Al-Risala · January 1979

۔ موجودہ حالات میں ایک شخص کے لئے یہ بہت

Al-Risala, January 1979, pp. 31–44

By Maulana Wahiduddin Khan

| چھوٹی قربانی ہے۔ لیکن اگر ہمارا ہر ہمدرد اس قربانی کو | اپنی زندگی میں شامل کر لے تو چند سالوں میں انشاء اللہ | بہت بڑے نتائج نکل سکتے ہیں۔

مولاناحمید اللہ ندوی بھوپال یہ غوغائی سیاست ماہ اکتوبر کے الالرسالہ میں کشمیر میں میر سید علی ہمدانی کے کام کی نوعیت کو ایک مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے ۔ آپ نے واقعاتی انداز میں دعوت کا کام کرنے والوں کی جو رہنمائی فرمائی ہے ، اس طرز پر جب بھی کام ہوا ہے ، اسے کامیابی ملی رہے۔

اس کے علاوہ ہمارے سامنے مسلمانوں کی تاریخ میں ایک دوسری عظیم الشان مثال موجود ہے ، وہ ہے شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی نے کا کام ۔ گمراہی کو ختم کرنے کے لئے مجدد الف ثانی تاریخ اسلام کا سب سے بڑا میدان کربلا بر پا کر سکتے تھے ، لاکھوں افراد کو وہ اپنے جوش خطابت کے ذریعہ شہادت کے لئے آمادہ کر سکتے تھے ، اور پھر بھی وہ اکبر کے سامنے ممکن ہے ، اسی طرح ناکام رہتے ، جس طرح حضرت حسینؓ یزید کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے۔ مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ ہندوستان کے ہر مکتبہ فکر کے علماء و خواص کو اکٹھا کر کے ایک مشترکہ آزمائش کو ختم کرنے کے لئے کوئی مجلس مشاورت بھی نہیں بنائی، نہ انھوں نے عوام کو ترک موالات پر ابھارا۔ وہ انتہائی دردمندی، خاموشی اور حکمت عملی کے ساتھ اس فتنہ کا انسداد کرنے کے لئے مثبت انداز میں کام کرنے کے وقت اور موقع کے منتظر ہے۔ خود اکبری عہد کو انھوں نے اپنے کام کا آغاز کرنے کے لئے موزوں نہیں پایا تو مرحوم نے قطعاً عجلت نہیں دکھائی، انھوں نے مکمل طور پر اس اصول پر بھی عمل کیا کہ بے وقت کا اقدام ناکامی کا سبب نہ بن جائے۔ انھوں نے جہانگیر کی جانشینی تک انتظار کیا۔ حالاں کہ ان کے لئے یہ انتظار سخت صبر آزما تھا۔ ظاہر ہے کہ جہانگیر اکبر کے نظریات کے سلسلہ میں اتنا حساس نہیں تھا۔ اس عرصہ میں مجدد صاحب نے یہ بھی سوچ لیا کہ بادشاہ پر کس طرح اثر انداز ہوا جا سکتا ہے۔ بادشاہ کے ذہن کو بدلنے کے لئے میری ایک تجویز ہے جسے جناب پسند فرمائیں تو شائع بھی کردیں، وہ یہ کہ الرسالہ کی اشاعت کا ہفتہ منایا جائے اور سالرسالہ کے ہمدردوں سے اپیل کی جائے کہ اس ہفتہ اس کام کو ایک مہم کے طور پر کریں اور کم سے کم ہر خریدار، نئے تین خریدار بنائے، زیادہ جتنے بھی بن یہ کام ایک تحریک کے طور سال میں ایک مرتبہ بھی ہو جائے تو ہر سال اشاعت میں کئی گنا اضافہ ہو سکتا ہے، اور یہ بات چل پڑے تو حیرت انگیز طور پر رسالہ کی اشاعت پھیل سکتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ایک خاصی تعداد ایسے لوگوں کی ہوگی جو الرسالہ سے ایک تحریک کی طرح وابستہ ہوگی ، جتنے خریدار ہیں ، ان کی اگر ایک ثلث تعداد نے بھی اس پر عمل کیا تو ایک مہم میں الرسالہ کی اشاعت دوگنی ہو جایا کرے گی ، اور ہر آنے والا سال اشاعت کو سالِ گزشتہ کے مقابلہ میں دگنا کر دیا کرے گا۔ میں نے طے کیا ہے کہ میں الرسالہ کے لئے اور اس تحریک کے لئے ایسے لوگوں کے ذہن بناؤں جو سوسائٹی میں مؤثر حیثیت رکھتے ہوں اور قائم شدہ ایجنسی کے ساتھ تعاون کروں (حمید اللہ ندوی ۔

ایک بڑا لشکر وہ کام نہیں کرسکتا جو کام بادشاہ کے معتمدین کرسکتے ہیں، اس لئے مجدد صاحب کی دانش مندی نے لشکر کی فراہمی میں وقت ضائع نہیں کیا بلکہ وزرا ئے سلطنت پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی ــــــــ مجدد صاحب کے مکتوبات جو وزراء کے نام ہیں انھیں دیکھ کر ہر ایک اندازہ لگا سکتا ہے، کہ کس دل سوزی حکمت عملی اور اپنائیت کے ساتھ مجدد صاحب نے مختلف عمائدین سلطنت کو اپنا گرویدہ بنا لیا اور انھیں جہانگیر کا ذہن بدلنے کے لئے آمادہ کیا ــــــــ ایک موقع مجدد صاحب کی تحریک کے لئے انتہائی آزمائش کا آگیا تھا اور واقعہ یہ ہے کہ اگر مجدد صاحب کی دانش مندی اور دور اندیشی اس موقع پر خطا کر جاتی تو مجدد صاحب اپنے مشن میں یقیناً فیل ہو چکے ہوتے ـــــ یہ نازک وقت وہ تھا جب اصول پر سمجھوتہ نہ کرتے ہوئے مجدد صاحب نے جہانگیر کو سجدہ تعظیمی نہیں کیا تھا اور اس لئے آپ کو جیل بھیج دیا۔ ایسے موقع پر ہمارا آج کا داعی آسانی سے اپنے مریدوں کو ہڑتالوں اور احتجاجات کی راہ پر ڈال دیتا اور نتیجہ سخت ٹکراؤ کی نوبت آتی اور دعوتی کام کا وہی حشر ہوتا جو آج ہمیں پاکستان کے داعیوں کی جدلی دعوت کا نظر آ رہا ہے ـــ ایسا نہ کرتے ہوئے مجدد صاحب نے صبر وسکون کے ساتھ جیل کی زندگی گزاری اور اپنے مریدین کے جذبات کو قابو میں رکھا، اور اسی کے ساتھ وزرائے سلطنت سے مسلسل رابطہ قائم رکھتے ہوئے اپنے دعوتی کام سے یک لمحہ غافل نہیں ہوئے ـــــــــ مجدد صاحب کی اس خاموش حکیمانہ اور ہر قسم کی نعرہ بازی سے ہٹی ہوئی مثبت کوششوں کے جو اثرات مرتب ہوئے وہ ہم جانتے ہیں ـــــــ آج بھی یہ سب کچھ ہو سکتا ہے، بشرطیکہ ہم غوغائی سیاست کی حاشنیوں کو ترک کرنے کا اپنے اندر حوصلہ پیدا کر لیں ۔

مولانأ وحیدالدین خاں تاریخ کا سبق مولانأ وحیدالدین خاں مکتبہ الرسالہ جمعۃ مارکیٹ، نئی دلی قیمت دو روپے قیمت دو روپے چاند اسٹیٹ دہلی-۱۱۰۰۰۶ مكتبہ الرسالۃ بعمیہ بلدنگ قاسم جان اسٹریٹ دہلی دہلی-۱۱۰۰۰۶

الرساله کے شائقین سے گزارش ہے کہ وہ پرچہ بذریعہ وی، پی طلب نہ فرمائیں۔ بلکہ اپنا زر تعاون منی آرڈر کے ذریعہ بھیج دیں یہ طرفین کے لئے سہولت کا باعث ہے۔

جو لوگ سالانہ یا شش ماہی زر تعاون بیک وقت ادا نہ کر سکیں ، وہ ہر مہینہ دو روپے کا ٹکٹ لفافہ میں رکھ کر بھیج دیں۔ انھیں روانہ کر دیا جائے گا۔

خریدار حضرات براہ کرم اپنے خطوط میں خریداری نمبر کا حوالہ ضرور تحریر فرمائیں بینک میں ہمارا اکاؤنٹ "الرسالہ منتھلی" کے کے نام سے ہے۔ اس لئے بینک سے رقم بھیجتے ہوئے چک یا ڈرافٹ پر الرسالہ منتھلی کوئی دوسرا لفظ (مثلاً صرف الرسالہ یا منیجر الرسالہ وغیرہ) نہ لکھیں

Printed page