مسائل کا حل دعوت الی اللہ
Al-Risala, July 1979, pp. 36–41
By Maulana Wahiduddin Khan
دعوت کا حکم دیتے ہوئے پیسہ کہناکہ " اللہ تم کو لوگوں سے بچائے گا " واضح کرتا ہے کہ دعوتی عمل ہی میں مسلمانوں کے تمام مسائل کے حل کا راز بھی چھپا ہوا ہے ۔ دنیا میں مسلمان جن لوگوں کے درمیان ہیں ، ان کی طرف سے بے شمار متوقع اور غیر متوقع مشکلیں پیش آتی ہیں ۔ مگر مسلمانوں کو ان سب پر الگ الگ طاقت خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ۔ ان کے لئے ان کے رب نے ایک ایسا سرادے دیا ہے جو تمام چیزوں کا جامع ہے ۔ اور وہ مراد دعوت الی اللہ ہے۔ اپنی زندگی میں بے شمار ضرورتوں کا محتاج ہوتا ہے ۔ مگر وہ ہر ضرورت پر الگ الگ دھیان نہیں دیتا بلکہ اپنی ساری طاقت اس چیز کو حاحل کرنے میں لگا دیتا ہے جس کو " پیسہ " کہتے ہیں ۔ کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ یہ قاضی الحاجات اور حل المشکلات ہے۔ جب اتنا ہر ایک چیز ہے مگر وہ ہاتھ آجائے تو بقیہ ضرورتیں خود بخود پوری ہوتی چلی جاتی ہیں ۔ کچھ معاملہ دعوت الی اللہ کے کام کا ہے ۔ وہ تمام مسائل جو دنیا کی زندگی میں مسلمانوں کو پیش آئیں ، ان سب کا مشترک حل دعوت ہے ۔ دعوت الی اللہ میں عصمت من الناس کا راز چھپا ہوا ہے ۔ " اللہ مکروں کو راہ نہیں دیتا " کا مطلب یہ ہے کہ دعوتی کام کے بعد یہ نہ ہوگا کہ تمھارے معاونین تمھارے خلاف اپنے عزائم کی تعمیل کے موافق نہ پاسکیں گے ، تمھارے دعوتی عمل کے نتیجہ میں ان کی راہیں مسدود ہوتی چلی جائیں گی ۔ دعوت الی اللہ کا یہی تسخیری پہلو ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد میں ملتا ہے جو آپ نے مکہ کے منکرین کے سامنے پیش کیا تھا :
کلمة واحدة تعطونها تملكون بها العرب و تدین تم مجھے ایک کلمہ دے دو، اس سے تم تمام عرب کے مالک - لكم بها العجم (البدايه والنهايه جلد ۲ صفحہ ۱۲۳) ہو جاؤ گے اور تمھارا مطیع فرمان ہوگا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اس قرآنی تعلیم کا مکمل نمونہ ہے۔ آپ نے مختلف پیش آمدہ مسائل کو براہ راست نشانہ بنانے کے بجائے اپنی ساری توجہ دعوت کے کام پر لگا دی۔ اسی سے اللہ نے دوسرے تمام مسائل کے حل کی راہیں نکال دیں ، مثال کے طور پر معاہدہ حدیبیہ (۶ ھ) کے وقت منکرین نے آپ کو مسائل و مشکلات کے جنگل میں گھیر لیا تھا۔ حتی کہ بیت اللہ الحرام کی زیارت کا حق دینے پر بھی وہ راضی نہ تھے۔ اس وقت آپ نے کیا کہ منکرین کی خود اپنی شرائط کو مانے ہوئے ان سے دس سال کا خام جنگ معاہدہ کر لیا ۔ یہ منکروں کو ان کی منہ مانگی قیمت دے کر اپنے لئے دعوتی کام کی راہ مسئلہ جنگ کی سطح پر تھا مگر آپ نے اس کا صل دعوت کی سطح پر تلاش کیا۔ چنانچہ اس معاہدہ کے بعد جیسے ہی امن ہوا، آپ نے ایک طرف رؤساء ملوک کو دعوتی وفود بھیجنے شروع کئے اور دوسری طرف عرب کے قبائل
میں دعوت کا کام پوری طاقت کے ساتھ جاری کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمانوں کی تعداد بہت تیزی سے بڑھنے حدیبیہ کے میدان سے آپ تقریباً ڈیڑھ ہزار مسلمانوں کے ساتھ واپس ہوئے تھے۔ دو سال بعد (۸ھ) آپ نے دس ہزار مسلمانوں کے ساتھ مکہ کو خون بہائے بغیر فتح کر لیا۔ یہی طریق کار تھا جس نے ساتویں صدی ہجری میں تاتاریوں کے خلاف مسلمانوں کی مدد کی۔ تاتاری فوجوں کی یلغار اتنی زبردست تھی کہ اس زمانہ میں کہا جانے لگا تھا کہ اذا قیل لك ان النتر انهز موافلا تصدق را گر تم سے کہا جائے کہ تاتاری ہار گئے تو اس کو مت ماننا) مگر وہ فتنہ جس کے حل سے مسلمانوں کی تلوار عاجز ہورہی تھی۔ اس کو دعوت نے حل کر دیا۔ مسلمانوں کی دعوتی جد و جہد سے تاتاری بڑی تعداد میں مسلمان ہو گئے۔ وہ لوگ جو مسلمانوں کو تباہ کرنے کے لئے نکلے تھے وہ خود مسلمانوں میں شامل ہو کر ملت اسلامی کا جزء بن گئے۔
بعد کے دور میں مسلمانوں کو جو مسائل پیش آئے، اس کی واحد سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ ان کے اندر دعوتی ذہن ختم ہو گیا ۔ وہ ”دینی جد و جہد" کے نام پر دوسرے دوسرے کام کرنے لگے۔ ظاہر ہے کہ خدا کی اس دنیا میں اس قسم کے خود ساختہ طریقوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا۔ آپ اگر گیہوں کے دانے کے شکل کے پتھر تراشیں اور ان کو زمین میں بوئیں تو ان پتھروں کے ٹکڑوں سے گیہوں کا پودا نہیں اگ سکتا، خواہ آپ نے اس کی تراش میں کتنی ہی کاریگری دکھائی ہو۔ فصل گیہوں کے دانوں سے اگتی ہے نہ کہ پتھر کے ہم شکل ٹکڑوں سے۔ اس بات کو یہاں ہم چند مثالوں سے واضح کریں گے۔ دعوتی غفلت کے نتائج موجودہ زمانہ میں مسلم قوموں کے لئے جو مسائل پیدا ہوئے ان میں سب سے بڑا مسئلہ "استعمار" کا سمجھا اس نے نہ صرف مسلم قوموں کو سیاسی طور مغلوب کیا بلکہ بے شمار دوسرے مصائب میں مبتلا کر دیا۔ کے درمیان اگر تبلیغی کام کیا جاتا تو عین ممکن تھا کہ انگلستان زیادہ بہتر طور پر دوسرا ترک ثابت ہوتا۔ انگریزوں کے اندر قبولیت اسلام کا مادہ ہونے کا ثبوت کافی ہے کہ عین اقتدار کے زمانہ میں ان کے افراد مسلمان ہوتے رہے۔ مگر پچھلے کئی سو برس کے اندر کبھی مسلمانوں میں یہ ذہن پیدا نہیں ہوا کہ وہ انگریزوں کے اوپر خدا کے دین کی تبلیغ کریں۔ حتیٰ کہ اگر کسی نے اس قسم کی تجویز پیش کی تو کہا گیا کہ یہ انگریزوں کا ایجنٹ ہے اور چاہتا ہے کہ مسلمانوں کو جہاد آزادی کے محاذ سے ہٹا دے۔ زمانہ میں اس سلسلے میں جو غفلتیں کی گئی ہیں، ان کا میں یہاں ذکر نہیں کروں گا۔ میں انگلستان کی ایک تازہ مطبوعہ کتاب " تاتار خاں کا انگریز" نامی کتاب کے مصنف گیبر یل رونے کے ایک مضمون کا حوالہ دوں گا۔ یہ مضمون لندن کے اخبار سنڈے ٹائمز (۲۲ اکتوبر ۷ ۱۹ء) میں شائع ہوا ہے۔ انگریز مصنف نے بعض تاریخی دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے: "For a crucial moment in the thirteenth century England faced the prospect of being totally converted-lock, stock and barrel-into a Muslim country."
تیرھویں صدی عیسوی میں ایک نازک لمحہ میں انگلستان کے لئے یہ امکان پیدا ہو گیا تھا کہ وہ مکمل طور پر ایک مسلم ملک میں میں تبدیل ہو جائے ۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ انگلستان کا بادشاہ جان لاک لینڈ (۱۲۱۶-۱۱۹۷ء) کلیسا کے رویہ کی وجہ
سے عیسائیت سے بیزار ہو گیا۔ اس نے طے کر لیا کہ وہ اپنی رعایا سمیت مسلمان ہو جائے اور مسلم خلیفہ کی اطاعت قبول کرے۔ اس نے ۱۲۱۳ء میں سلطنت موحدین کے امیر ناصر لدین اللہ کے پاس ایک خفیہ وفد بھیجا جو تین افراد پر مشتمل تھا۔ یہ لوگ سفر کرکے مراکش پہنچے اور امیر ناصر لدین اللہ سے ملے۔ انھوں نے امیر کو شاہ جان کا خط پیش کیا اور ترجمان کے ذریعہ اپنے بادشاہ کی خواہش سے اس کو آگاہ کیا کہ وہ امیر کے ہاتھ پر اسلام قبول کرنا چاہتا ہے۔ مگر ناصر لدین اللہ دعوت و تبلیغ کا مزاج نہ رکھتا تھا۔ وہ اس پیش کش میں دل چسپی نہ لے سکا اور وفد ناکام اپنے وطن واپس لوٹ گیا۔ شاہ انگلستان کو جب یہ معلوم ہوا تو وہ سخت غمگین ہوا اور بہت رویا۔ شاہ انگلستان کو اس وقت اگر اسلام میں داخل کر لیا جاتا تو اس میں کوئی شک نہیں کہ پورا انگلستان مسلمان ہو جاتا اور اس کے بعد استعمار کی تاریخ اور یورپ کی نشاة ثانیہ کی تاریخ بالکل دوسرےی ہوتی۔ جو حالیہ صدیوں میں اسلام کا جھنڈا گرانے کے درپے ہوئے ، وہ اسلام کا جھنڈا بلند کرنے والے بن جاتے۔ حتی کہ اسرائیل کا مسئلہ سر سے وجود میں نہ آتا جس نے آج سارے عالم اسلام کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔
۲- اسرائیل کا اگر چہ انگریزوں نے پیدا کیا۔ مگر آج اس کا سب سے بڑا سہارا امریکہ ہے۔ اس مسئلے نے مسلم دنیا کو بہت بڑے پیمانے پر متاثر کیا ہے اور پوری مسلم دنیا اس کے خلاف متحد ہے۔ تاہم ۳۰ سال کی طویل جد و جہد کے باوجود ابھی تک مسلمانوں کو اس محاذ پر کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔ جہاں تک یہودیوں کے قبول اسلام کا تعلق ہے ہمیں اس معاملہ میں کوئی خوش گمانی اگر چہ اتمام حجت کے لئے ، ہم کو یہود تک بھی اسلام کی دعوت پہنچانا چاہئے۔ مگر مخصوص وجوہ سے عملاً اس کی بہت کم امید کی جاسکتی ہے کہ یہود کی کوئی قابل لحاظ تعداد اسلام قبول کرلے۔ تاہم جہاں تک تبلیغی طرزِ کار کا تعلق ہے، یہاں بھی اس کی افادیت مسلم ہے۔ تبلیغی طریق کار کے براہِ راست طور پر یہود پر موثر ہونے کی اگر چہ زیادہ امید نہیں کی جاسکتی۔ بالواسطہ طور پر ان پر اثر انداز ہونے کے پورے امکانات تھے۔ مگر دعوتی ذوق نہ ہونے کی وجہ سے مسلمان اس کو استعمال نہ کر سکے۔
بالواسطہ طریق کار سے مراد امریکہ پر تبلیغ ہے۔ یہ ایک معلوم بات ہے کہ اسرائیل کا اصل سرپرست امریکہ ہے۔ امریکہ ہی وہ طاقت ہے جو اسرائیل کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ امریکہ ، سائنٹفک معاشرہ ہونے کے بنا پر، آج اسلام کی تبلیغ کا سب سے کامیاب میدان بن سکتا ہے۔ مگر مسلمانوں کا تبلیغی کام امریکہ میں صفر کے درجہ میں ہے۔ جب کہ ہند دازم اللہ بدھ ازم تک نے وہاں اپنے لئے کام کے نہایت قیمتی مواقع پائے ہیں۔ یہاں ہم یاد دلائیں گے کہ ۱۸۸۱ء میں جب کہ سید جمال الدین افغانی اور ان کے شاگرد مفتی محمد عبده پیرس میں تھے۔ سید جمال الدین افغانی نے اپنے شاگرد سے کہا: ان اهل اوربا مستعدون لقبول الاسلام اذا | یورپ کے لوگ اسلام قبول کرنے کے لئے تیار ہیں۔ احسنت الدعوة اليه - فقد قارنوا بين الدين الاسلامی کی دعوت اچھی طرح ان کے سامنے پیش کی جائے، کیوں کہ و بين غيره فوجدوا البون شاسعا من حيث يسر العقائد انھوں نے اسلام اور دوسرے مذہبوں کا تقابلی مطالعہ کیا وقرب تناونها - واقرب من اهل ادب را با لقبول الاسلام تو انھوں نے پایا کہ عقیدہ کی سادگی اور عمل کی آسانی کے اهل امريكا لانه لا يوجد بينهم وبين الامم الاسلامية اعتبار سے دونوں میں بہت فرق ہے، اور مغربی اقوام میں
عادات موروثہ ولا افغان مدفونۂ ملما قبول اسلام کے اعتبار سے سب سے زیادہ قریب امریکہ کے لوگ ہیں۔ کیونکہ ان کے اور اسلامی قوموں کے درمیان اس طرح کی قدیم عداوتیں نہیں ہیں جو مسلمان اور یورپی قوموں
هو الحال بين المسلمين والا دور بين جمال الدین الافغانی، تالیف محمود البودیه، ۵۰ اپنے استاد کی زبان سے یہ بات سن کر مفتی محمد عبدہ نے ان سے کہا : پھر کیوں نہ ہم ایسا کریں کہ سیاسی مقابلہ آرائی کو چھوڑ کر امریکہ میں تبلیغ و دعوت کا کام کریں۔ جمال الدین افغانی کے سیاسی ذوق کو تبلیغی کام ایک ہلکا کام معلوم ہوا، انھوں نے کہا: انما انت مثبت (تم تو حوصلہ پست کرنے والی باتیں کرتے ہو)۔ سید جمال الدین افغانی انتہائی غیرمعمولی صلاحیت کے آدمی تھے۔ وہ اگر اپنی پوری طاقت تبلیغ و دعوت کے کام میں لگا دیتے تو وہ امریکہ میں زبردست دعوتی کام پھیلا سکتے تھے۔ انھوں نے سو سال پہلے یہ کام شروع کر دیا ہوتا تو عجب نہیں کہ آج امریکہ ایک مسلم ملک بن چکا ہوتا۔ اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ امریکہ میں اسلام پھیل جانے کے بعد اسرائیل کی تاریخ اس سے بالکل مختلف ہوتی جو آج ہمیں نظر آتی ہے۔ لفظوں میں، وہ تاریخ دوبارہ نئی صورت میں دہرائی جاتی جب کہ قبیلہ موازن (۶ ہزار) کے مسلمان ہو جانے کے بعد قبیلہ ثقیف (طائف) نے ہتھیار ڈال دئے تھے (ظہور اسلام، صفحه ۳۹)
۳- موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا ایک بہت بڑا مسئلہ ان کی سائنسی اور صنعتی پس ماندگی ہے۔ اسی پس ماندگی کا یہ نتیجہ ہے کہ بے پناہ قربانیوں کے باوجود انھوں نے مغربی استعمار سے جو سیاسی آزادی حاصل کی تھی وہ صنعتی محکومی کی صورت میں دوبارہ ان کی طرف لوٹ آئی۔ حتیٰ کہ تیل پیدا کرنے والے مسلم ممالک اپنے تیل سے جو دولت حاصل کرتے ہیں وہ دوبارہ مختلف بہانوں سے انھیں مغربی ملکوں میں واپس چلی جاتی ہے جو صنعت اور سائنس میں اپنی برتری کی وجہ سے مسلم ملکوں کی تمام سرگرمیوں پر اپنا سایہ ڈالے ہوئے ہیں۔
بظاہر اس مسئلہ کا تبلیغ و دعوت کے کام سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ دونوں میں نہایت گہرا تعلق صنعت اور سائنس کو وجود میں لانے والے بالآخر انسان ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اگر ہاتھ آجائیں تو صنعت اور سائنس خود بخود ہاتھ آ جائے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود لکھنا نہیں جانتے تھے (عنکبوت ۴۸) مگر آپ کی دعوت کے ذریعہ ایسے لوگ اسلام میں داخل ہوئے جو لکھنا جانتے تھے۔ انھوں نے اپنے ہاتھ سے آپ کی وحی کو کتابی صورت موجودہ زمانہ میں اس سلسلے میں جاپان کی مثال دی جا سکتی ہے۔ جاپان صنعت اور سائنس کے اعتبار سے آج صفِ اول کی قوموں میں شمار ہوتا ہے۔ عجیب بات ہے کہ انیسویں صدی کے آخر میں جاپان میں اسلام کی اشاعت کے غیر معمولی امکانات پیدا ہو گئے تھے۔ جاپان کا بادشاہ میجی (۱۹۱۲-۱۸۶۸) جاپان میں مسیحیت کے داخلہ سے سخت متوحش تھا۔ اس کے نزدیک مسیحیت، مذہبی لباس میں، مغرب کی استعماری طاقتوں کا ہر اول دستہ تھا۔ اس نے مسیحیت کو روکنے کے لئے یہ تدبیر سوچی کہ جاپان میں اسلام کو پھیلا یا جائے۔ وہ اسلام کو ایک بے ضر ر چیز سمجھتا تھا۔ جب کہ مسیحیت کے داخلہ کا مطلب اس کے نزدیک استعمار کا دروازہ کھولنے کے ہم معنی تھا۔ شاہ میجی نے ۱۸۹۱ میں ترکی کے سلطان عبدالحمید ثانی
(۱۹۱۷ - ۱۹۱۴) کے پاس ایک سرکاری وفد بھیجا۔ اس وفد کے پاس شاہ جاپان کا ایک خط تھا جس میں درخواست کی گئی تھی کہ سلطان اپنے مبلغین کو جاپان بھیجے جو جاپانیوں کو مذہب اسلام کی تعلیمات سے واقف کرائیں اور اس طرح جاپان اور عالم اسلام کے درمیان معنوی رشتہ قائم ہو، مگر نہ سلطان میں دعوت وتبلیغ کا جذبہ تھا اور نہ ان علماء میں جو اس کے گردوپیش جمع نتیجہ یہ ہوا کہ یہ پیش کش شکریہ کے ساتھ واپس کردی گئی اور اس سمت میں کوئی کام شروع نہ ہوسکا۔ اگر موقع سے فائدہ اٹھایا جاتا اور ۱۸۹۱ء سے جاپان میں تبلیغ اسلام کا کام شروع ہو جاتا تو پورے اعتماد کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ آج جاپان ایک مسلم ملک ہوتا اور اس کا مسلم ملک ہونا مسلمانوں کی سائنسی اور صنعتی پس ماندگی کی مکمل تلافی کردیتا۔ اب اس مسئلہ کو لیجئے جس کو ” ہندوستانی مسلمانوں کا مسئلہ کہا جاتا ہے۔ یہ مسئلہ بھی تمام تر دعوت و تبلیغ کے کام سے غفلت کی پیداوار ہے۔ ہندوستان میں اسلام کی طویل تاریخ میں کبھی تبلیغ کی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔ یہاں جو لوگ اسلام کے حلقہ میں داخل ہوئے وہ زیادہ تر خود اپنے جذبہ سے داخل ہوئے نہ کہ حقیقۃً مسلمانوں کی کسی دعوتی کوشش سے۔ صوفیاء کے ہاتھ پر ماضی میں کثرت سے لوگوں نے اسلام قبول کیا ہے۔ مگر یہ کہنا مشکل ہے کہ تبدیلی مذہب کے یہ واقعات ارادی طور پر کسی قابل ذکر تبلیغی کوشش کا نتیجہ تھے۔ یہ زیادہ تر قدیم حالات کی بنا پر تھا جب کہ مذہبی تعصب نہیں تھا اور لوگ معمولی اسباب سے اپنا مذہب بدلنے کے لئے تیار ہوجاتے تھے۔ جواہر لال نہرو نے لکھا ہے : ”اسلام کی آمد ہندوستان کی تاریخ میں کافی اہمیت رکھتی ہے۔ اس نے ان خرابیوں کو جو ہندو سماج میں پیدا ہوگئی تھیں، یعنی ذاتوں کی تفریق، چھوت چھات اور انتہا درجہ کی خلوت پسندی کو بالکل آشکارا کر دیا۔ اسلام کے اخوت کے نظریے اور مسلمانوں کی عملی مساوات نے ہندوؤں کے ذہن پر بہت گہرا اثر ڈالا۔ خصوصاً وہ لوگ جو ہندو سماج میں برابری کے حق سے محروم تھے، اس سے بہت متاثر ہوئے۔ اس نئے تاثر نے ملک میں بہت سی تحریکیں پیدا کیں چنانچہ بہت سے لوگ اپنا مذہب چھوڑ کر نئے مذہب میں شامل ہو گئے۔ شامل ہونے والوں میں اکثریت پنج ذات کی تھی۔ ان میں کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے سیاسی اور اقتصادی مصلحتوں کی بنا پر مذہب تبدیل کیا تھا۔ حکراں طاقت کا مذہب قبول کرنے میں جو فائدہ تھا وہ ظاہر ہے۔ یہاں ایک چیز خاص طور پر قابل لحاظ عام طور پر پوری پوری جماعتیں ہندد سے مسلمان ہوجاتی تھیں۔ اس سے ہمیں اس اثر کا پتہ چلتا ہے جو ان دنوں جماعت کو حاصل تھا۔ اعلیٰ ذاتوں میں سے تو فردًا فردًا بھی لوگ تبدیل مذہب کرتے تھے۔ مگر نیچی ذاتوں میں ایک مقام کی کوئی پوری برادری یا سارے کا سارا گاؤں اسلام قبول کر لیتا تھا‘ جواہر لال نہرو مزید لکھتے ہیں ”اس زمانہ میں لوگوں نے خواہ انفرادی طور پر اسلام قبول کیا یا جماعتی طور پر، ہندو قوم نے اس کی مخالفت نہیں کی۔ انھیں اس کی پروا نہ تھی کہ ان کے کچھ لوگ کسی دوسرے مذہب کے پیرو بن جائیں۔ پرانے زمانہ میں تو یہ حال تھا۔ مگر آج کل معاملہ اس کے برعکس ہے۔ اب اگر کوئی شخص اسلام یا مسیحیت قبول کرتا ہے تو ہر طرف غم وغصہ کے جذبات مشتعل ہوجاتے ہیں۔ آج کل کا یہ شور و غوغاسیاسی اسباب کے تحت ہے۔ دوسری جماعت کا مذہب اختیار کر لیتا ہے تو سمجھا جاتا ہے کہ اس سے اس جماعت کو تقویت پہنچی۔ سیاسی اختیارات میں اس کی نیابت کے حقوق بڑھے“ (ڈسکوری آف انڈیا، ۱۹۴۵ء، صفحات ۸۱- ۲۷۹)
ماضی کی تاریخ میں کثرت سے ایسے واقعات موجود ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ اس ملک میں اگر سنجیدگی کے ساتھ
اسیلام کی تبلیغ کی گئی ہوئی تو یہاں اس کی اشاعت کے غیر معمولی امکانات تھے۔ مثلاً ۱۸۵۷ء کے نام نہاد جہادِ آزادی کے بعد جب مسلمانوں کی پکڑ دھکڑ شروع ہوئی تو بہت سے علماء روپوش ہو گئے۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد ہمالیہ کے جنگلوں میں پھیل گئی اور "دعا تعویذ" کے انداز پر کام کرنے لگئی۔ ان کے اثر سے اس علاقہ کے لوگ کثرت سے مسلمان ہو گئے ۔ سے لے کر کشمیر تک پہاڑوں میں جو چھوٹی چھوٹی بستیاں پھیلی ہوئی ہیں ، ان میں مسلمان بڑی تعداد میں آباد ہیں اور یہ اسی وقت کی یادگار ہیں۔ اسی طرح علماء کی ایک تعداد مشرقی بنگال کے پس ماندہ علاقہ میں داخل ہو گی جہاں اس زمانہ میں سڑکیں وغیرہ کم ہونے کی وجہ سے انگریزی دارو گیر کا خطرہ نہیں تھا۔ یہ لوگ خاموشی کے ساتھ وہاں خانقاہیں بنا کر رہنے لگے۔ ان کے اثر سے اس علاقہ کی اکثریت مسلمان ہو گئی۔ یہی کام اگر حقیقی شعور اور منصوبہ بندی کے تحت کیا جاتا تو آج ملک کی تاریخ دوسری ہوتی اور اس کے ساتھ مسلمانوں کی بھی۔
موجودہ زمانے میں مسلمانوں نے بے شمار تحریکیں اٹھائیں۔ حتیٰ کہ ان کی تحریکوں کے غلغلہ سے فضائے آسمانی گونج اٹھی۔ ایک کام انھوں نے نہ کیا جو ان کے خدا نے سب سے زیادہ ان پر فرض کیا تھا یعنی اللہ کے دین کو اس کے تمام بندوں تک پہنچانا۔ تاہم مسلم سفارت کی کسی کوشش کے بغیر دینِ فطرت لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنا رہا ہے کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب کہ دنیا میں کہیں یہ واقعہ پیش نہ آتا ہو کہ اللہ کے بندے اللہ کے دین کو قبول کر کے اس میں داخل ہو رہے ہوں مسلمانوں کو تو یہ توفیق بھی نہ ہوسکی کہ وہ کوئی ایسی ایجنسی قائم کرتے جو ان نو مسلموں کے اعداد و شمار جمع کر کے شائع کرتی ، البتہ عالمی ادارہ مذہب World Religions Institute نے حال میں کچھ اعداد و شمار شائع کئے ہیں۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ۱۹۷۱ء سے ۱۹۷۶ء تک کے پانچ سالوں میں تقریباً پانچ لاکھ آدمیوں نے اسلام قبول کیا۔ یہ اعداد و شمار صرف یورپ اور امریکہ سے متعلق ہیں۔ افریقہ میں مسلمانوں کی پس ماندگی اور عیسائی مشنریوں کی غیر معمولی جہد کے باوجود عیسائی بننے والوں کے مقابلہ میں اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ السٹریٹڈ ویکلی کے سابق ایڈیٹر مسٹر خوشونت سنگھ نے اپنے افریقی دورہ کے تاثرات کے ذیل میں لکھا تھا :
"کینیا اور یوگنڈا کے اپنے آخری سفر میں نے عیسائیوں اور مسلمانوں کی ان تبلیغی کوششوں کا جائزہ لیا جو نیگرو قبائل کے درمیان جاری ہیں۔ عیسائیوں نے تسلیم کیا کہ مسلم عرب بردہ فروشوں کی ناخوش گوار یادوں کے باوجود افریقہ کے سیاہ فام باشندوں میں اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد عیسائی بننے والوں سے زیادہ ہے۔
(السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا۔ ۷ جولائی ۱۹۷۶ء، صفحہ ۷)
اگرچہ ہمارے پاس قطعی اعداد و شمار نہیں ہیں تا ہم یہ اندازہ مبالغہ آمیز نہیں کہ آج بھی کسی خاص تبلیغی کوشش کے بغیر دنیا بھر میں جو لوگ مسلمان ہو رہے ہیں ان کی تعداد سالانہ دو لاکھ سے زیادہ ہے۔ اگر ان نو مسلموں سے روابط قائم کئے جائیں اور ان سے معلوم کیا جائے کہ اسلام کی کون سی خصوصیت نے انھیں متاثر کیا اور پھر ان معلومات کی روشنی میں عالمی سطح پر اسلام کی اشاعت کی منصوبہ بندی کی جائے تو صرف دس برس میں اسلام کی سربلندی کا وہ خواب پورا ہو سکتا ہے جس کو دوسری راہوں سے دوسرے برس سے حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے مگر وہ حاصل نہیں ہوتا۔
نوٹ: یہ مقالہ ایک تقریر پر مبنی ہے جو ندوة المجاہدین کیرلا کے اجلاس بمقام ملاپورم ۱۱ مارچ ۱۹۷۹ء کی گئی۔