Al-Risala · August 1979

شریر کچلے جائیں گے

Al-Risala, August 1979, pp. 6–7

By Maulana Wahiduddin Khan

مالی نے ایک باغ لگایا۔ باغ میں کچھ شیشم اور چنار جیسے درخت تھے۔ وہ اپنے موٹے تنے اور پھیلی ہوئی شاخوں کے ساتھ زمین پر اس طرح جمے ہوئے تھے کہ ہاتھی بھی ان کو اپنی جگہ سے ہلا نہیں سکتا تھا۔ اسی کے ساتھ باغ میں کچھ پھولوں کی کیاریاں تھیں۔ یہاں مالی نے چھوٹے پودے لگا ر کھے تھے۔ ان پودوں کے تنے کمزور تھے۔ ان کی شاخیں بہت نازک دونوں قسم کے درخت بظاہر مختلف ہونے کے باوجود مالی کی اسکیم میں یکساں طور پر شامل تھے۔ وہ اپنے آپ نہیں اگ آئے تھے۔ بلکہ مالی نے ایک ایک پودے کو اپنی پسند کے تحت لگایا تھا ، بعض مصلحتوں کی بنا پر اگراس نے بھاری بھرکم درخت لگائے تھے تو بعض دوسری مصلحتوں کی خاطر اسی نے باغ کے کمزور پودوں کا انتخاب کیا تھا۔ کچھ شریر لوگ باغ کے اندر گھس آئے۔ انھوں نے مالی کو نہیں دیکھا۔ انھوں نے سمجھا کہ یہ ایک خالی باغ ہے اور یہاں وہ جو کچھ چاہیں کر سکتے ہیں۔ شیشم اور چنار کی قسم کے درختوں کا تو وہ کچھ بگاڑ نہیں سکتے تھے، اس لیے ان کو دیکھ کر وہ آگے بڑھ گئے۔ مگر پھولوں کے نرم و نازک پودوں کی بابت انھوں نے سمجھا کہ وہ ان پر قابو یافتہ ہیں۔ وہ ان کو اپنی شرارتوں کا تختہ مشق بنا سکتے ہیں۔ پودے نہ اپنا بچاؤ کر سکتے تھے اور نہ شریروں کا ہاتھ پکڑ سکتے تھے۔ انھوں نے سمجھا کہ ان کے اوپر ان کا کوئی سر پرست نہیں ہے۔ یہ شریر ان نازک پودوں کے اوپر ٹوٹ پڑے۔ انھوں نے کچھ پودوں کو جڑ سے کچھ کے پھول توڑ ڈالے۔ کچھ کی شاخوں اور تتیوں کو ویران کر دیا۔

وہ قہقہے لگا رہے تھے اور خوشیاں منا رہے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہم فاتح ہیں۔ ہم نے اپنی بڑائی قائم کرلی ہے۔ میں مالی اپنے تمام آدمیوں کے ساتھ باغ میں آپہنچا۔ "تم نے جو کچھ کیا ہے میرے پودوں کے ساتھ نہیں کیا بلکہ خود میرے ساتھ کیا ہے " وہ گرج دار آواز میں بولا "میرے ہاتھ کی لگائی ہوئی کلیوں کو مسل کر تم نے میری توہین کی ہے۔ آج میں تم کو تمھاری شرارت کا مزا چکھاؤں گا۔ یہ کہہ کر اس نے اپنے آدمیوں کو حکم دیا کہ ان میں سے ایک ایک شخص کو پکڑو اور ان کا سر توڑ ڈالو۔ انھوں نے میرے کمزوروں پر رحم نہیں کیا اس لیے آج میں بھی ان پر رحم نہیں کروں گا"، وہی شریر جو ایک لمحہ پہلے تک بہادر بنے ہوئے تھے۔ جن کے پاس الفاظ کا لامتناہی ذخیرہ موجود تھا۔ جو اپنی غلطی تسلیم کرنے کے لئے کسی قیمت پر تیار نہ تھے، اچانک

بالکل ڈھ پڑے اب وہ معافی مانگ رہے تھے اور اپنے جرم کا اقرار کر رہے تھے۔ مگر وہاں کوئی نہ تھا جو ان کی فریا کو سنے وہ ذلت کی مار کھاتے رہے اور اپنے کئے کی سزا بھگتتے رہے (۸ جون ۱۹۷۹)

دنیا اور آخرت کی مثال بھی ایسی ہی ہے جیسے مالی اور باغ کی مثال ۔ اللہ نے ایک بہترین دنیا بنائی۔ اس میں طرح طرح کے انسان پیدا کئے ۔ کوئی طاقت ور کوئی کمزور ۔ دونوں قسم کے انسان خدا کی تخلیق تھے۔ دونوں کو خدا نے اپنی حکمتوں اور مصلحتوں کے تحت بنایا تھا۔ ہر ایک کی جان و مال اور اس کی عزت و آبرو د قابل احترام تھی، ہر ایک خدا کا حرم تھا۔ شریروں کو یہاں خدا نظر نہ آیا، وہ سمجھے کہ یہ ایک خالی باغ ہے۔ اس کا کوئی مالک اور سر پرست نہیں۔ وہ طاقتور انسانوں کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے تھے۔ ان کو انھوں نے چھوڑ دیا۔ وہ اپنے کبر کی تسکین اور اپنے شرارتی منصوبوں کی تکمیل کے لئے کمزور انسانوں پر ٹوٹ پڑے۔ جو کمزور بھی ان کی زد میں آیا، اس کی پھلواری کو انھوں نے ویران کیا۔ اس پر ہر قسم کی بہبودگی کو اپنے لئے جائز کر لیا۔

شریر اپنے شیطانی شغلوں میں مصروف تھے۔ وہ فاتحانہ قہقہے لگا رہے تھے کہ اچانک زمین و آسمان کا پردہ پھٹا۔ کائنات کا مالک اپنے تمام جلال و جبروت کے ساتھ سامنے آگیا اس کی آواز سے تمام مخلوقات سہم اٹھیں۔ شریر اس کو دیکھتے ہی گھٹنوں کے بل گر پڑے۔ وہ رو رہے تھے اور معافی مانگ رہے تھے مگر خدا ان کے اوپر اتنا غضب ناک تھا کہ اس نے ان کی طرف دیکھا بھی نہیں۔ ان میں بدنام قسم کے ڈاکو اور سرکش بھی تھے اور وہ بھی تھے جو دنیا میں مذہب کی گدیوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ جو اخلاق اور انسانیت کے چیمپئن بنے ہوئے تھے۔ جو " ملک و قوم" کے ناخدا کہے جاتے مگر خدا سب پر یکساں غضب ناک تھا۔ کیوں کہ ہر ایک نے دنیا میں گھمنڈ کیا تھا۔ ہر ایک نے خدا کی ننھی کلیوں کو مسلا خدا نے حکم دیا کہ ان سب کو ایک زنجیر میں باندھو اور ان کو ابدی محرومی کے گڑھے میں دھکیل دو۔ وہ چیختے رہے اور فریاد کرتے رہے۔ مگر وہاں کوئی نہ تھا جو ان کی فریاد کو سنے۔ خدا کے فرشتوں کے ہاتھوں زیر کر کے وہ رسوائی اور ناکامی کے اس گڑھے میں پہنچا دئے گئے جو خدا نے سرکشوں اور متکبروں کے لئے پہلے سے بنا رکھی تھی ۔ کسی درخت کی پتی، اس کا پھول اور اس کا پھل درخت کا سب سے زیادہ کمزور حصہ ہوتے ہیں۔ مگر ایک شخص جب پتیوں کے حسن، پھلوں کی رنگ کاری ، اور پھولوں کی لطافت پر غور کرتا ہے تو اس کو محسوس ہوتا ہے کہ درخت کے یہ نرم و نازک حصے اس کے مضبوط تنے اور شاخوں سے زیادہ قدرت کی توجہ کا مستحق رہے ہیں۔ یہ خدا کی خاموش دنیا کا ایک اشارہ ہے جو بتاتا ہے کہ انسان سے خدا کو کیا مطلوب ہے __________ لوگ طاقتور "تنوں “ پر اپنے حسن سلوک کا ثبوت دے رہے ہیں، حالاں ان کا خدا ان سے " پھولوں" اور " پتیوں" کی سطح پر حسن سلوک کا نذرانہ مانگ رہا ہے۔ لوگ "بڑوں" کا استقبال کرکے اپنی شرافت اور انسانیت کا مظاہرہ کر رہے ہیں، حالاں کہ خدا جہاں ان کی شرافت اور انسانیت کو دیکھنے کا منتظر ہے وہ اس کے وہ بندے ہیں جی کو "چھوٹا" سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ لوگ شہرت کے مواقع پر پیسہ دے کر فیاضی کا نائشل لے رہے ہیں۔ کے یہاں فیاضی کا نائشل اس کو ملتا ہے جو ایسے مواقع پر پیسہ دے جہاں جیب خالی کرکے بھی شہرت حاصل نہیں ہوتی۔

Printed page