Al-Risala · July 1979

قوانین کا مقصد معاشرہ کی تنظیم

Al-Risala, July 1979, pp. 30–33

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانہ میں اسلام کے نام پر اٹھنے والی تحریکیں اکثر رد عمل کی تحریکیں تھیں نہ کہ حقیقتاً ایجابی اسلامی پچھلی صدیوں میں مغربی قومیں نئی طاقتوں سے مسلح ہو کر اٹھیں اور انھوں نے پوری مسلم دنیا کو مغلوب کر لیا۔ وہ نہ صرف ان کی سیاست پر چھا گئیں بلکہ فکری اور ذہنی شعبوں پر بھی انھوں نے قبضہ کر لیا۔ مسلمانوں میں اس کا رد عمل ہونا فطری تھا۔ بہت سے لوگ اپنے ان نئے دشمنوں سے مقابلہ کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ یہ ایک دفاع کا کام تھا اور اگر دفاع کے عنوان کے تحت اس کو کیا جاتا تو اس میں کوئی حرج نہ تھا۔ مگر جوشِ مقابلہ میں اسی کو دین کا اصل مدعا کہا جانے لگا۔ یہاں تک کہ کچھ لوگوں نے اسی کی بنیاد پر پورے دین کی تعبیر کر ڈالی۔ انھوں نے قرآن وحدیث کی تشریح اس انداز میں کی گویا قوموں سے لڑنا اور ان کے اوپر اپنی سیاست قائم کرنا ہی امت مسلمہ کا اصل مشن ہے۔ حکمراں کا نشانہ ابتدا ء غیر مسلم قومیں تھیں۔ مگر دوسری جنگ عظیم کے بعد جب مسلم ملکوں کو غیر مسلم قوموں کے سیاسی تسلط سے آزادی مل گئی تو ان کے حربی مشن کا نشانہ خود مسلم حکمران قرار پائے۔ کیوں کہ وہ امت مسلمہ کے اصلی نصب العين (اسلامی قانون کا نفاذ کو عمل میں نہیں لا رہے تھے۔ اس لئے ضروری تھا کہ ان سے لڑا کر ان کو ہٹایا جائے اور حکومتی اقتدار پر قابض ہو کر اسلامی قانون کو نافذ کیا جائے۔

اس نظریہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ سیاست جو دین کا صرف ایک اضافی حصہ ہے، وہ دین کا اعتقادی حصہ بن گیا۔ کے اجتماعی قوانین حقیقتہ مسلم معاشرہ کی تنظیم کے لئے ہیں جو معاشرہ کی صلاحیت کے بقدر اس میں نافذ کئے جاتے ہیں۔ تشریح دین نے اس کو جنت اور جہنم کا مسئلہ بنا دیا۔ اسلامی قانون کو نافذ کرنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگاؤ تو جنت میں جاؤ گے، ورنہ جہنم میں جلو گے۔ یہ وہی غلطی تھی جو پہلی صدی ہجری میں شیعہ حضرات نے کی ۔ وہ خلافت کے عہدہ پر بنی ہاشم کے کسی فرد کو دیکھنا چاہتے تھے۔ اپنی اس سیاسی خواہش کو دینی جواز عطا کرنے کے لئے انھوں نے خاندانی خلافت کا عقیدہ وضع کیا اور اس طرح ایک سیاسی مسئلہ کو اعتقادی مسئلہ بنا دیا۔ یہی غلطی دوسری بار موجودہ زمانہ کے مصلحین نے کی ہے۔ قانون اسلامی کا نفاذ کسی مسلم معاشرہ کی ایک تنظیمی ضرورت تھی، جس طرح مسجد نماز یوں کے کسی گروہ کی عمارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر اس کو انھوں نے مسلمانوں کی اعتقادی ضرورت بنا دیا۔ اس کے نتیجہ میں جدید اسلامی تاریخ کی سب سے بڑی برائی وجود ہر مسلم ملک میں مسلمان دو طبقوں میں بٹ گئے۔ ایک حکمراں اور ان کے حامیوں کا، دوسرا اسلامی سیاست کے

علم بردار تھا۔ یہ دونوں ایک کبھی نہ ختم ہونے والی جنگ میں مصروف ہیں اور مسلمان کا جان و مال جو دوسرے مسلمان کے لئے حرام تھا، ہر ایک نے اپنے لئے جائز کر لیا ہے۔ وہ جنگ جو اپنے نفس سے لڑنی تھی یا خدا کے منکرین سے، وہ آپس میں بہت بڑے پیمانہ پر جاری ہے۔ مزید لطف یہ ہے کہ اس غیر اسلامی جنگ کو ہر ایک نے اسلامی جہاد کا نام دے رکھا ہے۔ فتنہ کی واپسی اسلام کو سیاست بنانے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ وہ فتنہ (آزمائش) جس کو رسول اور اصحاب رسول نے بے پناہ قربانیوں کے بعد ختم کیا تھا، وہ اسلامی تاریخ میں دوبارہ لوٹ آیا۔ قدیم زمانہ میں سیاست اور شرک دونوں ایک دوسرے سے ملے ہوئے تھے۔ شاہی خاندان لوگوں میں یہ عقیدہ بٹھا کر حکومت کیا کرتا تھا کہ وہ دیوتا کی اولاد ہے۔ وہ خدا کی خدائی میں شریک ہے، وہ آسمانی دیوتاؤں کا دنیوی ظہور ہے۔ اسی بنا پر جب توحید خالص کی دعوت اٹھتی تو مشرکانہ عقائد کی بنیاد پر حکومت کرنے والے لوگ سمجھتے کہ یہ دعوت ان کے حق حکومت کو بے اعتبار بنا رہی ہے۔ وہ اس کو مٹانے کے لئے اپنی ساری طاقت اس کے خلاف لگا دیتے ۔ اس طرح توحید کی دعوت اپنے آغاز ہی میں حکمرانوں کی حریف بن کر سخت مشکلات کا شکار ہو جاتی ۔ چنانچہ قرآن میں حکم دیا گیا کہ وَقَاتِلُوْهُمْ حَتَّی لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَيَكُوْنَ الدِّيْنُ لِلَّهِ (ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین صرف اللہ کے لئے ہو جائے) یعنی اہل شرک کی حیثیت ختم ہو جائے کہ وہ خدا کے بندوں کے لئے آزمائش بنے ہوئے ہیں اور ان کو دین کو توحید اختیار کرنے سے روکتے ہیں۔ خدا کے عقیدہ کو بند ربہ سیاسی ادارہ سے جدا کر دو تاکہ دین کا معاملہ تمام تر الہیاتی معاملہ بن جائے، وہ سیاسی معاملہ نہ رہے۔ اقتدار کے معاملہ سے اس کا اعتقادی تعلق ختم ہو جائے ، دین کا تمام تر اللہ کے لئے ہو جانا یہ ہے کہ فتنہ (آزمائش) کی حالت ختم ہو جائے ، دونوں کے درمیان کوئی اور چیز حائل نہ رہے۔

رسول اور اصحاب رسول کے ذریعہ جو تاریخ ساز انقلاب لایا گیا، اس نے شرک کو مقام اقتدار سے مٹا دیا، اس نے مذہبی عقیدہ اور سیاسی ادارہ کے درمیان تعلق کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا۔ اس طرح تاریخ میں پہلی بار یہ امکان پیدا ہوا کہ سیاسی ادارہ سے ٹکراؤ کا خطرہ مول لئے بغیر دعوت توحید کا کام کیا جا سکے ۔ مگر مسلمانوں نے نئے عنوان سے دوبارہ وہی مشکلات دعوتی کام کی راہ میں پیدا کر دیں۔ پہلی صدی ہجری میں اہل بیت کی خلافت کو عقیدہ کا مسئلہ بنانا اس کی پہلی اور موجودہ زمانہ میں ”مکمل قانون کے نفاذ، کو علی الاطلاق امت مسلمہ کا فریضہ بنانا اس کی دوسری مثال ہے ۔ اس تعبیر نے سیاسی جد و جہد کو عقیدہ کا مسئلہ بنا دیا۔ اب ہر ملک کے مسلمان ”مکمل اسلامی قانون کے نفاذ کے نام پر اپنے ملک کے حکمرانوں سے ٹکرا رہے ہیں اور سیاسی ادارہ دوبارہ نئے عنوان سے اسلام کا حریف بن گیا ہے جس طرح وہ ڈیڑھ ہزار سال پہلے اس کا حریف بنا ہوا تھا۔

احادیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد سب سے زیادہ جس چیز کا خطرہ محسوس کیا تھا وہ یہ کہ مسلمان آپس میں لڑیں گے۔ تاریخ سے اور موجودہ حالات سے اس کی پوری تصدیق ہوتی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلمان آپس کی لڑائیوں میں جتنا زیادہ مشغول رہے ہیں اور مشغول ہیں اس کی مثال کسی بھی دوسری قوم میں نہیں ملتی۔

سے لڑنے میں دوسری قومیں ہم سے آگے نظر آئیں گی ۔ مگر خود اپنے ہم قوموں کے قتل و خون میں بہر حال مسلمان سب سے زیادہ آگے ہیں ۔ ان کی سب سے بڑی وجہ یہی سیاست کو عقیدہ بنانا ہے۔ قدیم زمانہ میں جو باہمی لڑائیاں جاری رہیں ، ان میں عام طور پر ان لوگوں کا ہاتھ کام کرتا ہوا نظر آتا ہے جنہوں نے یہ عقیدہ بنا لیا تھا کہ خلافت ایک مخصوص خاندان کا حق ہے۔ اس کے علاوہ شرعاً کسی کو مسلمانوں کے اوپر حکومت کرنا جائز نہیں۔ موجودہ زمانہ میں جمہوری اور سائنسی انقلاب ات نے اس ذہن کو فعال عقیدہ کی حیثیت سے ختم کر دیا تھا۔ مگر عین اس وقت قانون اسلامی کے نفاذ کو علی الاطلاق فرض بنانے والا نظریہ وجود میں آگیا اور اس نے اس باہمی لڑائی کو نئے عنوان سے مسلمانوں کے درمیان زندہ کر دیا۔ اسلامی نظام کیسے قائم ہوتا ہے " سیاسی اسلام" کے نظریہ کا مزید نقصان یہ ہے کہ وہ مطلوبہ اسلامی سیاست قائم کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا ۔ یہ نظریہ گویا گاڑی کو گھوڑے کے آگے باندھنا ہے ۔ درخت زرخیز زمین میں اگتا ہے نہ کہ پتھر کی چٹانوں پر۔ اسی طرح اسلامی نظام ہمیشہ حقیقی اسلامی معاشرہ میں قائم ہوتا ہے۔ جہاں اسلامی معاشرہ نہ پایا جائے، وہاں سیاسی تحریک چلا کر یا پھانسی اور گولی کی سزاؤں کے ذریعہ اسلام کا سیاسی درخت اگایا نہیں جا سکتا ۔ جو شخص کسی عہدہ کا امیدوار ہو، اسلام کے مطابق ، وہ اس عہدہ کے لئے سب سے زیادہ غیر موزوں شخص ہے۔ شریعت کی یہ تعلیم احادیث سے واضح طور پر ثابت ہے۔ یہاں چند روایتیں نقل کی جاتی ہیں :

ان اخونکم عند من طلبه (ابوداؤد) جو شخص نا اہل ہو، ہمارے نزدیک وہ سب سے زیادہ اسکا طالب ہے انا والله لا نولی علی هذا العمل احد اسأله خدا کی قسم حکومتی عہدہ پر ہم ایسے کسی شخص کا تقرر نہیں کرتے ولا احد احرص عليه (بخاری و مسلم) جو اس کو مانگے نہ ایسے کسی شخص کا جو اس کو چاہتا ہو۔ لا نستعمل على عملنا هذا من اراده (بخاری و مسلم) ہم اپنی حکومت کے کام پر ایسے شخص کو مقرر نہیں کرتے جو اس کی خواہش رکھتا ہو۔

تجدون خير الناس اشد هم كرا هية لهذا تم سب سے بہتر اس شخص کو پاؤ گے جو حکومتی منصب کو سب الامرحتي يقع فيه (بخاری و مسلم) سے زیادہ ناپسند کرتا ہو، یہاں تک کہ مجبوراً اس میں مبتلا

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کون سا معاشرہ ہے جس کے اندر اسلامی نظام قائم ہوتا ہے ۔ یہ وہ معاشرہ ہے جس کے افراد میں اقتدار پسندی نہ پائی جاتی ہو۔ جس کے سربرآوردہ لوگ خود شعوری کے اس مقام پر ہوں کہ وہ دوسرے کے مقابلہ میں اپنی نا اہلی کو جانتے ہوں۔ جس کے افراد اتنے بلند نظر ہوں کہ عہدوں کے معاملہ میں اپنی ذات کی نفی کر کے سوچتے ہوں۔ لوگوں کے درمیان جب عہدیدار کے تقرر کا سوال آتا ہے تو سب میں جو موزوں ترین شخص ہوتا ہے وہ خود بخود ابھر کر سامنے آجاتا ہے ۔ اور جب اس کا تقرر ہو جاتا ہے تو سارے لوگ فوراً اس کے تقرر کو مان لیتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر معاشرہ کا یہ حال ہو کہ اس کے افراد اپنی اپنی اہلیتوں کو جاننے کے ماہر ہوں تو ایسے معاشرہ میں صرف باہمی لڑائیاں جنم لیتی ہیں ،

اس سے اسلامی نظام برآمد نہیں ہوتا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صحابہ کا جو گروہ جمع ہوا تھا، وہ وہی لوگ تھے جو اپنی نفی کر کے چنانچہ آپ کے زمانہ میں کامیابی کے ساتھ نظام قائم ہوا اور چلتا رہا۔ خلیفہ اول اور خلیفہ دوم کے زمانہ میں اسی قسم کے لوگ معاشرہ پر چھائے ہوئے تھے۔ اس لئے ان کے زمانہ میں بھی اسلامی نظام کامیابی کے ساتھ قائم رہا، خلیفہ سوم اور چہارم کے زمانہ میں صورت حال بدل گئی۔ اب اسلامی معاشرہ میں ایسے لوگوں کی کثرت ہو گئی جو اپنی ذات کی نفی کرکے سوچنا نہیں جانتے تھے۔ چنانچہ عہدہ اور خلافت کے دعوے دار کھڑے ہونا شروع ہو گئے۔ اور باہمی لڑائیوں کا وہ سلسلہ شروع ہوا جس میں حقیقی اسلامی نظام منتشر ہو کر رہ گیا۔

جس معاشرہ کے لوگ اپنی ذات کی نفی کر کے سوچنا نہ جانتے ہوں وہاں اسلامی تحریک کا کام یہ ہے کہ ایسے افراد وجود میں لانے کی کوشش کرے جو فرائض کے معاملہ میں اپنے کو شامل کر کے سوچنے والے ہوں اور عہدوں کے معاملہ میں اپنے کو الگ کر کے سوچیں ۔ اسلامی نظام قائم کرنے کا یہی واحد طریقہ ہے۔ اس کے برعکس مطالبہ اور ایجی ٹیشن کے ذریعہ اسلامی نظام نافذ کرنے کی کوشش ایک بے معنی کوشش ہے جو صرف ٹکراؤ کو جنم دیتی ہے، ایسے معاشرہ میں اس قسم کی تحریک عملاً مدعیان اقتدار کی تعداد میں اضافہ کے ہم معنی بن جاتی ہے۔ وہ فساد کو بڑھاتی ہے نہ کہ معاشرہ میں اصلاح

اقتدار کی طلب انسان کی سب سے بڑی طلب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں اقتدار کی جنگ جاری رہی ہے۔ سماج کے اندر ہمیشہ کثیر تعداد میں ایسے لوگ موجود رہتے ہیں جو کسی نہ کسی طرح اقتدار اور مرتبہ کے مقام پر پہنچنے کا خواب دیکھتے رہتے ہیں۔ تاریخ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ انسانی معاشرہ ہمیشہ اقتدار اور بڑائی چاہنے والوں کا ڈنگ بنارہا ہے۔ ایسی حالت میں کسی اصلاحی تحریک کا پہلا کام یہ ہے کہ وہ قلوب کی راہ سے لوگوں کے اندر داخل ہو کر ان کے جذبہ اقتدار پسندی کو کم کرے۔ اس ابتدائی اصلاحی کام کو قابل لحاظ حد تک کے بغیر جو لوگ "مطالبہ نظام اسلامی" کی مہم لے کر کود پڑیں وہ صرف فساد فی الارض میں اضافہ کریں گے۔ کیوں کہ اس قسم کی مطالباتی مہم طالبین اقتدار کی تعداد میں اضافہ کے ہم معنی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اقتدار کی رسہ کشی جو پہلے صرف عام دنیا داروں کے درمیان جاری تھی، اس میں مذہبی لوگوں کی بھیڑ کا بھی اضافہ ہوجائے۔ مزید اس شناعت کے ساتھ کہ اقتدار کی جو جنگ پہلے سیاست کے نام پر ہو رہی تھی وہ مذہب کے نام پر ہونے لگے۔ خدا کا دین جاہ طلبی کے بازار میں ایک سیاسی سودا بن کر رہ جائے۔

Printed page