Al-Risala · August 1979

غیر دینی کام پر دینی کام کا کریڈٹ لینا

Al-Risala, August 1979, pp. 4–5

By Maulana Wahiduddin Khan

وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْکِتٰبَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ فَنَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ ۝ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِنَ الْعَذَابِ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ۝ (آل عمران - ۱۸۷-۱۸۸) اور جب اللہ نے اہل کتاب سے عہد لیا کہ تم اس کو لوگوں کے سامنے بیان کرو گے اور اس کو نہ چھپاؤ گے۔ پھر انہوں نے اس عہد کو پس پشت ڈال دیا اور اس کے بدلے میں مول لے لیا تھوڑا۔ کےسی بری چیز ہے جس کو وہ لے رہے ہیں۔ اپنے اس کام پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ بن کے پران کی تعریف ہو، ان کو مت سمجھو کہ وہ عذاب سے بچاؤ میں رہیں گے اور ان کو درد ناک سزا ہوگی۔

"بن کے پر تعریف چاہنا" سے مراد ہے غیر دینی کام پر دینی کام کا کریڈٹ لینا۔ قومی اور دنیوی محرکات کے تحت سرگرمی دکھانا اور اس کے حق میں کتاب الہی کے حوالے اس طرح پیش کرنا گویا یہ سب کچھ دین خداوندی کے احیاء کے لئے کیا جا رہا ہے۔ اس طرح کا مظاہرہ کرنے والے اس خوش گمانی میں مبتلا ہیں کہ وہ خدا کے یہاں دین داری کا انعام پائیں گے اور ان کو بے دینوں کے زمرہ میں شامل نہ کیا جائے گا۔ ان کی نمائشی کام ان کو خدا کی پکڑ سے بچانے والے ثابت نہیں ہوسکتے۔

ان آیتوں میں یہود کے کردار پر تنقید ہے۔ یہود نے اپنی مذہبی کتاب تو رات کو ترک نہیں کیا تھا اور نہ اس کے تذکرہ کو چھوڑ رکھا تھا۔ ان کے یہاں تو رات پڑھنے پڑھانے کا رواج تھا۔ اپنی تقریبات اور رسوم کو وہ مذہبی انداز سے انجام دیتے تھے۔ نبیوں اور بزرگوں کے قصے بے شمار تعداد میں ان کے درمیان پھیلے ہوئے تھے۔ کثرت سے ان کے درمیان موجود تھے۔ وہ جو کچھ کر رہے تھے سب دین یہود کے نام پر کر رہے تھے۔ حتی کہ اپنے دنیوی اور قومی کاموں کے ذیل میں بھی کتب مقدسہ کے حوالے دیتے تھے۔ مگر باعتبار حقیقت یہ دین یہود کا استحصال تھا نہ کہ اس پر عمل کرنا۔ تو رات کی حیثیت ان کے نزدیک رہنما کتاب کی نہیں رہ گئی تھی۔ بلکہ وہ ایک ایسی کتاب تھی جو ان کے فرخ کا نشان ہو اور ان کی قومی سرگرمیوں کو سند جو از عطا کرے۔

انہوں نے عقیوہ بنایا کہ اسرائیلی نسل کے تمام لوگ جنت میں جائیں گے اور اس کے لیے ان کو اپنے دین میں دلیل مل گئی (آل عمران) اپنی جاہلیت کی زندگی کے نتیجہ میں پیش آنے والے مصائب کی خاطر وہ قومی فنڈ قائم کرتے اور اس کی اہمیت ثابت کرنے کے لئے تو رات کا حکم پیش کرتے (بقرہ (۸۵) دہ اپنے علماء اور بزرگوں کے پیچھے چلتے اور اپنی اس شخصیت پرستی کو خدا پرستی کا نام دے دیتے (توبہ (۳۱) حتی کہ انہوں نے نبی عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو ماننے سے انکار کیا اور اپنے کو بر سر حق ثابت کرنے کے لئے تو رات سے دلیل پیش کی (آل عمران (۱۸۳) یہودیوں کی صہیونی تحریک جو تمام تر قومی احیاء کی تحریک ہے، اس کے لئے بھی ان کو دلائل تو رات ہی کے صفحات سے مل رہے ہیں۔ کیوں کہ ان کے

نزدیک یہ اس وعدہ الٰہی کو پانے کی کوشش ہے جو خداوند نے اپنی کتاب میں ان کے لئے لکھا ہے۔ ــــ یہ وہی چیز ہے جس کو قرآن میں آیاتِ اللہ کو دے کر ”ثمن قلیل“ لینا کہا گیا ہے۔ یعنی دنیوی سرگرمیوں اور قومی تحریکوں کے لئے آسمانی سند پیش کرنا، احیارِ دین کا نام لینا اور احیارِ قوم کے کام میں مشغول رہنا، اللہ کی کتاب کو پڑھنا پڑھانا مگر عملاً مقصود یہ ہونا کہ قوم کے اندر مذہبی قیادت حاصل ہو جائے۔

یہود کے سپرد جو مشن کیا گیا، وہ یہ تھا کہ وہ اللہ کی دی ہوئی کتاب کو اس کی اصل صورت میں لوگوں کے سامنے بیان کریں گے۔ وہ توحید کی تعلیمات سے دنیا والوں کو باخبر کریں گے۔ یہ وہی چیز تھی جس کو دعوت الی اللہ یا شہادت علی الناس کے نام سے امت محمدی پر فرض کیا گیا ہے۔ یہ ایک خالص اخروی کام ہے اور اس کو اخروی انداز ہی میں انجام دینا ہے۔ مگر یہود نے دعوت آخرت اور پیغام توحید کے مشن کو چھوڑ دیا۔ عام قوموں کی طرح انھوں نے ایک دنیا دارانہ زندگی اختیار کرلی۔ البتہ اس کے ساتھ وہ تورات کا درس اس طرح دیتے رہے گویا کتاب اللہ کی رسی ان کے ہاتھ سے نہیں چھوٹی ہے۔ گویا وہ جو کچھ کر رہے ہیں عین خدا کے حکم کے تحت کر رہے ہیں۔ تورات کی تعلیمات کی انھوں نے ایسی تشریح و تعبیر کی جو ان کی اپنی خود ساختہ زندگی پر چسپاں ہوتی ہو اور اس کی تصدیق کر رہی ہو۔ انھوں نے تعمیل نفس کا کام کیا اور اس پر تعمیل خداوندی کا لیبل لگا دیا۔ انھوں نے قومی احیار کی سرگرمیوں کو وہی احیار کی سرگرمیوں کا مقام دے دیا۔ انھوں نے قیادت کی عزائم کے تحت تحریکیں اٹھائیں اور ان کو یہ حیثیت دے دی گویا یہ سب خداوند عالم کا بول بالا کرنے کے لئے کیا جا رہا ہے۔ ایسے لوگ گویا ایک ایسے کام کا کریڈٹ لینا چاہتے ہیں جس کو انھوں نے حقیقتاً اس قسم کا دھوکا خدا کے یہاں نہیں چل سکتا۔ ان کے نمائشی کام ان کو خدا کے یہاں بچانے والے ثابت نہ اپنی تمام خوش فہمیوں کے باوجود وہ اسی آگ کے عذاب میں ڈال دیئے جائیں گے جس کو وہ صرف دوسروں کے لئے سمجھتے تھے۔

دعوتِ حق کا کام خالص اخروی کام ہے۔ یہ کام صرف دینی گروہ انجام دے سکتا ہے جو آخرت کی سطح پر جی رہا ہو۔ جولوگ خود اپنے لئے جنت اور جہنم کو سب سے بڑا مسئلہ بنائے ہوئے ہوں وہی محسوس کرسکتے ہیں کہ سب سے بڑا کام یہ ہے کہ لوگوں کو جنت اور جہنم کے مسئلے سے آگاہ کیا جائے۔ کتاب آسمانی کے حامل گروہ پر جب زوال آتا ہے تو وہ دنیا کی سطح پر جینے لگتا ہے۔ اب دنیا کی عزت و ذلت اس کے لئے سب سے بڑی چیز بن جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ "انذار آخرت“ کے کام کا محرک اس کے اندر باقی نہیں رہتا۔ اب وہ خدا کے دین کو اپنی دنیوی زندگی کی سطح پر اتار لاتا ہے۔ قومی تحریکوں کو پیغمبرانہ تحریک کا عنوان دیتا ہے۔ وہ اپنے دنیوی مسائل کے لئے اٹھتا ہے اور اس کو آسمانی ہدایت کی اصطلاحات میں بیان کرتا ہے۔ وہ مادی مقاصد کے لئے ہنگامے کھڑے کرتا ہے اور اس کو خدا کی راہ میں جہاد کرنا وہ اپنی لیڈری کو بچانے کے لئے اٹھتا ہے اور نعرہ یہ لگاتا ہے کہ ”ملک وملت کو بچاؤ“ ـــــــــــــ یہ سب گویا بن کے پر کٹنے کی تعریف چاہنا ہے۔ مگر اس قسم کی کوشش کسی کو صرف سزا کا مستحق بناتی ہے نہ کہ انعام کا۔ (۱۳ جون ۱۹۷۹)

Printed page