Al-Risala · July 1979

Essats on Truth & Reality. p. 446

Al-Risala, July 1979, pp. 45–49

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے بعد خود مغربی ممالک میں ایسے لوگ اٹھے جنہوں نے مسلمانوں کو یاد دلایا کہ ان کے پاس خدا کی جو امانت ہے، وہ یورپ کی اس فکری کمی کو پورا کر سکتی ہے، وہ اس کو لے کر اٹھیں اور اہل عالم تک اس کو پہنچا کر اپنا خدائی فریضہ ادا کریں۔ لو تھین (١٩٣ - ١٨٨۴) چالیس سال پہلے ہندوستان آئے تھے اور ۱۹۳۸ میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں تقسیم اسناد کے جلسہ کی صدارت کی تھی۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے خطبہ میں کہا تھا: " یورپ اپنے سیاسی، معاشی، تمدنی اور عائلی مسائل کا تسلی بخش حل دریافت کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔ آپ حضرات کا دعویٰ ہے کہ اسلام زندگی کا مکمل دستورالعمل ہے اور اس میں اجتماعی مسائل کا بہترین حل موجود ہے۔ میں آپ کو مشورہ دیتا ہوں کہ آپ بلاد مغرب میں جاکر وہاں کے باشندوں کو اسلام کی تعلیمات سے آگاہ کریں ۔ " (خطبہ تقسیم اسناد)

پروفیسر منٹگمری واٹ ( - ۱۹۰۹) نے اس سے بھی زیادہ واضح الفاظ میں مسلمانوں کی غیرت کو پکارا، پیغمبر اسلام کی سیرت پر اپنی کتاب میں انہوں نے لکھا :

" دنیا بہت تیزی سے ایک ہوتی جارہی ہے اور اس ایک دنیا میں یہ رجحان بڑھ رہا ہے کہ اس کے اندر اتحاد اور یکجہتی اس رجحان کی وجہ سے یقیناً وہ دن آئے گا جب کہ یہاں اخلاقی اصولوں کا ایک ایسا نظام ہو گا۔ جو نہ صرف عالمی جوڑ رکھتا ہوگا بلکہ فی الواقع وہ ساری دنیا میں تسلیم کیا جا چکا ہوگا۔ مسلمانوں کا دعویٰ ہے کہ محمد تمام نوع انسانی کے لئے ایک عملی اور اخلاقی نمونہ ہیں۔ یہ کہہ کر وہ دنیا کو دعوت دے رہے ہیں کہ وہ ان پر اسے قائم کر سکے۔ اب تک یہ معاملہ دنیا کی بہت کم توجہ اپنی طرف مائل کر سکاہے۔ مگر اسلام کی قوت کی وجہ سے یہ بالآخر اہمیت حاصل کرلے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا محمد کی زندگی اور تعلیمات میں سیکھنے کے قابل کچھ اصول ہیں جو مستقبل کی دنیا کو واحد اخلاقی نظام عطا کر سکیں " دنیا کو ابھی تک اس سوال کا آخری جواب نہیں دیا گیا ہے۔ مسلمانوں نے محمد کے بارے میں اپنے دعوے کی تائید میں اب تک جو کچھ کہا ہے، وہ اس سلسلہ میں بس ایک ابتدائی بیان کی حیثیت رکھتا ہے اور بہت کم غیر مسلم

اس سے مطمئن ہو سکتے ہیں ۔ تاہم یہ موضوع ابھی کھڑا ہوا ہے ۔ دنیا کا رد عمل محمدؐ کے بارے میں کیا ہوتا ہے ، کسی حد تک اس پر منحصر ہے کہ آج کے مسلمان اس کے لئے کیا کرتے ہیں ۔ انہیں اب بھی یہ موقع حاصل ہے کہ بقیہ دنیا کے سامنے اپنے مقدمہ کو زیادہ بہتر اور مکمل طور پر پیش کریں ۔ کیا مسلمان یہ دکھا سکیں گے کہ ایک متحدہ دنیا کی اخلاقیات کے لئے محمدؐ کی زندگی ایک آئیڈیل انسان کی حیثیت رکھتی ہے ۔ اگر مسلمان اپنے مقدمہ کو بہتر طور پر پیش کر سکیں تو عیسائیوں میں وہ ایسے لوگ پائیں گے جو اس کو سننے کے لئے تیار ہیں ۔ “ (صفحہ ۳۳۳) Montgomery Watt, Muhammad As Model For Universal Morality اس طرح کی بہت سی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں ۔ مگر کیسی عجیب بات ہے ۔ مسلمان اس پوری مدت میں مغربی قوموں سے سیاسی لڑائی تو لڑتے رہے جس میں مغرب صریح طور پر ان کے اوپر برتری رکھتا تھا۔ مگر فکری اور اعتقادی میدان جو مغربی قوموں کا کمزور گوشہ تھا وہاں ان پر کوئی جدوجہد نہ کی۔ نادانی کی ایسی عجیب غریب مثال شاید پوری تاریخ میں کوئی دوسری نہیں ملے گی ۔

فکری اور نظریاتی طاقت کی اہمیت کیا ہے ، ان کا ایک مثال یہاں ہم خود جدید مغربی تاریخ سے پیش کریں گے ۔ پہلی جنگِ عظیم (۱۹۱۸-۱۹۱۴ء) کے دوران روس میں کمیونسٹوں کا غلبہ برطانیہ عظمیٰ کے لئے ایک سوالیہ نشان تھا۔ کیونکہ یہ برطانوی سلطنت کے ”مشرقی حصہ“ کے لئے خطرہ کے ہم معنی تھا۔ میں انگریز فوجی افسروں کا ایک وفد صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لئے سمرقند پہنچا ، اگرچہ بظاہر یہ بتایا گیا تھا کہ یہ ایک تجارتی وفد ہے اور وسط ایشیا کی کپاس کا سودا کرنے جار ہا ہے۔ وفد کے ممبران یہ تھے: کرنل بیلی F. M. Bailey کرنل ایتھرٹن P. T. Etherton میجر بلیکر L. V. S. Blacker واپسی کے بعد کرنل ایتھرٹن نے ایک کتاب لکھی جس کا نام ہے ”وسط ایشیا کے قلب میں“ In The Heart Of Central Asia انھوں نے اپنی اس کتاب میں جو باتیں لکھیں ، ان میں سے ایک یہ تھی :

The new set of ideas of the Bolsheviks was potentially much more of a menace to English domination in the Orient than all the Czar's armies in the past. یعنی بالشویکوں کے نظریات بالقوہ طور پر برطانیہ کے مشرقی مقبوضات کے لئے اس سے زیادہ بڑا خطرہ ہیں جتنا کہ ماضی میں زار کی تمام فوجیں ہو سکتی تھیں ۔ (۹۳ - ۹۲) اسلام جو رب العالمین کا بھیجا ہوادین ہے، اس کی نظریاتی طاقت دوسرے تمام نظریات سے بے شمار گنا زیادہ ہے۔ اگر مسلمان اس کو لے کر اٹھیں تو اس کی تسخیری سیلاب اتنا بے پناہ ہوگا جس کے مقابلہ میں ”بڑی طاقتوں“ کی تمام فوجیں بھی عاجز ہو کر رہ جائیں ۔

دنیا کی موجودہ آبادی تقریباً چار ارب ہے۔ ان میں سے دو آدمی ہر سیکنڈ میں مرجاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر ۲۴ گھنٹے میں تقریباً ایک لاکھ ۳۷ ہزار آدمی اس دنیا سے رخصت ہورہے ہیں تاکہ خدا کے دربار میں حاضر ہو کر یہ گواہی دیں کہ باخبر کرنے والوں نے ہم کو حقیقت سے باخبر نہیں کیا ۔ ہیں وہ لوگ جو کروڑوں انسانوں سے ان کی آخرت چھین رہے ہیں۔ اپنے بارہ میں انھیں یقین ہے کہ ان کی آخرت کسی حال میں چھپنے والی نہیں۔ وہ شہر کی ایک پر رونق سڑک کے کنارے کھڑا تھا۔ لوگ پیدل اور سواریوں پرادھر سے اُدھر جاتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔

یہ نازک چہرے ، یہ خوب صورت جسم ، یہ ہنستی ہوئی مورتیں مرنے کے بعد بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈال دی جائیں گی یہ سوچ کر بے اختیار اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔

اور پھر ایک آہ کے ساتھ اس کی زبان سے وہ الفاظ نکلے جن کو انسانوں کے سوا پوری کائنات نے سنا: ”کیا اس سے بڑی کوئی بات ہے جس کے لئے آدمی تڑپے، کیا اس سے بڑی کوئی خبر ہے جس کو بتانے والے دوسروں کو بتائیں۔ کیسی عجیب بات ہے۔ آدمی اُسی بات سے بے خبر ہے جس کو اسے سب سے زیادہ اُسی خبر کو دوسروں تک پہنچانے کے لئے کوئی نہیں اٹھتا جس کو سب سے زیادہ دوسروں تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔

دین کیا ہے تجدید دین تاریخ کا سبق اسلام دین فطرت مذہب اور جدید چیلنج صفحات ۳۲ قیمت ۵۰/ روپے صفحات ۴۸ قیمت ۴۰/ روپے صفحات ۲۲۳ قیمت ۱۳/۵۰ روپے تعمیر ملت • الاسلام • اسلام دین فطرت • صفحات ۴۸ قیمت ۴۰/ روپے صفحات ۱۶۴ قیمت ۱۲/۰ روپے صفحات ۴۸ قیمت ۴۰/ روپے ظہور اسلام • زلزلہ قیامت • اسلامی دعوت • صفحات ۲۰۰ قیمت ۱۲/۰ روپے صفحات ۷۲ قیمت ۳۰/ روپے صفحات ۴۸ قیمت ۴۰/ روپے تاریخ کا سبق • عقلیات اسلام • قرآن کا مطلوب انسان • صفحات ۴۸ قیمت ۴۰/ روپے صفحات ۴۸ قیمت ۴۰/ روپے صفحات ۸۰ قیمت ۴۰/ روپے جمعیت بلڈنگ قاسم جان اسٹریٹ دہلی ۱۱۰۰۰۶

اسے آپ کہیں ؟

جب گرمی کے دنوں میں ... آتے دن میں آگ سی محسوس کریں ... اپنے بدن میں الیسی محسوس کریں (...) آپ کو پیاس بار بار ستا رہی ہو (...) دل و دماغ پر اکتاہٹ سی طاری ہو (...) آپ کو تھکاوٹ کا احساس ہو (...) گرمیوں میں سب تب آپ شربت روح افا لیجیے شربت روح افزا میں ٹھنڈک پہنچانے والی ۱۶ جڑی بوٹیوں اور پھلوں کے رس کا مزے دار شربت ہے جو فرحت اور تازگی پیاس میں سکون دیتا ہے اور افسردگی اور تھکن کو دور کرتا ہے۔

روح افزا ایک بہترین شربت ہے، جسے آپ دودھ، لسی اور آئس کریم میں بھی ملا کر لذت اندوز ہو سکتے ہیں۔ آج ہی شربت روح افزا کی بوتل خریدیے ۔ شربت روح افزا کی ضرورت، سب کی پسند ریڈیوؤں، سی ڈیز پلیئرز، سب ہی کی پسند، ثانی اسٹیشن خان پرنٹر ز پبلشر مسئول نے جے کے آفسیت پر نٹرز دہلی سے چھپوا کر دفتر الرساله جمعیۃ بلڈنگ قاسم جان اسٹریٹ دہلی سے شائع کیا

Printed page