Al-Risala · July 1979

اسلام کو سیاسی نعرہ کے طور پر استعمال کرنا

Al-Risala, July 1979, pp. 28–29

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر اسلام جب سیاست بن جائے تو وہ آدمی کو اس حقیقی اسلام سے محروم کر دیتا ہے۔ اسلام کی دھوم کے درمیان وہی چیز غائب ہو جاتی ہے جو اسلام کا اصل مقصود تھی۔ اسلام اسی طرح دنیوی ہنگامہ آرائیوں کا عنوان بن جاتا ہے جس طرح مثال کے طور پر، سوشلزم اور کمیونزم بنے ہوئے ہیں۔ یہی نہیں، بلکہ اس قسم کی تحریک خود اسلامی نظام کے قیام کے امکانات کو بھی ختم کر دیتی ہے۔ کیوں کہ اسلامی نظام کو اسلامی افراد قائم کرتے ہیں اور، اس قسم کی تحریکیں حقیقی اسلامی افراد کی پیدائش کا دروازہ ہی بند کر دیتی ہیں۔

”غریبی ہٹاؤ" کے نعرہ پر ایک تحریک اٹھتی ہے۔ مگر اس تحریک کے لوگ جس نے گرد جمع ہوتے ہیں وہ کوئی غریب نہیں ہوتا بلکہ ایک امیر لیڈر ہوتا ہے۔ کچھ لوگ مزدور کے نام پر اٹھتے ہیں۔ مگر وہ اپنی اجتماعیت کے لئے جس مرکزی ہستی کو پاتے ہیں وہ ایک ایسا لیڈر ہوتا ہے جو خود بہت بڑا لینڈ لارڈ ہے۔ ان واقعات کی وجہ یہ ہے کہ "غریب" کا وجود لوگوں کی نظر میں اتنا حقیر ہے کہ وہ انہیں دکھائی نہیں دیتا۔ وہ لوگوں کے لئے مرکز توجہ نہیں لوگ کسی بڑی شخصیت ہی کے گرد جمع ہو سکتے ہیں جو ان کو قد آور دکھائی دیتی ہو اور یہ ان کو لیڈر" ہی کی صورت میں ملتا ہے خواہ اس کا غریبی اور مزدوری سے کوئی تعلق نہ ہو۔

یہی صورت حال مذہب میں بھی پیش آتی ہے۔ مذہب کیا ہے، اپنے لئے ایک ملجا اور مرجع کو پالینا۔ مذہب کے نام پر وہ لوگ جمع ہوں جو مومنین بالغیب ہوں، وہ خدا کو نہ دیکھتے ہوئے بھی اس کو دیکھنے لگے ہوں ۔ میں رہتے ہوئے بھی آخرت میں جینے لگے ہوں تو ایسے لوگوں کا ملجا اور مرجع خدا کی ذات بن جاتی ہے۔ ایسے لوگوں کے لئے سب سے بڑی حقیقت خدا ہوتی ہے، ان کے لئے یہ بات خارج از بحث ہوتی ہے کہ وہ خدا کے سوا کسی اور کے گرد جمع ہوں، وہ خدا کے سوا کسی اور کو اپنا مرکز و مرجع بنائیں ۔

مگر جب مذہب کے گرد ایسے لوگ جمع ہو جائیں جو ایمان بالغیب کے مقام پر نہ ہوں۔ جن کو خدا سے زیادہ دوسری چیزیں نظر آتی ہوں، جو چھپی ہوئی دنیا سے زیادہ اس دنیا کو دیکھتے ہوں جو ان کے سامنے پھیلی ہوئی ہو، تو ان کا حال بھی ہوتا ہے جو غریبوں اور مزدوروں کے نام پر اٹھنے والے لوگوں کا ہوتا ہے۔ وہ خدا کے نام پر اٹھتے ہیں مگر اپنی ظاہر پرستی کی وجہ سے کسی غیر خدا پر اٹک کر رہ جاتے ہیں۔ وہ اخروی نظام کا لفظ بولتے ہیں مگر عملاً وہ ایک دنیوی نظام پر ایمان لائے ہوتے ہیں۔ ان کا اسلام موت سے پہلے کی دنیا میں عزت حاصل کرنے کا ایک عنوان ہوتا ہے نہ کہ موت کے بعد کی دنیا میں عزت و کامیابی حاصل کرنے کا۔

Printed page