Al-Risala · July 1979

اسلام اور سیاست

Al-Risala, July 1979, pp. 26–27

By Maulana Wahiduddin Khan

دین میں بگاڑ کی جو صورتیں ہیں ان میں سے ایک وہ ہے جس کو قرآن میں مضاہاۃ (بہ (۳۰) کہا گیا ہے۔ کے معنی ہیں مشابہت ۔ عربی میں کہتے ہیں ھو ضحیک (وہ تمھارا اہم شکل ہے)، اس سے مراد ہے۔ گمراہ قوموں کے نظریات و عقائد سے متاثر ہو کر دینی تعلیمات کو ان کے ہم رنگ بنا کر پیش کرنا۔ یہود کا اپنے نبی (عزیر) کو ابن اللہ (خدا کا فرزند مجازی) کہنا یا عیسائیوں کا اپنے نبی مسیح کو ابن اللہ (خدا کا فرزند مجازی یا فرزند حقیقی) قرار دینا اس کی مثالیں ہیں۔ قوموں میں باری تعالی کی تجسیم یا حلول کا عقیدہ قدیم زمانہ سے چلا آرہا ہے۔ ہندوستان میں اس کا نمونہ اوتار کا عقیدہ۔ یعنی خدا کا انسانی روپ میں ظاہر ہونا۔ یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنے انبیاء کو عظمت دینے کے لئے ان کو انھیں الفاظ اور اصطلاحات میں بیان کرنا شروع کیا جن الفاظ اور اصطلاحات میں مشرک قومیں اپنے بڑوں کی عظمت بیان کرتی تھیں۔ ان قوموں نے اپنے بزرگوں یا بادشاہوں کی عظمت بتانے کے لئے کہا کہ وہ خدا کا تجسد (Incarnation) ہیں یہود و نصاریٰ نے کہنا شروع کیا کہ حضرت عزیر اور حضرت مسیح اللہ کے فرزند ہیں۔ اللہ ان کی شکل میں دنیا کی زندگی میں ظاہر ہوا ہے۔ اسلام کی سیاسی تعبیر خدا کے دین میں بگاڑ کی یہ صورت ہر زمانہ میں پائی گئی ہے اور موجودہ زمانہ میں بھی پائی جاتی ہے۔ جو لوگ دین کو خدائی عظمتوں کی سطح پر پائے ہوئے نہ ہوں وہ اس کو دنیوی عظمتوں کی سطح پر اتارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جنگ کے بعد جب اشتراکی نظریات کو بہت زیادہ فروغ ہوا تو کچھ لوگوں نے سمجھا کہ اسلام کی عظمت کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اس کو اشتراکیت کے مطابق ثابت کیا جائے۔ اسی زمانہ میں "اسلامی سوشلزم" کی اصطلاح وضع ہوئی۔ حتی کہ کہا گیا کہ تاریخ کے سب سے پہلے اشتراکی حضرت محمد تھے۔

جو لوگ کیفیاتی سطح پر حقیقت کو پائے ہوئے نہ ہوں وہ حقیقت کو کیمیاتی زبان میں بیان کر کے اس کو اپنے لئے قابل فہم بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسلام کو سیاسی اصطلاحات میں بیان کرنا بھی اسی کی ایک مثال ہے۔ میں جب سیاسی نظریات کو فروغ ہوا تو کچھ تو لوگوں کو نظر آیا کہ اسلام کی شان کو نمایاں کرنے کی سب سے اعلیٰ صورت یہ ہے کہ اسلام کو ایک مکمل سیاسی نظام کے روپ میں پیش کیا جائے ۔ اس آخری فکر کو موجودہ زمانہ میں اسی طرح مقبولیت حاصل ہوئی جس طرح قدیم زمانہ کے عیسائیوں میں تثلیث کے نظریہ کو ہوئی ، جس کو مسیحی متکلمین نے یونانیوں کے " اقانیم ثلاثہ " کے جواب میں وضع کیا تھا۔ موجودہ زمانہ میں اسلام کی سیاسی تشریح کی مقبولیت کی دو بڑی وجہیں تھیں۔ ایک یہ کہ یہ تشریح اسلام کو زمانہ کے با عظمت نظریہ کے لباس میں دکھارہی تھی۔ دوسری وجہ رد عمل کی نفسیات تھیں۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو مختلف قوموں سے جو سیاسی مقابلہ پیش آیا، اس کا قدرتی نتیجہ تھا کہ ان کے اندر جوابی سیاسی مزاج پیدا ہو۔ کے درمیان مختلف عنوانات کے تحت سیاسی تحریکیں اٹھ کھڑی ہوئیں۔ اسلام کا سیاسی نظام کا تصور ان تمام تحریکوں کے لئے فکری سہارا بن گیا۔ اسلام کا سیاسی تصور موجودہ زمانہ کے بہت سے لوگوں کے نزدیک اسلام کے حق میں وقت کا ایک قصیدہ بھی تھا

اور ان کی ردعمل کی نفسیات کے لئے فکری تسکین کا ذریعہ بھی۔

موجووہ زمانہ کی مسلم تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں جو تحریکیں اٹھیں وہ زیادہ تر خارجی حالات، خاص طور پر سیاسی حالات، کے رد عمل کے طور پر اٹھیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام کے احیاء کی کوششیں سیاسی مقابلہ آرائی کی سمت میں چل پڑیں۔ اس عملی غلطی کے ساتھ جو فکری غلطی پیش آئی اس نے معاملہ کی سنگینی کو بہت زیادہ بڑھادیا۔ دین کو وقت کے اسلوب میں بیان کرنے کی کوششوں نے بالآخر دین کی سیاسی تعبیر کا رخ اختیار کر لیا۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے انیسویں صدی کے یورپ میں صنعتی مزدوروں کے مسئلہ کو حل کرنے کی کوششوں میں بالآخر مارکسزم کی مادی تعبیر تاریخ وجود بندے اور خدا کا تعلق جو حقیقتاً ایک ملکوتی تعلق تھا، اس نے ایک قسم کے سیاسی تعلق کی صورت اختیار کر لی۔ سیاسی ہنگامہ آرائیوں کا عنوان بن گیا۔ جب کہ اسلام فی الحقیقت یہ ہے کہ بندے اور خدا کے درمیان وہ نفسیاتی تعلق قائم ہوجب کہ بندہ اپنے رب میں جینے لگے، وہ آخرت کی فضاؤں میں سانس لینے لگے۔ اس کے اندر وہ ملکوتی انسان جنم لے جو اس کو جنت کی ابدی دنیا کا شہری بنا سکے ۔

وقت کے اسلوب میں دین کو بیان کرنا جتنا ضروری ہے، وقت کے فکر میں دین کو ڈھالنا اتنا ہی غلط ہے ۔ اول الذکر تجدید دین ہے اور ثانی الذکر تحریف دین۔ ہر دور کی اپنی ایک زبان ہوتی ہے۔ ہر دور میں کچھ الفاظ اور کچھ اسلوب ہوتے ہیں جن میں آدمی سوچتا ہے، جن میں اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے۔ جب زمانہ بدلتا ہے تو الفاظ سے ذہن کا رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔ ایک لفظ جو قدیم دور میں انسان کی نفسیات کو متحرک کرتا تھا، نئے دور میں وہ لفظ اپنی یہ انقلابی قیمت کھو اس وقت ضرورت ہوتی ہے کہ ذہن اور الفاظ کے درمیان دوبارہ رشتہ قائم کیا جائے۔ تاہم یہ "جدت" صرف الفاظ اور اسلوب کے اعتبار سے ہوتی ہے، نہ کہ فکر کے اعتبار سے۔

Printed page