Al-Risala · August 1979

ترجمہ و تفسیر

Al-Risala, August 1979, pp. 2–3

By Maulana Wahiduddin Khan

زیر نظر شمارہ سے ایک نیا سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے۔ یہ قرآن کے ترجمہ و تفسیر کا سلسلہ ہے۔ شکل میں انشاء اللہ مسلسل جاری رہے گا اور بعد کو اصل متن کے ساتھ دو یا زیادہ جلدوں میں شائع کر دیا جائے گا۔ ترجمہ نہ پوری طرح لفظی ہے اور نہ پوری طرح بلکہ درمیان کی ایک صورت اختیار کی گئی ہے تاکہ دونوں پہلوؤں کی رعایت شامل رہے۔

تفسیر میں حتی الامکان تفصیلات سے اجتناب کیا جائے گا۔ زیادہ تر جو چیز پیش نظر رکھی گئی ہے وہ یہ کہ قرآن کی فطری سادگی اس کی تفسیر میں باقی رہے۔ ایک طرف خدا کے جلال کا اظہار ہے اور دوسری طرف انسان کی عبدیت کا آئینہ ہے۔ تفسیر میں بس انھیں پہلوؤں کو غیر فنی انداز میں نمایاں کرنا ہمارا مقصود ہو گا اسلوب یہ رکھا گیا ہے کہ ہر صفحہ بذات خود مکمل ہو۔ ہر صفحہ کے اوپر قرآن کے کٹی ٹکڑے (پیراگراف) کا ترجمہ ہو گا جس کے آخر میں آیت نمبر درج ہو گا۔ اس کے بعد ایک لکیر کے نیچے کی سطروں میں سادہ انداز میں اس کی تشریح ہو گی۔ الرسالہ کی ہر اشاعت کے درمیانی صفحات میں تفسیر شامل ہو گی ۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہر شمارہ میں کم از کم صفحات تفسیر کے شامل کئے جائیں۔ تاہم اگر قارئین چاہیں گے تو اس مقدار میں تبدیلی کی جاسکتی ہے۔

قارئین سے گزارش ہے کہ اس کو دیکھنے کے بعد اپنی آراء سے مطلع فرمائیں تاکہ آئندہ اس سے استفادہ کیا جاسکے۔

جارج برنارڈ شا انگریزی زبان کا مشہوتار ادیب اور مفکر ہے۔ اس نے شیکسپیئر سے اپنا مقابلہ کرتے ہوئے کہا ہے: He was a much taller man than me. But I stand on his shoulders. وہ مجھ سے بہت زیادہ لمبا انسان تھا مگر میں اس کے کندھے پر کھڑا ہوں۔ برنارڈ شا، شیکسپیئر کے مرنے کے تقریباّ ڈھائی سو سال بعد ۱۸۵۶ میں پیدا ہوا۔ شیکسپیئر (۱۶۱۶ - ۱۵۶۴) نے اپنے زمانہ میں انگریزی زبان کو جہاں پایا تھا اس پر اس نے اپنی کوششوں سے مزید اضافہ کیا۔ حتیٰ کہ اس کو ترقی کے ایک نئے مرحلہ میں پہنچادیا۔ شیکسپیئر کے بعد سیکڑوں اہل قلم پیدا ہوئے جو اس کو مزید آگے بڑھاتے رہے۔ یہاں تک کہ زبان اس اعلیٰ ترقی یافتہ مرحلہ تک پہنچ گئی جہاں سے برنارڈ شا کو موقع ملا کہ وہ اپنی قلمی جدوجہد کا آغاز کرے، برنارڈ شا کے پیش روؤں نے اگر اس کے لئے "کندھا" فراہم نہ کیا ہوتا تو برنارڈ شا کے لئے ناممکن تھا کہ وہ ادبی ترقی کے اس بلند مقام پر پہنچے جہاں وہ اپنی کوششوں سے پہنچا۔ یہی اصول زندگی کے تمام معاملات میں جاری ہے۔ پچھلے لوگ جب ابتدائی منزلیں طے کر چکے ہوں، اسی وقت یہ ممکن ہے کہ بعد کے لوگ آگے کی منزلوں پر اپنا سفر جاری کریں۔ اگر پچھلے لوگوں نے اپنے حصہ کا کام نہ کیا ہو تو آگے آنے والوں کو آگے کے بجائے پیچھے سے اپنا سفر شروع کرنا پڑے گا۔ کیونکہ سفر ہمیشہ وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں آپ کھڑے ہوئے ہوں، نہ کہ وہاں سے جہاں آپ پہنچنا چاہتے ہیں۔ جس مکان کے نیچے کی دیواریں ابھی تیار نہ ہوئی ہوں اس مکان کی بالائی منزلیں کس چیز کے اوپر کھڑی کی جائیں گی۔

جو قوم ایک ایسے ماضی کی وارث ہو جس نے وراثت میں اپنی اگلی نسلوں کو صرف رومانی شاعری اور پرجوش تقریریں دی ہوں۔ جو غیر پختہ اقدامات کے نتیجہ میں بربادیوں سے دوچار ہوتی رہی ہو۔ جو جذباتی خوش فہمیوں کی غذا کھاتے کھاتے حقیقت پسندی کا مزاج کھو بیٹھی ہو۔ جس نے ابتدائی استحکام سے پہلے سیاست بازی میں پڑ کر اپنے مواقع کو ضائع کیا ہو۔ جو اپنی ہنگامہ آرائیوں کی وجہ سے تعلیم، صنعت، تجارت اور زمانی شعور میں تمام قوموں سے پیچھے ہو گئی ہو۔ جو مطالباتی مہموں اور احتجاجی سیاستوں میں یہ بھول گئی ہو کہ مانگنے سے پہلے منوانے کی طاقت پیدا کرنا ضروری ہے۔ ایسی پچھڑی ہوئی قوم کی اگلی نسلیں آگے کی منزل سے اپنا سفر شروع کر سکتیں ۔ ان کو لامحالہ وہاں سے چلنا پڑے گا جہاں سے ان کے باپ دادا نے اپنے راستہ کو چھوڑا تھا۔ ایسے لوگ اگر دوبارہ لفظوں کی اسی بہادری میں مشغول ہو جائیں جس میں ان کے پیش رو مشغول تھے تو یہ صرف اس وقت کو مزید ضائع کرنے کے ہم معنی ہوگا جس کو ان کے باپ دادا بہت بڑی مقدار میں ضائع کر چکے ہیں۔ عملی نتیجہ صرف عملی کاموں کے ذریعہ پیدا کیا جاسکتا ہے۔ الفاظ کی کھیتی سے عمل کی فصل کائی نہیں جاسکتی۔ قدرت کو ایک درخت اگانا ہوتا ہے تو وہ بیج سے اپنا عمل شروع کرتی ہے۔ یہ قدرت کی طرف سے انسان کے لئے ایک خاموش سبق ہے۔ "بیج سے چل کر کوئی بھی شخص" درخت " تک نہیں پہنچ سکتا ہے۔ سے چل کر درخت تک پہنچنا چاہیں تو ایسا واقعہ اس زمین پر کبھی نہیں ہو گا

Printed page