اسلام فوجداری قانون کا نام نہیں
Al-Risala, July 1979, pp. 29–30
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ زمانہ میں کچھ تحریکیں ابھری ہیں جو اسلام کے حدود و تعزیرات (سزاؤں) کے اجراء کو اسلامی نظام کے نفاذ کا نام دیتی ہیں، یہ بہت بڑی غلطی ہے۔ اسلام کے اس "فوجداری" تصور نے اسلام کے اصل مدعا کو ختم کر دیا ہے۔ کسی تعلیم گاہ میں بید کی سزاؤں کا اجراء تعلیم گاہ کے اندر ڈسپلن قائم کرنے سے تعلق رکھتا ہے نہ کہ اصل تعلیمی مقصد سے۔ طرح اسلام میں جو سزائیں مقرر کی گئی ہیں، وہ مسلم معاشرہ کی تنظیم کے لئے ہیں۔ یہی اسلام کا اصل مقصد نہیں ہے۔ اول میں جب مدینہ میں اسلامی ریاست قائم ہوئی تو، مذکورہ معنوں میں، وہاں اسلامی نظام قائم ہو گیا۔ مگر اسی معاشرہ میں وہ مسلمان بھی تھے جن کے بارہ میں قرآن میں اعلان کیا گیا کہ إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ (منافقین جہنم کے سب سے نچلے درجہ میں ہوں گے حقیقت یہ ہے کہ اسلام کا اصل مقصد افراد کا تزکیہ ہے جو ان کے اندر وہ باطنی اوصاف پیدا کرے جو جنت کا مستحق بنانے والے ہوں۔ اسلام کی کوششوں کا نشانہ لوگوں کو جنتی انسان بنانا ہے، نہ کہ ان کو کوڑے مارنا اور پھانسی دینا۔ ایک شخص جرم کرتا ہے۔ نظام اسلامی کے علم بردار اس کے لئے دعائیں نہیں کرتے،
تنہائیوں میں اس سے مل کر اس کو درد مندانہ نصیحت کرتے، اس کی اصلاح کے لئے وہ خیر خواہانہ کوشش نہیں کرتے جو ایک باپ اپنے بیٹے کے لئے کرتا ہے۔ وہ صرف یہ کرتے ہیں کہ اس کو کوڑا مارنے اور پھانسی دینے کے لئے کھڑے ایسے لوگ نظام اسلامی کے نام پر نظامِ فوجداری قائم کرنے کے علم بردار ہیں۔ نظام اسلامی قائم کرنے والے وہ ہیں جو اللہ کے بندوں کو اللہ کی جنت میں پہنچانے کی کوشش کر رہے ہوں۔ وہ حکمت اور خیر خواہی کے تمام تقاضوں کے تحت لوگوں کی اصلاح میں سرگرم ہوں ۔ انتقامی جذبہ سے نہیں بلکہ اصلاح کے جذبہ سے ان کے اوپر حکم الہیٰ کی تعمیل کریں خواہ وہ شخص کوئی غیر ہو یا خود اپنا بیٹا ہو۔