Al-Risala · July 1979

اسلامی جہاد کیا ہے

Al-Risala, July 1979, pp. 19–25

By Maulana Wahiduddin Khan

جہاد کو اسلام میں افضل ترین عبادت کہا گیا ہے۔ اس لئے ہر ایک اپنی سرگرمیوں کو افضل ترین عمل کا درجہ دینے کے لئے اس کو جہاد کا نام دے دیتا ہے۔ کوئی ملت کے مادی حقوق کے لئے دوسری قوموں کے خلاف احتجاج اور مطالبات کی مہم جاری رکھے ہوئے ہے اور اس کو اسلامی جہاد کہہ رہا ہے اور کوئی آزادی قوم اور استخلاص وطن کے لئے لڑائی لڑنے کو۔ کوئی حکومت اسلامی کے قیام کے نام پر مسلمانوں کے اندر باہمی قتل و خون جاری کرنے کو جہاد قرار دے رہا ہے اور کوئی بدعت اور مشرکا رسوم کے خلاف مناظرہ اور مجادلہ کرنے کو۔ کوئی دوروں اور تقریروں کے مظاہرے کرکے مجاہد اسلام کا لقب لے رہا ہے اور کوئی اسلام کو دنیوی ہنگاموں کا موضوع بناکر۔ مگر یہ تمام صورتیں جہاد کے لفظ کو غلط استعمال کرنے کی صورتیں ہیں۔ یہ اسلامی جہاد نہیں ہے۔ بلکہ جہاد کے نام پر اسلام کو قتل کرنا ہے۔ یہ خود اللہ کی راہ کے خلاف جہاد ہے نہ کہ اللہ کی راہ میں جہاد۔

قوم و وطن کی پکار اسلام کے نزدیک جاہلیت کی پکار ہے پھر اس کو اسلامی جہاد کس طرح کہا جا سکتا ہے۔ مسلمانوں کے لئے دوسری قومیں مدعو کی حیثیت رکھتی ہیں اور مدعو اقوام سے دنیوی اجر کا طالب ہونا صریح طور پر سنت انبیاء کے خلاف ہے پھر اس قسم کے حقوق کے لئے مطابقاتی مہم چلانا جہاد کس طرح ہو سکتا ہے۔ جدال اور مناظرہ سے اسلام میں صریح طور پر منع کیا گیا ہے اور حکمت اور نصیحت کے ساتھ تبلیغ کا حکم دیا گیا ہے۔ ایسی حالت میں بحث و جدال کے اکھاڑے قائم کرنا کیوں کر خدا کا مطلوبہ جہاد ہو سکتا ہے۔ اسلام کے نام پر جلسوں اور جلوسوں کی دھوم مچانا اور دنیوی نشانوں کے لئے تحریکیں برپا کرنا رسول اور اصحاب رسول کے طریقہ کے بالکل خلاف ہے۔ پھر ایسے خلاف سنت کام کو اسلامی جہاد کا نام دینا کس طرح صحیح ہوگا نہ مسلمانوں کے درمیان باہمی لڑائی کو ہر حال میں ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ جمہور کا اتفاق ہے کہ مسلم حکمرانوں کے خلاف بغاوت کرنا اور ان کو اقتدار سے ہٹانے کے لئے جنگ کرنا حرام ہے۔ خواہ ان کی امارت بجبر قائم ہوئی ہو اور خواہ مسلم حکمران فاسق اور ظالم ہی کیوں نہ ہو ( امام نووی ، شرح مسلم) ایسی حالت میں " ظالم حکمران کو ہٹانے کے نام پر مسلمانوں کا دو جتھوں میں تقسیم ہونا اور باہم ایک دوسرے کے خلاف جنگ کرنا کیوں کر وہ چیز ہو سکتی ہے جس کو جہاد فی سبیل اللہ کہا جائے ۔ حدیث میں بلا شبہ ظالم سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنے کو افضل الجہاد بتایا گیا ہے مگر اس سے مراد ظالم حکمران کے سامنے حق کی ایک بات کہنا ہے نہ کہ اس کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی مہم چلانا۔ جہاد کے معنی عربی زبان میں ہیں: بھر پور کوشش کرنا، پوری طاقت صرف دینا۔ یہ لفظ، عمومی استعمال میں، ایسے موقع کے لئے بولا جاتا ہے جب کسی مقصد کے حصول کے لئے اپنی ساری کوشش لگا دی جائے۔ قرآن میں ہے اقسموا بالله جهد ایمانهم (فاطر ۱۲) یعنی بہت زور لگا کر قسم کھاتا۔ وان جاهد الى علی ان تشرك بي (لقمان 15 ) یعنی مشرکانہ طریقہ پر قائم رکھنے کے لئے بہت کوشش کرنا۔ جاهد و افینا (عنکبوت (۶۹) یعنی اللہ کے لئے مشقتیں جھیلنا۔ لا يجدون الاجهدهم (توبه ۷۹) یعنی محنت کی کمائی ۔ ان استعمالات سے اسلامی جہاد یا جہاد فی سبیل اللہ کا مطلب

سمجھا جاسکتا ہے۔ اس مطلب ہے اللہ کے دین کو اختیار کرنے کے بعد اس کی راہ میں وہ ساری محنت و قوت صرف کی جائے جس کی دین کو ضرورت ہو۔

اللہ کا دین کیا ہے۔ وہ یہ ہے گویا آدمی اللہ کو خالق اور مالک اور معبود تسلیم کرے۔ وہ اپنی محبت اور عقیدت میں خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے۔ وہ اسی سے ڈرے اور اسی پر ہر قسم کا اعتماد کرے۔ اللہ کو آدمی جب اس طرح اپنی نفسیات میں شامل کرتا ہے تو اس کے اندر ایک نئی زندگی وجود میں آتی ہے۔ اب اس کے لئے سب سے زیادہ قابل اطاعت چیز وہ ہو جاتی ہے جو اللہ کے رسول کے ذریعہ اس کو ملی ہو۔ اس کے لئے سب سے زیادہ اہم بات یہ ہو جاتی ہے کہ وہ خدا کے یہاں عزت اور خوشی پانے کو اصل کا کامیابی سمجھے اور دنیا کی کامیابی اس کی نظر میں بے وقعت خدا اور رسول کے بتائے ہوئے راستہ پر چلنے کو وہ جنت کی چلنا سمجھتا ہے۔ اور اس کے خلاف چلتے ہوئے اس کو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ جہنم کے شعلوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس کی تو جہات کا مرکز اللہ بن جاتا ہے۔ اس کی عبادتیں اللہ کے لئے خاص ہو جاتی ہیں۔ وہ اپنے اخلاق اور معاملات میں اللہ کے حرام و حلال کا لحاظ کرنے لگتا ہے، خدا اپنے تمام جلال و جبروت کے ساتھ اس کا نگران بن جاتا ہے جس کی نگرانی میں وہ تمام زندگی گزارتا رہتا ہے، یہاں تک کہ مرکز اس کے پاس پہنچ جاتا ہے۔

یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے۔ یہاں آدمی ہر وقت نفسانی ترغیبات کے زیر اثر رہتا ہے۔ اس کے علاوہ اس دنیا میں اکثر شیطان کا اور باطل پرستوں کا غلبہ رہتا ہے۔ یہی صورت حال اس چیز کی ضرورت پیدا کرتی ہے جس کو جہاد کہا آدمی کو ہر قسم کی ترغیبات اور رکاوٹوں کا مقابلہ کرتے ہوئے دین پر قائم رہنا پڑتا ہے۔ اس کو ایک غیر خدائی دنیا میں خدا والا بن کر جینا پڑتا ہے۔ اپنے کو دیندار بنانے کے لئے اپنے کو مجاہد بنانا پڑتا ہے۔ دین پر قائم رہنے کے لئے انھیں غیر معمولی کوششوں کا نام جہاد ہے۔

قرآن میں اسلامی جہاد کا لفظ تین مواقع کے لئے استعمال کیا گیا ہے: استقامت، دعوتی جدوجہد اور قتال فی جہاد اولاً اس بات کا نام ہے کہ اللہ کے دین کو اختیار کرنے میں جو مشکلات پیش آئیں ان کو جھیلتے ہوئے اپنے آپ کو دین پر قائم رکھا جائے، مال کا نقصان ہو تو اس کو برداشت کیا جائے۔ عزت اور حیثیت کو خطرہ ہو تو اس کو گوارا کیا جائے۔ جسمانی تکلیف پہنچے تو اس پر صبر کیا جائے۔ نفس کو روکنے اور دبانے کی ضرورت ہو تو اس سے دریغ نہ کیا جائے۔ کوئی بھی شدت آدمی کو حق کی راہ سے ہٹانے والی ثابت نہ ہو:

مَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ اللَّهِ فَإِنَّ أَجَلَ اللَّهِ لَآتٍ وَهُوَ جو شخص اللہ سے ملاقات کی امید رکھتا ہے تو اللہ کا وعدہ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ - وَمَنْ جَاهَدَ فَإِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهِ یقیناً آنے والا ہے اور وہ سنتا اور جانتا ہے اور جو شخص إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ - وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا محنت اٹھائے تو وہ اپنے ہی لئے محنت اٹھاتا ہے۔ اللہ کو جہان الصَّالِحَاتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَحْسَنَ والوں کی حاجت نہیں۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام الَّذِي كَانُوا يَعْمَلُونَ (عنكبوت ٦ - ٥) کئے تو ہم ان کی برائیاں ان سے دور کر دیں گے اور بدلہ دیں گے

ان کو بہتر سے بہتر کاموں کا۔

اس جہاد کا میدان جنگ سے کوئی تعلق نہیں، یہ زندگی کے ہر میدان میں ہر وقت جاری رہتا ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا ہے: ان الرجل ليجاهد وما ضرب يوما من الدهر آدمی بلاشبہ مجاہد ہوتا ہے حالاں کہ وہ کبھی ایک دن کے بسيف (تفسیر ابن کثیر، ثالث (۲۹) لئے بھی تلوار نہیں چلاتا۔

جہاد کی دوسری صورت وہ ہے جو اللہ کے پیغام کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے کی جاتی ہے۔ یہ ایک مشکل ترین کام ہے اور سخت ترین جدوجہد کے ذریعہ اس کو انجام دینا پڑتا ہے۔ اسی لئے قرآن میں دعوتی مہم کو جہاد کہا گیا ہے: وَلَقَدْ صَرَّفْنَاهُ بَيْنَهُمْ لِيَذَّكَّرُوا فَأَبَى أَكْثَرُ النَّاسِ إِلَّا كُفُورًا اور ہم نے ان کے درمیان طرح طرح سے نصیحت بیان کی، تاکہ وَلَوْ شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِي كُلِّ قَرْيَةٍ نَّذِيرًا ۚ فَلَا تُطِعِ وہ دھیان کریں۔ مگر اکثر لوگوں نے انکار ہی کیا اور اگر ہم چاہتے الْكَافِرِينَ وَجَاهِدْهُم بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا ۚ تو ہم ہر بستی میں کوئی ڈرانے والا اٹھاتے۔ پس تو منکروں کا کہا نہ مان اور قرآن کے ذریعہ ان پر خوب کوشش کر۔

(فرقان ۵۲ - ۵۰)

یہ دعوت و تبلیغ امت مسلمہ کا دراصل مشن ہے۔ ختم نبوت کے بعد امت کی یہ لازمی ذمہ داری ہے کہ دنیا کی تمام قوموں تک خدا کے پیغام کو پہنچائے، اس کے لئے ہر قسم کی مشقتوں کو برداشت کرے اور وقت اور مال سے لے کر جسم و جان کی تمام طاقتوں کو اس کی راہ میں لگا دے:

وَجَاهِدُوا فِي اللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِ ۚ هُوَ اجْتَبَاكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ ۚ مِّلَّةَ أَبِيكُمْ اور اللہ کے کام میں خوب کوشش کرو جیسا کہ کوشش کرنے کا حق ہے۔ اس نے تم کو چن لیا ہے، اور دین میں تم إِبْرَاهِيمَ ۚ هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ مِنْ قَبْلُ وَفِي هَذَا پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔ تمھارے باپ ابراہیم کی ملت۔ لِيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاءَ نے تمھارا نام مسلم رکھا ہے پہلے سے اور اس قرآن میں، تاکہ رسول عَلَى النَّاسِ ۚ فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَاعْتَصِمُوا تم پر بتانے والا ہو اور تم لوگوں پر بتانے والے بنو۔ بِاللَّهِ هُوَ مَوْلَاكُمْ ۖ فَنِعْمَ الْمَوْلَى وَنِعْمَ النَّصِيرُ قائم رکھو اور زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ کو مضبوط پکڑو۔ (حج آخر) کارساز ہے۔ پس کیسا اچھا کارساز ہے اور کیسا اچھا مددگار۔

جہاد کی تیسری صورت قتال ہے۔ اہل ایمان مخالفوں کی طرف سے آئی ہوئی مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں۔ وہ ہر طرح کی مشقتیں برداشت کرتے ہوئے دعوت الی اللہ کا کام جاری رکھتے ہیں۔ تاہم کبھی ایسا ہوتا ہے کہ منکرین حق عمومی قسم کی مخالفانہ کارروائیوں سے گزر کر جنگ و قتال کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایسی حالت میں جب ان کی طرف سے ابتداء (توبہ ۱۳) ہو جائے۔ (الجہاد ان تقاتل الكفار اذا القيتيم، ترغيب وترهيب) نیز اہل اسلام اپنی تنظیم اور اپنے وسائل اور مواقع کے لحاظ سے اس پوزیشن میں ہوں کہ کامیاب دفاع کر سکیں تو وہ مخالفین کے جنگی چیلنج کا جواب میدان جنگ میں دیتے ہیں۔ یہ جنگ اہل ایمان کے لئے معروف قسم کی کوئی جنگ نہیں ہوتی۔ یہ اصل ان کے صبر و استقامت کا ایک امتحان ہوتا ہے جو حالات کے اعتبار سے کبھی انھیں پیش آتا ہے۔ اہل ایمان اپنے ایمان پر قائم رہتے ہوئے اور اپنی

دعوتی ذمہ داریوں کو انجام دیتے ہوئے اول دن سے ایک " جنگ " سے دوچار رہتے ہیں۔ یہ جنگ ابتدا اپنے نفس کے محرکات سے، شیطان کی ترغیبات سے اور گرد و پیش کے مخالفانہ حالات کے مقابلہ میں ہوتی ہے۔ میں اس کو صبر کہا جاتا ہے۔ یہ صبر اور مصابرت جب بعض حالات میں شدید تر صورت اختیار کرلے تو اسی کا نام جہاد ہے۔ یہ آدمی کے ایمان اور استقامت علی الحق کا شدید ترین امتحان ہے۔ اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دشمن سے جنگ کی تمنا نہ کرو۔ البتہ اگر جنگ پیش آجائے تو پوری پامردی کے ساتھ مقابلہ کرو (لا تتمنوا لقاء العدو واسألوا الله العافية فإذا لقيتم فاصبروا، متفق علیہ ) جہاد بالسّیف کے سلسلہ میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے : انفروا خفافا وثقالا وجاهدوا بأموالكم وأنفسكم اے ایمان والو نکلو ہلکے اور بھاری اور لڑو اپنے مال في سبيل الله ذلكم خير لكم إن كنتم تعلمون 5 سے اور اپنی جان سے اللہ کی راہ میں۔ یہ تمہارے لئے تو بہ - ۱۴ بہتر ہے، اگر تم سمجھو۔

حدیث کے الفاظ میں، جنت کو مکروہات سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔ ایک آدمی جب جنت کی طرف اپنا سفر شروع کرتا ہے تو اس کو بے شمار قسم کے ناموافق حالات اور رکاوٹوں سے سابقہ پیش آتا ہے۔ اور ناخوش گواریوں کو عبور کر کے اپنا سفر جاری رکھنے میں جو محنت صرف کرنی پڑتی ہے اسی کا نام جہاد ہے۔ ایک شخص جب اپنے بنے ہوئے نقشہ کو توڑ کر حق کو اختیار کرتا ہے تو وہ جہاد کرتا ہے۔ جب وہ اپنے مقابلہ میں دوسرے کے فضل کا اعتراف کرنے کے لئے اپنی " انا " کو کچلتا ہے تو وہ جہاد کرتا ہے۔ جب وہ " غیب " کے فائدہ کے شوق میں ظاہری عزت اور فائدہ کو قربان کرتا ہے تو وہ جہاد کرتا ہے۔ جب وہ الفاظ کا ذخیرہ ہوتے ہوئے خدا کے خوف سے اپنی زبان کو بند کر لیتا ہے تو وہ جہاد کرتا ہے ، جب وہ خدا کی خاطر شہرت کے راستوں کو چھوڑ دیتا ہے اور گناہی کے راستوں کو اپنے لئے پسند کر لیتا ہے تو وہ جہاد کرتا ہے۔ اسی طرح پوری زندگی میں آدمی آسانی کے مقابلہ میں دشواری کو ترجیح دیتا ہے ۔ وہ اپنی انا کو غذا دینے کے بجائے اپنی انا کو مارتا ہے۔ وہ مشکلات کو عذر بنانے کے بجائے مشکلات کو عبور کرنے کے لئے اپنی ساری طاقت لگا دیتا ہے۔ یہی جہاد ہے جو مومن کی پوری حیات میں جاری رہتا ہے۔ کا ایک امکانی مرحلہ جنگ ہے۔ تاہم عام جہاد اور جنگ میں یہ فرق ہے کہ عام جہاد تو ہر حال میں اور ہر مومن کی زندگی میں ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ جب کہ جنگ مخصوص حالات میں پیش آتی ہے اور مخصوص شرائط کی تکمیل کے بعد لڑی جاتی ہے۔ حالات اور ان شرائط کے بغیر اگر کوئی جنگی جہاد شروع کر دے تو وہ جہاد نہیں ہو گا بلکہ فساد ہو گا جس سے اللہ اور اُس کا رسول بری ہیں۔

جہاد غیر خدا پرست دنیا میں خدا پرست بننے کی کوشش ہے۔ یہ ایک طرف اپنے آپ کو نفس اور شیطان کی ترغیبات سے روکنا ہے اور دوسری جانب خارج سے سامنے آنے والی رکاوٹوں کی مزاحمت کرتے ہوئے اپنے رب کی طرف اپنے سفر کو جاری رکھنا ہے فتنوں سے بھری دنیا میں ایک بندہ اپنے رب کے راستہ پر چلنے کے لئے جو کوشش کرتا ہے اسی کا نام جہاد ہے جو بھی آدمی کے اپنے اندر ہوتی ہے اور کبھی اس کے باہر۔

بعض لوگوں کے نزدیک جہاد یہ ہے کہ وقت کے حکمرانوں سے لڑ کر ان سے ” اقتدار کی کنجیاں “ چھینی جائیں تاکہ اسلام ایک مکمل ریاستی نظام کی حیثیت سے زمین پر نافذ کیا جاسکے۔ مگر اس قسم کے نظریہ کا کوئی تعلق نہ اسلام سے ہے اور نہ جہاد سے۔ قرآن و حدیث کے پورے ذخیرہ میں کوئی ایک نص بھی ایسی موجود نہیں ہے جس سے اس انقلابی جہاد کا حکم نکلتا ہو۔ قرآن کے مطابق اللہ کو اصلاً جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ آدمی ایمان اور عمل صالح کی زندگی اختیار جب ایک قابل لحاظ گروہ اس قسم کی ایک زندگی اختیار کر لیتا ہے تو بطور انعام اس کو زمین کا اقتدار بھی دے دیا جاتا ہے (نور ۵۵) مگر یہ نظریہ اپنے حصہ کا کام چھوڑ کر خدا کے حصہ کا کام انجام دینا چاہتا ہے۔ یہ نظریہ اسلام کے پورے معاملے کو الٹ دیتا ہے ۔ وہ اسلام کو عملاً ایک قسم کے سیاسی عمل کا عنوان بنا دیتا ہے جس طرح، مثال کے طور پر، میکنونزم بنا ہوا ہے۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ انسان کی تمام سرگرمیوں کا رخ آخرت کی طرف ہو۔ وہ ہمہ تن اگلی دنیا کی طرف متوجہ ہوجائے۔ مگر یہ نظریہ انسانی سرگرمیوں کو موجودہ دنیا کی طرف متوجہ کر دیتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں آخرت رخی زندگی کے بجائے دنیا رخی یا سیاست رخی زندگی وجود میں آتی ہے ۔ آخرت کے عذاب سے نجات پانے کے لئے فکر مند ہونے کے بجائے دنیا میں سیاسی انقلاب برپا کرنے کو اپنی توجہات کا مرکز بنا لیتا ہے۔ اسی طرح اس نظریہ کے نتیجہ میں ایسا ہوتا ہے کہ احتساب خویش کے بجائے " احتساب کائنات " آدمی کا نصب العین بن جاتا ہے۔ آدمی کی کوششوں کا نشانہ اس کی اپنی ذات کے بجائے خارجی دنیا ہو جاتی ہے ۔ وہ اپنی اصلاح کے لئے بے تاب ہونے کے بجائے وقت کے حکمرانوں سے لڑنے کو سب سے بڑا کام سمجھ لیتا ہے تاکہ ان سے اقتدار کی کنجیاں “ چھین لے اور اسلام کو تمام شعبہ ہائے زندگی میں نافذ کر دے۔

یہ ” مکمل اسلام “ اس قدر ناقص اسلام ہے کہ اسلام کا کوئی ایک جز بھی اس کے اندر صحیح طور پر اپنی جگہ افراد کے اندر سیاسی مزاج پیدا کر کے وہ آدمی کو اس کی سب سے بڑی نعمت (اللہ کی قربت) سے محروم کر دیتا ہے۔ ایسے آدمی کا ذہن بے معنی سیاسی بحثوں میں مشغول ہوتا ہے نہ کہ یا دالہی میں۔ ایسے لوگوں کا نشانہ عین اپنے مزاج کے تحت حکومت بن جاتی ہے۔ موقع پاتے ہی وہ حکمران گروہ کے مقابلہ میں حزب مخالف کا کردار ادا کرنے کو کھڑے ہو جاتے ہیں اور ملت کو دو متحارب گروہوں میں بانٹ کر پورے ملک کو قتل اور فساد سے بھر دیتے ہیں۔ سب سے زیادہ برا پھل جو اس نام نہاد مکمل اسلام سے نکلتا ہے وہ دین حق کی الٹی شہادت ہے۔ اللہ کا دین اللہ کے بندوں کے لئے رحمت ہے۔ وہ اس لئے آیا ہے کہ آدمی کو جنت کی فضاؤں کا تعارف کرائے ۔ مگر اس نظریہ کے نتیجہ میں دین کی جو تصویر بنتی ہے وہ یہ کہ دین نام ہے آپس کی لڑائی کا، دین کے نام پر دنیوی ہنگامے کرنے کا ۔ کوڑمار سیاست اور گولی مار حکومت کا ۔ اتنی قبیح ہوتی ہے کہ لوگ پکار اٹھتے ہیں —— ” اگر اسی کا نام اسلام ہے تو غیر اسلام ہمارے لئے زیادہ اچھا ہے۔

تقریباً 40 سال پہلے کی بات ہے۔ راقم الحرفوں نے کسی رسالہ میں ایک تصویر دیکھی، تصویر یہ تھی کہ تعداد کی کثرت اور تحریکوں کے ہجوم کے باوجود مسلمان کیوں ناکام ہورہے ہیں ؟ اس کی روح فرسا کیفیت میں اس تصویر کے نیچے جلی حروف میں لکھا ہوا تھا : "ارض مقدس جس پر چالیس کروڑ مسلمانوں کی جانیں قربان ہیں"

اس میں شک نہیں کہ مسلمانوں نے، پچھلے برسوں میں ، بے شمار تعداد میں ارض مقدس پر اپنی جانیں قربان کر دی ہیں، مگر عملاً نتیجہ بالکل برعکس نکلا۔ ۴۰ سال پہلے ارض قدس کی جتنی زمین یہودیوں کے قبضہ میں تھی ، آج اس کے مقابلہ میں کئی گنا زیادہ رقبہ پر وہ اپنا اقتدار قائم کر چکے مزید حیرت یہ ہے کہ اس تیس سالہ مدت میں مسلمانوں کی تعداد ساری دنیا میں ہم کروڑ سے بڑھ کر مذکور ہو چکی ہے۔ مگر اپنے "دشمنوں" کے مقابلہ میں وہ کہیں بھی کوئی حقیقی کامیابی حاصل نہ کر سکے ۔

وہ یہ کہ وہ اپنے اصل فریضہ منصبی کو ادا نہیں کر رہے ہیں۔ مسلمان کے ساتھ خدا کے تمام اجتماعی وعدے اس شرط پر ہیں کہ وہ دنیا میں اُس اجتماعی کام کو انجام دیں جس کے لئے انھیں چنا گیا ہے۔ اگر وہ اس کام کے لئے نہ اٹھیں تو وہ خدا کی نظر میں مجرم ہیں ۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔ یہ کام کیا ہے ، یہ کہ وہ تمام انسانوں کو اللہ کا پیغام رسانی کا یہ کام کوئی قومی کام نہیں ہے ، نہ اس کا سیاسی اور اقتصادی مفادات سے کوئی براہِ راست تعلق ہے۔ یہ ایک خالص خدائی اور اُخروی کام ہے۔ اللہ تعالی نے انسان کو امتحان کے لئے پیدا کیا ہے۔ دنیا میں ایک وقت تک زندگی کا موقع دینے کے بعد وہ تمام انسانوں کو آخرت میں حاضر

تقریباً سو سال پہلے کی بات ہے، راقم الحروف نے کس مسلم اخبار میں ایک تصویر دیکھی، یہ تصویر بیت المقدس کی تھی۔ اس تصویر کے نیچے جلی حروف میں لکھا ہوا تھا:

• اہل مقدس میں ہر چالیس کروڑ مسلنوں کی جانیں قربان ہیں ؟

اس میں شک بنیں کہ مسلمانوں نے، پچھلے برسوں میں، بے شمار تعداد میں، ارضِ مقدس میں اپنی جانیں قربان کر دی ہوتے۔ مگر عملاً نتیجہ بالعمل برعکس نکلا۔ 30 سال پہلے، ارضِ مقدس کی جتنی زمین یہودیوں کے قبضہ میں تھی، آج اس کے مقابلہ میں کئی گنا زیادہ رقبہ پر وہ اپنا اقتدار قائم کر چکے ہیں۔ مزید حیرت یہ ہے کہ اس تیس سالہ مدت میں مسلمانوں کی تعداد ساری دنیا میں، ہم کو دُروغے بڑھ کر، کمزور ہو چکی ہے مگر اپنے "دُشمنوں" کے مقابلہ میں وہ کہیں بھی کوئی حقیقی کامیابی حاصل نہ کر سکے۔ تصادم کی کثرت اور تحریکوں کے ہجوم کے باوجود مسلمان کیوں ناکام ہو رہے ہیں۔ اس کی وجہ بہت ایک ہے: رویہ کہ جو اپنے اصل فریضہ منصوبہی کو ادا نہیں کر رہے ہیں۔

مسلمان کے ساتھ خدا کے تمام اجتماعی وعدے اس شرط پر ہیں کہ وہ دنیا میں اس اجتماعی کام کو انجام دیں جس کے لئے انھیں پر بھیجا گیا۔ اگر وہ اس کام کے لئے نا خاص کردہ خدا کی نظر میں مجرم ہیں، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ یہ کام کیا ہے۔ یہ کہ وہ تمام انسانوں کو اللہ کا پیغام پہنچائیں۔ پیغام رسانی کا کام کوئی قومی کام نہیں ہے، نہ اس کا سیاسی اور اقتصادی مفادات سے کوئی براہ راست تعلق ہے۔ یہ ایک خالص خدا کی اور اخروی کام ہے۔ اللہ تعالی نے انسان کو امتحان کے لئے پیدا کیا ہے۔ دنیا میں ایک وقت تک زندگی کا موقع دینے کے بعد وہ تمام انسانوں کو آخرت میں حاضر کرے گا اور وہاں ان کے کل کے مطابق ان کے لئے دائمی جنت یا دائمی جہنم کا فیصلہ کرے گا۔

خدا اگر چہ اپنے بندوں کے احوال سے خوب واقف ہے مگر اس نے اپنی اس عدالت کے لئے تو طریقہ مقرر کیا ہے وہ یہ ہے کہ ہر زمانہ میں خود انسانوں میں ایسے لوگ انیس جو خدا کی طرف سے لوگوں کو آنے والے یومِ الحساب سے باخبر کریں، یہ لوگ دنیا میں قوموں کو خدا کا پیغام ما پہنچائیں گے، یہی آخرت میں ان کے اوپر خدا کے گواہ نہیں گے۔ وہ آخرت کی عدالت میں کھڑے ہو کر کہیں گے کہ کس نے پیغام خداوندی کو مانا اور کسی نے اس کا انکار کیا۔ ان کی گواہی کے مطابق خدا ہر ایک کے اوپر اپنا فیصلہ صادر کرے گا۔ مسلمانوں کا اصل جرم یہ ہے کہ وہ اپنی اس حیثیت کو بھول گئے ہیں۔ وہ قوموں کے اوپر خدا کے گواہ بن کر نہیں کھڑے ہو رہے ہیں۔ خدا کو اپنی سنت کے مطابق اپنی عدالت کے لئے گواہ مطلوب میں ذکر شیخِ اعظم شہداء آل عمران۔ مگر سارا عالم اسلام اس ذمہ داری کو بھولٹا ہوا ہے، وہ اس خدائی منصب میں اپنے کو شامل نہیں کر رہا ہے۔ اس صورت حال نے مسلمانوں کو مجرم کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے، بجا کہ وہ خدائی نصرتوں کے مستحق قرار پائیں۔ پچھلے برسوں میں پٹرول کی قدرتی طاقت نے بلاشبہ مسلم دنیا کو کافی سہارا دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ خدا دار قرار نہ اگر چہ ظاہر ہوا ہوتو تا مسلمان معالیہ صدیوں میں اپنی بے حساب نادانیوں کی وجہ سے، آج بین الاقوامی جھوٹ کی سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ ہماری نام نہا انقلابی تحریکیں کسی بھی درجہ میں ہم کو بچانے والی ثابت نہیں ہو سکتی تھیں۔

Printed page