Al-Risala · January 1979

حفاظتِ قرآن

Al-Risala, January 1979, pp. 35–43

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن ۲۳ سال کے عرصہ میں اترا۔ سب سے پہلی آیت جو اتری وہ آیتِ علم (اقرأ باسم ربك الذى خلق) تھی اور آخری آیتِ آخرت (اتقوا يوماً ترجعون فيه الى الله، بقره) ابتدائی ۲۳ سال تک خود رسول اللہ کی ذات قرآن کے اخذ کا ذریعہ تھی۔ اپنے بعد آپ نے کچھ لوگوں کو نامزد کر دیا کہ ان سے تم قرآن سیکھنا۔ یہ لوگ وہ تھے جنہوں نے نہایت صحت کے ساتھ پورے قرآن کو اپنے سینہ میں محفوظ کر دیا تھا اور عربی زبان سے گہری واقفیت اور جنابِ رسول کی مسلسل صحبت کی وجہ سے اس قابل ہو گئے تھے کہ مستند طور پر قرآن کی تعلیم دے سکیں۔ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق کے زمانے میں ایک شخص کوفہ سے مدینہ آیا۔ گفتگو کے دوران اس نے آپ سے کہا کہ کوفہ میں ایک شخص یاد سے قرآن یہ سن کر حضرت عمر غضب ناک ہو گئے۔ مگر جب معلوم ہوا کہ وہ بزرگ حضرت عبد اللہ بن مسعود ہیں، تو آپ خاموش ہو گئے۔ (استیعاب، جلد ۱، صفحہ ۷۲، ۷۳) اس کی وجہ یہی تھی کہ عبد اللہ بن مسعود آنحضرت کے اجازت یافتہ آپ کے مجاز قاریوں میں سے چند نمایاں افراد یہ تھے : __ عثمان، علی، ابی ابن کعب، زید بن ثابت، ابن مسعود، ابو الدرداء، ابو موسیٰ اشعری، سالخ مولیٰ ابی حذیفہ۔

مگر یہ اجازت یافتہ افراد ہمیشہ نہیں رہ سکتے تھے۔ یہ اندیشہ بہر حال تھا کہ کسی وقت ایسے تمام لوگ ختم ہو جائیں اور قرآن دوسرے لوگوں کے ہاتھوں میں جا کر اختبلاف کا شکار ہو جائے۔ جنگ یمامہ ۱۲ھ) کے بارہ میں خبر آئی کہ کثرت سے مسلمان قتل ہو گئے ہیں۔ حضرت عمر، خلیفہ اول ابو بکر صدیق کے پاس آئے اور کہا کہ اب قرآن کی حفاظت کی اس کے سوا کوئی صورت نہیں ہے کہ اس کو تحریری طور پر با ضابطہ مدون کر دیا جائے۔ اس موقع پر روایت میں یہ الفاظ آتے ہیں :

فلما قتل سالم، مولی ابی حذیفہ خشی عمر ان جب سالم، مولیٰ ابو حذیفہ قتل ہوئے تو عمر کو خطرہ پیدا ہوا یہدھب القرآن فجاء الی ابی بکر - - - کہ قرآن ضائع نہ ہو جائے، وہ ابو بکر کے پاس آئے، فتح الباری جلد ۹ صفحہ ۹ یمامہ کی جنگ میں تقریباً ۷۰ صحابہ قتل ہوئے تھے۔ مگر حضرت عمر کو ”ذہابِ قرآن“ کا خطرہ حضرت سالم کی موت کی وجہ سے ہوا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ ان چند مخصوص صحابہ میں سے تھے جن کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیمِ قرآن کی اجازت دی تھی۔

جیسا کہ ثابت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کے اترتے ہی اس کو فورا لکھوا لیا کرتے تھے۔ کتابت کا اہتمام اتنا زیادہ تھا کہ سورہ نساء آیت ۹۵ اتر چکی تھی بعد کو غیر اولی الضرر اس میں بطور اضافہ اترا۔ امام مالک کے الفاظ میں یہ ”حرف واحد“ (در منثور، جلد ۲، صفحہ ۲۰۳) بھی آپ نے اسی وقت کاتب کو لا کر لکھوایا : لما نزلت لا يستوى القاعدون من المؤمنين جب آیت لا يستوى القاعدون الم اتری تو رسول اللہ

غیر اولی الضرر والمجاهوون فی سبیل اللہ، صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زید کو بلاؤ اور وہ تختی اور قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم ادع لی زید ادبیجی قلم اور کتف اور دوات لے کر آئیں ۔ جب وہ آگئے تو باللوح والقلم والكتف والدواة ثم قال اكتب کہا کہ لکھو لا یستوی ۔

لا یستوی ۔

آپ کا معمول تھا کہ نازل شدہ آیات کو لکھوانے کے بعد اس کو پڑھوا کر سنتے۔ زید بن ثابت کا بیان ہے: فان كان فيه سقط اقامه (مجمع الزوائد، جلد ۱، صفحه ۶۰) اگر کوئی جزو لکھنے سے چھوٹ جاتا تو اس کو درست کراتے جب یہ سب کام پورا ہو جاتا تب اشاعت عام کا حکم دیا جاتا (ثم اخرج به الى الناس ۔ ) کاتبان وحی وہ صحابہ جن سے آپ قرآن کو لکھواتے تھے) ان کی تعداد ۴۳ تک شمار کی گئی ہے۔ (ان ۴۳ کاتبوں کے نام کے لئے ملاحظہ ہو الکتانی کی کتاب التراتيب الاداريه ، جلد ۱، صفحه ۱۶۔ مطبوعہ مراکش) ابن عبدالبر نے عقد الفرید (جلد ۳، صفحہ ۱۱۴ ) میں لکھا ہے کہ حنظلہ ابن ربیع رضو تمام کاتوں کے ” خلیفہ “ تھے۔ یعنی ان کو حکم تھا کہ وہ ہر وقت آپ کی صحبت میں موجود آپ کے اس اہتمام کا نتیجہ یہ تھا کہ جب آپ کی وفات ہوئی تو کثرت سے لوگوں کے پاس قرآن کے اجزاء لکھے ہوئے ایک تعداد ان لوگوں کی تھی جن کے پاس مکمل قرآن اپنی اصل ترتیب کے ساتھ جمع شدہ موجود تھا ۔ ان میں سے چار خاص طور پر قابل ذکر ہیں :

مات نبی ولم يجمع القرآن غير اربعة : بنی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو چار آدمیوں کے ابو الدرداء ومعاذ بن جبل وزيد بن ثابت و پاس مکمل قرآن تحریری طور پر موجود تھا: ابو الدرداء ، ابو زيد معاذ بن جبل ، زید بن ثابت اور ابو زید قرآن مکمل طور پر لکھا ہوا عہد نبوت میں موجود تھا۔ البتہ کتابی شکل میں ایک جگہ مجلد نہیں ہوا تھا۔ بخاری کے حوالہ سے الکتانی نے نقل کیا ہے :

قد كان القرآن كله مكتوبا فى عہدہ صلی اللہ قرآن کل کا کل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ عليه وسلم لكن غير مجموع فى موضع واحد ہی میں لکھا جا چکا تھا۔ البتہ ایک جگہ تمام سورتوں کو الكتاني ، جلد ۲، صفحه ۳۸۴) جمع نہیں کیا گیا تھا۔

حارث محاسبی نے، جو امام حنبل کے معاصر ہیں ، اپنی کتاب فہم السنن میں لکھا ہے : وكان القرآن فيها منتشرا لمجمعها جامع د قرآن کی سورتیں اس میں الگ الگ لکھی ہوئی تھیں۔ ربطها بخيط ابو بکر کے حکم سے جامع (زید بن ثابت ) نے ایک جگہ سب سورتوں کو جمع کیا اور ایک دھاگہ سے سب کی شیرازہ قرآن کی کتابت تین مراحل سے گزری ہے : کتابت ، تالیف، جمع ۔

پہلے مرحلہ میں کوئی آیت یا سورہ اترتے ہی اس کو کسی ٹکڑے پر لکھا یا جاتا تھا، اس سلسلے میں حسب ذیل چیزوں کے نام آئے ہیں:

لخاف: پتھر کی سفید پتلی تختیاں (سلیٹ)

کتف اونٹ کے مونڈھے کی گول ہڈی عسیب کھجور کی شاخ کی جڑ کا کشادہ حصہ دوسرے مرحلہ کے عمل کو حدیث میں تالیف سے تعبیر کیا گیا ہے (کنا عند النبی صلی اللہ علیہ وسلم تولف القرآن فى الرقاع، مستدرک حاکم) گویا اولاً ہر آیت نازل ہوتے ہی لکھ لی جاتی تھی۔ پھر جب سورہ مکمل ہو جاتی تو پوری سورہ کو مرتب شکل میں رقاع (چمڑے) پر لکھتے تھے۔ اس قسم کے موثقہ قرآن (مکمل یا غیر مکمل) دور نبوت ہی میں کثرت سے لوگوں کے پاس ہو چکے تھے۔ حضرت عمر کے اسلام لانے کے مشہور واقعہ میں ہے کہ بہن کو زدو کوب کرنے کے بعد آپ نے کہا دہ کتاب مجھے دکھاؤ جو ابھی تم پڑھ رہے تھے (اعطنى الصحيفة التى سمعتكم تقرؤن آنفا، ابن ہشام)۔ بہن نے جواب دیا : ناپاکی کے ساتھ تم اس کو چھو نہیں سکتے۔ پھر آپ نے غسل کیا اور ان کی بہن نے کتاب انھیں دی (فاغتسل فاعطته الصحيفة)

تیسرے مرحلہ کے کام کو ”جمع“، سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی پورے قرآن کو ایک جلد میں یکجائی طور پر لکھنا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قرآن مختلف رسالوں اور کتابوں کی شکل میں ہوتا تھا۔ تمام سورتوں کو ایک ہی تقطیع اور سائز کے اوراق پر لکھوا کر ایک ہی جلد میں مجلد کرنے کا طریقہ آپ کے عہد میں رائج نہ تھا ۔ بخاری کی ایک روایت کے مطابق صرف چار صحابہ (ابی بن کعب، معاذ بن جبل، ابوزید، زید بن ثابت) تھے جنہوں نے پورے قرآن کو آپ کے عہد میں مجموعی شکل میں تیار کر لیا تھا۔ تاہم ان کی حیثیت نجی مجموعوں کی تھی۔ کعب القرظی کے حوالہ سے کنز العمال میں جو روایت ہے ، اس کے مطابق ایسے جامعین قرآن کی تعداد پانچ تھی، (جمع القرآن في زمان النبی صلی اللہ علیہ وسلم خمسة من الانصار) حضرت ابوبکر صدیق نے جو کام کیا وہ یہی تھا کہ انھوں نے ریاستی انتظام کے تحت تمام سورتوں کو ایک ہی تقطیع اور سائز پر لکھوا کر مجلد کرا دیا۔ شہاب زہری سے اور شہاب زہری عبداللہ بن عمر کے صاحبزادے سالم کے حوالے سے یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ زید بن ثابت نے القراطیس پر ابو بکر کے حکم سے قرآن کی کل سورتوں کو لکھا تھا۔ بعض محققین نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ ایک ہی تقطیع کے اوراق جب بنائے جاتے تھے تو ان کو قراطیس کہتے تھے۔ ایک سائز کے اوراق پر لکھے ہونے کی وجہ سے ابوبکر صدیق کی حکومت کے مرتب کردہ اس نسخہ کو ربعہ کہتے تھے (اتقان، جلدا ، صفحہ ۷۵ - ۴۸) ربعه کا ترجمہ چوکھنٹا کیا جاسکتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان اوراق کا طول وعرض انفا متساوی تھا۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت عمر فاروق کے زمانہ میں مصر، عراق، شام اور یمن وغیرہ میں قرآن کے ایک لاکھ سے زیادہ نسخے موجود تھے۔

بعد کے زمانے میں لکھا ہوا قرآن ہی لوگوں کے لیے قرآن کو سیکھنے کا ذریعہ بن سکتا تھا، تاہم ایک مخطوطہرہ اب بھی تھا، مقدس کتاب میں انتہائی معمولی فرق بھی زبردست اختلاف کا سبب بن جاتا ہے۔ اس لیے یہ اندیشہ تھا کہ مختلف لوگ اگر اپنے اپنے طور پر قرآن لکھیں تو کتابت اور قرآت کا فرق مسلمانوں کے اندر زبردست اختلاف کھڑا کر دے گا اور اس کو ختم کرنے کی کوئی سبیل باقی نہ رہے گی۔ مثلاً سورہ فاتحہ میں ایک ہی لفظ کو محض ادائیگی کے فرق سے کوئی مالک یوم الدین لکھتا، کوئی ملیک یوم الدین اور کوئی ملک یوم الدین۔ پھر جیسے جیسے زمانہ گزرتا ، طرز تحریر اور رسم الخط کا فرق نئے نئے اختلاف پیدا کرتا چلا جاتا۔ اس لیے حضرت عمر کے مشورہ سے خلیفہ اول حضرت ابو بکر نے طے کیا کہ سرکاری اہتمام میں قرآن کا ایک مستند نسخہ لکھوا دیا جائے اور اختلاف قرآت کے امکان کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے۔

اس کے لیے زید بن ثابت سب سے زیادہ موزوں شخص تھے ، کیونکہ وہ رسول اللہ کے کاتب (سکریٹری) زید اور ابی بن کعب دونوں "عرضہ اخیرہ" میں شامل تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست پورے قرآن کو نبوی ترتیب کے ساتھ سنا تھا۔ ان کو پورا قرآن مکمل طور پر یاد تھا اور اس کے ساتھ پورا قرآن مرتب طور پر لکھا ہوا بھی ان کے پاس موجود تھا۔ خلیفہ اول نے ان کو حکم دیا کہ تم قرآن کا تتبع کرو اور اس کو جمع کرو وفتبع القرآن فاجعماء ، بخاری) اس بات کے طے ہونے کے بعد حضرت عمر نے مسجد میں اعلان کر دیا کہ جس کے پاس قرآن کا کوئی خط موجود ہو، وہ لے آئے اور زید کے سامنے پیش کرے۔

خلیفہ اول کے زمانہ میں قرآن " کاغذ، یعنی چمڑے، پتھر اور کھجور کی چھال وغیرہ پر لکھا ہوا تو موجود تھا اور بہت سے لوگوں کے سینوں میں ، رسول اللہ سے سن کر، مرتب طور پر بھی محفوظ تھا۔ مگر وہ ایک کتاب کی طرح بین الدفتین اب تک جمع نہیں ہوا تھا۔ خلیفہ اول نے حکم دیا کہ اس کو بین الدفتین جمع کر دو اور اس کو ایک مجلد کتاب کی صورت میں یک جا کر دو :

وقال الحارث المحاسبی فی کتاب فہم السنن: حارث محاسبی فہم السنن میں لکھتے ہیں کہ قرآن کی کتابت كتابة القرآن ليست بمحدثة، فانه صلى الله کوئی نئی بات نہ تھی، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کو عليه وسلم كان يامر بكتابته ولكنه كان مفرقا لکھوایا کرتے تھے۔ مگر وہ رقاع اور اکتاف اور عسیب في الرقاع والاکتاف والعسب فانما امر الصديق میں متفرق طور پر لکھا ہوا تھا۔ ابوبکر صدیق نے اس کو بنسخها من مكان الى مكان مجتمعا وكان ذلك مرتب طور پر ایک جانکنے کا حکم دیا۔ اور یہ بمنزلہ ان اوراق بمنزلة اوراق وجدت في بيت رسول الله صلى الله کے تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں پائے گئے عليه وسلم فانها نجمعها جامع وربط بخيط تھے۔ ان میں قرآن منتشر طور پر لکھا ہوا تھا۔ حتى لا يضيع منها شئ جمع کرنے والے نے جمع کر دیا اور ایک دھاگے میں اس طرح الاتقان ، جلدا ، صفحه ۱۴

عہد صدیقی میں جمع قرآن کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سے پہلے قرآن '' جمع'' نہ تھا اور آپ کے زمانہ خلافت میں اس کو جمع کیا گیا۔ قرآن اس سے پہلے بھی مکمل طور پر جمع تھا۔ ''عرضہ اخیرہ '' میں متعدد صحابہ کو شامل کر کے آپ نے اس کی تصدیق و توثیق بھی فرمادی تھی۔ جمع قرآن کا یہ اہتمام صرف اس لئے ہوا کہ معمولی امکانی فرق کو بھی باقی نہ رہنے دیا جائے جو حافظہ یا کتابت میں فرق کی وجہ سے ہو سکتے تھے۔ مثال کے طور پر حضرت عمر نے زید بن ثابت کو یہ آیت سنائی : من المهاجرين والأنصار الذين اتبعوهم باحسان (توبہ ۱۰۰)

زید نے کہا مجھے تو یہ آیت جس طرح یاد ہے، اس میں انصار اور الذین کے درمیان ایک ”واؤ“ بھی ہے۔ تحقیق شروع ہوئی بالآخر مختلف لوگوں کی گواہیوں سے ثابت ہوا کہ زید کی رائے صحیح تھی۔ چنانچہ مصحف میں آیت کو واؤ کے ساتھ لکھا گیا۔

مولانا بحر العلوم شرح سلم میں لکھتے ہیں: قرآن کی یہ ترتیب جس پر وہ آج ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ اس لئے کہ ان دس قاریوں نے جن کی قرآت اسلامی دنیا میں بالاتفاق مقبول ہے، صحیح سندوں سے جس پر تمام ائمہ کا اتفاق ہے، قرآن کو اسی ترتیب سے نقل کیا۔

زید بن ثابت نے جب پورا قرآن مرتب کر لیا تو ان کے مصحف کے علاوہ جتنے مختلف اجزاء اکٹھا ہوئے تھے، ان سب کو جلا کر ختم کر دیا گیا۔ یہ مجلد مصحف خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق کے پاس رکھ دیا گیا۔ آپ کی وفات کے بعد وہ خلیفہ ثانی حضرت عمر کے پاس رہا۔ پھر آپ کی وفات کے بعد وہ حفصہ بنت عمرؓ کے پاس محفوظ رہا۔ حضرت عثمان کی خلافت کا زمانہ آیا تو اسلام بہت پھیل چکا تھا اور مسلمانوں کی تعداد بہت بڑھ گئی تھی۔ اس وقت مختلف علاقوں کے مسلمانوں کے لئے قرآن سیکھنے کا ذریعہ وہ صحابہ تھے جو مدینہ سے نکل کر ممالک اسلامیہ میں ہر طرف پھیل گئے تھے۔ مثلاً اہل شام ابی بن کعب سے قرآن سیکھتے تھے۔ اہل کو فہ عبد اللہ بن مسعود سے اور اہل عراق ابو موسیٰ اشعری سے۔ تا ہم اختلاف لہجہ اور اختلاف کتابت کی وجہ سے دوبارہ لوگوں میں قرآن کے بارے میں اختلافات ہونے لگے حتی کہ ایک دوسرے کو کا فر کہنے لگے (کفر بعضهم بعضا، تبیان الجزائری)۔ ابن ابی داؤد نے کتاب المصاحف میں یزید بن معاویہ نخعی سے نقل کیا ہے کہ ولید بن عقبہ کے زمانہ میں ایک بار وہ کوفہ کی مسجد میں تھے ۔ حذیفہ بن الیمان بھی اس وقت مسجد میں موجود تھے۔ مسجد میں ایک حلقہ قرآن کے ذکر میں مشغول تھا۔ نے کوئی آیت پڑھی اور کہا: قرأۃ عبد اللہ بن مسعود۔ دوسرے نے اسی آیت کو کسی اور ڈھنگ سے پڑھا اور کہا قرأة ابی موسیٰ الاشعری۔ حضرت حذیفہ یہ سن کر غضب ناک ہو گئے۔ انھوں نے کھڑے ہو کر ایک مختصر تقریر کی اور فرمایا: هكذا كان من قبلكم اختلفوا، ، والله لا ركبن تم سے پہلے جو لوگ تھے، انھوں نے اسی طرح اختلاف کیا۔ إلى امير المؤمنين خدا کی قسم میں سوار ہو کر امیر المومنین (عثمان) کے پاس

عمارہ بن غزیہ کی روایت کے مطابق حذیفہ بن الیمان واپس آئے۔ وہ ایک فوجی افسر تھے اور اس وقت آرمینیہ میں ۔

اہل شام سے و آذر بائیجان میں اہل عراق سے جنگ کر کے لوٹے تھے۔ وہ مدینہ پہنچے تو اپنے مکان جانے کے بجائے سیدھے خلیفہ ثالث کے پاس آئے اور کہا :

یا امیر المومنین ادرک ھذہ الامة قبل اے امیر المومنین لوگوں کو سنبھالئے ، قبل اس کے کہ لوگ ان يختلفوا في الكتاب اختلاف اليهود والنصاری کتاب اللہ کے بارے میں اختلاف میں پڑ جائیں جس طرح یہود و نصاری اختلاف میں پڑ گئے حضرت عثمان کے زمانہ میں ایسی آبادیاں اسلام میں داخل ہوگئیں جن کی مادری زبان عربی نہ تھی۔ عربی الفاظ اور حروف کے صحیح تلفظ کی قدرت ظاہر ہے ان میں نہیں ہو سکتی تھی۔ خود عرب کے مختلف قبائل کے لہجے الگ الگ تھے۔ اس سے قرأت قرآن میں اختلاف پیدا ہوا۔ نتیجہ نقل و تحریر میں بھی اختلاف شروع ہو گیا ۔ ابن قتیبہ نے لکھا ہے کہ قبیلہ بنی ہذیل حتیٰ کو عتیٰ پڑھتا تھا۔ ابن مسعود اسی قبیلہ سے تعلق رکھنے کی وجہ سے حتّٰی عین کو عثّٰی غین پڑھتے تھے۔ قبیلہ بنو اسد تعلمون کی ت کو زیر کے ساتھ (تُعلمون) پڑھتا تھا۔ مدینہ کے لوگ تابوت کا تلفظ تابوہ کرتے تھے۔ قبیلہ قیس ک تانیث کا تلفظ ش سے کرتے تھے اور قرآنی آیت کو قد حجل ربش تختش سرا پڑھتے۔ اسی طرح قبیلہ تمیم ان کے لفظ کو عن کی شکل میں ادا کرتے تھے اور عسی اللہ عن یاتی بالفتح پڑھتے تھے۔ ایک قبیلہ س کو ت کی شکل میں ادا کرتا تھا اور اعوذ برب الناس ملک الناس الہ الناس پڑھتا تھا وغیرہ۔ ان حالات میں حذیفہ بن یمان صحابی کے مشورہ سے حضرت عثمان نے صدیقی نسخہ کی نقلیں تیار کرائیں اور تمام شہروں میں اس کا ایک ایک نسخہ بھیج دیا۔ یہ کام دوبارہ حضرت زید بن ثابت انصاری کی سرکردگی میں کرایا گیا اور ان کی مدد کے لئے گیارہ افراد مقرر کئے گئے۔ خلیفہ سوم کے حکم کے مطابق اس کمیٹی نے قرآن کو قریش کے لہجہ پر تحریر کیا جو کہ پیغمبر اسلام کا لہجہ تھا۔ اس کے بعد آپ نے حکم دیا کہ دوسرے نسخے جو لوگوں نے بطور خود لکھے ہیں وہ ان کو حکومت کے حوالے کر دیں۔ چنانچہ ان کو جمع کر کے نذر آتش کر دیا گیا۔ اس طرح قرآن کو لکھاوٹ یعنی نوشت وکتابت کی حد تک ایک بنا دیا گیا۔ تاہم فطری اختلاف کی وجہ سے سارے لوگ ایک طرح قرآن کو پڑھنے پر قادر نہ ہو سکتے تھے۔ اس لئے لوگوں کو آزادی دے دی گئی کہ "سات ، طریقوں یعنی متعدد لب ولہجہ میں پڑھ سکتے ہیں۔ صدیقی اکبر کا جمع قرآن آنحضرت کی وفات کے ایک سال بعد انجام پایا تھا، عثمانی مصحف کی ترتیب آپ کی وفات کے پندرہ سال بعد ہوئی ۔

تیسری صدی کے مشہور صوفی اور عالم حارث محاسبی کا قول اتقان میں سیوطی نے نقل کیا ہے : المشہور عند الناس ان جامع القرآن عثمان وليس لوگوں میں مشہور ہے کہ حضرت عثمان جامع قرآن ہیں ، كذلك، انما حمل الناس علی القراۃ لوجہ واحد حالانکہ یہ صحیح نہیں۔ انھوں نے صرف یہ کیا کہ لوگوں کو قرآن کی ایک قرأت پر جمع کر دیا۔

بعض لوگوں نے تفنن طبع یا عناد کے طور پر اس قسم کی باتیں مشہور کیں کہ حضرت عثمان نے قرآن میں تحریفات مثلاً قرآنی آیت قفوھم انھم مسئولون (صافات) کے آخر میں عن ولایۃ علی کے الفاظ تھے، جنھیں عہد

عثمانی میں بالقصد قرآن سے خارج کر دیا گیا۔ حتیٰ کہ کچھ لوگوں سے یہ مضحکہ خیز بات مشہور کی کہ ولایت" کے نام سے ایک" مستقل سورہ قرآن میں تھی جس میں اہل بیت کے اسماء اور ان کے حقوق وغیرہ کا تفصیلی ذکر تھا۔ اس کو قرآن نے نکال دیا گیا، اس قسم کی باتیں قطعا بے بنیاد ہیں۔ ان علینا جمعہ (قیامہ) شیعہ وسنی دونوں کے نزدیک بالاتفاق قرآن کی آیت ہے۔ پھر قرآن کو خدا کی کتاب مانتے ہوئے کیسے کوئی شخص اس قسم کی بے بنیاد باتوں کو مان سکتا ہے۔ شیعی عالم علامہ طبرسی نے لکھا ہے :

الزيادة في القرآن مجمع عليه بطلانها ، واما قرآن میں اضافہ (شیعہ وسنی دونوں کے) اجماع سے النقصان فقد روى عن قوم من أصحابنا وعن قوم غلط ہے۔ باقی کمی تو بعض شیعوں سے اور غامہ کے حشویہ من حشوية العامة ، والصحيح خلاف ذلك (یعنی اہل سنت کے محدثین) سے اس کا دعویٰ منقول ہے۔ مگر صحیح یہ ہے کہ یہ بھی غلط ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ کبھی بھی محققین نے اس قسم کے دعوے نہیں کئے ۔ یہ موقع پرستوں کے شوشے تھے جو انہوں نے سیاسی مقصد کے لئے وضع کئے۔ اہل بیت کی فضیلت کی ساری موضوعات اس لئے گھڑی گئیں تاکہ ان کے لئے خلافت کا استحقاق ثابت ہو جائے ۔ مثلاً ایک غیر معروف شخص محمد بن جہم لال تھے ۔ انھوں نے امام جعفر صادق کی طرف منسوب کرکے یہ مشہور کیا کہ قرآنی آیت امة هي اربي من امة (غل) میں تحریف کی گئی ہے۔ اصل الفاظ تھے ائمتنا هي ازکیٰ من ائمتکم (تفسیر روح المعانی مقدمہ) یعنی ہمارے بنی ہاشم کے ائمہ وحکمران بنی امیہ کے حکمرانوں سے بہتر ہیں۔ جیسا کہ عرض کیا گیا حضرت عثمان نے ۲۵ھ میں حفصہ بنت عمر کے پاس سے مصحف صدیقی منگوایا۔ قرآن کے کاتب اول زید بن ثابت انصاری موجود تھے۔ ان کی رہنمائی میں آپ نے بارہ آدمیوں کی جماعت مقرر کی ۔ انھوں نے صدیقی نسخہ کی بنیاد پر قرآن کی سات نقلیں تیار کیں۔ پھر یہ نسخے تمام اسلامی ملکوں میں بھیج دیئے گئے۔ عثمان نے حکم دیا کہ اس کے سوا جتنے مصاحف لوگوں نے بطور خود لکھ لئے ہیں وہ سب جلا دیئے جائیں۔ انھوں نے دارالسلطنت مدینہ میں رکھا اور اس کا نام "الامام" رکھا اور بقیہ ہر گوشہ مملکت میں بھیج دیا۔ یمن، بحرین، بصرہ، کوفہ میں سے ہر جگہ ایک ایک نسخہ بھیجا ۔

یہ مصحف بعد کی صدیوں میں انتہائی صحت کے ساتھ نسل در نسل منتقل ہوتا رہا یہاں تک کہ وہ دور پر نہیں میں پہنچ گیا جس کے بعد کسی ضیاع یا تغیر کا کوئی سوال نہیں۔ اس ابتدائی نسخہ کے ساتھ بعد کے نسخوں کی مطابقت کا کتنا زیادہ اہتمام کیا گیا ہے ، اس کی دو چھوٹی سی مثال لیجئے ۔ سورہ مومنوں کی آیت ۱۰، میں قال (الف کے ساتھ) لکھا ہوا ہے یہی لفظ اسی سورہ کی اگلی آیت ۱۲ میں قل (بغیر الف) لکھا گیا ہے۔ گویا ابتدائی مصحف میں جو لفظ جس شکل میں لکھا ہوا تھا ٹھیک اسی طرح اس کو لکھا جاتا رہا۔ خواہ ایک ہی لفظ، دو جگہ دو املاء کے ساتھ کیوں نہ ہو۔ اسی طرح سورہ قیامہ کی آیت ” وقيل من کے بعد قاری تھوڑی دیر وقفہ کے لئے ٹھہرتا ہے۔ پھر راق“ پڑھتا ہے اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ روایات کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر ہلکا وقف کیا تھا۔ قرآن میں اسی طرح کے دوسرے متعدد

مقامات ہیں، مگر کبھی قرآن پڑھنے والوں کو یہ خل نہیں ہوا کہ بطور خود دوسرے مقامات پر بھی اسی طرح وقفہ دے کر پڑھنا شروع کردیں ۔

آج جو قرآن مسلمانوں کے درمیان رائج ہے، اس کی صحت میں کسی فرقہ کا کوئی اختلاف نہیں۔ حتیٰ کہ محقق شیعہ علماء بھی اس معاملہ میں متفق ہیں ، کتاب تاریخ القرآن لابی عبدالله الزنجانی شیعی (صفحہ ۴۷) میں نقل کیا ہے کہ علی بن موسیٰ المعروف بابن طاؤس (م ۵۸۹-۶۶۴) جو محقق شیعہ علما میں سے ہیں۔ انھوں نے اپنی کتاب سعد السعود میں شہرستانی سے نقل کیا ہے جو انھوں نے اپنی تفسیر کے مقدمہ میں سوید بن علقمہ سے روایت کیا ہے: قال سمعت علی بن ابی طالب یقول : ایها الناس ، اللہ وہ کہتے ہیں۔ میں نے حضرت علی بن ابی طالب کو یہ کہتے اللہ ، ایاکم والغلو فی امر عثمان وقولکم حراق ہوئے سنا۔ اے لوگو، اللہ اللہ ، عثمان کے معاملہ میں المصاحف - فواللہ ما حرقتها الا عن ملأ من غلو سے بچو۔ یہ نہ کہو کہ انھوں نے مصاحف کو جلایا ۔ اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعنا کی قسم انھوں نے نہیں جلایا یا مگر اس وقت کہ انھوں نے وقال : ما تقولون فی هذه القراءة التی اختلفت صحابہ کی جماعت کو اکٹھا کیا اور پوچھا کہ تم قرآن میں الناس فیها، یلقی الرجل الرجل فیقول : قرأتی اختلاف قرات کے بارہ میں کیا کہتے ہو۔ ایک شخص دوسرے خیر من قرآتك ، وهذا یحیی الی الکفر، فقلنا سے ملتا ہے اور کہتا ہے ۔ میری قرأت تمھاری قرأت سے مالى ای، قال ارید ان اجمع الناس علی مصحف بہتر ہے ۔ اس قسم کی بات کفر تک جاتی ہے۔ واحد، فانكم ان اختلفتم اليوم كان من بعد کم کہا آپ کی کیا رائے ہے۔ انھوں نے کہا میں چاہتا ہوں اشد اختلافا، فقلنا نعم ما رأیت کہ میں لوگوں کو ایک مصحف پر جمع کردوں ۔ کیوں کہ تم اگر آج اختلاف میں پڑ گئے تو تمھارے بعد کے لوگ اور زیادہ اختلاف میں پڑیں گے۔ تمام صحابہ نے کہا ہاں ۔

آپ کی رائے سے ہم کو اتفاق ہے ۔

قرآن کا یہ ایسا وصف ہے جس کا معاندین تک نے اعتراف کیا ہے۔ سر ولیم میور لکھتے ہیں : محمد کی وفات کے ربع صدی بعد ہی ایسے مناقشات اور فرقہ بندیاں ہو گئیں جس کے نتیجہ میں عثمان قتل کر دیئے گئے ، اور یہ اختلافات آج بھی باقی ہیں۔ مگر ان سب فرقوں کا قرآن ایک ہی ہے۔ ہر زمانہ میں یکساں طور پر سب فرقوں کا ایک ہی قرآن پڑھنا، اس بات کا ناقابل تردید ثبوت ہے کہ آج ہمارے سامنے وہی مصحف ہے جو اس بد قسمت خلیفہ (عثمان) کے حکم سے تیار کیا گیا تھا ، شاید پوری دنیا میں کوئی دوسری ایسی کتاب نہیں ہے جس کی عبارت بارہ صدیوں تک اس طرح بغیر تبدیلی کے باقی ہو، لائف آف محمد (۱۹۱۲) دیباچہ لین پول نے اس حقیقت کا اعتراف ان لفظوں میں کیا ہے :

”قرآن کی بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کی اصلیت میں کوئی شبہ نہیں۔ ہر حرف جو ہم آج پڑھتے ہیں، اس پر یہ اعتماد کر سکتے ہیں کہ تقریباً تیرہ صدیوں سے غیر مبدل رہا ہے (سلکشن فرام دی قرآن) جرمن محقق وان ہیم غیر مسلم مستشرقین کی ترجمانی کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

” ہم قرآن کو محمد کا کلام اسی طرح یقین کرتے ہیں جس طرح مسلمان اس کو خدا کا کلام یقین کرتے ہیں“ اعجاز التنزیل، صفحہ ۵۰۰ عہد عثمانی تک قرآن کے جتنے نسخے لکھے گئے وہ سب خط حمیری میں تھے۔ حضرت علی کے زمانہ میں خط کی اصلاح ہوئی اور خط کوفی وجود میں آیا جو سابق خط کی ترقی یافتہ شکل تھا۔ حضرت علی کے ندیم خاص ابوالاسود الدولی (۶۹ھ) نے پہلی بار اس خط کو بنایا اور پھر بنی امیہ کے عہد میں اس کو مزید ترقی ہوئی۔ قرآن میں اعراب لکھنے کا آغاز بھی ابو الاسود دولی نے حضرت علی کے عہد میں کیا۔ اسی کی بنیاد پر حجاج بن یوسف نے بعد کو قرآن کے باقاعوہ معرب نسخے تیار کرائے۔ آج تک قرآن ٹھیک اسی نہج پر لکھا جارہا ہے۔

Printed page