود شرکت نے خشکی اور تری کو کثافتوں سے بھر دیا ہے آخرت میں جب جنتی دنیا بنے گی تو تمدن کی تعمیر کا کام بھی اللہ براہ راست اپنے انتظام میں لے لے گا۔ آج ہم اپنے ”مکانات“ خود بناتے ہیں۔ بنے بنائے مکانات (زمر (۲۰) ہم کو خدا کی طرف سے مہیا کئے جائیں گے جس طرح آج بھی بے شمار قدرتی چیزیں بنی بنائی حالت میں ہم کو دی جا رہی ہیں۔ اس وقت ایسی سواریاں دی جائیں گی جو بے حد تیز رفتار ہوں گی مگر وہ زمین کی مانند ہوں گی جو ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ رہی ہے مگر کوئی شور نہیں کرتی۔ اس وقت تمدنی کارخانے قائم ہوں گے ۔ مگر وہ درخت کے کارخانہ کی مانند ہوں گے جو فضا کو آلودہ کرنے کے بجائے اس کو آکسیجن سے معطر کرتا رہتا ہے۔ وہاں آدمی کھائے گا اور مگر اس کا جسمانی نظام کوئی غلاظت نہیں نکالے گا۔ بلکہ پھول کے نظام کی مانند ہوگا جو اپنے اندر کی کثافت کو خوشبو کی صورت میں خارج کرتا ہے۔ وہاں ہر قسم کی بہترین سرگرمیاں جاری ہوں گی ۔ مگر وہ کسی قسم کی ناخوش گواری

پیدا نہیں کریں گی، نہ اپنے لئے اور نہ دوسروں کے لئے۔

Printed page