اہل جنت کی مثال
Al-Risala, July 1979, pp. 15–16
By Maulana Wahiduddin Khan
درخت موجودہ دنیا میں، جنت کے شہریوں کے امثال (Doubles) ہیں۔ قرآن میں ایمان کو درخت سے تشبیہ دی گئی ہے (ابراہیم ۲۴) انسانی وجود کی مثال زمین کی سی ہے۔ توحید کا عقیدہ اس زمین کے لئے بیج کی حیثیت جب ایک آدمی توحید کو اپناتا ہے تو گویا وہ اپنی ہستی کی زمین پر شجرہ طیبہ کا بیج بوتا ہے ۔ اگر زمین تیار ہے تو بیج اگنا شروع ہو جاتا ہے۔ اس کی جڑیں انسان کی ہستی میں داخل ہونا شروع ہو جاتی ہیں، اس کی شاخیں اس کے وجود کے چاروں طرف ابھرنے لگتی ہیں۔ جو لوگ کامل شجر بنیں گے وہ یہاں ابدی طور پر نشو و نما پائیں گے ۔ اور جو جھاڑ جھنکار ہوں گے ان کو اکھاڑ کر پھینک دیا جائے گا۔
درخت اس لئے وجود میں نہیں آتا کہ دوسروں کے خلاف تقریر و تحریر کی مہم چلائے اور خارجی دنیا میں نظام اشجار قائم کرنے کے لئے توڑ پھوڑ کا طوفان بر پا کرے ۔ گدھے اور بھیڑئے ممکن ہے ایسا کرتے ہوں مگر درختوں کا
یہ کام نہیں۔ درخت ایک انفرادی وحدت ہے، اس کی اپنی خاموش دنیا ہے، درخت کا سارا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی فطرت میں چھپی ہوئی امکانات کو بروئے کار لائے۔ وہ زمین اور ہوا اور سورج اور دوسرے بے شمار کائناتی انتظامات سے اپنے لئے غذا حاصل کرتا ہے اور پھر اپنے کو ایک ایسے کامل وجود کی صورت میں کھڑا کرتا ہے جس کی جڑیں زمین میں گہرائی تک جمی ہوں اور جس کی شاخیں آسمان تک پہنچ رہی ہوں۔ وہ ایک انتہائی با معنی وجود ہوتا ہے۔ جڑوں میں کروڑوں بیکٹیریا اس لئے مصروف ہوتے ہیں کہ ہوا سے نائٹروجن نکال کر اس کو غذا فراہم کریں۔ مزدوروں کا مسئلہ (Labour problem) نہیں پیدا ہوتا۔ وہ لکڑی اور پتی اور پھول اور پھل کی تیاری کے لئے ایک عظیم الشان انڈسٹری قائم کرتا ہے۔ مگر اس کی انڈسٹری کوئی فضائی کثافت پیدا نہیں کرتی۔ اس کے برعکس اس کی "چمنیاں" تروتازہ آکسیجن نکال کر فضا کو صحت بخش ہوا سے بھر دیتی ہیں۔ درخت زمین کا حسن ہے۔ ہر موسم میں کھیل وہ بارش کے عمل میں مدد دیتا ہے۔ وہ زمین کے کٹاؤ کو روکتا ہے۔ وہ سایہ اور لکڑی اور کھاد دیتا ہے، تاہم کسی کو اس سے فخر و غرور کا تجربہ نہیں ہوتا۔ وہ کائنات کے مجموعہ میں اس طرح ہم آہنگ ہے کہ دوسروں کو اس سے صرف نفع پہنچے، کسی کو اس سے کسی تکلیف کا تجربہ نہ ہو۔ آدمی درخت پر پتھر پھینکتا ہے اور درخت اس کے بدلے میں اس کے لئے پھل گرا تاہے ۔ آدمی درخت کو کاربن دیتا ہے۔ درخت اس کے بدلے میں آکسیجن لوٹاتا ہے۔ وہ ایک کھڑا ہوا با عظمت مگر وہ اپنا سایہ زمین پر ڈال کر اپنے خالق کی کبریائی کا اعتراف کرتا ہے۔ اس کی نفع بخشیاں اس کے دشمن کے لئے بھی اسی طرح کھلی ہوئی ہیں جس طرح اس کے دوست کے لئے۔ درخت، اپنی ابتدائی صورت میں ایک معمولی مادی مجموعہ ہے۔ مگر خدا کی کائنات سے اپنا رزق لے کر، وہ اپنے آپ کو قدرت کے ایک شاہکار کی صورت میں زمین کے اوپر کھڑا کر دیتا ہے۔
درخت دنیا کی زندگی میں مومنین جنت کا تعارف ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ وہ نفوس زکیہ کیسے ہوتے ہیں جن کو اللہ اپنی جنت کی آباد کاری کے لئے چنتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو ایسا بنائیں گے ان کا سینہ اللہ کی حمد کے سوا ہر حمد سے خالی ہو ۔ جو بڑائی کے بجائے عجز کو اپنا کمال سمجھتے ہوں ۔ جن کے پاس دوسروں کے لئے نفع رسانی ہو نہ کہ ضرر رسانی ۔ جو ہر قسم کے منفی جذبات سے پاک ہو کر خدائی زمین پر لہلہاتے ہوں۔ یہی لوگ جنت کی کالونیوں میں بسائے جائیں گے۔ اور جنت کی لطیف اور نفیس دنیا ایسے ہی لوگوں کے لئے بنائی گئی ہے۔
آخرت میں ایک طرف زمینی زندگی کو ہر قسم کی محدودیتوں سے پاک کر دیا جائے گا، دوسری طرف تمام اشجار خبیثہ (غیر صالح لوگوں) کو یہاں سے اکھاڑ پھینکا جائے گا اور صرف اشجار طیبہ (صالح لوگوں) کو یہاں آبادکاری کا موقع دیا جائے گا۔ اس وقت یہ دنیا، خدا کی مزید نعمتوں کے ساتھ، جنت کی دنیا بن جائے گی۔ ایک طرف خوف و حزن اور دوسری طرف اشجار خبیثہ کے حذف کے بعد جو دنیا بنے گی وہ ایک ایسا سرسبز شاداب باغ ہوگا جس کو دیکھ کر آدمی کہے گا : کاش میں نے اپنا سب کچھ ٹھا کر اس کو حاصل کیا ہوتا۔